تصوف

مجدد الف ثانی اور تصوف

اسامہ شعیب علیگ

شیخ احمد سرہندی نے جس عہد میں آنکھیں کھولیں،اس وقت ہندوستان میں اگرچہ مسلمانوں کی حکومت تھی اور اکبر بادشاہ تھا لیکن مسلمان اسلام سے دور،اللہ تعالی کے احکام و شریعت سے غافل تھے۔اسی دوران اکبر نے 1552ء میں ایک نئے مذہب ’’دین الٰہی‘‘ کی بنیاد رکھی،جس کا کلمہ ’لاالہ الا اللہ اکبر خلیفۃ اللہ‘ تھا۔اس کے عقائد اور اصول وضوابط ہندوؤں،پارسیوں اور ایرانیوں سے اخذ کیے گئے تھے۔سلام کا مسنون طریقہ چھوڑ کر اللہ اکبر اور جل جلالہ کو سلام کی جگہ رائج کیا گیا۔بیعت کے وقت اکبر کے پیر پر سر رکھا جاتا اور عہد لیا جاتا کہ وہ اخلاص چار گانہ (ترک مال،ترک جان،ترک ناموس اور ترک دین)کا خیال رکھیں گے۔اسلامی اقدار و روایات کو ختم کر کے ہندوانہ رسم و رواج کو بڑھاوا دیا گیا۔اسی لیے اسلامی شعائر و عبادات کی پابندی اٹھ گئی تھی۔سید محمد میاں اپنی کتاب ’علمائے ہند کا شاندار ماضی‘میں لکھتے ہیں:
’’حلال و حرام کی نئی شریعت وضع کی گئی ۔سود ،جوا،شراب ،زنااورسورکو حلال قرار دیا گیا۔چچا،ماموں اور خالہ وغیرہ کی بیٹیوں سے نکاح،پردہ حرام قرار دیا گیا۔اوقاف پر قبضہ کر لیا گیا تاکہ منبر و محراب اور خانقاہوں سے دینِ حق کا کلمہ نہ بلند ہو سکے۔جمعہ،عیدین اور اسلامی تقریبات کا اہتمام بھی اکبر نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ، شرعی ثبوت کے بغیر چاند کا اعلان کردیا جاتا ۔قرآن و حدیث پڑھنے و سیکھنے اور عربی زبان سیکھنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔‘‘(1)
اس صورت حال میں افسوس کی بات یہ رہی کہ بعض علماء سو نے ان بدعات وخرافات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا اور انہیں آپسی رنجش ،لڑائی ،حسداور ذاتی مفاد کے لیے مزیدہوا دی۔علمائے سو کے کردار پر مولانا مناظر احسن گیلانی لکھتے ہیں:
ّّ’’زعفران اور لال کپڑے کے جواز کا فتویٰ حاجی ابراہیم سرہندی نے دیا۔بادشاہ کو سجدہ کرنے کا فتویٰ قاضی خاں بدخشانی نے دیا اور ملا عالم کابلی کو اس پر افسوس ہوا کہ یہ ان کے دماغ میں کیوں نہ آیا۔داڑھی منڈانے کی حدیث ملا ابو سعید نے نکالی۔اسلام کے ساتھ ہندو مذہب کا جوڑ،کلام پاک اور پران کی تطبیق شیخ تاج الدین اجودھنی دہلوی نے کی۔ملا عبداللہ سلطان پوری نے حج کے اسقاطِ فرض کا فتویٰ دیا۔‘‘(2)
غرض یہ کہ حالات اس حد تک ناساز گار تھے کہ دین کے پنپنے کی کوئی اْمید نظر نہ آتی تھی۔ مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ جب بھی دینِ اسلام پر کوئی آزمائش کا وقت آیا، رحمتِ حق میں ارتعاش پیدا ہواچناں چہ دین کے احیا کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مجدد الف ثانی کو اکبر کی تخت نشینی کے آٹھویں سال اس دنیا میں بھیجا۔
شیخ احمد بن عبدالاحد سرہندی (971ھ؍1564ء تا 1034ھ؍1624ء): مختصر حالاتِ زندگی
امتِ مسلمہ کی تاریخ میں جن شخصیتوں نے تجدیدِ دین کا عظیم کارنامہ انجام دیا ،ان میں سے ایک شیخ احمد بن عبدالاحد سرہندی بھی ہیں،ان کی دینی وملی خدمات کی وجہ سے ہندوستان میں دینِ اسلام کو حیاتِ نو ملی اور ان کی تعلیمات و جدو جہد نے اسلامی نشاۃ ثانیہ میں اہم کردار ادا کیا۔
آپ کا نام احمد،لقب بدرالدین،کنیت ابوالبرکات اور خطابات خزینۃ الرحمت،قیوم الزماں اور مجدد الف ثانی ہیں۔مجدد بمعنیٰ شروع کرنے والا، الف بمعنیٰ ہزاراورثانی کے معنی دوم ۔چوں کہ دوسرے ہزار سال کی ابتدا میں آپ کا ظہور ہوا اور از سرِ نو اسلام کا احیاء آپ کے ذریعہ ہوا اس لیے علماء کرام نے آپ کو مجدد الف ثانی کا خطاب دیا۔(3) آپ کی پیدائش 4؍شوال 971ھ/ 26؍مئی 1564ء میں پنجاب کے شہر سرہند میں ہوئی۔نسباً فاروقی تھے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد شیخ عبدالاحد(1521ء۔1598ء)سے حاصل کی اور قرآن کریم حفظ کیا۔اس کے بعد مولانا کمال کشمیری (م1608ء)سے منطق،فلسفہ،علم الکلام،شیخ یعقوب صرفی(م1594ء)سے علم حدیث اور قاضی بہلول بدخشانی سے تفسیر واحدی،تفسیر بیضاوی،مشکوۃ المصابیح،ترمذی،جامع صغیر اور قصیدہ بردہ وغیرہ پڑھا۔سترہ سال کی عمر میں تحصیل علم کے بعد وطن واپس آگئے۔
واپسی کے تین سال بعدآگرہ کا سفر کیا جہاں فیضی(1539ء۔1595ء)ابوالفضل (1551ء۔1602ء) اور بعض دیگر درباری علمائے کرام سے ملاقات کی،زیادہ تر کو اسلام مخالف پایا۔وحی ،نبوت پر اعتراضات او ر شریعت کا انکار دیکھا۔شیعہ علماء کی طرف سے صحابہ کرام پر تنقید سنی۔ (4) ابوالفضل کے مذہبی عقائد درست نہ تھے، اس لیے زیادہ دنوں تک ساتھ نہ رہ سکا۔اس کے ساتھ ایک مباحثہ میں انہوں نے نبوت کا اثبات کیا جو ابوالفضل کو ناگوار گزرا اور اس نے آپ کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا تو آپ نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔(5)اس کے بعد آپ اپنے والد کے ساتھ سرہند واپس آ گئے اور ان کی نگرانی میں تصوف کی امہات کتب،جیسے شیخ ابوبکر کلاباذی(م1000ء)کی التعریف لمذہب اہل تصوف،شیخ شہاب الدین سہروردی (م1234ء) کی عوارف المعارف اور ابن عربی(م 1240ء) کی فصوص الحکم کا مطالعہ کیا۔(6)اور انہی کی صحبت میں راہِ سلوک طے کی۔اپنی کتاب’مبدأ و معاد‘ میں لکھتے ہیں:
’’میں نے اپنے والد سے نسبتِ فردیہ حاصل کی اور نفل عبادات کی عادت بھی والد محترم کی دین تھی۔‘‘ (7)
شیخ احمد نے 1597ء میں والد محترم کی وفات کے بعد حج کی غرض سے دہلی کا سفر کیا اور وہیں سلسلۂ نقشبندیہ کے بانی خواجہ باقی باللہ (1563ء۔1603ء)سے ملاقات کی اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور فنائے حقیقی یا جمع الجمع کی منزل تک رسائی حاصل کر لی۔(8)پھر آپ اپنے وطن واپس ہوگئے۔چار سال بعد آپ نے دوبارہ خواجہ باقی باللہ کے پاس حاضری دی ۔اس وقت انہوں نے آپ کو اپنا خلیفہ بنایا اور اپنے کچھ متوسلین کو تعلیم و تربیت کے لیے آپ کے ساتھ کر دیا۔(9)
خواجہ باقی باللہ کی وفات کے بعد شیخ احمد نے سرہندمیں ہی مستقل سکونت اختیار کر لی اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگئے ۔کم و بیش چالیس (40)سال کا زمانہ آپ نے دورِ اکبری میں گذارا اور اس دوران علوم ظاہری و باطنی اور کمالات باطنی میں عروج حاصل کیا۔آپ نے اس دوران آگرہ کا بھی سفر کیا جس سے آپ کو حالات کو سمجھنے کا موقع ملا اور احیاء دین کے لیے آپ تیارہوئے ۔ اس کی تائید مولانا محمد منظور نعمانی کی اس تحریر سے بھی ہوتی ہے :
’’اکبر کا زمانہ حضرت مجدد کے لیے تیاری کا زمانہ تھا،ادھراس کا انتقال ہوا اور جہانگیر تخت پر بیٹھا،کہ آپ میدان میں اتر پڑے۔۔۔یہ بھی ہو سکتا تھا کہ آپ ملک کی سیاست میں شریک ہو کر،حکومت کا کوئی عہدہ اپنے ہاتھ میں لے کر کام کرتے ،لیکن آپ نے بظاہر اپنے کو سلطنت سے بالکل الگ تھلگ رکھا لیکن جہانگیر کے دربار کا شاید ہی کوئی ممتاز رکن ہوگا، جس کے نام سے آپ کے خطوط نہیں ہیں۔عبد الرحیم خان خاناں(م1036ھ)،قلیج خاں اکبری(م1023ھ)، خان جہاں لودھی (م1040ھ)،خان خاناں،مرزا داراب(م1034ھ)، خواجہ جہاں (م1029ھ)،خان اعظم،اور سب سے زیادہ نواب سید مرتضی عرف شیخ فرید(م 1025ھ) وغیرہم کے نام خطوط ہیں۔ان تمام خطوط کا قدر مشترک صرف ایک ہی مقصد ہے کہ جس طرح ممکن ہو اس نقصان کی تلافی ہونی چاہیے جو اسلام کو اکبری عہد میں پہنچ گیا ہے۔‘‘(10)
شیخ احمد نے جہانگیر کی تخت نشینی کے ساتھ ہی اصلاح کا کام شروع کردیا تھا ۔درباری امراء کی اصلاح کرنے کے بعد آپ کو اپنوں اور غیروں دونوں کی طرف سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔جہانگیر کے دور میں شیعوں کا غلبہ ہوگیا تھا،ان لوگوں نے بادشاہ کو یہ باور کرایا کہ شیخ کے مریدین پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں،دربار کے امراء اور مختلف ریاستوں کے حکام سے ان کے تعلقات بھی ہیں،اس لیے وہ حکومت کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔(11)ایسے ہی وہ صوفیہ جن پر آپ نے تنقیدیں کی تھیں وہ بھی آپ سے خوش نہ تھے،جب آپ کے روحانی کمالات اور مکاشفات کی شہرت ہوئی تو ان لوگوں نے ان پر تنقیدیں شروع کر دیں اور بعض نے کفر کا فتویٰ لگا کر واجب القتل قرار دے دیا(12)1619ء میں جہانگیر نے شیخ مجدد کو ان الزامات کی وضاحت کے لیے اپنے دربار میں بلایا۔شیخ مجدد نے بادشاہ کو رواج کے مطابق سجدۂ تعظیمی نہیں کیا تو اس نے ناراض ہو کرانہیں گوالیار کے قلعے میں قید کرا دیا ۔(13)
ایک سال بعد جہانگیر نے شیخ مجدد کی رہائی کا حکم دیااور انہیں دربارمیں بلاکر خلعت سے سرفراز کیااور ان کی جائداد واپس کرنے کے علاوہ مزید ایک ہزار کا عطیہ دیا اور اجازت دی کہ چاہیں تو فوجی چھاؤنی میں لشکر کے ساتھ رہیں اور چاہیں تو سرہندواپس چلے جائیں۔ (14)
تین سال تک آپ لشکر کے ساتھ رہے اور اس میں اصلاح کی کوششیں کرتے رہے ۔پھر خرابی صحت کی بنا پر سرہند واپس چلے آئے حتیٰ کہ 28؍صفر 1034ھ/1624ء میں آپ کا انتقال ہو گیا اور وہیں سرہند میں مدفون ہوئے۔
تصانیف
شیخ احمد سرہندی کی تالیفات کی ابتدا رسائل سے اور انتہا مکتوبات پر ہوتی ہے۔شیخ صفر احمد مخدومی نے آپ کے سات رسائل اور تین دفتر مکتوبات کا ذکر کیا ہے۔(15)اول الذکر دو رسالے عربی میں اور باقی تمام فارسی میں ہیں۔
1۔ رسالہ تہلیلیہ:اس کو رسالۂ تحقیق درکلمۂ طیبہ بھی کہتے ہیں۔
2۔ رسالہ اثباتِ نبوت:اس کو رسالہ تحقیقِ نبوت بھی کہتے ہیں۔
3۔رسالہ ردّ شیعہ:اس کو رسالہ ردِّروافض بھی کہتے ہیں۔انہوں نے اس رسالہ میں شیعیت کی ابتدائی تاریخ لکھی ہے اور پھر شیعوں کے طوائف کا اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔
4۔ رسالہ معارف لدنیّہ
5۔ رسالہ شرح الشرح بعض رباعیات حضرت خواجہ
6۔رسالہ مبدأ ومعاد
7۔ رسالہ مکاشفاتِ غیبیہ
مکتوبات
شیخ مجدد کے مکتوبات کا آغاز ان عریضوں سے ہوتا ہے جو آپ نے حضرت خواجہ باقی باللہؒ کو 1308ھ میں ارسال کیے تھے۔ان مکتوبات کے تین حصے ہیں۔پہلے حصہ کو خواجہ یار محمد الجدید بدخشی طالقانی نے جمع کیا۔اس کا تاریخی نام’دارالمعرفۃ‘ ہے۔ اس میں تین سو تیرہ (313) مکتوبات ہیں۔دوسرا حصہ’نورالخلائق‘ نناوے(99)مکتوبات پر مشتمل ہے۔اسے خواجہ عبدالحی حصاری نے جمع کیا تھا۔تیسرا حصہ ’بحر المعارف‘ ایک سو چوبیس(124)مکتوبات پر مشتمل ہے۔اس میں دس(10)مکتوبات آپ کی وفات کے بعد شامل کیے گئے۔اسے امیر نعمان اور خواجہ ہاشم نے جمع کیاتھا۔اس طرح کل مکتوبات کی تعداد پانچ سو چھتیس(536) ہے ۔(16)ڈاکٹر ظہور الحسن شارب نے مکتوبات کی تعداد چھ سو چونتیس(634)بتائی ہے،لیکن یہ تعداد بلا حوالہ ہے۔(17)
