قرآنیات

قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم مختلف طریقہ ہائے تدریس کا جائزہ

حضرت عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا ’’ایک وقت ایسا آئے گا کہ علم اٹھ جائے گا ‘‘اس پر ایک انصاری بول اٹھے ’’علم کیسے اٹھ سکتا ہے جب کہ کتاب اللہ ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے اور ہم اپنے بچو ں اور عورتوں تک کو اس کی تعلیم دیتے ہیں‘‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں تو تجھے مدینے کے دانا ؤں میں خیال کرتا تھا‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کا ذکر فرمایا جو کتاب اللہ کی موجودگی میں گمراہ ہوگئے ‘‘۔ 1؂
اس روایت کو جب سے میں نے پڑھا ہے اس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس روایت میں ہمارے احوال کی پوری عکاسی کی گئی ہے۔ جو حال کتاب اللہ کی موجودگی میں اہل کتاب کا تھا تقریباً وہی حال قرآن کی موجودگی میں ہمارا ہے اور جس غلط فہمی کا شکار انصار ی تھے اسی غلط فہمی کا شکار آج تمام مسلمان ہیں کہ صرف قرآن کی رسمی تعلیم بلکہ صرف ناظرہ قرآن سیکھنے اور سکھانے پر قانع و مطمئن ہیں۔ مقصد نزول قرآن – ہدایت – کے حصول کا تو خیال تک نہیں آتا۔ قرآن کے سانچے میں اپنے آپ کو اور نئی نسل کو ڈھالنا تو دور کی بات ہے۔ حالانکہ خود ناظرہ قرآن سیکھنے سکھانے کی کوششیں بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق مدراس و مکاتب (خواہ وہ کل وقتی ہوں یا جزوقتی) کے ذریعہ صرف 20یا 25فیصد بچے ہی سیکھ سکھارہے ہیں بقیہ سرکاری اداروں او رپرائیوٹ اداروں میں تعلیم پانے والے 75؍فیصد بچے قرآن کی تعلیم سے نابلد ہیں۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ ہر ایک کے لئے قرآن کی تعلیم کا جامع منصوبہ بنایا جائے اور ایسی تحریک چلائی جائے کہ ہر ایک ضروری حد تک قرآن سیکھ اور سکھاسکے اور اپنے آپ کو اور اپنی آل واولاد کو قرآن کے رنگ میں رنگ سکے۔ منصوبہ بندی سے پہلے موجودہ نظام اور طریقہ کار کا جائزہ ضروری ہے اس لئے ذیل کے سطور میں اس پر روشنی ڈالی جارہی ہے اور تجاویز بھی پیش کی جارہی ہیں تاکہ اس کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جاسکے۔گفتگو کا مرکز چونکہ صرف قرآن کی ابتدائی اور بنیادی تعلیم ہے اس لئے سب سے پہلے اس کا دائرہ سمجھ لینا ضروری ہے ۔ قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم کے دائرے میں چار چیزیں آتی ہیں:
(1) ناظرہ قرآن (2) حفظ قرآن
(3) ترجمہ قرآن (4) تعلیمات قرآن
1۔ ناظرہ قرآن:

ناظرہ قرآن کی تعلیم ایک نرالا تجربہ اور عمل ہے ۔ دنیا کی کسی زبان کی تعلیم حروف شناسی سے آگے بغیر سمجھے ایک قدم نہیں بڑھتی لیکن قرآن مجید سے بے مثال لگاؤ کا نتیجہ یہ ہے کہ بے سمجھے الفاظ بھی پڑھے جاتے ہیں۔ آیات بھی پڑھی جاتی ہیں حتی کہ زبانی یاد بھی کرلی جاتی ہیں اور گاہے بگاہے زندگی بھر پڑھی جاتی رہتی ہیں۔ یقیناًاس کا فائدہ ہے کہ ہمارا قرآن سے تعلق قائم ہے۔ نماز اور دیگر عبادات میں قرآن اور دعائیں اصلی عربی میں پڑھنے کے لائق ہم ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان فوائد کے مقابلے میں نقصانات عظیم ہیں۔ ناظرہ قرآن سیکھنے کو ہی ہم نے قرآن کی تعلیم سمجھ لیا ہے چنانچہ نہ سمجھنے کی فکر لاحق ہوتی ہے اور نہ ہی اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنے آپ کو اس کے پیکر میں ڈھالنے کی کوشش ہوتی ہے جو قرآن مجید کے مقصد نزول ہدایت کے سراسر خلاف ہے۔ غالباً اسی لئے مولانا مودودیؒ نے ناظرہ قرآن کے اس طریقہ تعلیم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ خود مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں ان کے درد کو ملاحظہ فرمائیں’’میری ابتدائی تعلیم میں ایک خرابی ایسی تھی، جس کو بعد میں میں نے بُری طرح محسوس کیا۔ وہ خرابی یہ تھی کہ عام دستور کے مطابق مجھے بھی سب سے پہلے بغدادی قاعدہ پڑھا کر قرآن مجید پڑھوایا گیا۔ یہ غلطی عام طور پر مسلمان اس زمانے میں بھی کرتے تھے اور آج تک کئے جارہے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ بچہ دنیا کی ساری چیزیں تو سمجھ کر پڑھتا ہے مگر صرف قرآن ہی کے متعلق وہ خیال کرتاہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے ، جسے سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ بس اس کے الفاظ پڑھ لینے کافی ہیں۔ اس غلط طریقے کی وجہ سے مجھے بے سمجھے قرآن مجید کی ایسی عادت پڑ ی کہ آگے چل کر جب میں نے عربی زبان پڑھ لی ، اس وقت بھی برسوں تک قرآن کو بغیر سمجھے پڑھتا رہا۔ 21 برس کی عمر میں مجھ کو پہلی دفعہ اپنی اس غلطی کا احساس ہوا اور میں نے قرآن کو سمجھنے کی کوشش شروع کی۔ میں چاہتا ہوں کہ اب مسلمان بچوں کو اس غلطی سے بچایا جائے اور انہیں قرآن اس وقت پڑھایا جائے جب وہ کم از کم اتنی اردو پڑھ لیں کہ قرآن کا ترجمہ ساتھ ساتھ پڑھ سکیں‘‘۔ 2؂
