خصوصیعباداتمذہبمذہبی مضامیننقطہ نظر

بسم اللہ کا معنی ومفہوم اور اسکی عظمت و برکت

عبدالعزیز

 مسلمان بسم اللہ کی برکت سے کچھ نہ کچھ ضرور واقف ہے مگرہر مسلمان جسے حکم دیا گیا ہے کہ بسم اللہ کئے بغیر کوئی کام شروع نہ کرو آہستہ آہستہ بھولتا جا رہاہے جنہں آج کل پڑھا لکھا یا تعلیم یافتہ کہا جاتا ہے وہ جلسہ یاتقریب میں بسم اللہ کہنے سے نہ صرف جھجکتے ہیں بلکہ اسے کہنے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسے کہنے سے ان کی عزت وعظمت میں کمی آجائے گی اور اپنوں میں نکوبن جائیں گے مگر جو لوگ بسم اللہ کی عظمت اور برکت سے واقف ہوں وہ اس نعمت کو فصل گل ولالہ کا پابند نہیں سمجھتے ان کی زبان سے بسم اللہ کہے بغیر کوئی بات نکلتی ہی نہیں وہ کوئی کام شروع کرنے سے پہلے ضرور بسم اللہ کہتے ہیں ۔

 ’’قرآن مجید کی شہرہ آفاقی تفسیر تفہیم القرآن میں صاحب تفہیم القران بسم اللہ الرحمن الرحیم سے تین اہم فائد ے بیان کرتے ہیں :

"اسلام جو تہذیب انسان کو سکھاتا ہے اس کے قواعد میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہر کام کی ابتدا خدا کے نام سے کرے۔ اس قاعدے کی پابندی اگر شعور اور خلوص کے ساتھ کی جائے تو اس سے لازماً تین فائدے حاصل ہو گے۔ ایکؔ یہ کہ آدمی بہت سے برے کاموں سے بچ جائے گا، کیونکہ خدا کا نام لینے کی عادت اسے ہر کام شروع کرتے وقت یہ سوچنے پر مجبور کردے گی کہ کیا واقعی میں اس کام پر خدا کا نام لینے میں حق بجانب ہے؟ دُوسرؔایہ کہ جائز اور صحیح اور نیک کاموں کی ابتدا کرتے ہوئے خدا کا نام لینے سے آدمی کی ذہنیت با لکل ٹھیک سمت اختیار کر لے گی اور وہ ہمیشہ صحیح ترین نقطہ سے اپنی حرکت کا آغاز کرے گا ۔ تیسرا ؔ اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب وہ خدا کے نام سے اپنا کام شروع کرے گا تو خدا کی تائید اور توفیق اس کے شامل حال ہوگی ، اس کی سعی میں برکت ڈالی جائے گی اور شیطان کی فساد انگیزیوں سے اُس کو بچایا جایگا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ جب بندہ اس کی طرف توجہ کرتا ہے تو وہ بھی بندے کی طرف توجہ فرماتا ہے۔‘‘

بسم اللہ کا مفہوم : صاحب نظام القرآن جو رات دن قران میں ڈوبے رہتے تھے جن کی مادری زبان اردو تھی مگر دنیا بھر کے علماء حق کیلئے قرآن مجید کی تفسیر انہوں نے عربی زبان میں اس نیت اور ارادہ کے ساتھ کی کہ اگر علماء قرآن کو ٹھیک سے سمجھ جائیں گے تو دوسرے بھی اسے اچھی طرح سمجھ لیں گے۔ انہوں نے اپنی تفسیر میں بسم اللہ کا مفہوم اور مطلب کچھ اس طرھ بیان فرمایا ہے:

 بسم اللہ میں بؔ عظمت ، برکت اور اور سند کے مفہوموں کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ یہ کلام خبریہ نہیں ہے بلکہ الحمد اللہ کی طرح دعائیہ ہے جیسا کہ آگے چل کر واضح ہوگا۔ اپنے نام سے شروع کرنے کاحکم اللہ تعالی نے شروع ہی میں دے دیا تھا۔ چنانچہ سورۂ اقرأ میں ہے ۔ اقرا باسم ربک الذی خلق (پڑھ اپنے اس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا) دین کی بنیاد نماز ہے اور نماز کی حقیقت اللہ کے نام کی یاد ۔ جیسا کہ فرمایا ہے ۔ وذکراسم ربہ فصلی( اور اپنے پر وردگار کے نام کو یاد کیا اور نماز پڑھی ) دوسری جگہ ہے ۔ واذکرسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا(اور یاد کر اپنے رب کے نام کو اور اسی کی طرف یکسو ہو)  تبتل الیہ (اسی کی طرف یکسو ہو)یعنی اس کی نماز پڑھ کر ، جیسا کہ سیاق سے واضح ہے ۔