مجددی جدو جہد او رخدمات
1۔ مسلمانانِ ہند کے افکارو نظریات کی اصلاح، مشرکانہ عقائد و رسوم کی بیخ کنی اور توحیدِ خالص وسنتِ صحیحہ کی دعوت و ترویج
سب سے پہلے شیخ احمد نے اسلام کے صحیح نظریات کو نمایاں کیا اور غلط عقائد و افکار کو جو اقوامِ غیر سے مسلمانوں میں در آئے تھے ،اس کی بیخ کنی کی۔عہدِ اکبری میں شیعوں کا اثر غالب آگیا تھا،اس کے رد میں آپ نے ’ردروافض‘ نامی رسالہ لکھا ، اس میں اس فرقے کی مخالفت کی اور ان کے غلط افکار ونظریات کو دلائل کے ساتھ رد کیا۔ (18)
مجدد الف ثانی نے توحید ورسالت،خدا کی ذات وصفات،شریعت کی ابدیت اور سنت اور تصوف میں مطابقت،خلفائے راشدین اور صحابۂ کرام کی توقیر و اتباع جیسے موضوعات پر مضامین لکھ کر عوام الناس کی الجھنوں کو دور کیا۔شیخ احمد نے اتباع رسول پر خصوصیت سے زور دیاکہ اسی میں بھلائی اور آخرت میں نجات ہے۔انسان اس دنیا میں اسوۂ رسول سے ہی گم راہیوں سے بچ سکتا ہے۔
2۔ مغل حکمرانوں اورامراء مملکت کی اصلاح
حضرت مجدد مسلسل مغل بادشاہوں اور امراء و وزراء کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کرتے رہے۔ شیخ احمد نے مختلف درباری امراء اورسرداروں سے خط وکتابت کے ذریعہ تعلقات قائم کیے اور ان کی اصلاح احوال اور تعمیر کردار کی کوشش فرمائی۔(19)
ایک مکتوب میں آپ ’خان جہاں‘ کو لکھتے ہیں:
’’آپ جانتے ہیں کہ بادشاہ روح کی مانند ہوتا ہے اور باقی انسان جسم کی مثال۔اگر روح صالح ہوتی ہے تو جسم بھی صالح اور سالم ہوتا ہے اور اگر روح میں کوئی بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے تو سارا جسم اس بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔چنانچہ بادشاہ کی اصلاح کی کوشش کرنا تمام انسانوں کی اصلاح کی کوشش کی مترادف ہے اور یہ اصلاح اسلامی تعلیمات کے اظہار سے ہو سکتی ہے اس طرح کہ جب بھی موقع ہاتھ آئے اہل وسنت والجماعت کے معتقدات کے موافق صحیح اسلامی تعلیمات بادشاہ کے کان میں ڈالی جائیں اور مخالفین کے مذاہب کی تردید کی جائے۔‘‘(20)
3۔ جہانگیر کی تخت نشینی اور اسلامی قوانین کی بحالی
1603 ء میں اکبرکی وفات کے بعد سیکولر ذہن رکھنے والے اور ہندوامراء نے شہزادہ خسروکو نیا بادشاہ بنانے کی کوشش کی لیکن مغل دربار کے نقشبندی سلسلے سے وابستہ امراء کا اثر آڑے آیاجو اکبر کی مذہبی پالیسی کے خلاف تھے ، انہوں نے سلیم( جہانگیر) کو بادشاہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ شریعت کی حمایت کرے گا۔(21)چناں چہ 1605ء میں وہی تخت نشین ہوا۔شیخ احمد کو جہانگیر کے بادشاہ بننے سے دلی خوشی ہوئی،لیکن آپ کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا اور اگر کرنا بھی چاہے تو کیسے کرے گا؟اس لیے آپ نے بادشاہ کے قریبی دوستوں اوروزراء کو خطوط لکھے اور انہیں اسلام اور مسلمانوں کی صحیح صورتِ حال سے واقف کراتے ہوئے فوری کاروائی کا احساس دلایا۔
آپ کی انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ جس تخت پر اکبر بیٹھا تھا اور ہندواور ایرانی امراء کاغلبہ تھا، اسی تخت پر جہانگیر بھی بیٹھااور بادشاہ بننے کے بعد جو احکامات جاری کیے ان کے مطابق اسلامی قوانین بحال کردیئے گئے۔ ہجری سن کو دوبارہ رواج دیا،سکوں پر اسلامی علامات نقش کرائیں۔شراب کی بندش، مساجد کی تعمیر کی اجازت اورعربی زبان اور اشاعتِ اسلام کی سرکاری حوصلہ افزائی کی گئی۔(22)
4۔ علمائے سو کی اصلاح
عہد مجدد میں علمائے کرام کی کیا صورتِ حال تھی اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ علمائے سو نے باوجود نااہلیت کے ادعاء اجتہاد،اور نصوص کتاب و سنت میں تحریف معنوی کر کے نت نئے عقائد و خیالات کا اختراع کیا اور پھر خدا اوررسول اورقرآن و حدیث کے مقدس ناموں سے ان کی ترویج و اشاعت کی۔ساتھ ہی بدعت حسنہ کے نام سے دین میں نئی نئی ایجادیں کیں۔شیخ احمد نے ان علماء پر سخت تنقیدیں کیں اور ان کے بارے میں لکھا کہ یہ لوگ ایسے خود غرض اورکم ظرف ہیں کہ ذاتی مفاد کے لیے آپس میں لڑتے رہتے ہیں اورایک دوسرے کو فاسق وفاجر قراردیتے ہیں۔اپنے منصب کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے محض دولت دنیا جمع کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ (23)
5۔ بدعات و خرافات کا خاتمہ
شیخ احمد سرہندی کے عہد میں ہندو مسلم تہذیب کے ملنے اور اکبر کی لادینت کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی بہت سی بدعات و خرافات در آئی تھیں۔ڈاکٹر عبدالحق انصاری مکتوبات مجدد الف ثانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’مسلم مرد و عورت غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں میں شرکت کرتے،اپنی مراد پانے کے لیے ان کے دیوی دیوتاؤں سے مدد مانگتے ،عورتیں چیچک سے بچنے کے لیے ان کی پراتھنا کرتیں،دیوالی کے موقع پر مسلمان بھی ہندؤں کی طرح دیئے جلاتے، رنگ برنگے برتنوں میں دوستوں کے گھروں میں تحفے بھیجتے،عورتیں صوفی پیروں کے نام کے روزے رکھتیں،مختلف رسوم ادا کرتیں کہ مالدار ہو نے کے باوجود مانگی ہوئی بھیک سے ہی افطار کرتیں اور پندرہ شعبان کی شب،رجب کی ستائیسویں شب،رجب کی پہلی جمعرات کا بہت اہتمام کیا جاتا اور اجتماعی طور سے نفل پڑھنے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔‘‘(24)