اسرار عالم صاحب نے تو اس طریقہ کار کو دشمنان اسلام کی سازش لکھا ہے ۔کیونکہ اس سے قرآن سے براہِ راست اثر پذیری کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ بے معنی الفاظ کے پڑھنے میں جو زحمت اور مشکلات پیش آتی ہیں وہ الگ ۔ بے سمجھے فن تجوید کی مشکل اصطلاحات کو ہضم کرنا کتنا گراں ہوتا ہے وہ اس راہ کے راہی ہی بتا سکتے ہیں۔ گرچہ سہولت پیدا کرنے کے لئے کچھ نئے اور دوسرے طریقے بھی وضع کئے گئے ہیں لیکن وہاں دوسری خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
* ناظرہ قرآن کی تدریس کے دو طریقے رائج ہیں:
الف: ناظرہ قرآن مع قواعد قرأت وتجوید:
اس طریقے میں قرأت و تجوید کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں ناظرہ قرآن سکھایا جاتا ہے اور مشق کرائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ دو کتابوں سے مدد لی جاتی ہے ’’نورانی قاعدہ‘‘ اور ’’یسّرنا القرآن ‘‘ان کے علاوہ ’’جمال القرآن ‘‘مولانا اشرف علی تھانویؒ ، ’’فوائد مکیہ ‘‘ عبدالرحمن مکی اور ’’مفتاح القرآن‘‘ مولانا محفوظ الرحمن نامی وغیرہ کتابیں بھی کہیں کہیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اہل حدیث حلقے میں ’’تحبیر التجوید‘‘ محمد عاصم قاری اور شیعہ حلقے میں ’’تجوید القرآن ‘‘ پڑھائی جاتی ہے۔
اس طریقے کا فائدہ یہ ہے کہ عربی زبان کی باریکیوں کے مطابق پڑھنے والا پڑھنا سیکھتا ہے اور ادائیگی کی غلطیاں نہیں ہوتیں لیکن نقصان یہ ہے کہ فنی باریکیاں سیکھنے کے لئے بہت سے غیر مستعمل الفاظ کا بوجھ بھی بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی طرح فنی باریکیوں کو گرفت میں لانے کے لئے اتنی توجہ دینی پڑتی ہے کہ تعلیمات قرآن اور ہدایت قرآن سے ذھول ہوجاتاہے بلکہ تکلف آفرینی ایسی ہوتی ہے کہ فطری انداز مار کھانے لگتا ہے۔ چنانچہ انہی خرابیوں سے بچانے کے لئے کچھ اہل علم نے دوسرا طریقہ وضع کیاہے۔
ب: ناظرہ قرآن بغیر قواعد قرأت و تجوید:
اس طریقے میں ہجاء سے زیادہ تلفظ کی ادائیگی کی مشق پر توجہ دی جاتی ہے اور دوسری زبان کی مدد سے رواں پڑھنا سکھایا جاتا ہے ۔ اس طریقے میں اصطلاحات اور تکلف کی پیچیدگیوں سے پڑھنے والا آزاد ہو جاتاہے۔ اس طریقے کی سب سے کامیاب کتاب مولانا سید حامد علی ؒ کی تیار کردہ کتاب ’’تیسیر القرآن‘‘ ہے ۔ اس طریقے میں وقت کی بچت بھی ہوتی ہے ، اور طلبہ سہولت بھی محسوس کرتے ہیں۔ لیکن نقصان یہ ہے کہ طلبہ فنی باریکیوں سے آگاہ نہیں ہوتے۔
ان دونوں طریقوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہوئے ایک تیسری کوشش ڈاکٹر ف۔عبدالعزیز عبدالرحیم (سابق استاذ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ) کی کتاب ’’التبیان‘‘ (قرآنی قاعدہ) آئی ہے جو ایک بہترین کوشش کہی جاسکتی ہے۔ حال ہی میں اسے مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی نے شائع کیا ہے۔ لیکن اسے پڑھانے کے لئے استاذ کی تربیت اور مشق پر توجہ انتہائی لازمی ہے ۔
2۔ حفظ قرآن :
اللہ کا فضل ہے کہ امت کے اندرحفظ قرآن پر کافی توجہ ہے۔ گرچہ امراء کے یہاں کم ہے لیکن غرباء کے یہاں زیادہ ہے ۔ آپ دنیا میں کہیں چلے جائیں ہر جگہ آپ کو حافظ قرآن مل جائیں گے ۔ البتہ حفظ قرآن کے طریقہ کار میں مشرق و مغرب میں فرق ہے۔ مشرق میں ناظرہ قرآن کے بعد حفظ کرایا جاتاہے پھر فہم قرآن کی کوشش شروع ہوتی ہے یا پھر صرف حفظ پر قناعت کرلیا جاتاہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بچپن میں حافظہ مضبوط ہوتا ہے اس لئے حفظ میں آسانی ہوتی ہے۔ لیکن بغیر سمجھے حفظ قرآن کے بھی ویسے ہی برے اثرات سامنے آتے ہیں جیسے ناظرہ قرآن کے ۔ نہ خود کوئی اثر قبول کرپاتے ہیں اور نہ ہی سامع پر کوئی اثر ڈال پاتے ہیں۔ پڑھنے پڑھانے میں معنوی غلطیاں اس پر مستزاد ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے ذرا حضرت عمرؓ کادرج ذیل طرز عمل ملاحظہ فرمائیں:
