قرآنیات

قرآن کا چیلنج ہر زمان ومکاں کے لیے!

ابراہیم جمال بٹ
میں تعارف کا محتاج نہیں کیوں کہ میرا تعارف آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل باری تعالیٰ نے خود کیا ہے’’ یہ کتاب (قرآن) ہے، اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے متقین کے لیے‘‘ یہ کہہ کر میرا تعارف پوری بنی نوع انسان کو مل چکا ہے کہ میں کسی انسان کی نہیں بلکہ ایک ایک ذات کی طرف سے بھیجا گیا کلام ہوں جس کے آگے سب ہیچ ہیں۔ جو سب سے اعلیٰ وارفع ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں، جو سب کا پالنہار، پروردگا،خالق ومالک ہے۔ جس کے ہاتھ میں خیر اور شر کی کنجیاں ہیں۔ جو سب سے اعلیٰ ہے اور جس کے آگے سب ادنیٰ۔ اس لحاظ سے میرا تعارف اب کرانے کی ضرورت نہیں البتہ یاد دہانی کے طور پر میں اتنا کہہ دو میں اللہ کا کلام ’’قرآن کریم‘‘ ہوں۔ جو ماننے والوں کو پیغام دیتی ہے کہ آؤ میری طرف اور کامیاب ہو جاؤ، اور نہ ماننے والوں کو انکار کی سزا کی وعید سنا کر انہیں ڈراتی ہے اور بار بار ایک چیلنج ان کے سامنے رکھتی ہے کہ اگر مجھے جیسا کوئی اور کلام ہے تو لاؤ، اگر سچے ہو۔ چنانچہ میں یہ بات بار بار کہہ چکا ہوں کہ (اے پیغمبر آخر الزماںﷺ)! ’’کیا یہ (انکار کرنے والے لوگ) کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔ ’’اگر یہ اپنے اس قول میں سچے ہیں تو اسی شان کا ایک کلام بنا لائیں۔‘‘ (الطور:۳۴) ۔ میری اس آیت کی تشریح برصغیر کے ایک عالم دین ومفسر قرآن لکھتے ہیں کہ ’’یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ یہ محمد ﷺکا کلام نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سرے سے انسانی کلام ہی نہیں ہے اور یہ بات انسان کی قدرت سے باہر ہے کہ ایسا کلام تصنیف کر سکے۔ اگر تم(کفار)ا سے انسانی کلام کہتے ہو تو اس پائے کا کوئی کلام لا کر دکھاؤ جسے کسی انسان نے تصنیف کیا ہو۔ یہ چیلنج نہ صرف قریش کو، بلکہ تمام دنیا کے منکرین کو سب سے پہلے اس آیت میں دیا گیا ۔ اس کے بعد تین مرتبہ مکہ معظمہ میں اور پھر آخری بار مدینہ منورہ میں اسے دہرایا گیا۔۔۔۔مگر کوئی اس کا جواب دینے کی نہُ اس وقت ہمت کر سکا نہ اس کے بعد آج تک کسی کی یہ جرأت ہوئی کہ قرآن کے مقابلہ میں کسی انسانی تصنیف کو لے آئے۔ ‘‘
بعض لوگ میرے اس چیلنج کی حقیقی نوعیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ ’’ایک قرآن ہی کیا، کسی شخص کے اسٹائل میں بھی دوسرا کوئی شخص نثر یا نظم لکھنے پر قادر نہیں ہوتا۔ ہومر، رومی، شکسپیئر، گوئٹے ، غالب، ٹیگور، اقبال، سب ہی اس لحاظ سے بے مثل ہیں کہ ان کی نقل اُتار کر انہی جیسا کلام بنا لانا کسی کے بس میں نہیں ہے۔‘‘ میرے ( قرآن کے)چیلنج کا یہ جواب دینے والے در اصل اس غلط فہمی میں ہیں کہ ’’اگر یہ اپنے اس قول میں سچے ہیں تو اسی شان کا ایک کلام بنا لائیں۔‘‘ کا مطلب میرے اسٹائل میں اس جیسی کوئی کتاب لکھ دینا ہے۔ حالانکہ اس سے مراد اسٹائل میں مماثلت نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ میرے پائے ، شان اور اس مرتبے کی کوئی کتاب لے آؤ جو صرف عربی ہی میں نہیں ، دنیا کی کسی زبان میں ان خصوصیات کے لحاظ سے ’’میں‘‘ پہلے بھی معجزہ تھا اور آج بھی معجزہ ہے۔
یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ میں نے یہ بات فرمائی تو ہے قریش کے جواب میں، اور انہی کے جواب میں یہ فرمانے کی تھی بھی لیکن یہ چیلنج آج بھی برابر قائم ہے۔ میرے منکرین نہ تو اپنے قدیم ادبی و مذہبی ذخیرہ میں سے اس کے مانند کوئی چیز پیش کر سکے، نہ خود ہی کوئی چیز ایجاد کر سکے اور نہ بعد کی پوری تاریخ میں کوئی ایسی چیز سامنے آئی جس کو اس میرے چیلنج کا جواب قرار دیا جا سکے۔ (دنیا کی غیر عرب قوموں کے لیے یہ چیلنج براہ راست نہیں ہے تاہم وہ بھی طبع آزمائی کر کے دیکھ سکتی ہیں کہ وہ کوئی چیز اس کے پائے کی لا سکتی ہیں یا نہیں۔ پھر یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ میرا یہ چیلنج کسی ایک ہی پہلو سے نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی صحیفہ ہدایت ہونے کے پہلو سے ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی قوم یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ اس کے شاعر کے پایہ کا کوئی شاعر یا اس کے خطیب کے درجے کا کوئی خطیب دنیا میں نہیں ہے لیکن اول تو یہ دعویٰ ہی محل نظر ہے، دوسری قوم اس کے جواب میں اپنے خطیب یا شاعر کے حق میں یہی دعویٰ کر سکتی ہے لیکن کسی کا یہ دعویٰ تسلیم بھی کر لیا جائے تو یہ زیادہ سے زیادہ کسی ایک ہنر میں برتری کا دعویٰ ہو گا جس کو کوئی شخص نہ اپنے نبی ہونے کے ثبوت میں پیش کر سکتا اور نہ کوئی عاقل اس بنیاد پر اس کو نبی یا رسول مان سکتا۔
آپ ایک عام شاعر کا کلام اور ایک ادیب وفطین کی تحریرسامنے رکھ کر، اس پر غور کر کے دیکھئے وہ شاعرانہ کلام یا تحریر کہاں تک اور کس حد تک ایک عام انسان کی زندگی میں تبدیلی کا باعث ہو سکتی ہے۔ البتہ میں ایک بار پھر کہوں کہ میرے اس چیلنج سے مراد یہ ہے کہ میرے پائے ، شان اور مرتبے کی کوئی کتاب لے آؤ جو صرف عربی ہی میں نہیں ، دنیا کی کسی زبان میں ان خصوصیات کے لحاظ سے ’’میں‘‘ پہلے بھی معجزہ تھا اور آج بھی معجزہ ہے۔ چند ایک اشارے ہیں جو برصغیر کے ایک بزرگ رہنما نے ’’ لوگوں کے سامنے رکھ کر ایک کوشش کی ہے تاکہ آپ میرے اس چیلنج کو سمجھ سکیں کہ میں کس معنی میں عام انسانیت کو چیلنج کر رہی ہوں۔ لکھتے ہیں کہ :