شیخ مجدد نے ان بدعات کے قلع قمع کے لیے سنت نبوی کی تعلیم و اشاعت اور پابندی پر خاص زور دیااور تمام افکار و نظریات اور عبادات کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیا پھر ان تمام اختراعات کی شدت سے مخالفت کی جن کا عہدِ نبوی میں کوئی وجود نہ تھا۔ انہوں نے اس امر کی مسلسل تبلیغ کی کہ بدعات در حقیقت پیغمبرِ اسلام پر بد اعتمادی اور آپ ؐسے بغاوت کا نام ہے۔
شیخ احمد سرہندی کا اصل کارنامہ
شیخ احمد سرہندی کا سب سے اہم کارنامہ تصوف اور اہل تصوف کی اصلاح کرنا ہے۔آپ تصوف کی تاریخ میں وہ پہلے عظیم صوفی ہیں جنہوں نے صوفیہ کے روحانی سفر کی حقیقت بیان کی،اس کے مختلف مراحل کی خصوصیات پر روشنی ڈالی اور اس کی اہمیت پر تفصیلی کلام کیا۔اسی طرح وہ پہلے شخص ہیں،جنہوں نے خدا تک پہنچنے کے نبوی طریقے اور صوفی طریقہ میں امتیاز کیااور مؤخر الذکر پر طریق نبوت کی روشنی میں تبصرہ کیا۔آپ نے وحدۃ الوجود کے فلسفہ کو ہدف تنقید بنایا اور اسلامی عقائد،اقدارواعمال پر اس کے برے اثرات سے آگاہ کیا اور اس کی جگہ وحدۃ الشہود کا نظریہ پیش کیاجو شریعت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔(25)
مزید یہ کہ شیخ مجدد نے اسلامی نظام فکرو عمل میں تصوف کے مقام کو طے کیا ،اس کے تمام تربیتی وعملی،علمی وفکری اورقدری وفلسفیانہ پہلوؤں کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ ان میں سے کون سے افکار و نظریات،اعمال اور طریقے ،رجحانات اور روایات قرآن وسنت سے ہم آہنگ ہیں اور کون ان کے برخلاف ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اپنے اصحاب کے تزکیہ نفس،انسان سازی اور تقرب الی اللہ کا کون سا طریقہ اختیار کیا تھا،بعد کے ادوار میں صوفیہ نے ان مقاصد کو کس نقطۂ نظر سے دیکھا اور ان کے حصول کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیااور اب صوفی طریقہ فکرو عمل کو نبوی طریقے سے قریب کرنے اور قرآن وسنت کے حدود میں رکھنے کے لیے کیا کیا جانا چاہیے۔(26)
تصوف اور اہلِ تصوف کی اصلاح
حضرت مجدد کے دور میں صوفیہ،وجودی صوفیہ اور صوفیۂ کرام میں بے شمار خرابیاں پیدا ہو گئیں تھیں۔جنھیں آپ نے ’صوفیہ خام‘ سے تعبیر کیا تھا۔صوفیہ میں سماع،وجد، رقص وسرور اور نغمہ عام تھا،جشن میلاد النبی بھی خوب دھوم دھام سے منایا جاتا تھا(27) خود شیخ مجدد کے پیرزادے بھی جمعرات کے دن قوالی میں شرکت کو معیوب نہیں سمجھتے تھے(28)
صوفیۂ کرام کی اخلاقی بلندی کہاں تک پہنچی ہوئی تھی اس کا اندازہ شیخ احمد سرہندی کے اس مکتوب سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے:
’’صوفیوں میں کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو حسین و جمیل صورتوں اور دلکش گانوں میں گرفتار ہیں،یہ خیال کر کے کہ یہ حسن وجمال تو حضرت واجب الوجود سے مستعار ہے اور وہی ان صورتوں اور پیکروں میں نمایاں ہوا ہے،اور اپنی اس گرفتاری کو اچھاو پسندیدہ خیال کرتے ہیں بلکہ اسی کو رسائی حق سمجھتے ہیں۔‘‘(29)
آپ نے تصوف کی ان تمام بدعات وخرافات کی اصلاح کی اورسماع ورقص اور سرورونغمہ کے سلسلے میں فرمایا:
’’سماع ورقص فی الحقیقت’لہوولعب‘ میں داخل ہیں۔۔۔اور اس کی حرمت کے بارے میں آیتیں ،حدیثیں اور فقہی روایات اس کثرت سے ہیں کہ اس کا شمار بھی مشکل ہے۔۔۔کسی زمانہ میں بھی کسی فقیہ نے سرور و رقص کے جواز کا فتویٰ نہیں دیا ہے۔۔۔اور صوفیوں کا عمل حلّت وحرمت میں کوئی سند نہیں۔یہی بہت ہے کہ ہم ان کو معذور رکھیں اور ملامت نہ کریں او ران کے معاملہ کو حق تعالیٰ کے سپرد کردیں۔یہاں تو امام ابوحنیفہؒ ،امام ابویوسف اور امام محمد کا قول معتبر ہے،نہ کہ ابوبکر شبلی اور ابوحسن نوری کا عمل۔اس زمانے کے کچے صوفی اپنے پیروں کے عمل کا بہانہ بنا کر سرورورقص کو اپنا دین و مذہب بنائے ہوئے ہیں اور اس کو اطاعت و عبادت سمجھے ہوئے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا دین لہو ولعب بنا لیا ہے۔‘‘(30)
فرائض و سنن کے مقابلے میں ذکر و فکر کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی،آپ نے اسے ناپسند فرمایااور اس صورتِ حال پر ایک جگہ لکھا:
’’کچے صوفی ذکر و فکر کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور فرائض و سنتوں کے متعلق سہل نگاری برتتے ہیں،چلے اور مختلف ریاضتیں انہوں نے خود اپنے لیے اختیار کی ہیں،جن کی وجہ سے جمعہ اور جماعت کو ترک کر بیٹھے ہیں۔‘‘(31)
عہدِ مجدد میں بعض جاہل صوفیہ طریقہ سنت وشریعت سے ہٹ کر ریاضتیں اور مجاہدے کرتے تھے اور اسی کو وصول الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے تھے۔آپ نے اس کی سختی سے مخالفت کی اور فرمایا:
’’طریقۂ سنت سے ہٹ کر جو ریاضتیں اور مجاہدے لوگ کرتے ہیں ان کا کچھ وزن و اعتبار نہیں۔ایسی ریاضتیں یونان کے فلسفی اور ہندوستان کے برہمن اور جوگی بھی کرتے ہیں لیکن سوائے گمراہی اور خسارہ کے ان کو ان سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘(32)
صوفیۂ کرام ہندو عقائد سے اس حد تک متاثر ہو چکے تھے کہ وہ بھی ’تناسخ‘ کے قائل ہو چکے تھے۔چنانچہ حضرت مجدد لکھتے ہیں:
’’ان بے دینوں میں بعض لوگ وہ بھی ہیں جنہوں نے زبردستی شیخی کی مسند پر قبضہ جما لیا ہے۔یہ تناسخ(آواگون)کے قائل ہیں۔خیال کرتے ہیں کہ جب تک آدمی کی روح اپنے کمال کو حاصل نہیں کرتی ایک بدن سے دوسرے بدن میں چکر کاٹتی رہتی ہے اور جب کمال کے آخری نقطہ تک اس کی رسائی ہو جاتی ہے تو اس وقت اس چکر بلکہ سرے سے بدن ہی سے بے تعلق ہوجاتی ہے۔‘‘(33)
مزید یہ کہ ’سلب نسبت‘ کا نظریہ پیدا کیا گیا تھا،جس کا مطلب یہ تھاکہ مرید کے تمام دینی ودنیوی منافع اب صرف پیر کی توجہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔اس کو فروغ دینے کے لیے طرح طرح کے من گھڑت قصے مشہور کیے گئے۔اسی لیے پیروں کے بارے میں یہ تصور عام تھا کہ ان کے اندر ایسی روحانی قوت ہے کہ اگر وہ کسی سے ناراض ہو جائیں تو اسے روحانی ارتقاء سے محروم کر سکتے ہیں۔(34) اور اگر کسی سے راضی ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ سے اس کے گناہ بھی بخشوا سکتے ہیں۔(35)
صوفیۂ کرام کے زوال کا یہ عالم تھا کہ نقشبندیہ طبقہ جن کا سارا مجاہدہ اورریاضت صرف اتباع شریعت کے ساتھ محدود تھی وہ بھی بدعات و خرافات سے نہ بچ سکے۔آپ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اپنی کوتاہ نظری سے اس سلسلہ(نقشبندیہ) کے بعض لوگوں نے بھی اس ’طریقہ علیہ‘ میں بدعتوں کو اختیار کر لیا ہے۔اس بدعت کے ارتکاب سے چاہتے ہیں کہ عام لوگوں کے قلوب کو اپنی طرف مائل کریں اور اپنے اس فعل کو وہ اپنے خیال میں اس طریقہ کی تکمیل کا ذریعہ گمان کرتے ہیں۔۔۔مثلاً تہجد کی نماز با جماعت ادا کرتے ہیں اور اردگرد سے اس باجماعت نماز تہجد کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ ‘‘(36)
طریقت کو شریعت کے تابع بنایا
عہدِ مجدد میں شریعت اور طریقت کی بحثیں عام تھیں۔گمراہ کن صوفیۂ کرام شریعت کو ’ظاہر پرستوں‘کا کھلونا سمجھتے تھے اورانہوں نے ’ طریقت و حقیقت‘ کے مقدس ناموں سے اپنی ایک الگ دنیا بنا رکھی تھی جس میں آدمی خدا بھی بن سکتا ہے اور خدا کا بیٹا بھی اور ’عارف وکامل‘ بننے کے باوجود ہر گناہ اور لذت نفس کے ہر طریقے سے لطف اندوز ہو سکتا تھا۔(37)
تصوف میں زوال کی وجہ سے شریعت اور طریقت میں تفریق پید اکر دی گئی تھی۔ ارباب معرفت وسالکین راہِ طریقت کے لیے ظاہر شریعت کا اتباع ضروری نہیں سمجھتے تھے اور وہ اپنے اعمال کی بنیاد انہیں پر رکھتے تھے ،خواہ وہ شریعت سے متصادم ہی کیوں نہ ہوں۔آپ نے اس گمراہ کن نظریہ پر کاری ضرب لگائی اور اسے اسلام کی روح کے منافی قرار دیا۔چناں چہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’مرشد یا پیر طریقت وہ ہے جو مرید کو انابت الی اللہ کی ترغیب دے او راس تک پہونچنے کا راستہ دکھائے۔شریعت کا مقصود یہ ہے کہ نفس امارہ کی خواہشات مغلوب ہو جائیں۔لہٰذا جو شخص اپنے نفس کو مغلوب کرنے کا خواہاں ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ شریعت کی پابندی کرے۔جو شخص جس قدر اتباع شریعت کی پابندی کرے گا اسی قدر خواہشات نفس سے دور ہوتا جائے گا کیوں کہ نفس پر اتباع شریعت سے بڑھ کر گراں کوئی چیز نہیں ہوتی۔جو ریاضتیں اور مجاہدے اتباع شریعت کے مطابق نہیں ہیں وہ نہ قابل اعتبار ہیں نہ مفید ہیں۔‘‘(38)
حضرت مجدد نے ظاہر شریعت کی مخالف باتوں کو کفرطریقت قرار دیا اور فرمایا:
’’مشائخ قدس اللہ تعالیٰ اسرارھم میں سے جس بزرگ نے سطحیات زبان سے نکالی ہیں اور ظاہر شریعت کی مخالف باتیں کہیں ہیں،وہ سب کفر طریقت کے مقام میں ہوئی ہیں،جو مستی و بے تمیزی کا مقام ہے،جو بزرگ اسلام کی دولتِ حقیقت سے مشرف ہوئے ہیں وہ اس قسم کی باتوں سے پاک اور بری ہیں۔وہ ظاہر وباطن میں انبیاء کے پیروکار اور متبع ہیں۔‘‘(39)
وحدت الوجود کی تردیداور وحدۃ الشہود پرزور
تصوف میں توحید کے چار معنیٰ بتائے گئے ہیں۔اول خدا کی وحدانیت پر ایمان لانا،دوم اسی عقیدے کے مطابق خارجی وداخلی زندگی کی تعمیر،سوم ذات باری تعالیٰ کے ساتھ جمع و اتحاد،چہارم روحانی مکاشفات و تجربات کی روشنی میں حقیقت کی فلسفیانہ اور متصوفانہ تشکیل۔تصوف کی بعد کی کتابوں میں توحید کے تیسرے معنی کے لیے توحید شہودی کا لفظ استعمال ہوا ہے،جس کے معنی صوفی کو اپنے روحانی تجربے میں صرف ایک ہی وجود کے شہود ہونے کے ہیں۔یہ کیفیت جمع کی آخری منزل ہے۔چوتھے معنی میں توحید کے لیے توحید وجودی یا وحدۃ الوجود کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔توحید وجودی یا وحدۃالوجود کی سب سے زیادہ قوی اور مفصل تشکیل ابن عربی نے کی ہے۔اس لیے اسے ابن عربی سے منسوب کر دیا گیا۔(40)ابن عربی کا یہ فلسفہ دو مقدمات پر مبنی ہے۔اول یہ کہ خارج میں صرف ایک ہی ذات موجودہے اور دوم یہ کہ کائنات میں جو بے شمار چیزیں نظر آتی ہیں،وہ ذات واحد کے مظاہر اور اشکال کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