’’عراق کے بعض گورنروں نے حضرت عمرؓ کے پاس یہ اطلاع دیتے ہوئے خط لکھا کہ کچھ لوگوں نے کتاب اللہ کو حفظ کرلیا ہے۔ تو حضرت عمرؓ نے ان کو لکھ بھیجا کہ ان کا وظیفہ مقرر کردو۔ پھر طالبین قرآن کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تو ایک گورنر کی جانب سے ان کو خط ارسال کیا گیا کہ سات سو لوگوں نے قرآن مجید کو حفظ کرلیاہے ۔ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ تفقہ فی الدین سے قبل قرآن مجید کے حفظ کے سلسلے میں جلد بازی کرنے لگیں گے اس لئے انہوں نے لکھ بھیجا کہ وہ انہیں کچھ نہ دیں‘‘۔ 3؂
اسی طرح امام مالک ؒ سے سات برس کے ایک بچے کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے قرآن حفظ کرلیا تھا تو انہوں نے فرمایا ’’میں اس کو مناسب نہیں سمجھتا ہوں‘‘۔ 4؂
ہمارے یہاں عموماً حفاظ ہی امام ہوتے ہیں۔ تراویح میں قرآن پڑھنے کا جو انداز وہ اپناتے ہیں اور جس طرح کی بھونڈی غلطیاں وہ کرتے ہیں اس کو سامنے رکھنا اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔اسی کا شاخسانہ ہے کہ بہت سی نئی چیزیں لزوم کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔ مثلاً تراویح میں آیات سجدہ پر امام کا مقتدی کو پہلے سے آگاہ کرنا ضروری سمجھا جانے لگا ہے۔ ذرا فتاویٰ رحیمیہ کا ایک استفتاء ملاحظہ فرمائیں :
’’سوال: تراویح میں سجدۂ تلاوت کا اعلان کیا جاتاہے کہ فلاں رکعت میں سجدہ ہے اس کا شرعاً کیا حکم ہے ؟ ‘‘
’’ جواب:خیرالقرون میں عرب و عجم میں کثیر تعداد میں جہلاء اور نو مسلم ہونے کے باوجود سلف صالحین سے اعلان ہذا ثابت نہیں حالانکہ وہ اسلامی اعمال کی تبلیغ میں نہایت چست اور عبادات کی درستگی کے بڑے حریص تھے۔ فقہاء نے بھی اس طرح کے اعلان کی ہدایت نہیں کی ہے اگر ضرورت ہوتی تو ضرور تاکید فرماتے جیسے کہ مسافر امام کو خصوصی طور پر تاکید فرمائی ہے کہ نمازیوں کو اپنے مسافر ہونے کی اطلاع دے دے چاہے نماز سے پہلے ہو یا بعد میں کہ ’’میں مسافر ہوں ‘‘ کیونکہ یہاں ضرورت ہے لیکن سجدۂ تلاوت میں عام طور پر ایسی ضرورت نہیں ہوتی اور اگر بلا ضرورت یہ طریقہ جاری رہا تو قوی اندیشہ ہے کہ جس طرح بعض شہروں کا رواج ہے کہ نماز جمعہ کے وقت اعلان کیا جاتا ہے ’’الصلوٰۃ سنۃ قبل الجمعۃ‘‘یا یہ کہا جاتاہے ’’انصتوا رحمکم اﷲ‘‘ اور دوسرا اعلان سنت یا فعل حسن سمجھا جاتا ہے اسی طرح سجدہ تلاوت کا یہ اعلان بھی ضروری اور یہ بھی ممکن ہے سنت سمجھا جانے لگے۔
حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے تنبیہ فرمائی ہے کہ مباح چیز کو ضروری سمجھنے سے دیگر خرابی کے سواء اس بات کا بھی احتمال ہے کہ مباح کو مسنون سمجھ لیا جائے اور غیر مسنون کو مسنون سمجھ لینا تحریف دین ہے (’’ازالۃ الخفاء‘‘ مجلس نمبر1 فصل نمبر5) البتہ اگر مجمع کثیر ہو جیسا کہ بڑے شہروں میں ہوتا ہے کہ صفیں دور تک ہوتی ہیں۔ کچھ صفیں بالائی منزل میں بھی ہوتی ہیں اور وہاں مغالطہ کا قوی احتمال رہتا ہے کہ لوگوں کو سجدۂ تلاوت کا پتہ نہ چلے اور سجدہ کے بجائے رکوع کرنے لگیں تو ایسے موقع پر بے شک بموجب ’’الضرورات تبیح المحذورات‘‘ اعلان کی اجازت دی جاسکتی ہے مگر ہر جگہ کا یہ حکم نہیں ہے۔ ہمارے یہاں اس کی (اعلان کی) ضرورت نہیں میرا اپنا برسوں کا تجربہ ہے لہٰذا اس کا ترک ضروری اور اس کی پابندی غلط ہے‘‘۔ 5؂
مشرق میں جو طریقہ رائج ہے اس میں درج ذیل خامیاں ہیں:
(1) طریقہ مشکل ہے کیونکہ کسی چیز کو سمجھنے کے بعد یاد کرنا آسان ہوتا ہے۔ اس طریقہ میں بغیر سمجھے یاد کرنا ہوتا ہے جو مشکل کام ہے ۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ وہ یاد کرادیتا ہے۔
(2) بغیر سمجھے یاد کرنے کی وجہ سے معنوی غلطیوں سے بچنا ممکن نہیں ۔
(3) اثر پذیری اور اثر اندازی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ وہ تلاوت قرآن کی حلاوت سے محروم رہتا ہے ۔
(4) ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے تخلیقی صلاحیتیں مجروح ہوتی ہیں ۔
