قرآنیات

قرآن مجید کی عائلی تعلیمات (دوسری قسط)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

تحریکاتِ آزادیٔ نسواں کی غلطی

آزادیٔ نسواں کی تحریکوں نے مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کا نعرہ بلند کیا ۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ عورتوں کو بھی زندگی کے ہر شعبہ میں وہ تمام حقوق اور آزادیاں میسر ہوں جو مردوں کو حاصل ہیں۔ غرض یہ کہ ان تحریکوں نے عورتوں کے ہر وہ کام کر سکنے کی وکالت کی جسے مرد انجام دیتے ہیں۔ یہ حقوق اور یہ بلند بانگ دعوے بہ ظاہر بہت بھلے اور خوب صورت معلوم ہوتے ہیں، لیکن اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ ’سراب‘ کے مانند ہیں۔ یہ حقوق نہیں، بلکہ قوانینِ فطرت سے بغاوت ہے، جس کی جیتی جاگتی تصویر ہمیں مغرب میں نظر آتی ہے۔ وہاں صورتِ حال یہ ہے کہ انسانی معاشرہ تمام تر اخلاقیات ، پاکیزگی، عفت و پاک دامنی اور امن و سکون سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ حقیقت میں آزادی ٔ نسواں مغرب کی طرف سے رچا جانے والا ایک خطرناک کھیل ہے، جس کا مقصد انسانی معاشروں میں عریانیت و فحاشی پھیلانا ہے۔ آج مغربی ممالک میں خاندانی نظام درہم برہم ہو چکا ہے، لوگوں کی زندگیاں اطمینان و سکون سے عاری ہو چکی ہیں، بدکاری ، زنا، آبرو ریزی جیسے قبیح افعال میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ زوجین کے درمیان ، پیار و محبت ، ہم دردری، اور انسیت جیسے جذبات ختم ہو چکے ہیں۔
مرد خاندان کا سربراہ ہے
کسی ادارہ کے نظم و ضبط کے ساتھ سرگرمیاں انجام دینے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا ایک سربراہ ہو، جو اس کے تمام کاموں کی نگرانی کرے اور ادارہ سے وابستہ دیگر افراد اس کی ماتحتی میں اپنے اپنے کام انجام دیں اور اس کے احکام و ہدایات کی پابندی کریں۔ اگر ایک سے زائد افراد کو یکساں اختیارات کے ساتھ کسی ادارہ کا سربراہ بنا دیا جائے اور ہر ایک آزادانہ اپنا حکم چلائے تو اس ادارہ کے نظام کا درہم برہم ہوجانا یقینی ہے۔ اسلام نے بعض مصالح کے تحت نظام ِخاندان کی سربراہی مرد کو تفویض کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَائِ(النساء: 34)
’’مرد عورتوں کے سربراہ ہیں‘‘۔
لفظ ’قوام‘ کا ترجمہ عام طور پر ’حاکم‘ کیا جاتاہے۔ اس بنا پر لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ اسلام میں مرد وں کو حاکمانہ اختیارات دیے گئے ہیں اور عورتوں کو ان کا محکوم بنا دیا گیا ہے۔حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ اس آیت میں نہ کسی کی حاکمیت کی بات کہی گئی ہے نہ کسی کی محکومیت کی۔ عربی زبان میں لفظ ’قام‘ کے ایک معنیٰ نگرانی اور دیکھ بھال کرنے کے آتے ہیں۔ قوّام اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی ادارہ یا نظام کو صحیح طریقہ سے چلانے اور اس کی نگہبانی کرنے کا ذمہ دار ہو۔ مردوں کے عورتوں پر’ قوام‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کی حفاظت اور نگرانی کرنے والے ، ان کی کفالت کرنے والے اور ضروریات پوری کرنے والے ہیں۔ اس سے عورتوں کے حقوق کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ محض ایک انتظامی ضرورت سے مردوں کی یک گو نہ برتری کا اظہار ہوتا ہے۔ یہی بات قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ ان الفاظ میں مذکور ہے:
وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَۃٌ (البقرۃ:228)
’’عورتوں کے لیے بھی معروف طریقہ پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں،البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے‘‘۔
