قرآنیات

حکیم لقمان کی بیٹے کو نصیحتیں

ترتیب:عبدالعزیز

’’اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو، یہ باتیں عزیمت کے کاموں میں سے ہیں‘‘ (سورہ لقمان:17)۔
توحید اور آخرت کے بارے میں تاکید کرنے کے بعد حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اقامت صلوٰۃ کی نصیحت فرمائی۔ اقامت صلوٰۃ سے مراد صرف نماز پڑھنا نہیں بلکہ اس کیلئے ہر طرح کا اہتمام بروئے کار لانا ہے اور ان تمام تعلیمات کو پیش نظر رکھنا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں منقول ہیں۔ اور ان مقاصد کو بھی سامنے رکھنا ہے جو نماز کے نتیجے کے طور پر پیدا ہونے چاہئیں۔ اور پھر اس میں اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی بندگی کا جو تصور کار فرما ہے اسے بروئے کار لانا اس کے مفہوم و معنی کا ایک حصہ ہے۔ اور مزید یہ کہ صلوٰۃ ہی ایک ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، ذات و صفات اور حقوق میں اس کی وحدت، پھر زندگی کے ہر ہر عمل کی جواب دہی کا استحضار اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی، فروتنی اور انتہائی تذلل کا اظہار اس کے اولین فوائد میں سے ہے۔ اس لئے حضرت لقمان نے بطور خاص بیٹے کو اقامت صلوٰۃ کی نصیحت کی۔
نصیحت میں دوسری بات یہ فرمائی کہ نیکی کا حکم دو، اس کیلئے معروف لفظ استعمال فرمایا۔ معروف کا اطلاق ہر اچھائی اور بھلائی پر ہوتا ہے جو معاشرے میں اچھائی کے طور پر ہر سلیم الفطرت آدمی قبول کرچکا ہو۔ اور اس کے علاوہ ہر وہ نیکی جس کا قرآن و سنت میں حکم دیا گیا ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند فرمایا ہے۔ اور یہ اظہارِ پسندیدگی، قول، عمل اور خاموشی تینوں صورتوں میں معتبر ہے۔ مزید یہ بات بھی کہ اس کا اطلاق شریعت کے تمام احکام پر ہوتا ہے، خواہ ان کا تعلق حقوق العباد سے ہو یا حقوق اللہ سے، لیکن اس آیت کریمہ میں چونکہ اس کا ذکر صلوٰۃ کے بعد آیا ہے اس لئے قرین قیاس یہ ہے کہ اس میں وہ تمام کام شامل ہیں جو حقوق العباد کی ادائیگی سے تعلق رکھتے ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی راہ میں انفاق، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں اور دوسرے مستحقین کی مدد۔ اور ایسے ہی وہ تمام کام جن کا تعلق اجتماعی زندگی کی بھلائی اور رفاہیت سے ہو۔
ان تمام کاموں سے روکنے کی نصیحت فرمائی ہے جو معروف کی ضد ہیں؛ یعنی جن باتوں سے شریعت نے روکا ہے یا معاشرے کا اجتماعی احساسِ خیر ان سے اِبا کرتا ہے ایسی سب چیزیں شامل ہیں۔ حضرت لقمان نے مزید کہاکہ جب تم لوگوں کو نیکی کا حکم دوگے اور برائی سے روکوگے تو انسانوں میں بگڑے ہوئے لوگوں کے گروہ تمہیں برداشت نہیں کریں گے اور اگر ان کے بس میں ہوا تو وہ تمہیں مصائب کا نشانہ بنا دیں گے۔ ایسے حالات میں مصائب سے گھبرا کر نیکی کا حکم دینے اور برائی کو روکنے سے رک نہ جانا، کیونکہ یہ اس راہ کی لازمی سنت ہے جسے برداشت کئے بغیر نیکی کا فروغ ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی بندگی کے غالب آنے کی کوئی امید نہیں، اس لئے اس راہ میں نہایت حوصلہ مندی اور احساسِ عزیمت کی ضرورت ہے۔ یہ ایسا کام ہے جس کی سعادت اللہ تعالیٰ کے عظیم بندوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اور کتنے ایسے عظیم بندے گزرے ہیں جو اس راہ میں کام آچکے ہیں۔ اس لئے اس کام کو بے دلی سے کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ اور کبھی بھی کم ہمتی کو قریب نہ آنے دینا۔ اس راستے میں نہ کوئی رخصت کا تصور ہے اور نہ کسی طرح کی کوتاہی کا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر بے انتہا اجر و ثواب رکھا ہے۔
’’اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کرو، اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا‘‘ (لقمان:18)۔