اس سلسلے میں اسلاف کا جو طریقہ تھا اور جسے مغرب میں رہنے والوں نے اختیار کیاہے وہی بہتر ہے کہ پہلے قرآن سمجھا جائے پھر حفظ کیا جائے ۔ اس طریقے میں قرآن کے مقصد نزول ’’ ہدایت ‘‘کے حصول کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ حفظ میں آسانی ہوتی ہے۔ وقت کا ضیاع نہیں ہوتا ہے چنانچہ حسن البناءؒ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا ’’لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ حفظ قرآن مجید پہلے مرحلے کی تعلیم کا جز ہے ، اس وجہ سے کہ اس عمر میں قوت حافظہ اور یاد رکھنے کی صلاحیت قوی ہوتی ہے اور اس کے بعد اس کو یاد کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ بات عرف عام کی صورت اختیار کرچکی ہے ، لوگ اس کی مخالفت کرنے میں بہت حرج محسوس کرتے ہیں اور ان کو ایسا لگتا ہے کہ یہ کتاب اللہ کا ضیاع ہے۔ آپ دوسرے پہلو سے دیکھیں کہ اس عمر میں طلبہ کا پورے قرآن مجید کو حفظ کرنے میں مشغول رہنا ان کی بہت سی عقلی صلاحیتوں کو کام میں لانے سے محروم کردیتا ہے اور ان کی بہت سی نفسیاتی صلاحیتوں کو مفلوج کردیتا ہے ، اور ان کے ذہنوں اور دلوں میں قرآن ایسے الفاظ کی شکل میں مرتسم ہوتا ہے، جو بے معنی ہیں۔ اور آئندہ زندگی میں انہیں بغیر غور وفکر کے پڑھنے کا عادی بنادیتا ہے۔ اس طریقے سے اگرچہ وہ قرآن مجید کا حافظ بن کر نکلتا ہے تاہم قرآن پر تدبر اور اس کے معانی و مقاصد پر تفکر کی لذت سے محروم ہوتا ہے۔‘‘ 6 ؂
جامعہ ازہر مصر جو سب سے قدیم یونیورسٹی ہے وہاں حفظ قرآن کا یہی طریقہ رائج ہے اور کامیاب ہے۔ وہاں کے طریقہ کار میں تو یہ بات بھی شامل ہے کہ حافظ رسم الخط سے بھی آگاہ ہو چنانچہ وہاں حفاظ کا تحریری امتحان بھی لیا جاتا ہے اور اس میں کامیابی کے بعد سر ٹیفکیٹ دی جاتی ہے۔ 7؂
پاکستان میں کچھ مقامات پر اس طریقہ کا تجربہ کیا گیا اور وہ زیادہ بہتر اور مؤثر رہا ہے۔ اس تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ تفصیلات کے دیکھئے ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ قرآن نمبر ،لاہور پاکستان ۔ مضمون قرآنی خدمت کی ایک خاموش تحریک از حافظ نذر محمد صفحہ:20۔32۔
3۔ ترجمہ قرآن:
قرآن مجید کی تعلیم کے سلسلے میں ایک طریقہ تو وہ ہے جو ترجمہ قرآن مع مختصر تشریح پڑھانے کا ہے۔ یہ طریقہ عموماً مدارس میں رائج ہے۔
دوسرا طریقہ وہ ہے جو عموماً کلاسیز کی شکل میں یا مساجد میں یا انفرادی طور پر سکھانے کے لئے اختیار کیا جاتاہے۔ یعنی ابتدائی طور پر گرامر /صرف و نحو کی بنیاد ی معلومات بہم پہنچانے کے بعد ایک ترتیب سے پورے قرآن مجید کا لفظی ترجمہ سکھایا جاتا ہے۔ حسب ضرورت معلم اپنی طرف سے کہیں کہیں وضاحتی بیان دیتا رہتا ہے۔ اس سلسلے میں اردو میں حافظ نذر احمد صاحب کا لفظی ترجمہ سب سے زیادہ مقبول و مستفاد ہے اور انگریزی میں The Glorious Qur’anڈاکٹر شہناز شیخ و محترمہ کوثر کھتری کا ترجمہ رائج ہے۔
ان دونوں طریقوں سے فہم قرآن کی راہ تو کھلتی ہے اور تعلیمات قرآن تک رسائی بھی ہوتی ہے لیکن ان دونوں طریقوں میں بعض چیزیں محل نظر ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ وضاحت ضروری ہے کہ ترجمہ اصل کا بدل نہیں ہوسکتا اس لئے ترجمہ سے اصل کی روح حاصل نہیں ہوتی ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ اصل کو کلام اللہ کی حیثیت حاصل ہے اور ترجمہ کو کلام انسان کی ، ظاہر ہے کہ کلام انسانی کے ذریعہ کلام اللہ کی وسعت کا احاطہ ناممکن ہے۔ اسی طرح ایک زبان سے دوسری زبان میں من و عن تمام باتیں منتقل کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ہر زبان کا اپنا پس منظر، اپنا رنگ اور اپنا انداز ہوتا ہے ۔ضروری نہیں کہ وہ دوسری زبان میں بھی پایا جاتا ہو۔ جب تک دونوں زبانوں پر یکساں عبور نہ ہو تو ترجمہ کے ذریعہ مدعا کی منتقلی آسان نہیں۔ ترجمہ کی نزاکت کو سمجھنے کے لئے صرف اس ایک جملے کے ترجمہ پر غور کریں۔
آمنت باﷲ میں اللہ پر ایمان لایا I believed in Allah
اس وضاحت سے صاف واضح ہے کہ ترجمہ کے بجائے اصل عربی سکھانا اور اصل سے تعلق جوڑنا ہی سب سے بہتر اور محفوظ و مطلوب طریقہ ہے ۔ لیکن بدرجہ مجبوری اگر یہ طریقہ اختیار کرنا ہی ہو تو اس طریقہ میں پائے جانے والے نقائص کو دور کرنا ضروری ہے ۔
* پہلے طریقے میں درج ذیل نقائص پائے جاتے ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے :
(1) پورے قرآن کا ترجمہ کہیں نہیں پڑھا یا جاتا۔ نصاب میں کہیں کہیں شامل بھی ہے لیکن عموماً مکمل نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے قرآن پر مجموعی نظر سے بچے محروم رہ جاتے ہیں۔ مکمل ترجمہ قرآن سیکھنے سکھانے کو یقینی بنانا چاہئے ۔