بطال صوفیوں نے اسی ’وحدۃالوجود‘ کے نظریہ پر ’اتحادو حلول‘کے عقیدے کی بنیاد رکھی اور پھر اس ایک اصل سے نہ معلوم گمراہیوں کی کتنی شاخیں نکلیں۔ان لوگوں نے کہا کہ ہر محمول کا موضوع خدا ہے ،خدا ہی عالم ہے خداہی معلوم ہے،وہی قادر اور وہی مقدرو،وہی مرید اور وہی مراد۔اچھے برے تمام اعمال کا صدور اسی سے ہوتا ہے۔ہر طرح کے عقیدے کو ماننے والا بھی وہی ہے۔اچھے برے تمام اعمال بھی وہی کرتا ہے۔ایسے ہی سارے اعمال،تجربات،احساسات اورافکار وعقائد اسی کے ہیں۔ (معاذباللہ)
شیخ مجدد نے اس کو قرآن وسنت کے خلاف بتایا اور بلاخوف و خطر اسے الحاد اور زندقہ قرار دیا۔اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’ممکن کو عین واجب کہنا اور اس کے افعال وصفات کو بعینہا حق تعالیٰ کے افعال و صفات قرار دینا سخت بے ادبی بلکہ اللہ عزوجل کے اسماء و صفات میں الحاد ہے۔‘‘(41)
شیخ مجددلکھتے ہیں کہ تصوف کی تاریخ میں نظریہ وحدۃالوجود ایک نئی چیز ہے ۔ابن عربی سے قبل اسے کسی نے بھی پیش نہیں کیا تھا۔اس سے قبل صرف توحید شہودی تھی،نہ کہ توحید وجودی(42)اور اس نظریہ کو انبیاء کرام کے بیان کردہ تصور توحید کے منافی قرار دیتے ہیں۔(43) فرماتے ہیں کہ یہ اسلام کے بہت سے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔مثلاً یہ نظریہ بت پرستی کے لیے جواز فراہم کرتا ہے،چوں کہ یہ نظریہ کائنات کو خداکا عین قرار دیتا ہے،اس لیے کائنات کی کسی بھی چیز کی عبادت عین خدا کی عبادت قرار پاتی ہے،بہ شرطے کہ اس کی عبادت مظہر خداوندی سمجھ کر کی جائے۔(44)عام طور پر بت پرست بھی اپنے معبودوں کی عبادت خدا کا مظہر سمجھ کر ہی کرتے ہیں۔آپ اس نظریہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے انسان کا ہر غلط عقیدہ اور ہر برا فعل اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جاتا ہے(45) انسان کے اختیار اور ارادے کا خاتمہ ہوجاتا ہے(46) اور کچھ ارواح کی ابدیت لازم آتی ہے (47)دوسری بات یہ کہ اس نظریے کے مطابق ہر چیز خیر بن جاتی ہے۔کوئی چیز خواہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو وہ خیر مطلق کا ظہور ہے،اس لیے وہ بھی خیر ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے قائلین کفروالحاد کو خیر کہتے ہیں۔
شیخ مجدد الف ثانی نے وحدۃالوجود کی جگہ وحدۃالشہود کا نظریہ پیش کیا جو آپ کے نزدیک توحید نبوی کے مطابق ہے اور صوفیہ کے مشاہدے (وجود واحد کے شہود)سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔اس کی رو سے صوفی کو اپنے تجربے میں جو وحدت نظر آتی ہے،وہ صرف مشاہدے کی چیز ہے ،نہ کہ کوئی معروضی حقیقت ۔آپ کے فلسفے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کائنات سے بالکل مختلف اور کلیتاً غیر ہے۔کائنات کسی معنی میں خداکے ساتھ متحد نہیں ہے،وجود کے معنی میں تو قطعاً اشتراک نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کا وجود ایک وجود ہے اور کائنات کا وجود بالکل دوسرا وجود ہے۔(48)
شیخ احمد نے توحید وجودی (وحدۃ الوجود)اور توحید شہودی(وحدۃ الشہود) میں فرق کرتے ہوئے لکھا:
’’توحید شہودی صرف ایک ذات کے مشاہدے کا نام ہے،یعنی یہ کہ سالک کے مشاہدے میں ایک ذات کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے۔اس کے مقابلے میں توحید وجودی اس اعتقاد کا نام ہے کہ خارج میں صرف ایک ہی ذات کا وجود ہے۔اس کے علاوہ کوئی اور شئے وجود نہیں رکھتی اور یہ کہ تمام اشیا باوجود غیر موجود ہونے کے ایک ہی وجود کے مظاہر اور اشکال ہیں۔‘‘(49)
آپ وحدۃ الشہود پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ فنا کے حصول کے لیے توحید شہودی ہی کافی ہے اور اس کے ذریعہ بھی وہ اخلاص حاصل ہوتا ہے جو صوفیہ کے سلوک کی غایت ہے۔جب کہ وحدۃ الوجود کے راستے سے سالک کے گم ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ دریا کو چھوڑ کر قطروں کے پیچھے بھاگتے ہیں ، حقیقت کو چھوڑ کر محض سراب اور اظلال کے پیچھے سرگرداں رہتے ہیں۔مجھے اس حقیقت کا ادراک اپنے ذاتی تجربے سے حاصل ہوا ہے۔‘‘(50)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود میں تطبیق دینے کی کوشش کرتے ہیں۔آپ ابن عربی کے نظریہ کو بنیادی طور سے صحیح سمجھتے تھے لیکن اس نظریہ کے ایک پہلو جس سے خدا تعالیٰ کی ورائیت متاثر ہوتی تھی،اس سے اتفاق نہیں رکھتے تھے۔(51)ان کا خیال تھا کہ اس کمی کو بعض تصورات کی نئی تشریح سے دور کیا جاسکتا ہے۔(52)اسی طرح آپ شیخ مجدد کے فلسفہ وحدۃ الشہود کے دو بنیادی تصورات،’نظریہ عدم‘ کو لاشئی کہہ کر اور دوسرا بنیادی تصور ظل کو استعارہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں کے درمیان اختلاف صرف جزئیات میں ہے،بنیادی مسلمات میں دونوں متفق ہیں(53)
بدعت حسنہ و سیۂ کی بحث