*جس زبان میں قرآن مجید نازل ہوا ہے اس کے ادب کا وہ بلند ترین اور مکمل ترین نمونہ ہے۔ پوری کتاب میں ایک لفظ اور ایک جملہ بھی معیار سے گرا ہوا نہیں ہے۔ جس مضمون کو بھی ادا کیا گیا ہے موزوں ترین الفاظ اور مناسب ترین انداز بیان میں ادا کیا گیا ہے۔ ایک ہی مضمون بار بار بیان ہوا ہے اور ہر مرتبہ پیرایہ بیان نیا ہے جس سے تکرار کی بد نمائی کہیں پیدا نہیں ہوتی۔ اول سے لے کر آخر تک ساری کتاب میں الفاظ کی نشست ایسی ہے جیسے نگینے تراش تراش کر جڑے گئے ہوں۔ کلام اتنا مؤثر ہے کہ کوئی زبان داں آدمی اسے سن کر سر دھنے بغیر نہیں رہ سکتا، حتیٰ کہ منکر اور مخالف کی روح بھی وجد کرنے لگتی ہے۔۱۴؍ سو برس گزرنے کے بعد بھی آج تک یہ کتاب اپنی زبان کے ادب کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے جس کے برابر تو درکنار، جس کے قریب بھی عربی زبان کی کوئی کتاب اپنی ادبی قدر و قیمت میں نہیں پہنچتی۔ یہی نہیں ، بلکہ یہ کتاب عربی زبان کو اس طرح پکڑ کر بیٹھ گئی ہے کہ ۱۴؍صدیاں گزر جانے پر بھی اس زبان کا معیارِ فصاحت وہی ہے جو اس کتاب نے قائم کر دیا تھا، حالانکہ اتنی مدت میں زبانیں بدل کر کچھ سے کچھ ہو جاتی ہیں۔ دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں ہے جو اتنی طویل مدت تک املاء ، انشاء ، محاورے ، قواعد زبان اور استعمال الفاظ میں ایک ہی شان پر باقی رہ گئی ہو۔لیکن یہ قرآن کی طاقت ہی ہے جس نے عربی زبان کو اپنے مقام سے ہلنے نہ دیا۔ اس کا ایک لفظ بھی آج تک متروک نہیں ہوا ہے۔ اس کا ہر محاورہ آج تک عربی ادب میں مستعمل ہے۔اس کا ادب آج بھی عربی کا معیاری ادب ہے ، اور تقریر و تحریر میں آج بھی فصیح زبان وہی مانی جاتی ہے جو۱۴؍ سو برس پہلے قرآن میں استعمال ہوئی تھی۔ کیا دنیا کی کسی زبان میں کوئی انسانی تصنیف اس شان کی ہے؟
* یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جس نے نوع انسانی کے افکار، اخلاق، تہذیب اور طرز زندگی پر اتنی وسعت، اتنی گہرائی اور اتنی ہمہ گیری کے ساتھ اثر ڈالا ہے کہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ پہلے اس کی تاثیر نے ایک قوم کو بدلا اور پھر اس قوم نے اُٹھ کر دنیا کے ایک بہت بڑے حصے کو بدل ڈالا۔ کوئی دوسری کتاب ایسی نہیں ہے جو اس قدر انقلاب انگیز ثابت ہوئی ہو۔ یہ کتاب صرف کاغذ کے صفحات پر لکھی نہیں رہ گئی ہے بلکہ عمل کی دنیا میں اس کے ایک ایک لفظ نے خیالات کی تشکیل اور ایک مستقل تہذیب کی تعمیر کی ہے ،۱۴؍ سو برس سے اس کے ان اثرات کا سلسلہ جاری ہے ، اور روز بروز اس کے یہ اثرات پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔
*جس موضوع سے یہ کتاب بحث کرتی ہے وہ ایک وسیع ترین موضوع ہے جس کا دائرہ ازل سے ابد تک پوری کائنات پر حاوی ہے۔ وہ کائنات کی حقیقت اور اس کے آغاز و انجام اور اس کے نظم و آئین پر کلام کرتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس کائنات کا خالق اور ناظم و مدبر کون ہے ،کیا اس کی صفات ہیں ، کیا اس کے اختیارات ہیں اور وہ حقیقت نفس الامری کیا ہے جس پر اس نے یہ پورا نظام عالم قائم کیا ہے۔ وہ اس جہان میں انسان کی حیثیت اور اس کا مقام ٹھیک ٹھیک مشخّص کر کے بتاتی ہے کہ یہ اس کا فطری مقام اور یہ اس کی پیدائشی حیثیت ہے جسے بدل دینے پر وہ قادر نہیں ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس مقام اور اس حیثیت کے لحاظ سے انسان کے لیے فکر و عمل کا صحیح راستہ کیا ہے جو حقیقت سے پوری مطابقت رکھتا ہے اور غلط راستے کیا ہیں جو حقیقت سے متصادم ہوتے ہیں۔ صحیح راستے کے صحیح ہونے اور غلط راستوں کے غلط ہونے پر وہ زمین و آسمان کی ایک ایک چیز سے ، نظام کائنات کے ایک ایک گوشے سے ، انسان کے اپنے نفس اور اس کے وجود سے اور انسان کی اپنی تاریخ سے بے شمار دلائل پیش کرتی ہے۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان غلط راستوں پر کیسے اور کن اسباب سے پڑتا رہا ہے ، اور صحیح راستہ،جو ہمیشہ سے ایک ہی تھا اور ایک ہی رہے گا،کس ذریعہ سے اس کو معلوم ہو سکتا ہے اور کس طرح ہر زمانے میں اس کو بتایا جاتا رہا ہے۔ وہ صحیح راستے کی صرف نشان وہی کر کے نہیں رہ جاتی بلکہ اس راستے پر چلنے کے لیے ایک پورے نظام زندگی کا نقشہ پیش کرتی ہے جس میں عقائد، اخلاق،تزکیہ نفس، عبادات، معاشرت، تہذیب، تمدن، معیشت، سیاست، عدالت ،قانون، غرض حیات انسانی کے ہر پہلو سے متعلق ایک نہایت مربوط ضابطہ بیان کر دیا گیا ہے۔ مزید براں وہ پوری تفصیل کے ساتھ بتاتی ہے کہ اس صحیح راستے کی پیروی کرنے اور ان غلط راستوں پر چلنے کے کیا نتائج اس دنیا میں ہیں اور کیا نتائج دنیا کا موجودہ نظام ختم ہونے کے بعد ایک دوسرے عالم میں رونما ہونے والے ہیں۔ وہ اس دنیا کے ختم ہونے اور دوسرا عالم برپا ہونے کی نہایت مفصل کیفیت بیان کرتی ہے ، اس تغیر کے تمام مراحل ایک ایک کر کے بتاتی ہے ، دوسرے عالم کا پورا نقشہ نگاہوں کے سامنے کھینچ دیتی ہے ، اور پھر بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ وہاں انسان کیسے ایک دوسری زندگی پائے گا، کس طرح اس کی دنیوی زندگی کے اعمال کا محاسبہ ہو گا، کن امور کی اس سے باز پرس ہو گی، کیسی ناقابل انکار صورت میں اس کا پورا نامۂ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا، کیسی زبردست شہادتیں اس کے ثبوت میں پیش کی جائیں گی، جزا اور سزا پانے والے کیوں جزا اور سزا پائیں گے ، جزا پا نے والوں کو کیسے انعامات ملیں گے اور سزا پانے والے کس کس شکل میں اپنے اعمال کے نتائج بھگتیں گے۔ اس وسیع مضمون پر جو کلام اس کتاب میں کیا گیا ہے وہ اس حیثیت سے نہیں ہے کہ اس کا مصنف کچھ صغریٰ کبریٰ جوڑ کر چند قیاسات کی ایک عمارت تعمیر کر رہا ہے ، بلکہ اس حیثیت سے ہے کہ اس کا مصنف حقیقت کا براہ راست علم رکھتا ہے ، اس کی نگاہ ازل سے ابد تک سب کچھ دیکھ رہی ہے ، تمام حقائق اس پر عیاں ہیں ، کائنات پوری کی پوری اس کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح ہے ، نوع انسانی کے آغاز سے اس کے خاتمہ تک ہی نہیں بلکہ خاتمہ کے بعد اس کی دوسری زندگی تک بھی وہ اس کو بیک نظر دیکھ رہا ہے ، اور قیاس و گمان کی بنا پر نہیں بلکہ علم کی بنیاد پر انسان کی رہنمائی کر رہا ہے۔ جن حقائق کو علم کی حیثیت سے وہ پیش کرتا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی آج تک غلط ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔ جو تصور کائنات و انسان وہ پیش کرتا ہے وہ تمام مظاہر اور واقعات کی مکمل توجیہ کرتا ہے اور ہر شعبہ علم میں تحقیق کی بنیاد بن سکتا ہے۔ فلسفہ و سائنس اور علوم عمران کے تمام آخری مسائل کے جوابات اس کے کلام میں موجود ہیں اور ان سب کے درمیان ایسا منطقی ربط ہے کہ ان پر ایک مکمل، مربوط اور جامع نظام فکر قائم ہوتا ہے۔ پھر عملی حیثیت سے جو رہنمائی اس نے زندگی کے ہر پہلو کے متعلق انسان کو دی ہے وہ صرف انتہائی معقول اور انتہائی پاکیزہ ہی نہیں ہے بلکہ ۱۴؍سو سال سے روئے زمین کے مختلف گوشوں میں بے شمار انسان بالفعل اس کی پیروی کر رہے ہیں اور تجربے سے اس کو بہترین ثابت کیا ہے۔ کیا اس شان کی کوئی انسانی تصنیف دنیا میں موجود ہے یا کبھی موجود رہی ہے جسے اس کتاب کے مقابلے میں لایا جا سکتا ہو؟
*یہ کتاب پوری کی پوری بیک وقت لکھ کر دنیا کے سامنے پیش نہیں کر دی گئی تھی بلکہ چند ابتدا ،ابتدائی ہدایات کے ساتھ ایک تحریک اصلاح کا آغاز کیا گیا تھا اور اس کے بعد ۲۳؍سال تک وہ تحریک جن جن مرحلوں سے گزرتی رہی ان کے حالات اور ان کی ضروریات کے مطابق اس کے اجزا اس تحریک کے رہنما کی زبان سے کبھی طویل خطبوں اور کبھی مختصر جملوں کی شکل میں ادا ہوتے رہے۔ پھر اس مشن کی تکمیل پر مختلف اوقات میں صادر ہونے والے یہ اجزاء اس مکمل کتاب کی صورت میں مرتب ہو کر دنیا کے سامنے رکھ دیے گئے جسے ’’قرآن‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ تحریک کے رہنما کا بیان ہے کہ یہ خطبے اور جملے اس کے طبعزاد نہیں ہیں بلکہ خدا وند کی طرف سے اس پر نازل ہوئے ہیں۔ اگر کوئی شخص انہیں خود اس رہنما کے طبعزاد قرار دیتا ہے تو وہ دنیا کی پوری تاریخ سے کوئی نظیر ایسی پیش کرے کہ کسی انسان نے سالہا سال تک مسلسل ایک زبردست اجتماعی تحریک کی بطور خود رہنمائی کرتے ہوئے کبھی ایک واعظ اور معلم اخلاق کی حیثیت سے ، کبھی ایک مظلوم جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے ، کبھی ایک مملکت کے فرمانروا کی حیثیت سے ، کبھی ایک برسر جنگ فوج کے قائد کی حیثیت سے ، کبھی ایک فاتح کی حیثیت سے ، کبھی ایک شارع اور مقنن کی حیثیت سے الغرض بکثرت مختلف حالات اور اوقات میں بہت سے مختلف حیثیتوں سے جو مختلف تقریریں کی ہوں یا باتیں کہی ہوں وہ جمع ہو کر ایک مکمل، مربوط اور جامع نظام فکر و عمل بنا دیں ، ان میں کہیں کوئی تناقص اور تضاد نہ پایا جائے، ان میں ابتدا