(2) مدعا و مطلوب تک رسائی اس وقت ممکن ہے جب تک زباندانی پختہ نہ ہو عموماً زباندانی پختہ ہونے سے پہلے یہ عمل شروع ہو جاتا ہے ۔ جس طرح ادھ پکا کھانا اپنا اثر دکھاتا ہے اسی طرح آدھی زبان دانی اپنا اثر دکھاتی ہے اور بہت مضحکہ خیز شکلیں سامنے آتی ہیں مثلاًڈپٹی نذیر احمد مرحوم نے اپنے ترجمہ قرآن میں سورۂ یوسف کی آیت نمبر16’’اِنَّا ذَھَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَکْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا‘‘ کاترجمہ اس طرح کیا ہے ’’ہم تو جاکر ایک طرح کی کبڈی کھیلنے لگے اور یوسف کو ہم نے اسباب کے پاس چھوڑ دیا ‘‘۔
کبڈی ایک ہندوستانی کھیل ہے جس کے ذریعہ ’’نَسْتَبِقُ‘‘ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کا مناسب ترجمہ دوڑ میں مسابقت ہے دوڑ میں آدمی دور نکل جاتا ہے جبکہ کبڈی ایک ہی دائرہ میں ہوتی ہے ۔اس طرح کی بہت سی مثالیں مختلف تراجم سے نقل کی جاسکتی ہیں۔
(3) چونکہ زباندانی پختہ نہیں ہوتی اس لئے کسی مترجم کے ترجمہ کا سہارا لیا جاتا ہے اور مترجم کے سارے نقائص بھی پڑھنے والوں کو منتقل ہوتے ہیں۔ چنانچہ فطری اور قرآنی رنگ کے بجائے مترجم کا رنگ چڑھتا ہے ۔مختلف تراجم کو سامنے رکھا جائے تو بہتر تک پہنچا جاسکتا ہے ۔
(4) استاد عموماً کسی خاص رنگ میں رنگا ہوتا ہے تو وہ طلبہ کو بھی اس رنگ میں رنگتا ہے ۔ اس کا مزاج اگر ادبی ہے تو ادبی رنگ چڑھاتا ہے۔ اس کا مزاج اگر کلامی ہے تو کلامی رنگ چڑھاتا ہے اس کا مزاج اگر فقہی ہے تو فقہی رنگ چڑھاتا ہے وغیرہ ۔ گویا بچہ جامع رنگ اور قرآنی رنگ میں رنگنے کے بجائے ان رنگوں میں رنگ جاتا ہے ۔ اس لئے استاد کے اندر وسعت نظری پیدا کرنا چاہئے اور تدریس قرآن کی تربیت دی جانی چاہئے ۔
(5) ترجمے کی باریکیوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ قرآن کی روح اور تعلیم منتقل کرنے پر کم توجہ ہوتی ہے۔
(6) اصول ترجمہ عموماً سکھائے نہیں جاتے بلکہ زیادہ زور لفظی ترجموں پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے عموماً ترجموں میں سلاست اور چاشنی نہیں ہوتی۔ اس کے اصول بھی ابتداء میں بتانے چاہئیں اور عملی تطبیق سکھانی چاہئے ۔
* دوسرے طریقہ میں درج ذیل نقائص پائے جاتے ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے :
(1) ’’نیم حکیم خطرہ جان ‘‘کے مصداق ’’نیم گرامر خطرہ زبان‘‘ کے مظاہردیکھنے کو ملتے ہیں۔ ابتدائی شدبد سے اتنا بڑا معرکہ سرکر لینا ممکن نہیں۔ یہ حقیقت سب سے پہلے پڑھنے والوں کو سمجھنا اور سمجھانا چاہئے اور انہیں تکمیل کی راہ دکھانی چاہئے۔ ناقص معلومات کوکامل سمجھ کر الجھنے کا رویہ انتہائی خطرناک ہے جس کی مثالیں عموماً سامنے آتی رہتی ہیں اس لئے یا تو مکمل گرامر سکھایا جائے یا پھر صرف ترجمہ پر اکتفا کیا جائے ۔
(2) وضاحتی بیان چونکہ معلم کے مزاج کے مطابق ہوتا ہے اس لئے وہی خرابی درآتی ہے جو معلم کے اندر پائی جاتی ہے۔ اور سیکھنا و سکھانا صاف و شفاف نہیں رہتا۔ معلم اگر اہل حدیث مزاج کا ہے تو وہ رنگ چڑھتا ہے ۔ تبلیغی مزاج کا ہے تو وہ رنگ چڑھتا ہے اور تحریکی مزاج کا ہے تو وہ رنگ غالب آتا ہے۔ وسعت نظری کے ساتھ اساتذہ کی تربیت کے بغیر اس مسئلہ پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔
اس ضمن میں ڈاکٹر ف ۔عبدالعزیز عبدالرحیم ڈائرکٹر انڈراسٹینڈنگ اکیڈمی حیدرآباد و سابق استاد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا مختصر کتابچہ ’’قرآن کو سمجھئے آسان طریقہ سے ‘‘ شارٹ (مختصر مدتی ) کورس بہت بہتر کوشش ہے اور طریقہ تدریس بھی مؤثر اپنایا گیا ہے۔ اسے آزمانا چاہئے ۔
4۔ تعلیمات قرآن :
قرآن کی تعلیمات کونئی نسل تک منتقل کرنے کے لئے مختلف طریقے رائج ہیں:
(1) سب سے معروف طریقہ تو دینیات کی تعلیم کا ہے۔ لیکن اس میں خالص تعلیمات قرآن ہی نہیں ہوتیں بلکہ انسانی تجربات اور رجحانات کا بھی دخل ہوتا ہے،چنانچہ جتنی دینی تعلیم کی کتابیں ہیں ہر جگہ کوئی نہ کوئی چھاپ ضرور نظر آتی ہے۔ براہ راست صرف قرآن کی تعلیمات سکھائی جائیں اس کا اہتمام کم پایا جاتاہے۔ حالانکہ عافیت اسی راہ کو اپنانے میں ہے۔
(2) تفسیر قرآن اور دروس قرآن کا طریقہ مقبول خاص و عام ہے لیکن یہاں بھی آمیزش اور رجحانات کا دخل نظر آتا ہے جس کی قید سے عموماً ادارے اور اساتذہ آزاد نہیں ہیں۔
(3) دورہ حدیث کی طرح ’’دورہ قرآن ‘‘ کا بھی طریقہ کہیں کہیں اختیار کیا جارہا ہے۔ دورے کا طریقہ عمومی آگاہی کے لئے تو موزوں کہا جاسکتا ہے لیکن حصول ہدایت کے لئے موزوں نہیں۔
