عباداتمذہب

اعتکاف

اعتکاف سے مقصود اپنے نفس کو اطاعت الٰہی پر لگانا اور دیگر خلق سے قطع تعلقی کر کے خالق کے ساتھ قرب اختیار کرنا ہے

الطاف جمیل شاہ

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اہل ایمان دنیا کی آسائشوں سے نکل کر رب الکریم  کے در پر جاکر بیٹھ جاتے ہیں جیسے کہ کریم مولا نے انہیں بلایا ہو اپنی گھر اور نیک نفوس اٹھ کر مساجد میں بیٹھ جاتے ہیں کریم مولا کے سامنے اب بندے کی حالت یہ کہ جو مولا چاہئے وہی کرنا ہے بندے کی ایک بھی نہیں چلنی یہ میرے نزدیک محبت کی معراج ہے کہ آدمی اچانک اپنی خواہشات کو بلا کر اپنے مولا کو راضی کرنے اٹھ کھڑا  ہوا ہے اور مستعدی احترام عقیدت کے جذبہ سے سرشار  ہوکر مولائے کریم کے سامنے بیٹھے کبھی دھاڑیں مار کر  تو کبھی سسکیاں بھر کر اپنے مولا سے اس کی رضا کا طالب ہے  بات ہو رہی ہے معتکف کی۔

رمضان المبارک ک آخری عشرہ 

اس عشرہ میں اعتکاف کرنا ایک مسنون عمل ہے۔ رسول اکرمﷺ نے اس میں اعتکاف فرمایا اور آپ کی ازواج نے بھی آپﷺ کی زندگی اور وفات کے بعد بھی اعتکاف فرمایا۔

اعتکاف سے مقصود اپنے نفس کو اطاعت الٰہی پر لگانا اور دیگر خلق سے قطع تعلقی کر کے خالق کے ساتھ قرب اختیار کرنا ہے یاد رہے کہ علما کے صحیح اقوال کی روشنی میں اعتکاف کی کم ترین مدت ایک دن یا ایک رات ہے۔

عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف کرنا جائز نہیں ہے۔ علاوہ ازیں مسجد کے علاوہ کسی بھی اور جگہ پر اعتکاف کردرست نہیں ہے اعتکاف کرنے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ ستر و حجاب کا خصوصی اہتمام کریں۔

اعتکاف کی اقسام

1۔ اعتکاف واجب، 2۔ اعتکاف سنت، 3۔ اعتکاف نفل یا مستحب

اعتکاف واجب

یہ نذر کا اعتکاف ہے، جیسے کسی نے اعتکاف کی نذر مانی تو اب نذر پوری ہونے پر جتنے دن کا کہا ہے، اتنے دن کا اعتکاف کرنا واجب ہوگیا۔ اعتکاف واجب کے لئے روزہ شرط ہے، بغیر روزہ کے صحیح نہیں ہوگا ۔

اعتکاف سنت

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف سنت موکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی پورے شہر میں سے کسی ایک نے کرلیا تو سب کی طرف سے ادا ہوگا، اور اگر کسی ایک نے بھی نہ کیا تو سبھی مجرم ہوئے ۔

اس اعتکاف میں یہ ضروری ہے کہ رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے پہلے مسجد کے اندر بہ نیت اعتکاف چلا جائے اور انتیس کے چاند کے بعد یا تیس کے غروب آفتاب کے بعد مسجد سے باہر نکلے۔ اگر غروب آفتاب کے بعد مسجد میں داخل ہوئے تو اعتکاف کی سنت موکدہ ادا نہ ہوئی بلکہ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے مسجد میں داخل ہونا ضروری ہے۔

اعتکاف کی نیت

رمضان شریف کے اعتکاف کی نیت اس طرح کریں’’میں اﷲ تعالی کی رضا کے لئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے سنت اعتکاف کی نیت کرتا/ کرتی ہوں۔

اعتکاف نفل

اس کے لئے نہ روزہ شرط ہے، نہ کوئی وقت کی قید ہے۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوں، اعتکاف کی نیت کرلیں۔ جب تک مسجد میں رہیں گے، مفت بغیر محنت کے ثواب ملتا رہے گا۔ جب مسجد سے باہر نکلیں گے، اعتکاف ختم ہوجائے گا۔ اعتکاف کی نیت کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، اگر دل ہی میں آپ نے ارادہ کرلیا کہ میں سنت اعتکاف کی نیت کرتا ہوں تو یہی کافی ہے۔