تَصعیر خَد کا مفہوم اور اس سے ممانعت: ’’صعر‘‘ عربی زبان میں ایک بیماری کو کہتے ہیں جو اونٹ کی گردن میں پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے اونٹ دونوں طرف گردن نہیں پھیر سکتا بلکہ ایک ہی طرف پھیرے رکھتا ہے۔ اسی سے محاورہ پیدا ہوا : ’’فلاں شخص نے اونٹ کی طرح اپنا کلہ پھیر لیا‘‘ یعنی تکبر کے ساتھ پیش آیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی محاورے کی زبان میں بات کی گئی ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ بیٹا کبھی کسی چھوٹے آدمی سے منہ پھیر کر بات نہ کرنا، یہ تکبر کا انداز ہے اور تکبر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ جب اسے اللہ تعالیٰ عہدہ و منصب یا مال و دولت دیتا ہے تو وہ غریبوں اور ماتحتوں سے منہ پھیر کر تکبر سے بات کرتا ہے، تم کبھی ایسا نہ کرنا۔
تکبر کی چال کی ممانعت : دوسری نصیحت یہ کی کہ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا، جس طرح گفتگو اور میل جول میں تکبر کا انداز اختیار کرنے سے روکا، اسی طرح چال اور رفتار میں بھی عاجزی اور وقار کی نصیحت کی اور کبرو غرور کی چال سے منع کیا ۔ سورہ بنی اسرائیل میں بھی اخلاقی ہدایات کے سلسلہ میں یہ ہدایت گزر چکی ہے۔ البتہ وہاں انسان کی بے بسی، کمزوری اور عاجزی کو نمایاں کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ تم آخر زمین پر اکڑ کر کیوں چلو، جبکہ تمہارا حال یہ ہے کہ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ یہ خدا کی قدرت و عظمت کے آثار ہیں جو تمہارے اپنے مسکن یعنی زمین پر پھیلے ہوئے ہیں اور یہ تمہیں ہر وقت یاد دلاتے ہیں کہ تم بندہ ہو اور بندہ کو عاجزی زیب دیتی ہے۔ اور کبریائی اور عظمت اللہ تعالیٰ کی شان ہے جس کا اظہار اس کی بعض عظیم مخلوقات سے بھی ہوتا ہے۔ تو جو شخص سر اٹھاکر چلتا ہے اور گردن اکڑا کے چلتا ہے اور بار بار زمین پر پاؤں پٹختا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دماغ میں کبر کی ہوا بھری ہوئی ہے۔ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا عاجز بندہ اور دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان نہیں سمجھتا بلکہ بڑی چیز گمان کرتا ہے۔ اور یہ چال انسان کے اندر کی کمزوریوں کو اس طرح نمایاں کر دیتی ہے کہ چلتے ہوئے اس کا ہر قدم اور دیکھتے اور بولتے ہوئے اس کے چہرے کے انداز بتادیتے ہیں کہ یہ شخص خود پسندی کا مریض ہے۔ اور بجائے اپنی عقل اور دین کی گرفت میں آنے کے نفس کی گرفت میں آیا ہوا ہے۔ اس لئے حضرت لقمان نے خاص طور پر اپنے بیٹے کو اس سے روکا۔
قرآن کریم نے اور بھی مختلف مواقع پر مسلمانوں کو ہدایت دیتے ہوئے کبرو غرور کو بدترین عادت قرار دیا۔ اور اس طرح کی رفتار سے منع فرمایا۔ انہی ہدایات کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس طرح چلتے تھے جیسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا لیکن زمین پر اللہ تعالیٰ کے دین کے نفاذ کی ذمہ داری کو پورا کرنے والا چلتا ہے۔ اور جب کسی شخص کو ایسی تکبر کی چال یا مسکینی سے چلتا ہوا دیکھتے تھے تو وہ انھیں ناگوار گزرتا تھا۔ ایک شخص کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نہایت مسکینی سے سر جھکائے ہوئے چلتے ہوئے دیکھا تو ڈانٹتے ہوئے فرمایا: ’’سر اٹھا کر چل، اسلام مریض نہیں‘‘۔ ایک دوسرے شخص کو مریل چال چلتے دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹوکا اور کبرو غرور کی ہمیشہ مذمت فرمائی۔ اور آیت کے آخر میں اسی سلسلے میں سخت تنبیہ بھی فرمائی۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی اکڑنے والے یعنی کسی خود پسند اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا اور پسند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے عذاب کا مستحق ہوگا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کسی کو پسند نہ کرنا یہ اس کے غیظ و غضب کی علامت ہے اور اس کے نتیجہ میں کیا ہوسکتا ہے ہم اس کا اندازہ ہی نہیں کرسکتے۔
