عبادات

حج سے متعلق عوام میں مشہور چند غلط باتیں

ندیم احمد انصاری

 عام کوتاہی تو ہے کہ حج کے ادا کرنے میں لوگ سُستی بہت کرتے ہیں، وہمی ضروریات و خیالی تعلقات سے فارغ ہونے کے منتظر رہتے ہیں کہ فلاں کام سے فارغ ہو کر چلیں گے، پھر اس کام کے بعد دوسرے کام کا اسی طرح انتظار رہتا ہے، حالاں کہ یہ سلسلہ عمر بھر منقطع نہیں ہوتا۔

بعض لوگ حج کا ارادہ رکھتے ہیں اور حج کو اپنے اوپر فرض بھی جان چُکے ہیں لیکن اپنے کسی دوست سے کہتے ہیں کہ ہم تم دونوں ساتھ چلیں گے، یہ سخت غلطی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس دوست کو چاہیے کہ ان سے لکھوا لے کہ میں اور تم دونوں اس وقت تک زندہ بھی رہیں گے، ذرا ہم بھی تو دیکھیں، وہ اس مضمون کو کیوں کر لکھتے ہیں۔

ایک کوتاہی یہ ہے کہ بعض لوگ سفرِ حج کو اس وقت فرض سمجھتے ہیں، جب مدینہ منورہ کے سفر کے لیے بھی وسعت ہو اور اگر اتنا خرچ ہو کہ صرف حج کر سکتا ہے، مدینہ منورہ نہیں جا سکتا تو یہ لوگ اس حالت میں حج کو فرض نہیں سمجھتے، یہ سخت غلطی ہے۔

ایک کوتاہی یہ ہے کہ بعض اوقات اس شخص کے پاس مالِ حرام اس مقدار میں جمع ہو جاتا ہے کہ حج کو کافی ہو، مگر یہ سمجھتا ہے کہ یہ تو مالِ حرام ہے، اس کا حج میں خرچ کرنا اور بھی زیادہ بُرا ہے اور مالِ حلال میرے پاس اس قدر ہے نہیں، ا س لیے میرے ذمّے حج فرض نہیں اور یہی خیال بعض لوگوں کا زکوٰۃ میں بھی ہے، پس یہ لوگ حج کرتے ہیں نہ زکوٰۃ دیتے ہیں، سو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ مدار ِفرضیتِ حج و زکوٰۃ کو خاص مقدارِ مال کا مالک ہونا ہے، اس کے حلال ہونے کو فرضیت میں دخل نہیں، اس لیے ایسے شخص کے ذمّے حج اور زکوٰۃ دونوں فرض ہیں گو قبول نہ ہوں۔

بعض لوگ، جن کے پاس نہ تو حج کا سامان ہے اور نہ قلب میں غنا اور قوّتِ توکل ہے، مگر لوگوں سے بھیک مانگ مانگ کر ان کو پریشان کرکے حج کو جاتے ہیں، سو اس طرح حج کو جانا حرام ہے۔

بعض لوگ حج کو جاتے ہیں اور ریل یا جہاز وغیرہ میں نمازیں برباد کرتے ہیں، سو انھوں نے ایک فرض تو ادا کیا اور اتنے کثیر فرض فوت کیے اور اگر حج فرض نہیں تھا، نفل تھا، تو اور بھی غضب ہوا کہ ایک نفل کے لیے اتنے فرض گئے، سو ایسے شخص کو اس طرح حج کرنا بھی جائز نہیں۔ بعض لوگوں پر حج فرض نہیں ہوتا اور ان کو حج کی ہوس ہوتی ہے، اس میں بھی نفس اور شیطان کا یہ مکر ہوتا ہے کہ ایک نفل کے پیچھے بہت سے فرض برباد ہوتے ہیں، کیوں کہ بہت لوگ حج کے سفر میں نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ساتھیوں سے لڑتے جھگڑتے، گالی گلوج کرتے ہیں، جو بالکل ناجائز ہے۔ اگر ایک شخص نفل حج کا ارادہ کرتا ہو اور اندیشہ یہ ہے کہ سفر میں نمازیں قضا ہوں گی، اس کے لیے حجِ نفل کی اجازت نہیں۔ شریعت نے الاہم فالاہم کے قاعدے کا اتنا لحاظ کیا ہے کہ اہم کی وجہ سے دوسرے واجب اور نفل جو کہ اس کی بنسبت کم اہم ہو کا ترک واجب کر دیا۔

