عبادات

اعتکاف: چند اصلاح طلب پہلو

محمد ریاض علیمی

اللہ رب العزت نے رمضان المبارک کا ایسا مہینہ ہمیں تحفے میں دیا ہے جس میں نیکیوں، برکتوں اور رحمتوں کی برسات مسلسل جاری رہتی ہے۔ دن ہو یا رات، صبح ہو یا شام رحمتوں کی بارش تھمنے کا نام نہیں لیتی۔ ان با برکت ایام میں مسلمان زیادہ سے زیادہ اللہ کی رضا کے لیے عبادت کرتے ہیں اور اسے راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رمضان المبارک روحانیت کا موسم بہارہوتا ہے۔اس میں قربِ خدا وندی کے حصول کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک موقع آخری عشرہ میں اعتکاف ہے۔اعتکاف کے لغوی میں ہیں : ٹھہرنا۔ اصطلاح شرع میں اس کے معنی ہیں : مسجد میں رہنا، روزہ سے رہنا، جماع کو بالکل ترک کرنا اور اللہ تعالیٰ سے تقرب کی نیت کرنا، اور جب تک یہ معنی نہ پائیں جائیں شرعاً اعتکاف متحقق نہیں ہوگا۔

اعتکاف کرنے والا خود کو دنیا کے مشاغل سے الگ کرکے بالکلیہ عبادت الٰہی کے سپرد کردیتا ہے۔ بندہ رمضان کے آخری عشرہ میں دنیاوی امور اور معاملات سے قطع تعلق کر کے خالصتاً خدا تعالیٰ کے ذکر واذکار میں اپنا وقت صرف کرنے کے لیے اس کے گھر یعنی مسجد میں ڈیرہ ڈال دیتا ہے۔دن اور رات میں زیادہ سے زیادہ خدا کی عبادت،نوافل،تلاوت کلام پاک،قرآن پر تدبر،ذکر الٰہی اور دعاؤں میں اس کا وقت صرف ہوتا ہے۔ آخری عشرہ میں کثرتِ عبادت کی سب سے افضل شکل یہی ہے کہ یہ عشرہ اعتکاف میں گذارا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ عشرہ اعتکاف میں گذارتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے اور فرماتے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کو تلاش کرو۔(بخاری :2020)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔ (بخاری: 2026)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔ (بخاری: 2044)۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر سال اعتکاف کرنا اور آخری سال بیس دن کا اعتکاف کرنا، اور پھر آپ کے بعد ازواج مطہرات اور صحابہ کرام کا باقاعدہ اعتکاف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اعتکاف ایک بہت عظیم عبادت ہے جس کا خصوصی طور پر اہتمام ہونا چاہیے۔ احادیث مبارکہ میں معکتفین کے فضائل بھی بیان ہوئے ہیں اور انہیں کثیر اجروثواب کی نوید سنائی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معتکف کے بارے میں ارشاد فرمایا :وہ (یعنی معتکف)گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اُسے عملاً نیک اعمال کرنے والے کی مثل پوری پوری نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔ (ابن ماجہ:21781)حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی ایک اور حدیث مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو شخص اﷲکی رضا کے لیے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اﷲتبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے۔ ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے۔(طبرانی: 7326)حضرت امام زین العابدین اپنے والد امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔(شعب الایمان: 3966)

رمضان المبارک کا آخری عشرہ نہایت اہم ہے کیونکہ اسی عشرہ میں وہ رات آتی ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ اِس لیے اِس میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ دعاکرنی چاہیے اور اپنے گناہوں پر اللہ تعالی سے بار بار معافی مانگتے ہوئے سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے۔ اعتکاف ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن فی زمانہ یہ ایک رسم بنتی جارہی ہے کیونکہ اعتکاف میں بیٹھنے والے زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان دوستوں کا پورا ٹولہ ایک ہی مسجد میں اعتکاف کرتاہے وہ پورا عشرہ فضول گوئی میں گزاردیتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ بعض نوجوان معتکف نمازیں تک مکمل نہیں پڑھتے اور تراویح کے وقت کسی کونے میں بیٹھ کر باتوں میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ وعظ و نصیحت کی مجلس میں بھی شریک نہیں کرتے۔ مسجد کا احترام اور ادب بھی پامال ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پان، گٹکا اور چھالیہ کھاتے ہیں، سگریٹیں بھی پیتے ہیں۔ ان چیزوں کی بدبو سے مسجد کی معطر فضا آلودہ ہوتی ہے۔ حالانکہ مسجدیں خوشبودار رکھنے کا حکم ہے لیکن معتکف اس بات کا خیال نہیں رکھتے۔ اگر صرف دس دن کے لیے پان گٹکا وغیرہ چھوڑدیں تو کوئی قیامت برپا نہیں ہوجائے گی۔ اسی طرح اعتکاف میں بیٹھ کر آزادانہ انٹرنیٹ کا استعمال بھی ایک بہت بڑی وبا بن چکی ہے۔گلے میں رومال لٹکاکر، نیاجوڑا پہن کر اور عمامہ باندھ کر سوشل میڈیا کے اسٹیٹس پر اعتکاف کی نئی نئی تصویریں لگانا اور اپنے دوستوں سے داد حاصل کرنا بھی قابلِ مذمت فعل ہے۔

