عباداتمذہب

اعتکاف: قرب الہی کا ذریعہ! 

محمد عامر مظھری 

وصال حق کیلئے تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن کی خواہش ہر دور میں سعید روحوں کانہ صرف شیوہ رہی ہے بلکہ انسان اخلاقی و روحانی کمال کے حصول کیلئے مختلف نوعیت کی اضافی مشقتیں اور مجاہدات اپناتا چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ حصول مقصد کی تگ و دو میں کبھی تو وہ جادہ اعتدال پر گامزن رہا اور کبھی افراط و تفریط کا شکار ہو گیا۔ وصال محبوب کی خاطر تزکیۂ نفس کیلئے کی جانے والی مختلف النَّوع کاوشوں میں سے ایک مسلمہ طریق مخلوق سے بے رغبتی اور کنارہ کشی بھی ہے جس میں افراط کی معروف صورت ’’رہبانیت‘‘ ہے جو مختلف امم سابقہ کا شیوہ رہی ہے، اممِ سابقہ میں وصال حق کے متلاشیوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ معمولات حیات اور دنیاوی مشاغل و مصروفیات جاری رکھتے ہوئے اپنی منزل کو نہیں پاسکتے کیونکہ نفس کی غفلتیں اور سماجی ذمہ داریوں کی الجھنیں انہیں وہ محنت و مشقت اور مجاہدہ نہیں کرنے دیتیں جو معرفت حق اور وصال محبوب کیلئے ضروری ہے تو انہوں نے لذّاتِ نفسانی سے دستبرداری اور علائق دنیوی سے کنارہ کشی کی راہ اپنائی، سماجی ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے جنگلوں اور ویرانوں کا رخ کیا، بیوی بچوں اور معاشرتی زندگی کی دیگر مصروفیات سے منہ موڑ کر غاروں کی خلوتوں اور کھوہوں کی تنہائیوں میں جا کر ڈیرہ لگایا اور وہیں رہ کر کثرتِ عبادت و مجاہدہ اور نفس کشی کے ذریعے وصالِ حق کی جستجو کرنے لگے۔ قرآن نے ان کے اس تصور حیات کو ’’رہبانیت‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ قرآن کی رو سے یہ طرز زندگی وصالِ حق کی متلاشی روحوں نے ازخود اختیار کیا تھا حالانکہ یہ طریقہ ان پر فرض نہیں کیا گیا تھا ارشاد ہوتا ہے :

’’اور رہبانیت (یعنی عبادتِ الٰہی کے لئے ترکِ دنیا اور لذّتوں سے کنارہ کشی) کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، اسے ہم نے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر (انہوں نے رہبانیت کی یہ بدعت) محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے (شروع کی تھی) پھر اس کی عملی نگہداشت کا جو حق تھا وہ اس کی ویسی نگہداشت نہ کر سکے (یعنی اسے اسی جذبہ اور پابندی سے جاری نہ رکھ سکے)، سو ہم نے اُن لوگوں کو جو ان میں سے ایمان لائے (اور بدعتِ رہبانیت کو رضائے الٰہی کے لئے جاری رکھے ہوئے) تھے، اُن کا اجر و ثواب عطا کر دیا اور ان میں سے اکثر لوگ (جو اس کے تارک ہوگئے اور بدل گئے) بہت نافرمان ہیں۔‘‘(الحدید)

جب سرکار دو عالم رحمت مجسم، سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتمیت، اکملیت اور کاملیت کی شان کے ساتھ اسلام کی صورت میں دین فطرت لے کر کائنات انسانی میں مبعوث ہوئے اور قرآن کی صورت میں اللہ کا آخری پیغام انسانیت تک پہنچا دیا، تو فرمایالا رهبانية فی الاسلام

’اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے بالعموم یہ استنباط کیا جاتا ہے کہ اسلام نے رہبانیت کی نفی کردی ہے یا اسلام میں رہبانیت نام کی کسی شے کا وجود نہیں۔ یہ استنباط اپنی جگہ درست ہے لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس فرمان اقدس کے ذریعے نفس کشی کے بے جا ضابطوں سے نجات عطا کر کے اپنی امت کو ایک بہت بڑی نعمت سے بہرہ ور کر دیا ہے  کیونکہ تمہیں اسلام کی صورت میں ایک مکمل اور جامع نظام حیات سے بہرہ ور کر کے رہبانیت جیسی بے جا مشقتوں کے بوجھ سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ تم چاہو تو اس رحمت مجسم کی اتباع و اطاعت کر کے اسی دنیا میں رہتے ہوئے، کاروبار زندگی کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بیوی بچوں اور دیگر افراد معاشرہ کے حقوق کی ادائیگی سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے بھی وصال یار اور قرب الٰہی کی منزل کو پاسکتے ہو۔ ہم نے تمہاری رہبانیت کا بدل بلکہ نعم البدل عطا کر دیا ہے اور وہ ہے ’’اعتکاف‘‘

اعتکاف ماہ رمضان کی خصوصی عبادات میں سے ایک عبادت ہے۔ ہر طرف سے منقطع ہوکر، دل و دماغ کو دنیاوی کھیل تماشوں سے ہٹا کر اﷲ تعالیٰ کے در پر دھرنا مار کر بیٹھ جانا اور فقط اپنے مہربان پرودگار جل جلالہ سے لو لگائے بیٹھ جانے کا نام اعتکاف ہے، اس کا سب سے افضل وقت ماہ رمضان کا آخری عشرہ ہے۔

اعتکاف کا جو اجر و ثواب آخرت میں ملے گا وہ تو وہیں بندہ دیکھے گا مگر جس بندے کو اعتکاف کی اصل روح نصیب ہوجائے، مسجد میں قیام کی چاشنی نصیب ہوجائے اور اپنے رب کی محبت کا کوئی ذرہ نصیب ہوجائے جس کے سامنے ساری نعمتیں اور لذتیں ہیچ ہیں اس بندے کا کیا کہنا، یقینا وہ بندہ اﷲ تعالیٰ کا حقیقی مہمان ہے۔

اگر معتکفین پر اعتکاف کی اصل لذت منکشف ہوجائے تو ہماری مسجدیں رمضان میں معتکفین سے بھری رہا کریں۔  اعتکاف کی  فضیلت احادیث کی روشنی  میں

1 حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے رمضان المبارک میں (دس دن) کا اعتکاف کرلیا وہ ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کئے (شعب الایمان جلد 3ص 425)

حدیث شریف:2 حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم نور مجسم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اعتکاف کرنے والا گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کے لئے تمام نیکیاں لکھی جاتی ہیں جیسے ان کے کرنے کے لئے ہوتی ہیں (ابن ماجہ جلد 2ص 265)

حدیث شریف3: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے ایمان کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے اعتکاف کیا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے (جامع الصغیر ص 516)

لغت میں اعتکاف کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی چیز کو اپنے اوپر لازم کر لے اور اس پر قائم رہے ۔

شریعت کی اصطلاح میں ”دنیا کے سارے کاروبار چھوڑ کر تقرب الی اللہ اور طاعت کی غر ض سے مسجد میں گوشہ نشیں ہوجانے کو اعتکا ف کہتے ہیں “۔

اعتکاف کی مشروعیت :یہ رمضان المبارک میں اداکی جانے والی ایسی ثابت سنت ہے ،جس کو آپ ﷺنے تاحیات اپنی زندگی میں باقی رکھا،بلکہ وفات کے سال نبی رحمت ﷺ نے 20 دن کا اعتکاف کیا ۔جیسا کہ بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے کہ آپ ﷺ ہر سال رمضان میں 10دنوں کا اعتکاف کیا کرتے تھے ،انتقال کے سال آپ نے 20د ن کا اعتکاف کیا ۔(بخاری ،حدیث نمبر:2044)

اسرار ومقاصد :

امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ اس ضمن میںفرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اعتکاف کو مشروع قرار دیا، جن کا مقصود اور جس کی روح یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ تعالٰی کے ساتھ وابستہ ہوجائے ،وہ دنیوی مصروفیات سے آزاد ہو اوراسے اشتغال بالحق کی نعمت میسرہوجائے ۔اس کی ہر فکر اللہ کی رضاجوئی اور اس کے تقر ب کے حصول کے لئے ہو ۔یہ ہے اعتکاف کا عظیم مقصد جو رمضان کے افضل ترین دنوں یعنی آخرے عشرے کے ساتھ مخصوص ہے ۔(زادلمعاد، 86-87/2 تلخیص)

اعتکاف کی قسمیں :

علمائے کرام نے اس کی 3قسمیں بیان کی ہیں :واجب ،سنت موکدہ اور مستحب(المو سو عہ الفقہیہ 5/208)

(1)واجب :اگر کسی نے اعتکاف کی نذر مان لی تو اس پر اعتکاف واجب ہے (المغنی 4/456)چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے جب رسول کریم ﷺ سے کہا کہ میں نے دور جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا ،تو آ پ ﷺ نے فرمایا َ:”اپنی نذر پوری کرو “(بخاری ،حدیث نمبر 2043،مسلم ، حدیث نمبر 4269)امام ابن منذر حمہ اللہ کہتے ہیں کہ اعتکاف واجب نہیں ہے ،لیکن اگر کسی نے اس کی نذر مان لی تو پورا کرناواجب ہوجاتاہے۔(مر عاةالمفاتیح ،7/142)

(2)سنت موکدہ :رمضان المبارک میں آخری عشرے کااعتکاف کرنا سنت ہے (حوالہ سابق)اور اس بارے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث گزری کہ آپ ﷺ ہر سال رمضان میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور وفات کے سال آپ ﷺ نے 20دن کا اعتکاف کیا ۔

(3)مستحب :واجب اور سنت کے علاوہ اعتکاف مستحب بھی ہے۔

اعتکاف کے مسائل

رمضان المبارک کے آخری دس دن مسجد میں اِعتکاف کرنا بہت ہی بڑی عبادت ہے، اُمّ الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اِعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)

اس لئے اللہ تعالیٰ توفیق دے تو ہر مسلمان کو اس سنت کی برکتوں سے فائدہ اُٹھانا چاہئے، مسجدیں اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں، اور کریم آقا کے دروازے پر سوالی بن کر بیٹھ جانا بہت ہی بڑی سعادت ہے۔ یہاں اِعتکاف کے چند مسائل لکھے جاتے ہیں، مزید مسائل حضراتِ علمائے کرام سے دریافت کرلئے جائیں۔

1:… رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اِعتکاف سنتِ کفایہ ہے، اگر محلے کے کچھ لوگ اس سنت کو ادا کریں تو مسجد کا حق جو اہلِ محلہ پر لازم ہے، ادا ہوجائے گا۔ اور اگر مسجد خالی رہی اور کوئی شخص بھی اِعتکاف میں نہ بیٹھا تو سب محلے والے لائقِ عتاب ہوں گے اور مسجد کے اِعتکاف سے رہنے کا وبال پورے محلے پر پڑے گا۔

2:… جس مسجد میں پنج وقتہ نماز باجماعت ہوتی ہو، اس میں اِعتکاف کے لئے بیٹھنا چاہئے، اور اگر مسجد ایسی ہو جس میں پنج وقتہ نماز باجماعت نہ ہوتی ہو اس میں نماز باجماعت کا انتظام کرنا اہلِ محلہ پر لازم ہے۔

3:… عورت اپنے گھر میں ایک جگہ نماز کے لئے مقرّر کرکے وہاں اِعتکاف کرے، اس کو مسجد میں اِعتکاف بیٹھنے کا ثواب ملے گا۔

4:… اِعتکاف میں قرآن مجید کی تلاوت، دُرود شریف، ذکر و تسبیح، دینی علم سیکھنا اور سکھانا اور انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کے حالات پڑھنا سننا اپنا معمول رکھے، بے ضرورت بات کرنے سے احتراز کرے۔