دورہ قرآن کا ایک طریقہ تو وہ ہے جو ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے متعارف کرایا تھا۔ لیکن ایک دوسرا طریقہ بھی رائج ہے جو الھدیٰ انسٹی ٹیوٹ آف کینڈا(http://www.site.alhudainstitute.ca)نے متعارف کرایا ہے۔ لکچر کے ذریعہ تفہیم کرائی جاتی ہے اور سوال و جواب کے ذریعہ حل کراکر ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ پہلے طریقے سے نسبتاً بہتر ہے ۔دھیرے دھیرے اب اسے قبول عام حاصل ہورہاہے۔
(4) اسی سے ملتی جلتی چیز ایک اور سامنے آئی ہے یعنی کوئز کے پیرائے میں قرآنی تعلیمات کو پیش کرنے کا ۔ چنانچہ اس نہج پر ڈاکٹر ذوالفقار کاظم کی تیار کردہ ’’قرآن حکیم انسائیکلوپیڈیا‘‘ فرید بک ڈپو دہلی سے شائع ہوئی ہے، لیکن اس کا تجربہ وسیع پیمانے پر ’’فیروس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ،ممبئی ‘‘کررہاہے۔ مختلف سورتوں کوکو ئز کے پیرائے میں ڈھال کر اسے یاد کرایا جاتاہے اور مقابلے کرائے جاتے ہیں۔ سورۃ البقرۃ کوئز اور عم پارہ کوئز اس نے تیار کرائے ہیں دیگر سورتوں کی تیاری بھی جاری ہے۔ اس نئے انداز کو کافی پذیرائی مل رہی ہے اور تعلیمات قرآن کو عام کرنے کا بہترین وسیلہ ثابت ہورہاہے۔تعلیمات قرآن کو حالات پر منطبق کرکے پیش کرنے کا معاملہ انتہائی نازک اور مشکل ہے۔ کوئز کی شکل میں کسی نہ کسی درجے میں اس کی بھی رعایت ممکن نظر آتی ہے۔
قرآن کی ابتدائی تعلیم کی سب سے بہتر شکل تو وہ ہے جو ان چاروں پہلوؤں کو محیط ہوتا کہ وقت کی بچت بھی ہو۔ انتشار ذہن سے بھی بچا جاسکے اور جامع انداز میں بچے کی ضرورت کی تکمیل ہو جائے ۔ اس سمت میں اب تک کوئی پختہ کوشش سامنے نہیں آئی ہے جسے قبول عام حاصل ہو حالانکہ اس ضرورت کو سبھی محسوس کررہے ہیں جیسا کہ مختلف بیانات سے لگتا ہے۔ چونکہ یہ ایک بڑا اور مشکل کام ہے اس لئے کوئی جلدی ہمت نہیں جٹا پارہا ہے۔ اس سلسلے کی دو کوششیں سامنے آئی ہیں پہلے ان کا جائزہ لے لیں پھر مطلوبہ کوشش کے خدوخال پر گفتگو کریں گے۔
سب سے پہلی کوشش اقرأ انٹر نیشنل ایجوکیشنل فاؤنڈیشن شکاگو ،امریکہ کی ہے۔ جس کی سربراہی عالمی شہرت یافتہ ماہر تعلیم ڈاکٹر عابد اللہ غازی کررہے ہیں۔انہوں نے اپنے جدید نصاب میں ان تمام پہلوؤں کو سمونے کی کوشش کی ہے اور تجربات کررہے ہیں لیکن درج ذیل باتیں کھٹکتی ہیں:
(1) نصاب کا خاکہ اور ڈھانچہ طویل ہے جو عام بچوں کے بس کا روگ نہیں۔
(2) ترتیب دیا ہوا نصاب جدید تکنیک کے مطابق ہے لیکن عام لوگوں تک جدید تکنیک پہنچی نہیں ہے اور نہ ہی رسائی آسان ہے ۔
(3) نصاب میں ہر چیز کو اسی تناسب سے جگہ دینا جو اسے ملنا چاہئے ۔ اس میں کمی نظر آتی ہے ۔ بعض پہلو ابھر گئے ہیں اور بعض پہلو دب گئے ہیں۔
(4) امریکی تعلیمی نظام اور ماحول کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے اس لئے یہاں کے احوال میں کہیں کہیں فٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا۔
ان تمام نقائص کے باوجود مجموعی حیثیت سے یہ نصاب موجودہ حالات میں بسا غنیمت ہے۔ تفصیلات کیلئے دیکھئے 8؂
دوسری کوشش مفتی پنجاب و سابق استاذ دارالعلوم دیوبند مولانا فضیل الرحمن ہلا ل عثمانی صاحب کی سامنے آئی ہے کتاب کا نام ہے ’’قاعدہ تعلیم القرآن‘‘(تین حصّے) جس میں حروف شناسی کے ساتھ سادہ انداز میں تجوید کے قواعد اور معانی کو سمجھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے بلکہ تحریر کے ذریعہ ذہن نشین کرانے کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس طریقہ تعلیم کے تجربے کے لئے انہوں نے دیوبند میں ’’مرکز الجلیل لتحفیظ القرآن‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بھی 15؍اکتوبر 2009ء ؁ میں قائم کیا ہے۔ پتہ ہے 235/4، شاہ رمز الدین اسٹریٹ دیوبند،247554ضلع سہارن پور(یوپی) ۔
اس منصوبے کے مطابق ابھی صرف تین کتابیں منظر عام پر آئی ہیں جنہیں دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلاواسطہ ناظرہ و تجوید اور فہم کا راستہ کھولنے کی بہترین کوشش ہے۔ البتہ تعلیمات قرآن کا عکس اس میں نظر نہیں آتا ہے شاید اگلے حصوں میں اس کا اہتمام و التزام کیا گیا ہو۔
ان تمام مباحث اور تجزیے کی روشنی میں اب ہم یہ طے کرنے کی کوشش کریں گے کہ قرآن کی ابتدائی تعلیم کا متوقع خاکہ کیا ہونا چاہئے ۔ اس سے پہلے کہ خاکہ پیش کروں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس خاکہ کی حیثیت مشورے کی ہے اس میں حسب ضرورت حذف و اضافہ کیا جاسکتا ہے اور اس سے بہتر مشوروں کو اس میں شامل کرکے اسے اور مفید و قابل عمل بنایا جاسکتا ہے۔
