قرآنیات

قرآن اور رمضان

تحریر: شیخ عائض القرنی حفظہ اللہ

ترجمانی: وصی اللہ قاسمی سدھارتھ نگری

قرآن کریم کو رمضان المبارک سے اور رمضان المبارک کو قرآن کریم سے مناسبت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ، ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ‘‘۔ (البقرہ: ۱۸۵)

ترجمہ: ماہِ رمضان ہے جس میں قرآن مجید بھیجا گیا ہے، جس کا وصف یہ ہے کہ لوگوں کے لیے اور واضح الدلالۃ ہے، منجملہ اُن کتب کے جو کہ ہدایت ہیں اور فیصلہ کرنے والی ہیں۔ (بیان القرآن، ج: ۱/ ۱۱۸)

مکمل قرآن کریم لوحِ محفوظ سے سماء دنیا تک ماہِ رمضان میں اترا، اس طرح اِس مہینہ کو نزولِ قرآن کا شرف ملا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآنِ کریم کا دور کرتے، قرآن کریم میں تدبر وتفکر کرتے، اس میں موجودعبرت کی باتوں میں غور کرتے، اس کے معانی میں غرق ہوجاتے اور اس کے خزانوں میں محبت کی ہتھیلی کو آزاد چھوڑ دیتے۔

روزہ دار کو چاہیے کہ اپنے روزوں میں، رمضان اور قرآن میں مناسبت پیدا کرے، اور اپنی پوری زندگی اس عظیم خداوندی کتاب کے ساتھ گزاردے، ارشاد باری ہے:

’’کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوْا آیَاتِہ وَلِیَتَذَکَّرَ أُوْلُوْا الْأَلْبَابِ‘‘۔ (سورہ ص:۲۹)

ترجمہ: یہ ایک بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر اس واسطے نازل کیا ہے، تاکہ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل فہم نصیحت حاصل کریں۔ (بیان القرآن، ج: ۳/ ۲۷۳)

دوسری جگہ ارشاد ہے:

’’أَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ أَقْفَالُہَا‘‘۔ (سورۃ محمد: ۲۴)

ترجمہ: تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں۔ (بیان القرآن، ج: ۳/ ۴۱۴)

ایک اور موقع پر فرمایا:

’’أفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اِخْتِلاَفًا کَثِیْرًا‘‘۔ (سورۂ نسائ: ۸۲)

ترجمہ: کیا پھر قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور طرف سے ہوتا تو اس میں بکثرت تفاوت پاتے۔ (بیان القرآن، ج: ۱/ ۳۷۵)

ماہ رمضان میں قرآن کریم کا ایک خاص لطف اور ذائقہ ہوتاہے اور کچھ الگ ہی نوعیت کی خاص ہدایات ہوتی ہیں۔

قرآن کریم، ماہِ رمضان انسانی نفوس کی تروتازگی کا کام کرتا ہے، روح کو معطر کرتا ہے اور دل کو خوشبوؤں میں بسا دیتا ہے۔
قرآن ِکریم ماہِ رمضان میں اپنے نزول کی یاد تازہ کرتا ہے اور سلف کی دلچسپیوں کے دریچے کھول دیتاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’إقْرَؤُا القُرْآنَ فَإِنَّہُ یَأْتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیٔعًا لِأصْحَابِہ‘‘۔

ترجمہ: قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو! کیونکہ یہ روزِ قیامت میں تلاوت کرنے والوں کی سفارش کرے گا۔

دوسری جگہ ارشاد ِ نبوی ہے:

’’خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ‘‘۔

ترجمہ: تم میں بہتر شخص وہ ہے جو قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرے اور پھر اس کی تعلیم دے۔

ایک جگہ اور فرمایا کہ زہرین یعنی سورۂ بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کیا کرو! کیونکہ یہ دونوں سورتیںروزِ قیامت میں تمہارے پاس بادل یا پرندوں کے جھنڈ کی شکل میں آکر سایہ عطا کریں گی۔

مزید فرمایا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص قرآن کریم کی قرأت کرتا ہو اور وہ اس میں ماہر ہو تو اُس کا حشر نیک اور پاکیزہ لوگوں کے ساتھ ہوگا۔

شاعر کہتا ہے:

ترجمہ: اے قرآن ہم نے تجھ کو رات کے سناٹے میں سنا ہے، تُو تو دلوں کو جھنجھوڑدیتا ہے، پاک ہے وہ ذات جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر لے کر گئی، قرآن ! ہم نے تیری وجہ سے دنیا کو فتح کرکے اُس کی صبح کو روشن کردیا ہے، اور تیری ہی وجہ سے ہم نے کائنات کا چکر لگایا اور پھر اجر بھی حاصل کررہے ہیں۔