5:…اِعتکاف میں بے ضرورت اِعتکاف کی جگہ سے نکلنا جائز نہیں، ورنہ اِعتکاف باقی نہیں رہے گا، (واضح رہے کہ اِعتکاف کی جگہ سے مراد وہ پوری مسجد ہے جس میں اِعتکاف کیا جائے، خاص وہ جگہ مراد نہیں جو مسجد میں اِعتکاف کے لئے مخصوص کرلی جاتی ہے)۔

6:… پیشاب، پاخانہ اور غسلِ جنابت کے لئے باہر جانا جائز ہے، اسی طرح اگر گھر سے کھانا لانے والا کوئی نہ ہو تو کھانا کھانے کے لئے گھر جانا بھی جائز ہے۔

7:… جس مسجد میں معتکف ہے اگر وہاں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو نمازِ جمعہ کے لئے جامع مسجد میں جانا بھی دُرست ہے، مگر ایسے وقت جائے کہ وہاں جاکر تحیة المسجد اور سنت پڑھ سکے، اور نمازِ جمعہ سے فارغ ہوکر فوراً اپنے اِعتکاف والی مسجد میں واپس آجائے۔

8:… اگر بھولے سے اپنی اِعتکاف کی مسجد سے نکل گیا تب بھی اِعتکاف ٹوٹ گیا۔

9:… اِعتکاف میں بے ضرورت دُنیاوی کام میں مشغول ہونا، مکروہِ تحریمی ہے، مثلاً: بے ضرورت خرید و فروخت کرنا، ہاں اگر کوئی غریب آدمی ہے کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں، وہ اِعتکاف میں بھی خرید و فروخت کرسکتا ہے، مگر خرید و فروخت کا سامان مسجد میں لانا جائز نہیں۔

10:… حالتِ اِعتکاف میں بالکل چپ بیٹھنا دُرست نہیں، ہاں! اگر ذکر و تلاوت وغیرہ کرتے کرتے تھک جائے تو آرام کی نیت سے چپ بیٹھنا صحیح ہے۔

بعض لوگ اِعتکاف کی حالت میں بالکل ہی کلام نہیں کرتے، بلکہ سر منہ لپیٹ لیتے ہیں، اور اس چپ رہنے کو عبادت سمجھتے ہیں، یہ غلط ہے، اچھی باتیں کرنے کی اجازت ہے، ہاں! بُری باتیں زبان سے نہ نکالے۔ اسی طرح فضول اور بے ضرورت باتیں نہ کرے، بلکہ ذکر و عبادت اور تلاوت و تسبیح میں اپنا وقت گزارے، خلاصہ یہ کہ محض چپ رہنا کوئی عبادت نہیں۔

11:… رمضان المبارک کے دس دن اِعتکاف پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بیسویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے مسجد میں اِعتکاف کی نیت سے داخل ہوجائے، کیونکہ بیسویں تاریخ کا سورج غروب ہوتے ہی آخری عشرہ شروع ہوجاتا ہے، پس اگر سورج غروب ہونے کے بعد چند لمحے بھی اِعتکاف کی نیت کے بغیر گزرگئے تو اِعتکاف مسنون نہ ہوگا۔

12:… اِعتکاف کے لئے روزہ شرط ہے، پس اگر خدانخواستہ کسی کا روزہ ٹوٹ گیا تو اِعتکافِ مسنون بھی جاتا رہا۔

13:… معتکف کو کسی کی بیمارپُرسی کی نیت سے مسجد سے نکلنا دُرست نہیں، ہاں! اگر اپنی طبعی ضرورت کے لئے باہر گیا تھا، اور چلتے چلتے بیمارپُرسی بھی کرلی تو صحیح ہے، مگر وہاں ٹھہرے نہیں۔

14:…رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اِعتکاف تو مسنون ہے، ویسے مستحب یہ ہے کہ جب بھی آدمی مسجد میں جائے، تو جتنی دیر مسجد میں رہنا ہو اِعتکاف کی نیت کرلے۔

15:… اِعتکاف کی نیت دِل میں کرلینا کافی ہے، اگر زبان سے بھی کہہ لے تو بہتر ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close