حضرت مجدد بدعت حسنہ و سیۂ میں کوئی تفریق نہیں کرتے ۔آپ کے نزدیک دین میں ہر اضافہ بدعت ہے۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس عہد کے علماء سونے اس کی آڑ میں اپنی خواہشات نفس کو جزودین بنا رکھا تھاجو آپ کی نظر میں سخت خطرناک تھا۔اس لیے آپ اس نظریے کے ہی خلاف ہو گئے چناں چہ خواجہ مفتی عبدالرحمٰن کابلی کو ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’یہ فقیر حق سبحانہ تعالیٰ سے نہایت عاجزی اور زاری کے ساتھ دعا کرتا ہے کہ دین میں جو نئی باتیں پیدا کی گئی ہیں اور جو بدعتیں ایجاد کی گئی ہیں جو آنحضرتؐاورآپ کے خلفاء کے زمانے میں موجود نہ تھیں۔اگرچہ وہ روشنی میں سفید صبح کی طرح ہوں پھر بھی اس ناتواں کو ان سے محفوظ رکھے اوران میں مبتلا نہ کرے۔۔۔کہتے ہیں کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں،حسنہ وسیۂ۔۔۔یہ فقیر ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن و نورانیت نہیں دیکھتااور بجز ظلمت و کدورت کے ان میں کچھ نہیں محسوس کرتا۔۔۔سرکار نبی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو ہمارے دین میں ایسی بات ایجا د کرے جو اس میں نہیں ہے تو وہ چیز مردود ہے۔پس جوچیز مردود ہو گئی اس میں حسن کیسا۔‘‘(54)
شیخ مجدد کا کہنا تھا کہ ہر قسم کی بدعت،اعمال کی انجام دہی کے مطلوبہ طریقوں میں تبدیلی کرتی ہے اور سنت کو ہٹا کر اس کی جگہ لے لیتی ہے(55)
آپ اپنے مریدکو ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’تم نے پوچھا ہے کہ میں ذکر جہری کو کیوں منع کرتا ہوں اور بدعت کہتا ہوں جب کہ اور بہت سی دیگر اشیاء کو منع نہیں کرتاجو عہد نبوی میں نہیں تھیں جیسے فرجی لباس اور پائجامہ وغیرہ۔اس بات کو یاد رکھو کہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال دو طرح کے تھے،کچھ تو عبادات کے قبیل سے تھے اور کچھ عرف وعادات یا رسوم ورواج کے قبیل سے۔جو اعمال آپ نے بطور عبادت کیے تھے،ان میں مداخلت بدعت ہے،اس کی سختی سے مخالفت ہونی چاہیے کیوں کہ یہ دین میں اضافہ ہے۔البتہ جو کام آپؐ نے بطور عرف وعادت کیے ہیں،ان میں تبدیلی بدعت نہیں کہلائے گی اس لیے کہ ان کا تعلق دین سے نہیں ہے۔‘‘(56)
حضرت مجدد الف ثانی کی انہیں اصلاحی کوششوں اور کارناموں کی وجہ دنیا یاد کرتی ہے اور اپنوں کے سوا غیروں نے بھی آپ کو خراج عقیدت پیش کیا۔Dr. Arnoldکی کتاب "Preaching of Islam”میں لکھا ہے:
’’شہنشاہ جہانگیر (1605ء۔1628ء)کے عہد میں ایک سنی عالم شیخ احمد مجدد نامی تھے جو شیعی عقائد کی تردید میں خاص طور سے مشہور تھے۔شیعوں کو اس وقت دربار میں رسوخ حاصل تھا۔ان لوگوں نے کسی بہانہ سے انہیں قید کرا دیا۔دوبرس وہ قید میں رہے اوراس مدت میں انہوں نے اپنے رفقائے زنداں سے سیکڑوں بت پرستوں کو حلقہ بگوش بنالیا۔‘‘(57)
مجدد صاحب نے تصوف کی اصلاح کی بہت کوشش کی ،اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ،لیکن ان کی تحریروں میں کچھ باتیں قرآن و سنت سے ٹکراتی ہیں :
اکابرین نے بدعت حسنہ کے انکار کو حضرت مجدد الف ثانی کا ایک بڑا کارنامہ قرار دیا ۔لیکن سید عروج قادری نے اس پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ علمائے حق میں وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے بدعت شرعی اصطلاحی کی دو قسمیں،بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیۂ قرار دیں ۔مجدد صاحب نے بھی ان میں سے کسی کا نام نہیں لیا ہے۔جن علمائے حق نے بدعت کی تقسیم کی ہے انہوں نے محض لغوی معنی ہی کے لحاظ سے کی ہے۔کوئی صاحبِ علم مسلمان اس کی جرأت نہیں کرسکتا کہ بدعت شرعی کی دوقسمیں’حسنہ اور سیۂ‘قرار دے ۔باقی رہی لغوی معنی کی حیثیت سے بدعت کی تقسیم تو اس کی سب سے بڑی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ،جس میں’بدعت ضلالۃ‘کی ترکیب استعمال کی گئی ہے:
’’اور جس نے بدعت ضلالہ ایجا دکی جس کو اللہ اور اس کے رسول پسند نہیں کرتے تو اس پر ان لوگوں کے مثل گناہ عائد ہوں گے جنہوں نے اس بدعت پر عمل کیا اور ان لوگوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔‘‘ (58)
مسلم شریف کی ایک حدیث میں’سنت‘ کی دو قسمیں ’حسنہ اور سیۂ‘ قرار دی گئی ہیں:
’’اورجس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ نکالا پھر اس پر عمل کیا گیا تو اس پر ان لوگوں کے مثل اجر لکھا جائے گا جنہوں نے اس پر عمل کیا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس نے دین اسلام میں کوئی برا طریقہ نکالا پھر اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لیے ان لوگوں کے مثل وزن لکھا جائے گا جنہوں نے اس پر عمل کیا اور ان لوگوں کے وزن میں کوئی کمی نہیں ہوگیْ۔‘‘(59)
جس چیز کو اس حدیث میں سنت سیءۃ کہا گیا ہے اسی چیز کو ترمذی کی حدیث میں بدعت ضلالۃ کہا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ جب حدیث میں ’بدعۃ ضلالۃ‘ کی ترکیب استعمال کی گئی ہے اور جب حدیث میں ’سنت‘ کی دو قسمیں ’حسنہ اور سیۂ‘ قرار دی گئی ہیں تو بدعت کی دو قسمیں حسنہ اور سیۂ کیوں نہیں ہو سکتیں۔ظاہر ہے کہ بدعت ضلالت کی ترکیب لغوی ہی معنی کے لحاظ سے ہے اور سنت کی تقسیم حسنہ اور سیۂ میں لغوی ہی معنی کے لحاظ سے ہے۔ اسی طرح جن لوگوں نے بدعت کی دو قسمیں حسنہ اور سیۂ قرار دی ہیں وہ لغوی معنی ہی کی حیثیت سے قرار دی ہیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ کسی عالم دین نے بدعت ضلالت کو حسنہ قرار نہیں دیا ہے او ر لغوی معنی کی حیثیت سے بدعت کی تقسیم کا انکار صریحاً غلط ہے۔ (60)