مقصد اعتکاف

اعتکاف کا مقصد یہ ہے کہ آدمی بارگاہ ایزدی کی چوکھٹ پر اپنا سر رکھ کر سرور اور خوشی کا مینار دیکھتا رہتا ہے۔ زبان کو اسی کے ذکر سے تر رکھتا ہے، کہ بندہ سب کو چھوڑ کر بارگاہ عالی میں حاضر ہوا ہے۔ اے رحیم مولا! ہمیں معاف فرما کہ جب تک تو معاف نہیں کرے گا، تیرے در سے کہیں نہ جاؤں گا۔ تو اس سے سخت سے سخت دل بھی نرم ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو ہماری مغفرت کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں بلکہ

تو وہ داتا ہے کہ دینے کے لیے
در تیری رحمت کے ہیں ہر دم کھلے
خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھے احوال
کہ آگ لینے کو جائے پیمبری مل جائے

فضائل اعتکاف 

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں ہمیشہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ پھر آپ ﷺ کی ازواج مطہراتؓ اعتکاف کا اہتمام کرتی تھیں۔ (متفق علیہ)

مسنون اعتکاف کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ معتکف لیلۃ القدر کی فضیلت بآسانی پالیتا ہے کیونکہ اکثر روایات کے مطابق لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ رمضان کے آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو (الصحیح البخاری)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کیا کرو۔

 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کیلیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دیں گے، ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔

 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ ان کو خود کرتا رہا ہو۔

جو نیکیاں وہ باہر کرتا تھا مثلاً مریض کی عیادت، جنازہ میں شرکت، غرباء کی امداد، علماء کی مجالس میں حاضری وغیرہ، اعتکاف کی حالت میں اگرچہ ان کاموں کو نہیں کر سکتا لیکن اس قسم کے اعمال کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے:مَنِ اعْتَکَفَ اِیْمَانًا وَ احْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ. کنز العمال: ترجمہ: جس نے اللہ کی رضا کیلیے ایمان و اخلاص کے ساتھ اعتکاف کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گئے۔

 اس حدیث میں اعتکاف کرنے پر جن گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا ہے ان سے مراد گناہ صغیرہ ہیں، کیونکہ گناہ کبیرہ کی معافی کیلیے توبہ شرط ہے۔ اعتکاف کرنے والا جب مبارک ساعات میں خدا تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتا ہے، آہ وبکا کرتا ہے اور اپنے سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کرتے ہوئے آئندہ نہ کرنے کا عزم کرتا ہے تو یقینی بات ہے اس کے کبیرہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں، اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک میں گناہوں سے مراد کبیرہ بھی ہو سکتے ہیں جن کی معافی اعتکاف میں ہوتی ہے۔ لہٰذا معتکف کو چاہیے کہ توبہ و استغفار کا ضرور اہتمام کیا کرے۔

مسنون اعتکاف کا وقت:

مسنون اعتکاف کا وقت 20 رمضان المبارک کو غروب آفتاب سے قبل اعتکاف کی نیت سے شرعی مسجد میں بیٹھنے سے شروع ہوتا ہے اور شوال کا چاند نظر آنے تک رہتا ہے۔ 29 رمضان کو عید کا چاند نظر آئے یا 30 رمضان کو آفتاب غروب ہو جائے تو مسنون اعتکاف ختم ہو جاتا ہے پھر معتکف مسجد سے نکل سکتا ہے۔

اعتکاف کی سب سے افضل جگہ:

سب سے افضل وہ اعتکاف ہے جو مسجد حرام میں کیا جائے، پھر مسجد نبویﷺ کا مقام ہے، پھر بیت المقدس کا اور اس کے بعد اس جامع مسجد کا درجہ ہے جس میں جمعہ کی جماعت کا انتظام ہو۔ اگر جامع مسجد میں جماعت کا انتظام نہ ہو تو پھر محلے کی مسجد بہتر ہے جس میں پانچ وقت نماز باجماعت ادا کی جاتی ہو۔

عورتوں کو اپنے گھر کی مسجد (یعنی جس جگہ نماز پڑھتی ہو) اعتکاف کرنا بہتر ہے ورنہ کسی کمرے میں اپنے لیے جگہ مختص کر دیں۔ (علم الفقہ، حصہ سوم، صفحہ 46)

اعتکاف کی حکمت اور فائدے:

اعتکاف میں حکم شرعی ہونے کی وجہ سے جس قدر فائدے اور حکمتیں ہو کم ہیں مگر یہاں مختصراً چند فائدے اور حکمتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔

(1) شیطان انسان کا قدیمی دشمن ہے لیکن جب انسان خدا کے گھر میں ہے تو گویا مضبوط قلعے میں ہے۔ اب شیطان اس کا کچھ بگاڑ نہ سکے گا۔

(2) لوگوں کے ملنے جلنے اور کاروبار کی مشغولیتوں میں جو انسان سے چھوٹے موٹے بہت سے گناہ ہو جاتے ہیں، بندہ اعتکاف میں ان سے محفوظ رہتا ہے۔