ہمارے اسلاف کا یہ عالم تھا کہ ماہِ رمضان کے آتے ہی قرآن کو کھول دیتے، اب قرآن ہی ان کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا۔ یہی حال ہمارے اسلاف کے گھروں کا بھی ہوتا، اس مبارک ماہ میں ان کے گھروں میں شہد کی مکھیوں کے مانندایک خاص گونج اور آواز ہوتی، یہ گھر روشنی اور خوش بختیوں سے معمور ہوتے، اِن میں قرآن کریم کی تلاوت ہوتی، دورانِ تلاوت عجائبات کے تذکرے کے وقت رک جاتے اور اس کی نصیحتوںمیں غرق ہوکر رونے لگ جاتے، اس کی بشارتوں سے خوش ہوتے، اوامر پر عمل کرتے اور نواہی سے رکتے، حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قرآنِ کریم کی تلاوت کررہے تھے، چنانچہ دورانِ تلاوت جب ارشادِ باری: ’’فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍبِشَہِیْدٍ وجِئْنَابِکَ عَلَی ہٰؤُلاَئِ شَہِیْدًا‘‘۔ پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذرا ٹھہرو! حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ بس میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہے، یقینا ایک محِب اپنے محبوب کا کلام سُن کر روپڑا، اسی موقع کے لیے شاعر نے کہا ہے: کہ جب رخسار پر آنسو نمایاں ہوتے ہیں تو حقیقت میں رونے والے اور بہ تکلف رونے والے کا فرق واضح ہوجاتاہے، یقینا حقیقت میں رونے والا وجد میں ڈوب کر گھُلنے لگتا ہے، کیونکہ خوف وتقوی کا ایک خاص اثر ہوتا ہے اور سوزش بھی۔

ایک اور موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی قرأت سُن رہے تھے، تو اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اچھا ہوتا کہ تم مجھے دیکھ لیتے گذشتہ رات میں تمہاری تلاوت سن رہا تھا، تمہیں تو آلِ داؤد کا لہجہ نصیب ہوا ہے، تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ میری تلاوت سن رہے ہیںتو میں اور عمدہ پڑھنے کی کوشش کرتا، یعنی میں اور خوب صورت آواز میں پڑھتا، پھر قرآن کریم کی دلکشی، اس کے جمال اور تأثیر کا کچھ اور ہی عالم ہوتا۔

صحابۂ کرامؓ کا جب کبھی اجتماع ہوتا تو حضرت عمرؓ ارشاد فرماتے: اے ابو موسیٰ ! ذرا اللہ کی یاد تازہ کراؤ، پھر تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اپنی خوبصورت آواز میں قرآن کی تلاوت شروع کردیتے۔
شاعر کہتا ہے:

میں تو اُن کا کلام ہی سُن کر رو پڑتا ہوں، تو میری آنکھوں کا اُس وقت کیا عالم ہوگا جب وہ صاحبِ کلام کو براہِ راست دیکھ لیںگی، تلاوت کرنے والے نے مولیٰ کا تذکرہ کیاگیا کہ عارفین کے دل شوق میں وجد کرنے لگے۔

یہ تو اسلاف کا عالم تھا، لیکن جب متأخرین کا مزاج تبدیل ہوا، قرآن کی تلاوت سے لوگوں کی دلچسپی کم ہوگئی تو تربیت کا نظام فاسد ہوکر رہ گیا، اور ذہن ودماغ مفلوج ہوگئے۔

جب لوگوں نے قرآن کریم کا مقام دوسری چیزوںکو دے دیا، تو فساد برپا ہوگیا، مصیبتوں کا عموم ہوگیا، عزائم ناکام ہوگئے۔

۔ قرآن کریم کا کام صراطِ مستقیم کی جانب لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے۔

۔ قرآن کریم نور بھی ہے، شفا بھی، علم وثقافت بھی ہے اور معرفت وبرہان بھی۔

۔ قرآن کریم سراپا حیات اور روح ہے، سخاوت ونیک بختی اور اجر وثواب ہے عبادت بھی ہے۔

۔ قرآنِ کریم خدا وندی تعلیم، الٰہی دستور اور زندہ جاوید حکمت کا نام ہے۔

کیا ہم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جو رمضان، غیر رمضان، غرضیکہ ہر وقت قرآنِ کریم کے ساتھ زندگی بسر کرے؟ کیا ہمیں قرآنِ کریم کی عظمت کا احساس ہے؟ کہ ہم قرآن کے ذریعہ اپنی زندگی کو سعادت سے بھرلیں پھر نور اور روشنی ہمارے ہمراہ ہوں۔

أللّہم وفقنا لما تحب وترضى آمين.

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close