نظام ِخاندان میں شوہر اور بیوی کا تعلق حاکم اور محکوم کا نہیں ہوتا، بلکہ شوہر کی حیثیت نگرانِ اعلیٰ کی ہوتی ہے، جس کی ماتحتی میں بیوی اور بچے پوری آزادی سے اپنے کام انجام دیتے ہیں۔ شوہر انھیں تحفظ فراہم کرتا اور ان کی کفالت کرتا ہے۔ اس بنا پر ایک طرف عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کریں، ان کی ماتحتی میں اپنی سبکی محسوس نہ کریں، بلکہ ان کا کہنامانیں اور سرتابی نہ کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَالصّٰلِحَاتُ قٰنِتَاتٌ حٰفِظَاتٌ لِّلْغَیْْبِ بِمَا حَفِظَ اللّہ (النساء:34)
’’پس نیک عورتیں اطاعت شعار ہوتی ہیںاور (مردوں کے) پیچھے اللہ کی حفاظت میں (ان کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں‘‘۔
دوسری طرف مردوں کو تاکید کی گئی کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا برتائو کریں۔ وہ ان کی خادمائیں نہیں ہیں کہ ان کو اپنے سے کم تر سمجھیں اور ان پر ہر طرح کا ظلم و جور روا رکھیں، بلکہ ان کی زندگی کی رفیق ہیں۔ اس لیے محبت، ہم دردی اور شریفانہ برتائو کی مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اررشاد ہے:
وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوف(النساء:19)
’’اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو‘‘۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
خیارکم خیارکم لنسائھم خلقاً (ترمذی:1162)
’’تم میں سے بہتر وہ ہیںجو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں‘‘۔
گھریلو تشدد کی اجازت نہیں
آج گھریلو تشدد عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں عورتیں اپنے شوہروں اور دیگر قریب ترین رشتہ داروں کے ذریعہ ستائی جاتی ہیں۔ انھیں جسمانی طور پر بھی اذیتیں دی جاتی ہیں اور نفسیاتی اعتبار سے بھی ٹار چر کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے کے مطابق پچاس فی صد سے زائد عورتیں اس کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک ِ عزیز ہندوستان کی صورت حال بھی کچھ بہتر نہیں ہے۔ یہاں خواتین پر ظلم و تشدد کے واقعات روزانہ اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں سے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں اور ممبر ممالک کو ان کی روک تھام کے سلسلے میں قوانین بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔ چند سال قبل ہمارے ملک میں بھی اس سلسلے کا ایک ایکٹ نافذ کیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود گھریلو تشدد میں برابر ضافہ ہو رہا ہے۔
اسلام میں بیویوں پر ظلم و تشد دنہ کرنے کے صریح احکام دیے گئے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کر کے فرمایا:
لا تضربو اما ء اللہ (ابو دائود:2146، نسائی:2219+)
’’اللہ کی باندیوں (یعنی اپنی عورتوں ) کو نہ مارو‘‘۔
ایک مرتبہ ایک صحابی نے آ ں حضرت ﷺ سے اپنی بیوی کی بد زبانی کی شکایت کی ۔ آپ ؐ نے انھیں سمجھانے بجھانے کی کوشش کی ۔ پھر فرمایا:
ولا تضرب ظعینتک کضربک أمیّتک (ابو دائود:142)
’’اپنی گھر والی کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو‘‘۔