سے انتہا تک اسی بنیاد پر وہ عقائد و اعمال کا ایک ہی مرکزی تخیل اور سلسلہ فکر کار فرما نظر آئے، اس نے اول روز سے اپنی دعوت کی جو بنیاد بیان کی ہو آخری دن تک اسی بنیاد پر وہ عقائد و اعمال کا ایک ایسا ہمہ گیر نظام بناتا چلا جائے جس کا ہر جز دوسرے اجزاء سے کامل مطابقت رکھتا ہے ، اور اس مجموعہ کو پڑھنے والا کوئی صاحب بصیرت آدمی یہ محسوس کیے بغیر نہ رہے کہ تحریک کا آغاز کرتے وقت اس کے متحرک کے سامنے آخری مرحلے تک کا پورا نقشہ موجود تھا اور ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بیچ کے کسی مقام پر اس کے ذہن میں کوئی ایسا خیال آیا ہو جو پہلے اس پر منکشف نہ تھا یا جسے بعد میں اس کو بدلنا پڑا۔ اس شان کا کوئی انسان اگر کبھی گزرا ہو جس نے اپنے ذہن کی خلاقی کا یہ کمال دکھایا ہو تو اس کی نشان دہی کی جائے۔
*جس رہنما کی زبان پر یہ خطبے اور جملے جاری ہوئے تھے وہ یکایک کسی گوشے سے نکل کر صرف ان کو سنانے کے لیے نہیں آ جاتا تھا اور انہیں سنانے کے بعد کہیں چلا نہیں جاتا تھا۔ اس تحریک کے آغاز سے پہلے بھی انسانی معاشرے میں زندگی بسر کر چکا تھا اور اس کے بعد بھی وہ زندگی کی آخری ساعت تک ہر وقت اسی معاشرے میں رہتا تھا۔ اس کی گفتگو اور تقریروں کی زبان اور طرز بیان سے لوگ بخوبی آشنا تھے۔ احادیث میں ان کا ایک بڑا حصہ اب بھی محفوظ ہے جسے بعد کے عربی داں لوگ پڑھ کر خود بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ اس رہنما کا اپنا طرز کلام کیا تھا۔اس کے ہم زبان لوگ اس وقت بھی صاف محسوس کرتے تھے اور آج بھی عربی زبان کے جاننے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس کتاب کی زبان اور اس کا اسٹائل اس رہنما کی زبان اور اس کے اسٹائل سے بہت مختلف ہے ،حتی کہ جہاں اس کے کسی خطبے کے بیچ میں اس کتاب کی کوئی عبارت آ جاتی ہے وہاں دونوں کی زبان کا فرق بالکل نمایاں نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں کوئی انسان کبھی اس بات پر قادر ہوا ہے یا ہو سکتا ہے کہ سالہا سال تک دو قطعی مختلف اسٹائیلوں میں کلام کرنے کا تکلف نباہتا چلا جائے اور کبھی یہ راز فاش نہ ہو سکے کہ یہ دو الگ اسٹائل در اصل ایک ہی شخص کے ہیں ؟ عارضی اور وقتی طور پر اس قسم کے تصنع میں کامیاب ہو جانا تو ممکن ہے۔ لیکن مسلسل ۲۳؍سال تک ایسا ہونا کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ایک شخص جب خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کے طور پر کلام کرے تو اس کی زبان اور اسٹائل کچھ ہو، اور جب خود اپنی طرف سے گفتگو یا تقریر کر لے تو اس کی زبان اور اس کا اسٹائل بالکل ہی کچھ اور ہو۔
