قرآنیات

قرآن مجید کا فلسفۂ مغفرت 

قمر فلاحی

قرآن مجید میں مستعمل لفظ "مغفرت” کے معنی کسی گناہ کو باز پرس سے الگ کرنا ہوتا ہے، یعنی اس پہ پردہ ڈال دینا، اسے اوروں کے سامنے نہ لانا ہوتا ہے۔ معنی کی یہی وسعت اسے انسانوں کو معاف کرنے والا بناتا ہے یعنی لوگوں کے گناہ پہ پردہ ڈال دیا کرو۔

گناہ جسے ظلم  کہا جاتا ہے نبی سے بھی ہوا ہے جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام  سے ظلم ہوا، شیطان کے بہکاوے میں آکر انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔

قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (القصص ۱۶۔)

گناہ کی دوسری قسمیں جیسے ذنب، عصیان طغیان، فسق وغیرہ یہ انبیاء کرام سے سرزد نہیں ہوئے ہیں۔

تمام گناہوں کی مغفرت ممکن ہے مگر گناہ کی وہ قسم جسے شرک کہا جاتا ہے اس کی مغفرت نہیں ہے۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا (النساء ۴۸۔)

اللہ سبحانہ جب کسی کی مغفرت فرماتا ہے تو اسے ذلیل نہیں کرتا بلکہ اس کی عزت بھی بڑھا دیتا ہے۔ لہذا گناہ کے مرتکب کو ذلیل نہ کیا جائے۔

قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ (٢٦) بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ (یسین ۲۷۔)

کسی کے گناہ کو معاف کرنا چونکہ رحمانی صفت ہے لہذا یہ خوبی بڑے نصیبوں والے کو ملتی ہے ہرایک کو نہیں۔

(من عزم الامور، ذوحظ عظیم)

وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (الشوری ۴۳۔)

اللہ سبحانہ اگر ہمیں معاف نہ کرے اور گناہوں سے متعلق پوچھ بیٹھے تو ہمارا بڑا خسارہ، گھاٹا (جہنم)ہو جائیگا۔

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (الاعراف ۲۳۔)

انسان اگر انسانوں کو معاف کریگا تو اللہ تعالی بھی انہیں معاف کریگا۔ التغابن ۱۴۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ۚ وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (١٤)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا ثمرہ مغفرت الہی ہے۔

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران ۳۱۔)

جو ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹ جائے اللہ سبحانہ انکی مغفرت نہیں فرمائےگا۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا (النساء ۱۳۷۔)

منافقین کی مغفرت نہیں ہے خواہ انکے لئے نبی وقت ستر دفعہ کیوں نہ معافی کی درخواست کریں۔

اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾ [التوبة: التوبہ ۸۰۔]

(انکا گناہ فسق کہلاتا ہے )

اھل ایمان کو مغفرت طلب کرنے کی طمع ہوتی ہے۔ ہمیشہ مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور چاہت بچی رہتی ہے۔

إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَن كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ (الشعراء ۵۱۔)

اللہ سبحانہ نے اپنے بندے کو بشارت سنائی ہے کہ وہ تمام ذنوب کو معاف کردیگا۔۔۔۔شرک ذنب سے الگ ہے۔

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الزمر ۵۳۔)

اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اللہ سبحانہ کی مغفرت ہمیں نصیب ہوگی۔

إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ (التغابن ۱۷۔)

نبی اور اہل ایمان کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ مشرکین کی مغفرت کی دعا کریں۔

مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (التوبہ ۱۱۳۔)

زنا کرنے کی کوشش ذنب کے دائرے میں آتا ہے اور قابل معافی ہے۔یوسف .

يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا ۚ وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ (یوسف٢٩)

صبر اور عمل صالح کا ثمرہ اللہ سبحانہ کی مغفرت اور اجر کبیر کا وعدہ ہے۔

إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ (ھود ۱۱)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close