عباداتمذہب

حج مبرور کیا ہے؟

ڈاکٹر محمد اسلم مبارک پوری

حج ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔ قرآن واحادیث میں اس کی بڑی فضیلت ہے، بالخصوص احادیث شریفہ میں حج مبرور کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ حج مبرور وہ حج ہے جس میں شہوانی باتیں فسق وفجور اور لڑائی جھگڑا اور معصیت نہ ہو۔ جب عام حالات میں یہ چیزیں ممنوع ہیں تو بھلا حج جیسی اہم عبادت میں کیوں نہ ممنوع ہوں ؟بلکہ حج میں اسکی ممانعت خصوصیت کے ساتھ ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے {الْحَجُّ أَشْہُرٌ مَّعْلُومَاتٌ فَمَن فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَالَ فِیْ الْحَجِّ}(البقرہ: ۱۹۷)حج کے مہینے مقرر ہیں اس لیے جو شخص ان میں حج لازم کر لے وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑا کرنے سے بچتا رہے۔

حدیث میں ہے:

من أتی ھذا البیت فلم یرفث ولم یفسق رجع کما ولدتہ أمہ (مسلم: ۱۳۵۰)

جس نے اس گھر (یعنی بیت اللہ)کا حج کیا اور اس دوران کوئی شہوانی بات نہ کی اور نہ ہی فسق(کبیرہ گناہ کا کام)کیا ‘ وہ( گناہوں سے) اس طرح پاک وصاف ہو کر پلٹتا ہے جیسے اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔

رفث اور فسوق کی تفسیر وتشریح میں مفسرین، محدثین اور ائمہ لغت کے اقوال مختلف ہیں۔

رفث کامعنی بیان کرتے ہوئے مشہور عالم لغت امام جوہری لکھتے ہیں : الرفث: الجماع، والرفث أیضاً : الفحش من القول، وکلام النساء فی الجماع (الصحاح، ص: ۴۱۷) رفث کا اصل معنی ہے: جماع کرنا یہاں مرا د فحش گوئی اور بے ہودگی اور بیوی سے زبان سے جنسی خواہش کی آرزو کرناہے۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ رفث کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

ھو الجماع، ولذلک یحرم علیہ تعاطی دواعیہ من المباشرۃ والتقبیل ونحو ذلک وکذلک التکلم بہ بحضرۃ النساء۔ (تفسیر ابن کثیر۱/۳۲۱)

رفث سے مراد مباشرت ہے، اسی طرح محرم کے لیے مباشرت کی رغبت دلانے والے سارے کام بوس وکنار وغیرہ نیز عورتوں کی موجودگی میں اس قسم کی گفتگو بھی حرام ہے۔

جائزۃ الاحوذی کے مؤلف لکھتے ہیں کہ اس سے مراد فحش گوئی ہے نیز یہ بھی کہا گیا کہ ہم بستری ہے۔ پھر علامہ ازہری کی بات نقل کی:

اسم لکل مایریدہ الرجل من المرأۃ۔

یہ لفظ ان تمام شہوت کے کاموں کو شامل ہے جس کی تکمیل شوہر بیوی سے کرنا چاہتا ہے۔ (جائزۃ الاحوذی ۲/۱۵۴)

اسی طرح فسوق کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے دو قول ذکر کیا ہے: گناہ اور گالی گلوج، پھر لکھتے ہیں :

والذین قالو: الفسوق ھھنا جمیع المعاصی، الصواب معھم۔

جن لوگوں نے کہا کہ آیت کریم میں فسوق سے مراد تمام گناہ کے کام ہیں حق ان کے ساتھ ہے۔ آگے چل کر اس سلسلہ میں امام ابن جریر کے قول کو بھی نقل کیاہے:

واختار ابن جریر ان الفسوق ھھنا ارتکاب مانھن عنہ فی الاحرام من قتل الصید وحلق الشعر وقلم الأظفار ونحو ذلک۔

امام ابن جریری  نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ اس آیت میں فسوق سے مراد محظورات احرام یعنی شکار کرنا، بال مونڈنا، نناخن کاٹنا وغیرہ ہے۔ اس کے بعد امام ابن کثیر لکھتے ہیں :  وما ذکرناہ أولی۔ میں نے جو تشریح ذکر کی ہے وہی زیادہ بہتر ہے۔ (تفسیر ابن کثیر۱/۳۲۱-۳۲۲)

جائزۃ الاحوذی کے مصنف نے لکھا:

الفسق ارتکاب شیء من المعصیہ والظاہر أن المراد نفی المعصیۃ بالقول والجوارح جمیعا۔ (جائزۃ الاحوذی:۲/۱۵۴)

اس سے مراد کسی بھی گناہ کا ارتکاب ہے یعنی بظاہر تمام قولی وفعلی گناہوں کی نفی ہے۔

دوران حج چونکہ بیوی سے ہم بستری ممنوع ہے ‘ اس لیے اس موضوع پر بیوی سے گفتگو اور دل لگی کی باتیں کرنا بھی نا پسندیدہ ہے۔ فسق سے مراد اللہ کی نافرمانی اور لوگوں سے لڑائی جھگڑا ہے۔ ایام حج میں بالخصوص ان سے اجتناب ضروری ہے۔ مذکورہ پابندیوں کے ساتھ کیے گئے حج کی فضیلت یہ ہے کہ انسان تمام گناہوں سے بالکل پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ سابقہ حدیث دلالت کرتی ہے۔

بعض علماء نے حج مبرورکا معنی حج مقبول سے کیا ہے۔ مگر مقبول مبرور کا معنی نہیں بلکہ لازم ہے یعنی جو حج ان مفاسد سے پاک ہوگا وہ حج لازماً قبول ہوگا۔ بعض نے اس سے مراد ایسا حج لیا ہے جس میں نمود اور ریا کاری نہ ہو کیوں کہ ریا ونمود اعمال کو برباد کر دیتا ہے اور ثواب سے محروم کر دیتا ہے۔

حج مبرور کی علامت یہ ہے کہ حج کرنے والاحج کے بعد پہلے سے نیک، متقی اورپرہیز گار بن جائے، ترک نمازاور کبائر کا مرتکب نہ ہو(منۃ المنعم : ۲/۳۴۱-۳۴۲) اسی لیے ایک صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج مبرورکا بدلہ جنت بتایا ہے۔ ارشاد گرامی ہے: الحج المبرور لیس لہ جزاء إلا الجنۃ(مسلم: ۱۳۴۹) حج مبرور کا بدلہ جنت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close