(3) جب تک آدمی اعتکاف میں رہتا ہے، اسے عبادت کا ثواب ملتا رہتا ہے خواہ وہ خاموش بیٹھا رہے، یا سوتا رہے، یا اپنے کسی کام میں مشغول رہے۔

(4) اعتکاف کرنے والا ہر ہر منٹ عبادت میں ہوتا ہے تو شب قدر حاصل کرنے کا بھی اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کیونکہ جب بھی شب قدر آئے گی تو معتکف بہر حال عبادت میں ہوگا۔

مسائل 

اعتکاف کی حالت میں جائز کام:

کھانا پینا (بشرطیکہ مسجد کو گندا نہ کیاجائے)، سونا، ضرورت کی بات کرنا، اپنا یا دوسرے کا نکاح یا کوئی اور عقد کرنا، کپڑے بدلنا، خوشبو لگانا، تیل لگانا، کنگھی کرنا(بشرطیکہ مسجد کی چٹائی اورقالین وغیرہ خراب نہ ہوں )، مسجد میں کسی مریض کا معائنہ کرنا نسخہ لکھنا یا دوا بتا دینا لیکن یہ کام بغیر اجرت کے کرے تو جائز ہیں ورنہ مکروہ ہیں، برتن وغیرہ دھونا، عورت کا اعتکاف کی حالت میں بچوں کو دودھ پلانا۔ معتکف کا اپنی نشست گاہ کے ارد گرد چادریں لگانا۔ معتکف کامسجد میں اپنی جگہ بدلنا۔ بقدر ضرورت بستر،صابن، کھانے پینے کے برتن، ہاتھ دھونے کے برتن اور مطالعہ کیلیے دینی کتب مسجد میں رکھنا۔

ممنوعات و مکروہات:

بلاضرورت باتیں کرنا۔ اعتکاف کی حالت میں فحش یا بےکار اور جھوٹے قصے کہانیوں یا اسلام کے خلاف مضامین پر مشتمل لٹریچر ،تصویر دار اخبارات و رسائل یا اخبارات کی جھوٹی خبریں مسجد میں لانا،رکھنا،پڑھنا،سننا۔  ضرورت سے زیادہ سامان مسجد میں لا کر بکھیر دینا۔ مسجد کی بجلی،گیس اور پانی وغیرہ کا بےجا استعمال کرنا۔ مسجدمیں سگریٹ وحقہ پینا۔ اجرت کے ساتھ حجامت بنانا اور بنوانا، لیکن اگر کسی کو حجامت کی ضرورت ہے اور بغیر معاوضہ کے بنانے والا میسر نہ ہو تو ایسی صورت اختیار کی جا سکتی ہےکہ حجامت بنانے والا مسجد سے باہر رہے اور معتکف مسجد کے اندر۔

پیشاب، پاخانہ اوراستنجے کی ضرورت کیلیے معتکف کو باہر نکلنا جائز ہے،جن کے مسائل مندرجہ ذیل ہیں:پیشاب، پاخانہ کیلیے قریب ترین جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے۔اگر مسجد سے متصل بیت الخلاء بنا ہوا ہے اور اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تو وہیں ضرورت پوری کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو دور جا سکتا ہے، چاہےکچھ دورجانا پڑے۔اگر بیت الخلاء مشغول ہو تو انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ فارغ ہونے کے بعد ایک لمحہ بھی وہاں ٹھہرنا جائز نہیں۔قضاء حاجت کیلیے جاتے وقت یا واپسی پر کسی سے مختصر بات چیت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس کیلیے ٹھہرنا نہ پڑے  راستے میں رک کر باتیں کرنا صحیح  نہیں ہے۔

آے معتکف !

تم اللہ کے گھروں میں عبادت اور دنیا سے قطع تعلقی کر کے آخرت کی تیاری کرنے کے لیے آئے ہو، اس لیے اللہ تعالی کی جانب قلبِ منیب اور دل گدازی کے ساتھ متوجہ ہو جائیں۔ انتہائی عاجزی، انکساری اور رقت قلبی کے ساتھ اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑائیں۔ اپنے آپ کو ان سے متصادم چیزوں سے بچائیں، خود کو مولائے کریم  کے در پر پڑا رہنے دیں جتنا ہوسکے اپنے کریم مولا کی عبادت کرتے رہیں  لوگوں کو مساجد میں اوقات نماز میں اپنے پاس زیادہ وقت نہ رکنے دیں ان سے باتوں سے پرہیز کریں بس اپنی ضروریات تک ان سے بات کریں   فضول گپ شپ مت لگائیں، اور مساجد کے احترام کو مکمل طور پر ملحوظ خاطر رکھیں۔

مزید دکھائیں

الطاف جمیل شاہ

سوپور، کشمیر

متعلقہ

Close