*وہ رہنما اس تحریک کی قیادت کے دوران میں مختلف حالات سے دو چار ہوتا رہا۔ کبھی برسوں وہ اپنے ہم وطنوں اور اپنے قبیلے والوں کی تضحیک، توہین اور سخت ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہا یا کبھی اس کے ساتھیوں پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ وہ ملک چھوڑ کر نکل جانے پر مجبور ہو گئے۔ کبھی دشمنوں نے اس کے قتل کی سازشیں کیں۔ کبھی خود اسے اپنے وطن سے ہجرت کرنی پڑی۔ کبھی اس کو انتہائی حسرت اور فاقہ کشی کی زندگی گزارنی پڑی۔ کبھی اسے پیہم لڑائیوں سے سابقہ پیش آیا جن میں شکست اور فتح، دونوں ہی ہوتی رہیں۔ کبھی وہ دشمنوں پر غالب آیا اور وہی دشمن جنہوں نے اس پر ظلم توڑے تھے ، اس کے سامنے سرنگوں نظر آئے۔ کبھی اسے وہ اقتدار نصیب ہوا جو کم ہی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ ان تمام حالات میں انسان کے جذبات ظاہر ہے کہ یکساں نہیں رہ سکتے۔ اس رہنما نے ان مختلف مواقع پر خود اپنی ذاتی حیثیت میں جب کبھی کلام کیا، اس میں ان جذبات کا اثر نمایاں نظر آتا ہے جو ایسے مواقع پر انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کے طور پر ان مختلف حالات میں جو کلام اس کی زبان سے سنا گیا وہ انسانی جذبات سے بالکل خالی ہے۔ کسی ایک مقام پر بھی کوئی بڑے سے بڑا نقاد انگلی رکھ کر یہ نہیں بتا سکتا کہ یہاں انسانی جذبات کار فرما نظر آتے ہیں۔
*جو وسیع اور جامع علم اس کتاب میں پایا جاتا ہے وہ اس زمانے کے اہل عرب اور اہل روم و یونان و ایران تو در کنار اس اکیسویں صدی کے اکابر اہل علم میں سے بھی کسی کے پاس نہیں ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ فلسفہ و سائنس اور علوم مختلفہ کی کسی ایک شاخ کے مطالعہ میں اپنی عمر کھپا دینے کے بعد آدمی کو پتا چلتا ہے کہ اس شعبہ علم کے آخری مسائل کیا ہیں ، اور پھر جب وہ غائر نگاہ سے قرآن کو دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب میں ان مسائل کا ایک واضح جواب موجود ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک علم تک محدود نہیں ہے بلکہ ان تمام علوم کے باب میں صحیح ہے جو کائنات اور انسان سے کوئی تعلق رکھتے ہیں۔ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ ۱۴؍سو برس پہلے ریگستان عرب میں ایک عمی کو علم کے ہر گوشے پر اتنی وسیع نظر حاصل تھی اور اس نے ہر بنیادی مسئلے پر غور و خوض کر کے اس کا ایک صاف اور قطعی جواب سوچ لیا تھا۔ (سید مودودیؒ )
میرے اعجاز کے اگر چہ اور بھی متعدد وجوہ ہیں ، لیکن صرف ان چند وجوہ ہی پر اگر آج کا انسان غور کرے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ میرا معجزہ ہونا جتنا میرے نزول کے زمانے میں واضح تھا اس سے بدر جہا زیادہ آج واضح ہے اور انشاء اللہ قیامت تک یہ واضح تر ہوتا چلا جائے گا۔میں صرف یہی بات پھر سے کہہ سکتا ہوں کہ ’’اگر آپ لوگ میرے (قرآن کے منکر) اپنے قول میں سچے ہیں تو میری شان کا ایک کلام بنا لائیں۔‘‘

مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close