قرآنیات

قرآن مجید کا فلسفئہ سنۃ و عام

قمر فلاحی

قرآن مجید میں السنة اور العام دونوں ہی سال کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے مگر دونوں کے معنی اور مفہوم میں بڑی باریکی ہے اس کا اندازہ درج ذیل تصریحات سے ہوتا ہے۔

 قرآن مجید میں السنة شدت وتکلیف کے سال اوردکھ کے سال کیلئے استعمال  ہوا ہے، اسی طرح قرآن مجید میں لفظ عام آسانی ،کشادگی، سہولت،اور نعمت سے بھرے ایام کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔

سنۃ کی تفصیلات:

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ (14) }(سورة العنكبوت) آية 14۔

حضرت نوح علیہ السلام نے 950 سال انتہائی تکلیف میں گزارے۔

عربی قواعد ولغت کے اعتبار سے اللہ سبحانہ یہ بھی فرما سکتا تھا :فلبث فیھم تسعمائة وخمسون سنۃ۔ ۔۔۔ مگر اللہ سبحانہ نے ایسا نہیں فرمایا۔

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (47)الحج۔

 سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ (1) لِلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ (2) مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ (3) تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ (4) المعارج

 یعنی عذاب کے سال تکلیف دہ ہوں گے۔

قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلا قَلِيلا مِمَّا تَأْكُلُونَ(47) ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلا قَلِيلا مِمَّا تُحْصِنُونَ (48) ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ (49) یوسف

یہاں سنین کو سنۃ کی جمع کے طور پہ استعمال کیا ہے اور یہاں سنین سے مراد مشقت کے سال کے ہیں۔ اس کا واضح اشارہ اسی آیت میں ہے کہ جب یہ سات سال گذر جائیں گے تواس کے بعد راحت کے سال شروع ہوں گے جس میں بالکل مشقت اور عذاب نہیں ہوگا[ آیت 49۔ ] اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پہ خوب بارش برسائ جائیگی اور اس میں [شیرہ انگور]خوب نچوڑیں گے۔

 قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً يَتِيهُونَ فِي الأَرْضِ فَلا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ (26) المائدہ

ارشاد ہوا کہ اب زمین ان پہ چالیس سال تک حرام کر دی گئ،یہ خانہ بدوش ادھر ادھر سرگرداں پھرتے رہیں گےاس لئے تم ان فاسقوں کیلئے غمگین نہ ہونا۔

معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل کے چالیس سال مشقت اور عذاب والے تھے۔

وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِنْهُمَا اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ (42) یوسف

قید خانہ کے سال مشقت والے ہوتے ہیں۔

 وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (15)  الاحقاف

ماں کا حمل وفصال بھی مشقت بھرا ہوتا ہے مگر یہ عذاب والا نہیں ہوتا بلکہ رحمت والا ہوتا ہے اسی لئے اللہ سبحانہ نے یہاں ڈھائ سال کہنے کے بجائے تیس مہینہ فرمایا [اللہ اکبر]

عام انسان جو چالیس سال گذارتاہے وہ مشقت بھرا ہوتا ہے۔

وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ (14) لقمان

یہاں اس نکتہ کو کھول دیا گیا کہ ماں کے حمل و فصال کے ایام عذاب اور مشقت کے نہیں ہیں بلکہ وھن کے ہیں اور فصال کیلئے سنۃ کے بجائے یہاں عامین کا لفظ استعمال کیا۔

عام کی تفصیلات:

 أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانْظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (259)البقرہ

اصحاب کھف نے سو سال گذارے مگر الم اور تکلیف کے ساتھ نہیں بلکہ راحت اور سکون کے ساتھ ،یہ ان کے موت کی حالت تھی۔

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (28)التوبہ

اے ایمان والو اب[ فتح مکہ کے بعد ] اس سال کے بعد مشرکین مسجد حرام میں داخل نہ ہوں۔ یہاں پہ عام راحت و سکون کےسال کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو کہ مشرکوں کے عذاب سے نجات کے بعد نصیب ہوا تھا۔

اسی لئے نئے سال کی مبارکبادیاں دیتے وقت یوں کہنا چاہیے:”كل عام وأنت بخير”نہ کہ یہ کہنا چاہیے:” كل سنة و أنت طيب”

سنین کا مفہوم ؟

چونکہ قرآن مجید نے عام کی جمع سنین کی طرح عامین استعمال نہیں کیا ہے۔ اس لئے سالوں کیلئے مشترک طور پہ سنین استعمال کیا ہے۔ اس میں اس کا امکان ہے کہ عرب عام کی جمع استعمال نہ کرتے ہوں یا عام ہی استعمال نہ کرتے ہوں اس لئے سنین میں دونوں مفہوم کے ہونے کا امکان ہے یعنی شدت و تکلیف کے سال والا بھی اور راحت اور سکون کے سال والا بھی جیسا کہ آیتوں سے اندازہ ہوتاہے :

یہاں پہ سنین مشقت کے معنی استعمال ہوئے ہیں :

الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ (2) فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ (3)فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (4) الروم

یہاں پہ سنین کا استعمال راحت وسکون کے دونوں کیلئے ہوا ہے:

وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا (25)الکھف

اصحاب کہف کے یہ ایام مشقت والے نہ تھے بلکہ سکون والے تھے۔

قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ (18)الشعراء

فرعون کے یہاں موسی علیہ السلام مشقت میں نہیں تھے بلکہ سکون میں تھے۔ ناز ونعم میں پرورش ہوتی تھی۔

[یہ ضمنی بات ہے میرا مقصود اصلا "سنۃ "سے ہے جوکہ ہر جگہ مشقت کے ایام کیلئے استعمال ہوا ہے۔ قمرفلاحی]

[نوٹ واضح رہے کہ یہ نکتہ میرے استاد شیخ جاوید سلطان فلاحی حفظہ اللہ  نے کسی عربی کے قول کی شکل میں پیش کیا تھا مگر جب میں نے تحقیق کرنا شروع کیا تو یہ ساری تفصیلات سامنے آگئیں ، فجزاھم اللہ سبحانہ خیرا]

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close