بعض لوگ حج کو اس غرض سے جاتے ہیں کہ بِکری اور تجارت کریں گے۔ حج کو ایسا سمجھتے ہیں، جیسے پیرانِ کلیر اور اجمیر کا عُرس، جس کی شان ایک میلے ’تجارت‘ سے زیادہ نہیں، تو اگر حج اس واسطے کیا ہے کہ بِکری ہوگی، تو حج خراب ہو گیا اور اس کا سارا سفر بِکری ہی بِکری (تجارت) ہو گیا۔

ایک کوتاہی جو باعتبار تعدیۂ مرض کے سب سے اشنع و اقبح ہے یعنی سب سے بُری ہے، وہ یہ کہ بعض لوگ حج کرکے آتے ہیں اور وہاں کے مصاعب اور مصائب (دشواریاں اور تکلیفیں ) اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ سننے والا حج کو جانے سے ڈر جائے اور یہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا نہیں تو اور کیا ہے؟

بعض لوگ رقم کی بابت احتیاط نہیں کرتے، رشوت وغیرہ کی رقم کو لے کر حج کو جاتے ہیں، کبھی اور کوئی حرام کمائی ہوتی ہے، حالاں کہ حرام کمائی کے ساتھ حج قبول نہ ہوگا[گو فرض ہو جائے گا، جیسا کہ گذرا]، اس کا بہت خیال کرنا چاہیے کہ زادو راحلہ، روپیہ وغیرہ [کچھ بھی] مالِ حرام سے نہ ہو، حلال کمائی ہونی چاہیے۔

بعض لوگ یہ کرتے ہیں کہ حرام مال کما کر حج کو جاتے ہوئے دوسرے شخص کے حلال مال سے اس کو بدل لیتے ہیں، گویا خدا سے بہانہ کرتے ہیں، مگر اس سے کچھ نہیں ہوتا، بدلین کا حکم ایک ہی ہوتا ہے۔ اس بدلے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ حلال مال بھی [اس کے حق میں ]حرام ہو جاتا ہے۔

اکثر لوگوں کو افتخار اور اشتہار کی عادت ہو جاتی ہے، جہاں بیٹھتے ہیں، اپنے حج کے تذکرے کرتے ہیں، تاکہ لوگ ان کو حاجی سمجھیں۔ لوگوں سے فخراً کہتے ہیں کہ ہم نے سفرِ حج میں اتنا روپیہ خرچ کیا، مکہ میں اتنا دیا، مدینہ میں اتنا خرچ کیا۔ یقول اہلکت مالاً لبداً۔ حق تعالیٰ کفار کی مذمّت فرماتے ہیں کہ کافر خرچ کرکے گاتا پھرتا ہے کہ میں نے مال کے ڈھیر خرچ کر دیے، یہ وہ معاصی ہیں کہ خشک مولوی بھی یہاں تک نہیں پہنچتے۔ حج میں افتخار اور اشتہار اور تعظیم و تکریم کی خواہش نہ ہونی چاہیے، اس میں تواضع و مسکنت، ذلّت و خواری ہونی چاہیے، یاد رکھو اس افتخار اور اشتہار سے سب کی کرائی محنت اکارت ہو جاتی ہے۔

بعض حاجی بھی اس خیال سے کہ موت ہر ایک کے ساتھ ہے، نہ معلوم کس وقت آجائے، کفن بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور عوام تو اس کو بہت ضروری سمجھتے ہیں، مگر افسوس کہ کفن ساتھ لے کر بھی وہ کام نہیں کرتے جو کفن پہننے والے کو کرنے چاہئیں۔ جب کفن ساتھ لیا تھاتو چاہیے تھا کہ اپنے آپ کو اُسی وقت مُردہ تصور کرتے اور ساری شیخی اور تکبّر کو یہیں چھوڑ جاتے اور پہلے سے زیادہ اعمالِ آخرت کے لیے کوشش کرتے، مگر کچھ نہیں، یہ کفن ساتھ لینے کی بھی [بس]ایک رسم ہو گئی ہے۔