کسی شے کا نام اس کی یاد کا واسطہ ہوا کرتا ہے۔ پس اللہ کے نام کی یاد ہی درحقیقت اللہ کی یاد ہے۔ اور یہی چیز نماز کی روح ہے۔ اسی وجہ سے جب نمازکو اس کی کامل صورت کے ساتھ ادا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم ذکر اللہ کو قائم رکھنے کا حکم ہوا۔ اور امن واطمینان کی حالت میں بھی اس کی تاکید فرمائی گئی تا کہ یہ حقیقت واضح رہے کہ نماز کی اساس یہی چیز ہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’پھر اگر تم کو خطرہ لاحق ہو تو پیادہ یا سوار جس حالت میں بھی ہو پڑھ لیا کرو۔ اور جب تم کو اطمینان ہو جائے تو خدا کی یاد اس طرح کرو (یعنی نماز پڑھو) جس طر تم کو سکھلایا ہے، جو تم نہیں جانتے (یعنی نماز کی کامل صورت)‘‘  (البقرہ۔ 239)

 اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شروع ہی میں اس حقیقت سے آگاہ کردیا گیا تھا:۔ ’’میں ہی اللہ ہوں ، نہیں ہے کوئی معبود مگر میں پس میری ہی عباد ت کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ (طٰہٰ۔41) سورۂ اعراف میں فرمایا:۔ اور جو کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ۔ علاہ ازیں اس ذیل میں یہ نکتہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اعوذ با للہ کو شیطان سے پناہ کا ذریعہ قرار دیا ہے اسی طرح اپنے نام سے بھول چوک سے (جو شیطان ہی کی جانب سے ہوتی ہے) امان کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس کا اشارہ سورۂ اعلیٰ کی آیت سنقرء ک فلاتنسیٰ (ہم تم کو پڑھا دیں گے پھر تم نہ بھولوگے) میں پایا جاتا ہے۔ کونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے نام کی تسبیح کے حکم کے بعد فرمائی ہے۔

پس آغاز قرآن کے لئے یہ موزوں ترین کلام ہے۔ یہ قلب کو تمام تشویشوں سے پاک کر کے مطمئن کر دیتا ہے جیسا کہ ارشادہے ، الابذکراللہ تطمئن القلوب (آگاہ رہو اللہ کی یاد ہی سے قلوب مطمئن ہوتے ہیں ) اور یہ بات اوپر معلوم کر چکے ہو کہ اللہ کی یاد دین کی بنیاد ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کو قرآن کی بنیاد بھی قرار دیا اور اسی چیز کے ساتھ اول اول س کی نزول ہوا اور اسی چیز کا حکم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہوا۔

 پھر بسم اللہ اس بات کا اقرار ہے کہ تمام فضل واحسان اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے ہے۔ گویا ہم بسم اللہ پڑھ کر اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہم پر جو احسانات فرمائے ہیں یہ ہمارے استحقاق کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ سب کچھ اس کے اسمائے حسنیٰ رحمان ورحیم کا فیضان ہے۔ تو رات کی بھی ایک سے زیادہ آیات اس کی تائید کرتی ہیں ۔

 اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ تمام قوت وزوراِسی کابخشاہواہے ۔ چنانچہ اسی وجہ سے ابتدائے وحی کے وقت محمدﷺکواللہ کے نام کی یاد کاحکم ہوا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پربھی الواح کی تیاری کے بعدطورپرسب سے پہلے اللہ کانام ہی نازل ہوا۔ کتاب الخروج باب 34  (5-8) میں ہے۔

’’ تب خداوندابر میں ہوکراترااوراس کے ساتھ وہاں کھڑے ہوکرخداوندکے نام کااعلان کیا۔‘‘اورخداونداس کے آنے سے یہ پکارتاہواگزرا۔ خداوند، خداوند، خدائے رحیم اورمہربان قہرکرنے میں دھیمااورشفقت اوروفامیں غنی ۔ہزاروں پرفضل کرنے والا،گناہ اورتقصیراورخطاکابخشنے والا، لیکن وہ مجرم کوہرگزبری نہیں کرے گابلکہ باپ داداکے گناہ کی سزاان کے بیٹوں اورپوتوں کوتیسری اورچوتھی پشت تک دیتاہے ۔ ‘‘تب موسیٰ نے جلدی سے سرجھکاکرسجدہ کیا۔‘‘

یہ ساری عبار ت ہم نے محض اس مقصدسے نقل کی ہے کہ بسم اللہ کی اہمیت اوراس کے ساتھ نمازکاتعلق تمہاری سمجھ میں آجائے۔ قرآن مجیدنے بھی جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرگزشت کی تفصیل کی ہے وہاں اس معاملہ کی طرف اشارہ کیاہے ۔ ……نیز اس سے سورۂ اقرأ اورسورۂ سبحِ اسم ربک کی تاویل پربھی روشنی پڑے گی کیونکہ ان کے مضامین اورتورات کے بیان میں بہت مماثلت ہے ۔ان سورتوں کی تفسیرنیزسورۂ فاتحہ کے ذیل میں ہم کسی قدران اشارات کی تفصیل کریں گے۔