ایسے ہی حضرت مجدد کا نظریہ ’وحدۃ الشہود ‘جس پر سید عروج قادری نے تنقید کرتے ہوئے لکھا:
’’مجدد صاحب نے وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے۔اس کی دلیل خود ان کے ’’کشف وشہود‘‘کے سوا کچھ نہیں ہے،لیکن جب دلیل کشف وشہود ہے تو کسی ایک بزرگ کے کشف و شہود کو کسی دوسرے بزرگ کے کشف وشہود پر ترجیح کیوں ہو گی۔جو لوگ جس بزرگ کے مرید و عقیدت مند ہوں گے وہ اسی بزرگ کے کشف و شہود کوترجیح دیں گے۔دوسری بات یہ کہ جو لوگ وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کے اختلاف کو نزاع لفظی قرار دیتے ہیں،ان کے نزدیک وحدۃ الوجود کے انکار کی کیا وقعت ہو گی۔تیسری بات یہ کہ جب وحدۃ الشہود کا کا قول مجدد صاحب کے زمانے سے پہلے سے موجود ہے تو مجدد صاحب کا کام اس کے سوا اور کیا ہے کہ انہوں نے اپنے رنگ میں اس کی تشریح کی ہے۔‘‘(61)
****
حواشی
(1) سید محمد میاں،علمائے ہند کا شاندار ماضی،کتابستان ایم برادرس ،گلی قاسم جان ،دہلی،اشاعت دوم،1990ء،1/20۔37
(2) الفرقان مجدد الف ثانی نمبر،مولانا مناظر احسن گیلانی ،الف ثانی کا تجدیدی کارنامہ،،ص146۔149
(3)ابوالفضل محمد احسان اللہ عباسی،حضرت شیخ احمد سرہندی کے حالات تاریخی،مذہبی،صوفیانہ اور فلسفیانہ رنگ میں مذاق حال کے موافق،اعتقاد پبلشنگ ہاؤس،دہلی، 2010ء،ص25
(4)محمدعبدالحق انصاری ،مجد د ین امت اور تصوف،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی،2009ء،ص39
(5)محمد ہاشم کشمی،زبدۃ المقامات،نول کشور،لکھنؤ،1890ء،ص132
(6)زبدۃ المقامات،ص113
(7)شیخ مجدد،مبدأو معاد،مطبع انصاری، دہلی،ص4
(8)مکتوبات ،جلد اول، م290ص:741،ج1،م266،ص:584
(9)سید ابوالحسن علی ندوی،تاریخ دعوت و عزیمت،مجلس تحقیقات و نشریاتِ اسلام،لکھنؤ،2006ء،4/150
(10)محمد منظور احمد نعمانی،تذکرہ مجدد الف ثانی،الفرقان بک ڈپو،لکھنؤ،1998ء،ص95۔96
(11)شیخ محمد اکرام،رودکوثر،ادارہ ثقافت اسلامیہ،لاہور،2005ء،ص159
(12)تذکرہ امام ربانی،ص99،رودکوثر،ص162
(13)بدرالدین،حضرات القدس،ص17۔116،بحوالہ تاریخ دعوت و عزیمت:4/63۔162
(14)رودکوثر،ص163
(15)برکاتِ معصومی مفتاح اول،ص47
(16)ابوالحسن زید فاروقی،حضرت مجدد اور ان کے ناقدین،شاہ ابوالخیر اکیڈمی،دہلی،1977ء،ص50
(17)ڈاکٹر ظہور الحسن شارب ،جدید تذکرہ اولیائے پاک و ہند،الفیصل۔ناشران و تاجران کتب،اردو بازار،لاہور،ص277
(18)قاضی عالم الدین ،مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی،چوتھا جوہر،ص79۔81
(19)تذکرہ مجدد الف ثانی،ص95۔96
(20)مکتوب 67،دفتر دوم،ص135
(21)(K.A.Nizami:Naqshbandi Influence one the Mughal Rulers and Politics, Islamic Culture, Jan.1965, P47)
(22)محمداسلم،سرمایۂ عمر، ص31۔128
(23)تاریخ دعوت و عزیمت:4/88۔91
(24)ڈاکٹر محمد عبدالحق انصاری،تصوف اور شریعت مجد د الف ثانی کے افکار کا مطالعہ،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی، 2008، 1/43
(25)مکتوبات،ج2،م4،ص870، ج1،م261، ص5۔574، م234، ص494، 3،م100، ص1506
(26)مجد دین امت اور تصوف ، ص40
(27)مکتوبات،ج1،م261،ص573
(28)مکتوبات،ج1،266،ص626،ج2،م62،ص1061
(29)مکتوب 232
(30)مکتوب 266،دفتر اول،ص335
(31)مکتوب 61،ج1،ص297۔356
(32)مکتوب221،دفتر اول،236
(33)مکتوب 85
(34)مکتوبات،ج2،م28،ص2۔921
(35)مکتوبات، ج3، م41،ص1306
(36)مکتوب،131
(37)تذکرہ مجد الف ثانی،ص143
(38)شاہ آباد پوری،حضرت مجدد کے سیاسی مکتوبات،ص17
(39)مکتوب95،دفتر دوم)
(40)تصوف اور شریعت مجدد الف ثانی کے افکار کا مطالعہ،1/133
(41)مکتوب 1،دفتر دوم
(42)مکتوبات،ج1، م272، ص653
(43)مکتوبات،ج1،م272،ص650
(44)مکتوبات،ج1،م272،ص1۔650
(45)مکتوبات،ج142،853
(46)مکتوبات،ج1،م286،ص8۔697
(47)مکتوبات،ج1، م286، ص698
(48)تصوف اور شریعت،1/143
(49)مکتوبات،ج1،م43،ص148
(50)مکتوبات،ج1، م272،ص654،م43،ص147
(51)شاہ ولی اللہ،فیوض الحرمین،ص4،التفہیمات الالھیۃ:2/274
(52) (M.Abdul Haque Ansari, Shah Wali Allah’s Attempt to Revise Wahadat al- Wujud, Islamic Quarterly, London, vol29 No.3, 1984, pp.150-65)
(53)التفہیمات الالھیۃ:2۔4/263
(54)مکتوب186،دفتراول
(55)مکتوب،ج1،م186،ص378۔375
(56)مکتوبات،ج1،م231،ص481
(57)طبع ثالث،ص412
(58)ترمذی،ابواب العلم،باب الاخذبالسنۃ و اجتناب البدعۃ
(59)مسلم،ج2،کتاب العلم باب من سن سنۃ حسنۃ الخ
(60)سید احمد عروج قادری،تصوف اور اہل تصوف،مرتب ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی،حرا پبلی کیشنز،اردو بازار،لاہور،1992ء،ص294۔299
(61)تصوف اور اہل تصوف،ص299۔300)

مزید دکھائیں

اسامہ شعیب علیگ

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیسٹ فیکلٹی ہیں۔ آپ نے ایک کتاب کے علاوہ ۱۵ مقالے اور ۷۰ کے قریب مضامین تصنیف کیے ہیں۔

متعلقہ

Close