 اسی طرح مسجد میں زور زور سے ہنسنا بھی بہت بڑا گناہ ہے۔ ایسے نوجوانوں سے گزارش ہے کہ خداراہوش کے ناخن لیں، عبادت کا ثواب حاصل کرنے کے بجائے گناہوں کا طوق اپنے گلے میں نہ لٹکائیں۔ اعتکاف کے جو آداب ہیں اس کے مطابق اعتکاف کریں۔ اعتکاف ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ اعتکاف سے مراد یہ ہے کہ انسان دنیاوی کاموں سے بالکل منقطع ہو کرصرف باری تعالی کی طرف متوجہ ہو اور اس کی رضا اور اس کا تقرب حاصل کرنے کیلئے مکمل طور پر یکسو ہوجائے۔ اعتکاف کے آداب میں سے یہ ہے کہ معتکف اچھی بات کے سوا اور کوئی با ت نہ کرے۔ قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول رہے، دینی کتابیں پڑھے، انبیاء کرام کی سیرت پڑھے، اولیاء صالحین کے حالات پڑھے، اللہ کا ذکر کرے، استغفار میں مشغول رہے، درود شریف سے اپنی زبان کو تر رکھے، زندگی کی قضاء نمازیں پڑھے، نوافل پڑھے، اپنے گناہوں کو یاد کرکے رب کی بارگاہ میں معافی کی التجا کرے۔رب ذوالجلال کی بارگاہ میں اپنے ہاتھ پھیلا کر مانگیں کیونکہ وہ ایسی بارگاہ ہے جہاں سے کوئی رسوا نہیں ہوتا اور اس کے سامنے پھیلنے والا ہاتھ بھی کبھی ناکام ونامراد نہیں لوٹتا، بلکہ اللہ تعالی ہاتھ پھیلانے والے کو سرخرو رکھتا ہے، اس کی دعاؤں کو قبول فرماکر، اس کی ضروریات کو غیب سے پوری فرماتاہے۔ مساجد کی انتظامیہ کی جانب سے بھی معکتفین کی تربیت کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فی زمانہ نوجوانوں کی تربیت کا سب سے بہترین ذریعہ اعتکاف ہے جس میں علاقے اور محلے کے وہ نوجوان بھی اعتکاف کرتے ہیں جو پورے سال سوائے جمعہ کے مسجد میں نہیں آتے۔ لہٰذا مساجد میں نوجوانوں کی تربیت اور ان کی روحانی اور اخلاقی پاکیزگی کے لیے وعظ و نصیحت کی مجلسوں کا انعقاد ہونا چاہیے۔

معتکفین سے گزارش ہے کہ اعتکاف کے ذریعے اپنی زندگی میں روحانی تبدیلی لائیں۔ رب کی بارگاہ میں رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور آئندہ ان سے بچنے کا عزم مصمم کریں۔ اور رمضان کے بعد کی زندگی بھی ایسی گزارنے کی کوشش کریں جیسی رمضان میں عبادت کرتے ہوئے گزاری۔ کسی بزرگ کا قول ہے کہ اگر تم اپنی زندگی کو رمضان بنالو تو موت تمہاری عید بن جائے گی۔ یعنی اگر تم زندگی کو رمضان کی طرح خوب خوب عبادت کرتے ہوئے گزاروگے تو موت تمہارے لیے عید کی خوشیوں کی طرح اجروثواب اور آسائشیں لے کر آئے گی۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close