بعض لوگ سفرِ حج میں پہلے سے زیادہ گناہ کرنے لگتے ہیں، نماز چھوڑ دیتے ہیں، جماعت کا اہتمام اچھے اچھے بھی نہیں کرتے اور لڑائی جھگڑے کرتے ہیں اور حج کرکے اپنے آپ کو سب سے افضل سمجھنے لگتے ہیں، کیا سفرِ آخرت کی یہی شان ہونی چاہیے؟

بعض لوگ ایسے بے ہودہ ہوتے ہیں کہ حج میں روزانہ کے واقعات قلم بند کرتے ہیں، وہاں بھی ان کو مضمون نگاری سوجھتی ہے، اگر اس خیال سے کوئی شخص حالات قلم بند کرے کہ دوسروں کو حج آسان ہو جائے گا، تو اس کا مضایقہ نہیں، مگر بعض لوگوں کو محض اخبار نویسی اور مضمون نگاری کا شوق ہوتا ہے۔

آج کل لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جیسے گھر میں آرام کے ساتھ بسر کرتے ہیں، ویسے ہی حج کے سفر میں رہیں، حالاں کہ سفر میں گو نہ مشقت اور تکلیف کا ہونا ضروری ہے۔ دل میں اگر شوق اور محبت ہو تو پھر کوئی تکلیف ہی نہیں رہتی اور جہاں بیت اللہ پر ایک نظر پڑی، تو سب کلفت رفع ہو جاتی ہے، اس وقت یاد بھی نہیں آتا کہ اس سے پہلے کیا کیا پیش آیا تھا۔

بعض لوگ سفرِ حج میں پریشان ہو جاتے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ وہ شوق سے خالی ہیں اور اس کو سفرِ آخرت نہیں سمجھتے، کلفت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اپنے کو بہت کچھ سمجھتے ہیں، اسی لیے سفر میں جب کوئی بات اپنی شان کے خلاف پیش آتی ہے تو اس سے ناگواری پیدا ہوتی ہے، پھر اسی طرح ایک دوسرے سے جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر ہر شخص اپنے آپ کو مٹا دے اور عزت و آبرو کو بالائے طاق رکھ کر اپنے کو سب کا خادم سمجھے، تو یہ باتیں پیش ہی نہ آئیں۔

عموماً حج کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ گھر سے چلتے ہیں یہی خیال کر کے کہ ہماری یوں آؤ بھگت ہوگی، جب ہم لوٹیں گے، لوگ ہم کو حج کی مبارک باد دینے آئیں گے اور جو مبارک باد دینے نہ آئے، اس کی شکایت کی جاتی ہے کہ ہم حج کرکے آئے تھے، ہم کو مبارک باد بھی نہ دی انا للہ الخ۔ ارے بھوئی تم نے حج کیا تھا تو کیا کمال کیا؟ تمھارے ذمّے فرض تھا، اگر ادا نہ کرتے تو جہنم میں جھونکے جاتے اور نہ معلوم خاتمہ کس حال پر ہوتا، کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ جس شخص پر حج فرض ہو اور وہ پھر بھی حج نہ کرے، تو خدا کو پرواہ نہیں، وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر مرے، تو اگر تم حج نہ کرتے تو ان بَلاؤں میں گرفتار ہوتے، پھر کسی پر کیا احسان کیا، جو دوسروں سے مبارک باد ملنے کے منتظر ہو؟

بعض لوگ ریا کرتے ہیں، ریا سے اکثر طاعات کے انوار زائل ہوجاتے ہیں، ثواب جاتا رہتا ہے، اس سے بہت احتیاط کرنا چاہیے اور مستورات تو خصوصاً بہت کرتی ہیں، کیوں کہ ان کو ساری عمر میں ایک بار حج کے لیے گھر سے نکلنا ہوتا ہے، اس کو وہ بہت ہی بڑا کارنامہ سمجھتی ہیں اور حج کے بعد اگر کوئی ان کو حجَّن نہ کہے تو اس پر خفا ہوتی ہیں اور وہاں سے آکر سب کے سامنے گاتی پھرتی ہیں کہ ہم نے سارے مقامات کی زیارت کی، اگر کسی غریب نے ایک جگہ کی زیارت نہ کی ہو تو اس سے کہتی ہیں کہ تیرا حج ہی کیا ہوا، تو جبلِ نور پر تو گئی نہیں ؟ حالاں کہ اصل مقصود عرفات اور بیت اللہ ہے، پھر بیت الرسول، مگر ان کی زیارت تو ہر شخص کرتا ہے، اس لیے ان کو کوئی فضیلت میں بیان نہیں کرتا، ہاں جبلِ نور، غارِ ثور اور امیر حمزہ کا مزار سب گناتی ہیں۔

