قرآنیات

قرآن مجید کا فلسفئہ ’سوء و سیئات‘

قمر فلاحی

ہر وہ چیز جو انسان کو غم میں ڈال دے اسے” سُوء” کہتے ہیں۔ اسی طرح ہر بری چیز کو سوء کہا جاسکتاہے جو انسان کو پسند نہ ہو اور انسان جسے لوگوں پہ ظاہر ہونے سے شرمندگی محسوس کرتا ہومثلا عیب و نقص شر و فساد وغیرہ۔

انسان کی فطرت میں ہے کہ اس کا دوست عزت دار ہو اگر کسی کا دوست برا ہو تو اس کا اظہار وہ ہرگز نہیں کرتا اور نہ ان کے ساتھ گھومنا پھرنا پسند کرتاہے۔ اسی کا اشارہ اللہ تعالی نے النساء ۳۸ میں کیا ہے کہ جس کا دوست شیطان ہو تو اس کا برا دوست ہے۔

وَالَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَاءَ النَّاسِ وَلا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَمَنْ يَكُنِ الشَّيْطَانُ لَهُ قَرِينًا فَسَاءَ قَرِينًا

اللہ کےراستے سے کسی کو روکنا برا عمل ہے۔ التوبہ ۹۔

    اشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

زنا سے قریب مت ہو یعنی اس کے تمام راستوں سے بچوجو زنا سے قریب کرنےوالا ہو مثلا غیرمحرم سے تنہائ میں باتیں کرنا یا ان سے ہنسی مذاق کرنا یا ان کےساتھ سفر کرنا وغیرہ۔ یہ فحش ہے اور برا راستہ ہے۔بنی اسرائیل ۳۲۔

وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلا۔

اگرکسی نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ برے اعمال کرنے کے بعد بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائیگا تو اس نے غلط سمجھا ہے۔ ان کا فیصلہ برا ہے۔ بھلا اللہ تعالی سے کون بچ نکل سکتا ہے۔ العنکبوت ۴۔

جہنم بری جگہ ہے، یعنی قبیح ہے کسی کو پسند نہیں آنے والی اور نہ فخر جتانے والی ہے بلکہ شرمندگی والی جگہ ہے۔ النساء ۹۷۔

 إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا۔   ‪

اہل ایمان کو جب کوئ اچھائ ملتی ہے تو یہ چیز کافروں پہ گراں گزرتی ہے انہیں بری لگتی ہے۔ آل عمران ۱۲۰۔

 إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ

اے ہارون کی بہن تمہارے والد برے نہیں تھے۔یعنی انہوں نے کبھی وہ کام نہیں کیا جس سے انہیں شرمندگی اٹھانی پڑے۔مریم ۲۸۔

يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا۔

یقینا وہ تمہیں بری  چیزوں اور فحش پہ ابھارتا ہے۔ البقرہ 169۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الأَرْضِ حَلالا طَيِّبًا وَلا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ (168) إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ 169۔  ‪

 أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَى مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ۔ ‪۔ الانعام ۱۵۷۔

جو لوگ اللہ تعالی سے کئے اپنے وعدے کو توڑتے ہیں، اور قطع رحمی کرتے ہیں اور فساد پھیلاتے ہیں۔ ان کیلئے لعنت اور برا ٹھکانا ہے۔ الرعد ۲۵۔

وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ

جو لوگ برا عمل کریں یا اپنے اوپر ظلم کریں پھر اللہ تعالی سے مغفرت طلب کریں تو وہ اللہ تعالی کو بہت زیادہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا پائیں گے۔ النساء ۱۱۰۔

 وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا ۔ الاعراف ۱۵۳۔

 وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ

‪ توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالی سیئات کو معاف کردیگا۔

النساء ۸۵

مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا وَمَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُنْ لَهُ كِفْلٌ مِنْهَا وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقِيتًا

   اور جو لوگ برا عمل کریں گے تو انہیں برابر بدلہ دیا جائیگا اور ان پہ ظلم نہیں کیا جائیگا۔ الانعام ۱۶۰۔

مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلا يُجْزَى إِلا مِثْلَهَا وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ۔

نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں یہ یاد دہانی حاصل کرنے والوں کیلئے یاد دہانی ہے۔ھود ۱۱۴۔

 وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ

وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور بری چیزوں کو نظر انداز کرتاہے۔ الشوری ۲۵۔

 وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ۔ البقرہ ۲۷۱۔

 إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

جو لوگ اللہ پہ ایمان لائیں گے اور صالح عمل کریں گے تو اللہ تعالی ان کی برائیوں کو جھاڑ دیگا۔التغابن ۹۔

اے بنی آدم ہم نے تمہارے اوپر ایسا لباس اتارا جو تمہاری شرمگاہ کو چھپا دے۔یہاں سوءاتکم  معنی شرم گاہ ہے جسےکوئ بھی شخص ظاہر کرنا نہیں چاہتا اور اگر خود سے ظاہر ہوجائے تو شرمندگی محسوس کرتاہے۔ سوءۃ کا اصل معنی یہیں سے منتج ہوتاہے۔الاعراف ۲۶۔

 يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

اسی طرح سوءۃ اخی جنازہ کیلئے استعمال ہوا ہے جسے ہر کوئ چھپانا چاہتاہے۔ المائدہ ۳۱۔

 فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ قَالَ يَا وَيْلَتَى أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْأَةَ أَخِي فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادمین۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close