’’اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو اور اپنی آواز کو ذرا پست رکھ، بے شک سب آوازوں سے زیادہ مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے‘‘ (لقمان:19)۔
چال میں میانہ روی اور آواز میں فروتنی اور احساس ذمہ داری: اوپر کی آیت میں دو نصیحتیں حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کیں۔ ایک یہ کہ لوگوں سے بے رخی سے پیش نہ آنا اور دوسری یہ کہ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا۔ ان دونوں نصیحتوں کو نہی کی صورت میں بیان کیا گیا ہے؛ یعنی یہ بری عادتیں ہیں ان سے بچ کے رہنا۔ اب انہی دونوں باتوں کو مثبت انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اکڑ کر نہ چلنے کا مفہوم یہ ہے کہ چال اور رفتار میں اعتدال، میانہ روی، تواضع اور فروتنی پیدا کرو۔ دیکھنے والا یہ گمان کرے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا عاجز بندہ جارہا ہے جس میں بندگی کی فروتنی بھی ہے اور ذمہ داری کا احساس بھی۔ اور بے رخی سے بات نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دھیمے لہجے میں نہایت عاجزی اور ہمدردی سے دوسروں سے بات کرو۔ ضرورت بلند آواز سے بولنے کی ہے تو بلندآواز سے بولو؛ کیونکہ بعض دفعہ بوڑھے لوگوں کو حوصلہ دینے کیلئے زور سے بولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر سننے والے قریب، پڑھے لکھے اور مہذب لوگ ہوں تو آہستگی سے بات کرو۔ اور آہستگی کی بھی ایک سطح نہیں ہوسکتی، اس میں حسب ضرورت تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ہی قسم کی آواز پر پیدا نہیں فرمایا بلکہ اس کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ اپنی آواز کو پست بھی کرسکتا ہے اور بلند بھی۔ تو وہ اپنی صلاحیت کو موقع اور محل کے مطابق استعمال کرسکتا ہے۔ البتہ جس آواز سے نفرت سکھائی گئی ، حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اس سے بچانا چاہا وہ آواز وہ ہے جسے گدھے کی آواز کہا گیا ہے۔ گدھے کی آواز میں قدرت نے بلندی کے ساتھ ساتھ کراہت کا پہلو بھی رکھا ہے اور مزید یہ بات بھی کہ اسے یہ صلاحیت نہیں دی گئی کہ وہ اپنی آواز میں کمی بیشی کرسکتا ہو۔ وہ جب بھی بولتا ہے ایک آواز اور ایک ہی رفتار سے ہینگتا ہے جس سے سننے والوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ انسان کو ایسا لب و لہجہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حسن بیان اور حسن کلام کی نعمت سے نوازا ہے۔ اسے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ گدھے کی طرح ہمیشہ اپنا حلق اور لوگوں کے کان پھاڑنے کی کوشش کرے۔ اور لوگوں پر رعب جمانے اور انھیں خوف زدہ کرنے کیلئے کرخت اور سخت لب و لہجہ اختیار کرے۔
ان ہدایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لقمان کو کسی نہ کسی طرح کی سیادت حاصل تھی۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے تو ان کی عمر کی شام ڈھل رہی تھی اور وہ محسوس کر رہے تھے کہ ان کے حالات کے مطابق ان کا بیٹا جانشین ہوگا۔ اس لئے انھوں نے ضروری سمجھا کہ ان کے جانشین میں اچھی سیادت کیلئے جو صفات ہونی چاہئیں وہ اپنے بیٹے پر واضح کر دی جائیں۔ اسی لئے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں فرمائیں ان میں اصلاحِ عقیدہ کے ساتھ ساتھ حسن اخلاق، حسن معاشرت اور حسن حکومت سب کچھ شامل تھا۔ (تفسیر روح القرآن)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close