 یہاں تک اظہاربرکت وعظمت کے مفہوم کی تشریح ہوئی ہے ۔ اب ہم بالاختصارسندکے مفہوم کوبھی واضح کرناچاہتے ہیں ۔ یہ پہلوبھی نہایت اہم لطائف وحقائق پرمشتمل ہے ۔ اس پہلو کے اعتبارسے بسم اللہ کے معنی گویایہ ہوئے کہ یہ کلام خداوندتعالیٰ کی طرف سے نازل ہواہے ۔ اوریہ اس پیشین گوئی کی طرف اشارہ ہوگاجس کاذکرحضرت موسیٰ کی پانچویں کتاب باب 18 (18-19) میں ہے۔

’’ میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانندایک نبی برپاکروں گااوراپناکلام اس کے منہ میں ڈالوں گااورجوکچھ میں اسے حکم دوں گاوہی وہ ان سے کہے گا۔اورجوکوئی میری ان باتوں کوجن کووہ میرانام لے کرکہے گانہ سنے گاتومیں ان کاحساب اس سے لوں گا۔‘‘

 چنانچہ یہ بات حرف بحرف پوری ہوکے رہی ۔جولوگ آنحضرت ﷺپرایمان نہیں لائے اورجنھوں نے ان باتوں کونہیں ماناجوآپ ؐ نے اللہ کانام لے کرکہیں ، ان سے نہایت سخت مواخذہ ہوا۔ اوریہ بھی اسی پیشین گوئی کی تصدیق تھی کہ اولین وحی اللہ کے نام کے ساتھ نازل ہوئی، اقرأ باسم ربک الذی خلق (پڑھ اپنے اس پروردگارکے نام سے جس نے پیداکیا)

 پھراس کے ساتھ رحمن ورحیم کی صفتیں لائے ہیں …… یہودنے یہ نام (رحمان ورحیم) ضائع کردیئے تھے جس کی سزاان کویہ بھگتنی پڑی کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے یکسرقہروجلال بن کے رہ گیااوران کاپیغمبربھی ان کی سخت دلی کے سبب سے ان کے لئے ہیبت وشدت ہی کے بھیس میں نمودارہوااوران کی سرکشی کے باعث ان کی شریعت بھی ان کے لئے نہایت سخت ہوگئی ۔ جیساکہ سورۂ انعام میں واردہے ۔

’’اوریہودپرہم نے تمام ناخون والے جانورحرام کئے اورگائے اوربکری میں سے ان کی چربی کوان پرحرام کیامگرجوان کے پیٹھ سے لگی یاانتڑیوں پریاہڈی سے لگی ہوئی ہو۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کابدلہ دیا۔‘‘    (سورہ انعام)   (146)

 اس کی شہادت اسپنوزاؔ نے بھی دی ہے ۔ وہ کہتاہے  :

’’ یرمیاہ نبی نے کہاتھاکہ بنی اسرائیل کاخدا اس دن سے ان پرغضبناک ہے جس دن سے انھوں نے اپنے شہرکی تعمیرکی ۔ لیکن ہمارادعویٰ یہ ہے کہ بنی اسرائیل پرخداکی غضبناکی اسی روزسے ہے جس روزسے ان کوشریعت ملی اورحزقیل نبی کے کلام سے ہمارے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے ۔ باب ۲۰ میں ہے۔ ’’سومیں نے ان کوبرے آئین اورایسے احکام دیئے جن سے وہ زندہ نہ رہیں ۔‘‘

اس کی پوری تفسیرسورہ انعام میں ملے گی۔

اگراس معاملہ پرغورکروگے تویہ حقیقت تم پرواضح ہوگی کہ اس طرح کی سخت شریعت دائمی شریعت نہیں ہوسکتی ۔ اللہ تعالیٰ جورحمن ورحیم ہے ، لوگوں کوہمیشہ کے لئے کسی شکنجہ میں کرنہیں رکھ سکتا۔چنانچہ اس سخت شریعت سے نجات کی بشارت بھی اس نے شروع ہی میں دے دی تھی۔ سورۂ اعراف میں اس شارت کی طرف اشارہ موجودہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خطاب کرکے فرمایاجاتاہے۔

’’رہامیراعذاب ، تومیں اس کوجس پرچاہتاہوں نازل کرتاہوں ۔اورمیری رحمت ہرچیزپرعام ہے ۔ سواس کومیں ان لوگوں کے لئے لکھ رکھوں گاجوتقویٰ پرقائم رہیں گے ، زکوٰۃ دیں گے اورہماری آیتوں پرایمان لائیں گے ۔ جوپیروی کریں گے نبی امی کی جس کولکھاہواپاتے ہیں اپنے ہاں تورات اورانجیل میں ۔ ‘‘      (سورہ اعراف  154-157)(جاری)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close