(1) قرآن کی ابتدائی تعلیم کو مرکزی اور لازمی حیثیت دی جانی چاہئے ۔قرآن کے سرچشمہ علم و ہدایت اور دنیا کی بہترین کتاب ہونے کا یہ بدیہی تقاضا ہے ۔ اسے عام مضامین کی طرح ایک مضمون کی حیثیت نہیں دی جانی چاہئے ۔
(2) حروف شناسی کے بعد ناظرہ (ترتیل) حفظ(حسب ضرورت) ترجمہ (فہم و ہدایت کے لئے) اور تعلیمات سے آگاہی ساتھ ساتھ سکھانی چاہئے تاکہ قرآن سے تعلق کے ساتھ ساتھ قرآن کے اثرات بھی نمایاں ہو ں۔ آج کے حالات کے مطابق نصاب وضع کیا جانا چاہئے اور طریقہ کار بھی فطری اور دلچسپ اختیار کیا جانا چاہئے اس کا ایک رف نقشہ کچھ اس طرح ہوسکتا ہے ۔
اس خاکہ کو دس مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر مرحلہ کے بنیادی پہلو کو پیش کیا جارہا ہے۔ ضرورت پڑنے پر تفصیل بھی تیار کی جاسکتی ہے۔ آخری دو مراحل کا تعلق تکمیل سے ہے لیکن ابتدائی مراحل کو پختہ بنانے کے لئے ضروری ہے ۔ اس لئے ان کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔
* حروف شناسی تصاویر کی مدد سے کی جائے ۔اصول اور قواعد کے بجائے براہِ راست صحیح مخارج کی ابتداء ہی سے مشق کرائی جائے۔ معلم خود والہانہ انداز سے نمونہ پیش کرے اور طلبہ سے اجتماعی و انفرادی طور پر اتنی مشق کرائی جائے کہ وہ رواں پڑھنے لگیں۔ لکھنے کی بھی مشق کرائی جائے جس سے شکلیں بہتر انداز میں ذہن نشین ہوں گی۔
* الفاظ اور ان کا جوڑ بامعنی ہو، بے معنی الفاظ پڑھنے اور پڑھانے سے گریز کیا جائے ۔ جوڑ کی شکلوں کو فطری اور دلچسپ پیرائے میں ذہن نشین کرایا جائے ۔کوشش رہے کہ زیادہ قرآن و احادیث کے الفاظ ہی استعمال ہوں اور اصول و قواعد مشکل پیرائے کے بجائے آسان انداز میں بتائے جائیں۔
* قرآنی قصص سنائے جائیں اور اس سے ملنے والی عبرتیں و نصیحتیں بتائی جائیں۔ چند پہلو اجاگر کرکے مزید پہلو معلوم کئے جائیں۔
* عمّ پارہ کی مختصر سورتیں یاد کرائی جائیں اور اس کے مضامین جدید اسلوب میں ذہن نشین کرائے جائیں ۔ مثلاً سورۃ الناس کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں:
1 : اللہ کون ہے ؟
رب الناس یعنی انسانوں کی تربیت کرنے والا اور ان کے معاملات کی تدبیر کرنے والا ۔
ملک الناس یعنی جو لوگوں کا مکمل طور سے مالک ہے۔
الہ الناس یعنی جو لوگوں کاحقیقی معبود ہے۔وہی ان کی حفاظت کرتا ہے ، اور انہیں پناہ دیتاہے۔
2 : بندوں پر اللہ کے کیا حقوقہیں؟
اللہ ہی سے پناہ طلب کرنااورہر مصیبت میں اسی سے التجا کرنا۔
3 : انسان کون ہے ؟
اپنے رب کا غلام کیونکہ اللہ ’’ملک الناس‘‘ہے
وہ کمزور ہے اور ہمیشہ اپنے رب کی حمایت کا محتاج ہے۔
اس کے اندر برائی قبول کرنے کی صلاحیت ہے اور شیطانی کام کرسکتا ہے۔
4 : شیطان کون ہے ؟(من الجنۃ و الناس)
وسوسہ ڈالنے والا، دبک جانے والا، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔
5 : کیا ہمارا تعلق صرف دنیا سے ہے یا وسیع و عریض کائنات سے ؟
ہمارے آس پاس کچھ ایسی مخلوقات بھی ہیں، جن کو ہم نہیں دیکھ پاتے ہیں۔مثلاً (جن)
6 : عملی کام
شیطان مردود سے ہمیشہ اللہ کی پناہ طلب کرنا۔
فوائد اور فضیلت کے پیش نظر سورۃ الناس کا کثرت سے مطالعہ کرنا ۔
* ترجمہ قرآن کے اصول بتائے جائیں، نمونوں کی مشق کرائی جائے ، شروعات قرآنی قصص سے کی جائے ، پھر اخلاق وآداب والی آیات کا انتخاب کرکے انہیں پڑھایا جائے ۔
* تعلیمات قرآن سے متعلق آیات کا انتخاب پڑھایا جائے بالخصوص ایمانیات (توحید، رسالت، آخرت، جنت وجہنم) عبادات و معاملات وغیرہ مباحث پر مشتمل آیات کی تعلیم فطری انداز میں دی جائے ۔
* علوم قرآن کی بنیادی معلومات بہم پہنچائی جائے ۔ اصول و کلیات اور مثالوں تک محدود رہا جائے ۔جزئیات اور اختلافات سے گریز کیا جائے ۔
* دورہ قرآن مکمل ترجمہ اور مختصر تشریحات کے ذریعہ ہوتاکہ بحیثیت مجموعی پورے قرآن پر ایک نظر ہو جائے اور حسب ضرورت پیش آمدہ معاملات میں متعلقہ آیا ت سے رجوع کرنا آجائے ۔
* تخصص فی القرآن اس کے ذریعہ ماہرانہ صلاحیت بہم پہنچائی جائے اور عصر حاضر کے مختلف پیچیدہ مسائل میں غور وفکر اور رہنمائی کا ملکہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے ۔