بعض لوگ صراحتاً اپنے حاجی ہونے کا اگر ذکر نہیں کرتے تو کسی نہ کسی پیرایے میں مخاطب کو بتلاتے ہیں کہ ہم حاجی ہیں۔ ایک بزرگ کسی کے یہاں مہمان ہوئے تو میزبان نے خادم سے کہا کہ اس صراحی کا پانی لانا، جو ہم دوسرے حج میں ساتھ لائے تھے! مہمان نے کہا کہ حضرت آپ نے ایک بات میں دونوں حج کا ثواب کھو دیا۔ چوں کی اس بات میں اس نےبتلا دیا کہ میں نے دو مرتبہ حج کیا ہے، یہ ریا نہیں تو اور کیا ہے؟

اکثر لوگوں کو شوق ہوتا ہے کہ حج کے بعد ہر مجلس میں اس کا تذکرہ کرتے ہیں، حالاں کہ جن پر حج فرض نہیں ہے اور ان کا جانا بھی جائز نہیں، اس وجہ سے کہ ان کی نہ مالی استطاعت ہے اور نہ مشقت پر صبر و تحمل ہو سکے گا، ان کے سامنے تشویق و ترغیب (شوق دلانے والے اور رغبت پیدا کرنے والے) قصّے اور مضامین بیان کرنا جائز نہیں کیوں کہ اس سے ان کو حج کا شوق پیدا ہوگا اور سامان ہے نہیں، نہ ظاہری، نہ باطنی، تو خواہ مخواہ وہ دقت اور پریشانی میں مبتلا ہوں گے، جس سے ناجائز امور کے ارتکاب کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے ایسے لوگوں کے سامنے حج کی تشویق اور ترغیب کے مضامین بیان کرنا جائز نہیں۔

بعض لوگ یہ کرتے ہیں کہ حج سے آکر وہاں کی تکالیف کا حال بیان کرتے ہیں، ایسی باتیں نہ کرنی چاہئیں، چاہے وہ واقعی کلفتیں ہوں اور اگر واقعی کلفتوں میں اضافہ کرکے بیان کیا جائے تو یہ اس سے بد تر ہے، وہاں کی کلفتیں بیان کرنے کا یہ انجام ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ حج سے رُک جاتے ہیں، اس کا سارا وبال ان لوگوں پر رہتا ہے، جنھوں نے ان کو بہت ڈرایا ہے۔

عام عادت ہے کہ جب کوئی شخص حج کے لیے اپنے گھر سے چلتا ہے تو لوگ پھولوں اور روپیوں کا ہار بنا کر اس کے گلے میں ڈالتے ہیں، جس میں اکثر کی نیت فخر اور شان کی ہوتی ہے، جو کہ شریعت میں ممنوع اور نہایت مذموم ہے اور اگر اس میں ثوب کی نیت کی جاتی ہے تو اور بھی زیادہ قبیح اور برا عمل ہے، جو واجب الترک ہے۔

کسی کو سفرِ حج میں رخصت کرنے کے لیے بہت عورتیں بھی جمع ہو جاتی ہیں، جو بالکل خلافِ شرع اور سخت منع ہے اور غضب یہ ہے کہ بعض تو مستقل دعوت دے کر مجمع بناتے ہیں، جو کہ ریا و نمود کی دلیل ہے، ان سب کو ترک کرنا چاہیے۔

بعض عورتیں حجَّن بننے کی ایسی شوقین ہوتی ہیں کہ سفرِ حج کے لیے کوئی محرم ساتھ ہو یا نہ ہو، بس حج کے لیے ضرور جانا ہے، حالاں کہ حج فرض ہونے کے لیے جہاں اور شرائط ہیں، عورت کے لیے ایک شرط شوہر یا کسی محرم کا سفر میں ساتھ ہونا بھی ہے۔

مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

متعلقہ

Close