قرآن کریم کی ایک آیت (النساء:34) میں عورتوں کومارنے کا تذکرہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو عورتیں سر کشی پر آمادہ ہوں انھیں سمجھائو بجھائو ، خواب گاہوں میں ان سے علیٰحدہ رہو اور انھیں مارو۔ اس آیت کا حوالہ دے کر کہا جاتا ہے کہ اسلام نے عورتوں پر تشدد روا رکھا ہے۔ یہ اس آیت کی غلط تعبیر (Interpretation)ہے۔ اولاً یہ حکم عام حالات سے متعلق اور عام عورتوں کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ان عورتوں سے ہے جو ’نشوز‘ کاا رتکاب کریں۔ نشوز عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے لغوی معنیٰ ہیں بلند ہونا ۔ بیوی کے تعلق سے نشوز کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود کو شوہر سے بالا تر سمجھے ، اس کا کہنا نہ مانے ، شوہر کی ہدایت کی خلاف ورزی کرے اور اس سے نفرت کا اظہار کرے۔ ماہرین ِ لغت اور مفسرین نے لفظ ’نشوز‘ کے ان معانی کی صراحت کی ہے۔
دنیا کے کسی ادارہ میں اس کے سربراہ کے خلاف اس کے کسی ملازم کی سرکشی اور بغاوت کو برداشت نہیں کیا جاتا ۔ کوئی ملازم اپنی ذمہ داری صحیح ڈھنگ سے نہ نبھائے ، اپنے مفوّضہ کام کو انجام نہ دے، ادارہ کا سربراہ اسے کوئی کام کرنے کو کہے یا کسی کام سے روکے تو اسے آنکھیں دکھائے اور بد زبانی پر اتر آئے تو اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ میں برخاستگی کا پروانہ تھما دیا جاتا ہے۔ یہی مظاہرہ اگر نظام ِخاندان میں کسی عورت کی طرف سے ہو تو وہ خود کو اس خاندان میں شامل رہنے کے حق سے محروم کر لیتی ہے، لیکن عورتوں کے معاملے میں اسلام کی نرمی کا مظہر یہ ہے کہ اس نے شوہروں کو تاکید کی کہ پہلے ہی مرحلے میں ایسی عورتوں کے خلاف انتہائی اقدام نہ کریں، بلکہ انھیں سمجھائیں بجھائیں، پھر بھی نہ مانیں تو ان سے نگاہ ِ التفات پھیر لیں، پھر بھی وہ اپنا رویہ نہ بدلیں تو انھیں بہت معمولی جسمانی سزا دیں۔ سزا کا مقصد بیوی کی تادیب ہے، نہ کہ اس پر ظلم ڈھانااور تشدد کرنا۔ اس لیے حدیث میں اس کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ یہ سزا اتنی ہلکی ہو کہ اس کا جسم پر ہلکا سا بھی نشان ظاہر نہ ہو۔
بیویوں پر ظلم و تشدد اسلام کی نظر میں کتنا نا پسندیدہ ہے اس کا اندازہ اس حدیث سے بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے، جس میں ہے کہ عہد ِنبوی میں ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے اپنی بیویوں کی پٹائی کر دی ۔ ان عورتوں نے خدمت ِنبوی میں اپنی شکایت پہنچائی۔ آپؐ کو معلوم ہوا تو آپؐ نے فرمایا:
لیس أولئٰک بخیارکم (ابو دائود:2146)
’’ وہ لوگ (جواپنی بیویوں سے برا برتائو کرتے ہیں) اچھے انسان نہیں ہیں‘‘۔
عور ت کا کسب ِمعاش
عائلی زندگی میں عورت پرکمانے کا بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے اور اہل ِخاندان کی مالی ضروریات پوری کرنے اور ان کے مصارف کا بار اٹھانے کی ذمہ داری مرد پر عائد کی گئی ہے۔ (النساء:34)کہا جاتا ہے کہ اسلام کا یہ حکم عورتوں کو کلی طور پر مردوں کی دست نگر اور محتاج بنا دیتا ہے اور گھر بیٹھے رہنے سے ان کی صلاحتیں پژ مردہ ہو جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ عورتوں پر زیادتی اور ان کے حقوق کی حق تلفی نہیں، بلکہ ان کا اعزاز ہے۔ اسلام نے نظام ِخاندان میں کاموں کی جو تقسیم کی ہے اس کا تقاضا ہے کہ عورت داخلی محاذ کی تقویت اور استحکام کے لیے یکسو اور فارغ رہے۔ کسب ِمعاش کی جدو جہد میں لگنے سے اس کی یک سوئی میں خلل آسکتا تھا۔ اس لیے اس کو اس سے آزاد رکھا گیا اور خاندان کے جملہ مصارف پورا کرنے کی ذمہ داری مرد پر عائد کی گئی۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورت کی معاشی جدو جہد اسلام کی نظر میں ہر حال میں نا پسندیدہ ہے۔ بعض ایسی صورتیں ہو سکتی ہیں کہ اسے کسب ِمعاش میں سرگرداں ہونا پڑے۔ مثلاً باپ کا انتقال ہو جائے اور بچوں کی کفالت کرنے والی صرف ماں ہو، باپ تنگ دست ہو اور جو کچھ کماتا ہو اس سے بچوں کے جملہ مصارف نہ پورے ہوتے ہوں،یا شوہر بیمار ہو کر کسب ِمعاش سے عاجز ہو جائے، یا اس کی کمائی سے گھر کے مصارف جیسے تیسے پورے ہو جاتے ہوں، لیکن بیوی کے ہاتھ بٹانے سے گھر میں خوش حالی آسکتی ہو، اس کے علاوہ اور بھی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ بہ ہر حال چند شرائط کے ساتھ شریعت میں عورت کو کسب معاش کی اجازت دی گئی ہے:
اول یہ کہ عورت کی معاشی جدو جہد کے لیے شوہر کی اجازت ضروری ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر یا اس کی مخالفت کے با وجود عورت کے لیے کسب ِمعاش کی کوئی کوشش روا نہیں۔
دوم یہ کہ شریعت میں عورتوں کے لیے حجاب کے احکام دیے گئے ہیں اور اجنبی مردوں اور عورتوں کے درمیان خلوت سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
لا یخلونّ رجل بامرء ۃ الا کان ثالثھما الشیطان (ترمذی:2165)
’’کوئی اجنبی مرد اور عورت تنہائی میں ملتے ہیں تو ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے‘‘۔
اس لیے عورت کو ئی ایسا کام ہی کر سکتی ہے جس میں ان احکام ِ شریعت کی رعایت ہو۔
بہ ہر حال عورت کے معاشی جدو جہد میں لگنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نظام ِخاندان میں اس کی اصل ذمہ دار یاں تو نہیں متاثر ہو رہی ہیں۔
تعدّد ِازدواج
اسلام نے تعدّدِ ازدواج کی اجازت دی ہے، یعنی مردبہ یک وقت ایک سے زائد بیویاں رکھ سکتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ حد چار مقرر کی گئی ہے۔ (النساء:3) اسلام کی اس تعلیم کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس پر بے جا اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ اس پر کئی پہلؤوں سے غور کرنے کی ضرورت ہے:
اولاً: یہ اسلام کا حکم نہیں ہے کہ اس کو ماننا اور اس پر عمل کرنا تمام لوگوں کے لیے ضروری ہے اور اس کے نتیجہ میں تمام مسلمان لازماً چار شادیاں کرتے ہیں، بلکہ یہ اجازت ہے کہ اگر کبھی ناگزیر صورتِ حال درپیش ہو تو ایک سے زیادہ (چار تک) نکاح کیے جا سکتے ہیں۔
ثانیاً: کبھی بھی غیر معمولی حالات پیش آسکتے ہیں ، مثلاً جنگیں پہلے بھی ہوتی تھیں اور اب بھی جاری ہیں۔ اگر کبھی کسی علاقہ میں بڑے پیمانے پر مرد ہلاک ہو جائیں اور عورتوں کا تناسب زندہ بچ جانے والے مردوں سے کہیں زیادہ ہو تو تعدّد ازدواج کے ذریعہ اس مسئلہ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر اس کی اجازت نہ دی جائے تو بدکاری اور اباحیت عام ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ثالثاً: بسا اوقات انفرادی حالات بھی تعدّدِ ازدواج کا تقاضا کرتے ہیں۔ مثلاً کسی شخص کی بیوی کسی شدید مرض میں مبتلا ہو، جس کی وجہ سے وہ وظیفۂ زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہو۔ اب یا تو آدمی اسے طلاق دے کر دوسرا نکاح کرلے یا اسے بھی بیوی کی حیثیت سے باقی رکھے، یا کسی شخص کی کوئی رشتہ دار عورت بیوہ ہو جائے اور اسے سہارے کی ضرورت ہو۔
رابعاً :قرآن نے تعدّدِ ازدواج کو عدل کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ اس نے جہاں چار عورتوں تک سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے وہیں ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے:
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَۃً (النساء:3)
’’اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو‘‘۔
خامساً: یہ مفروضہ غلط ہے کہ مسلمانوں میں تعدّدِ ازدواج کا چلن بہت زیادہ ہے۔ ہندوستان میں ہر دس سال پر آبادی کے جو اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں ان کے مطابق مسلمانوں میں تعدّد ِازدواج کا تناسب ہندوؤں سے کم ہے۔   (جاری)

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close