* تدریب فی القرآن مختلف شعبہائے زندگی سے متعلق خدمات انجام دینے کی صلاحیت پیدا کرنے کیلئے ٹریننگ دی جائے البتہ ہر ایک کا محور قرآن ہو اور قرآن کی روشنی میں یہ چیز کیسے ممکن ہے اس کی صلاحیت سے آراستہ کیا جائے تاکہ قرآن کی مرکزیت اور عملیت کو ثابت بھی کیا جاسکے اور قرآنی قیادت و سیادت کے خلا کو پُر بھی کیا جاسکے۔
(3) ابتدا ء ہی سے باریکیوں سے آگاہ کرنے کے بجائے عمومی پہلوؤں پر ہی توجہ دینی چاہئے ۔جس میں عمر اور علم کی سطح کا لحاظ ہو اور بتدریج اس کو گہرائی و گیرائی سے آشنا کرنے کا اہتمام ہو ۔
(4) قرآن کی تعلیم ہدایت کے نقطہ نظر سے ہو اور حالات پر تطبیق کا پہلو لامحالہ شامل رہے ۔ قرآن سیرت ساز اور انقلاب انگیز کتاب ہے اس میں قوموں کے عروج و زوال کے اصول و رموز بتائے گئے ہیں جن سے واقفیت اور آج کے حالات میں رہنمائی کا حصول ضروری ہے۔
(5) معلم کی تربیت کا خصوصی اہتمام کیا جائے ۔ حضرت عمرؓ کا فرمان تھا ’’قرآن کی تعلیم صرف وہی شخص دے جو زبان کا جانکار ہو‘‘ 9؂ اسی طرح ماہرانہ مقام کے لئے امام ابوحنیفہؒ حفظ قرآن کو ضروری سمجھتے تھے چنانچہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے کہ امام محمدؒ ،امام ابوحنیفہ ؒ کے علمی مجلس میں شرکت کے لئے حاضر ہوئے توانہوں نے دریافت کیا ’’کیا تم نے قرآن حفظ کیاہے ‘‘؟ امام محمدؒ نے جواب نفی میں دیا تو امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا ’’ جاؤ پہلے حفظ کرو پھر محفل مباحثہ میں آؤ‘‘۔ چنانچہ وہ رخصت ہو گئے اور پہلے حفظ مکمل کیا پھر مجلس میں حاضر ہونا شروع کیا ۔ 10؂ گویا فقہی رائے قائم کرنے اور لوگوں کی رہنمائی کے لئے وہ حفظ قرآن کو لازم سمجھتے تھے۔ کیا آج تعلیم قرآن کا فریضہ انجام دینے والوں کے لئے کوئی معیار قائم کرنے اور اس کے مطابق تربیت دینے کی ضرورت نہیں ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے خود رہنمائی فرمائی تھی کہ قرآن چار ماہرین قرآن سے سیکھو(1) عبداللہ بن مسعودؓ(2) سالم مولیٰ ابوحذیفہؓ (3) معاذ بن جبلؓ (4)ابی بن کعبؓ
(6) قرآن کی تعلیم کے سلسلے میں جو توجہ ناظرہ اور حفظ پر دی جاتی ہے ۔ اتنی ہی توجہ فہم اور تعلیمات سے آگاہی و ہدایت کے حصول پر بھی دی جانی چاہئے ۔ فہم قرآن کی راست کوشش کو خطرناک قرار دے کر محروم کرنا اچھا نہیں۔ جہالت کی صورت میں شدید گمراہی کا اندیشہ ہے جبکہ غور وفکر کی صورت میں اگر احتیاط ملحوظ رکھی جائے تو خطرات مسدود ہو جاتے ہیں اورافادیت دوچند ہو جاتی ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ ابوالدرداءؓ کے پاس ایک شخص آیا اور خوش خبری سنائی کہ ’’میرا بیٹا حافظ ہوگیا ہے ۔ یہ سن کر ابوالدرداءؓ نے فرمایا ’’اے اللہ اس کی مغفرت فرما قرآن مجید کی حفاظت تو محض اس شخص نے کی جس نے اس کوسنا اور اس کی اطاعت کی‘‘ 11؂ گویا حفظ تو ذریعہ اور وسیلہ ہے اصل چیز ہدایت و رہنمائی اور اتباع کے ذریعہ آخرت کی کامیابی کا حصول ہے۔

حوالہ جات
1؂ علامہ ابن عبدالبرؒ مترجم عبدالرزاق ملیح آبادی ’’العلم و العلماء (جامع بیان العلم و فضلہ) ندوۃ المصنفین دہلی۔6 جنوری 1974ء ؁ صفحہ :112
2؂ ڈاکٹر سید اسعد گیلانی 151 مولانا مودودیؒ سے ملئے ، مرکزی مکتبہ دہلی۔25 ، فروری 2010ء ؁ صفحہ:49
3؂ ڈاکٹر مجدی ہلالی مترجم رئیس احمد فلاحی، رجوع الی القرآن ، ادارہ علمیہ اعظم گڑھ (یوپی) صفحہ 206)
4؂ علامہ ابوبکر طرطوشی، الحوادث و البدع، صفحہ :206
5؂ سید عبدالرحیم لاجپوری ؒ ، فتاویٰ رحیمیہ، دارالاشاعت کراچی ،پاکستان 2003ء ؁ جلد پنجم، صفحہ 199
6؂ ڈاکٹر مجدی ہلالی مترجم رئیس احمد فلاحی، رجوع الی القرآن ، ادارہ علمیہ اعظم گڑھ (یوپی) صفحہ :319۔320)
(منقول از: نظرات فی التربیۃ و السلوک ، مقالات لحسن البناؒ )
7؂ انیس چشتی، بدلتی دنیا اور پیاسا تعلیمی عمل ، مرزا ورلڈ بک ہاؤس،اورنگ آبادمہاراشٹر، اشاعت دوم اپریل 2012ء ؁ صفحہ:89
8؂ سہ ماہی ’’نظام القرآن‘‘اعظم گڑھ جلد 12، شمارہ4، صفحہ:46تا53 پر ڈاکٹراشہد رفیق ندوی کا مضمون ’’قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم ایک جدید نصاب اور تکنیک کا تعارف‘‘
9؂ مولانا شاہ معین الدین ندوی ، سیر الصحابہ (اسوہ صحابہ جلد دوم ) کتب خانہ نعیمیہ دیوبند، جلد پنجم صفحہ 203
بحوالہ کنزالعمال جلد 1 ،صفحہ 228
10؂ محمد اویس سرور ، ائمہ اربعہ کے دلچسپ واقعات ، اریب پبلی کیشنز دریا گنج، نئی دہلی۔2سن اشاعت 2010ء ؁ صفحہ 84
بحوالہ بلوغ الامانی صفحہ 5۔6
11؂ ابوعبید، فضائل القرآن صفحہ: 73

مزید دکھائیں
Close