حضرت ابراہیم ؑکی ایمان افروز اور سبق آموزدعائیں

355

مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری

   حضرت ابراہیم ؑ کو انبیائے کرام میں بہت اونچا مقام ومرتبہ حاصل ہے ،مختلف خوبیوں اور خصوصیتوں کے آپ حامل تھے ،آپ کی سیرت اور شخصیت کے بہت سے پہلوانسانوں کے سبق آموز بھی ہیں اور ایمان افروز بھی ہیں ۔ایک ہمہ جہت شخصیت کے آپ مالک تھے ،قرآن کریم میں اللہ تعالی نے بہت سی جگہوں پر آپ کے امتیازات کو بیان کیا ،آپ کی خوبیوں کا تذکرہ کیا ،آپ کی قربانیوں کا ذکر کیا ،اور اس امت کو ملت ِ ابراہیمی کی پیروی کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی کا ہر پہلو بڑا ہے نرالی شان والا ہے ،اللہ تعالی نے آپ کو انسانیت کا امام بنایا ،آزمائشو ں اور حالات میں آپ کا امتحان لے کر اپنا ’’خلیل‘‘ قرار دیا تو یقینا آپ کی ہر چیز میں آنے والی انسانیت کے لئے سبق اور پیغام ضرور ہوگا ۔توحید اور شرک سے بے زاری ،دعوت دین کی بے چینی اور بے قراری ،ابتلاء وا ٓزمائش میں استقامت و پامردی ہر اعتبار سے آپ ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں ۔

    قرآن کریم میں آپ ؑ نے مختلف موقعوں پر جو دعائیں مانگی ہیںان کا اللہ تعالی نے بڑے اہتمام کے ساتھ بیان فرمایاہے ،دراصل آپ کی دعائیں وقتی اور عارضی نہیں تھیں بلکہ ان دعاؤں میں آنے والے انسانوں کے لئے سبق اور ہدایت ہے ،رب سے مانگنے کا طریقہ اور ہر وقت اللہ ہی سے رجوع ہونے کا ڈھنگ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی دعاؤں کے ذریعہ انسانوں کو سکھایا،اور یہ بتایا کہ انسان کی نجات اور سعادت اسی میں ہے کہ وہ ہر وقت پروردگار ِ عالم ہی طرف دست ِ دعا پھیلائے رکھے ،حالات کو بدلنے والا ،مشکلات کو آسان کرنے والا ،آزمائشوں میں کامیاب کرنے والا اللہ ہی ہے لہذا اسی سے مانگنا انسان کو زیب دیتا ہے اور وہی انسانوں کی حاجات وضروریات کی تکمیل بھی کرتا ہے حضرت ابراہیم ؑ کی اس خصوصیت کو قرآن کریم میں ذکرکیا گیا کہ:ان ابراھیم لاواہ حلیم۔( التوبۃ :114) ’’حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑی آہیں بھرنے والے ،بڑے بردبارتھے‘‘۔ایک جگہ فرمایا: ان ابراھیم لحلیم اواہ منیب۔( ھود:75)’’حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑے بُرد بار( اللہ کی یاد میں ) بڑی آہیں بھرنے والے ، اورہروقت ہم سے لولگائے ہوئے تھے۔‘‘ چناں چہ قرآن کریم میں ذکر کی گئی چند دعاؤں کا تذکرہ ذیل میں کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ جو سبق ہم کو ملتا ہے اس کو حاصل کرتے ہیں۔

والد کی ہدایت کی دعا:

    حضرت ابراہیم کے والد ’’آزر‘‘بت پرست تھے اور سیدنا ابراہیم ؑ توحید کے علمبرار اور شرک سے مکمل بے زار تھے ،آپ کو اپنے والد کی بڑی فکر تھی ،مختلف انداز سے آپ نے والد کے سامنے بتوں کی بے بسی کو پیش کیا ،بت پرستی کی مذمت کی اور توحید کی تعلیم دی ،لیکن کبھی ایسا رویہ نہیں اختیارکیا کہ جس کے والد کی شان میں بے ادبی ہو اور گستاخی تصور کی جائے ،ہمیشہ محبت اور پورے خلوص سے سمجھاتے اور آداب ِ پدری کا بھرپور لحاظ کرتے لیکن والد نے آپ کی بات کو نہیں مانا اور کہا:قال اراغب انت عن الھتیی یا ابراھیم لئن تنتہ لارجمنک واھجرنی ملیا۔(مریم:46)’’ان کے باپ نے کہا:ابراہیم ! کیا تم میرے خداؤں سے بیزار ہو؟یادرکھو ،اگر تم باز نہ آئے تو میں تم پر پتھر برساؤں گا ،اور اب تم ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجاؤ‘‘۔حضرت ابراہیم ؑ نے اس جواب میں بڑی محبت سے فرمایا: قال سلم علیک ساستغفر لک ربی  انہ کا ن بی حفیا۔( مریم :47)’’ابراہیم نے کہامیں آپ کو ( رخصت کا ) سلام کرتا ہوں ۔میں اپنے پروردگار سے آپ کی بخشش کی دعا کروں گا۔‘‘ایک جگہ ہے: واغفرلابی انہ کان من الضالین ۔( الشعراء:86)’’اور میرے باپ کی مغفرت فرما،یقینا وہ گمراہ لوگوں میں ہے ۔‘‘اولاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کی بھلائی کے لئے دعائیں کرتے رہیں ۔

اولاد کے لئے دعا:

    حضرت ابراہیم کی85 سال کی عمر ہوچکی تھی لیکن ابھی تک اولاد نصیب نہیں ہوئی،انہوں نے اللہ تعالی سے مستقل اولاد کے لئے  دعائیںمانگی تواللہ نے86سال کی عمرمیں حضرت اسماعیل ؑکی شکل میںایک نہایت حلیم وبرباداور خوبصورت بیٹاعطاکیا۔( تفسیر ابن کثیر:12/113)حضرت ابراہیم ؑ نے دعا مانگی : رب ھب لی من الصالحین  فبشرنہ بغلم حلیم ۔( الصفت:100،101)’’میرے پروردگار!مجھے ایک ایسا بیٹادیدے جو نیک لوگوں میں سے ہو ،چناں چہ ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوش خبری دی ۔‘‘اولاد کے حصول کے لئے حضرت ابراہیم ؑ مسلسل اللہ تعالی سے دعا مانگتے رہے بالآخر اللہ تعالی نے ان کی دعا کو قبول فرمایااور حضرت اسماعیل کی شکل میں ایک عظیم بیٹا عطا فرمایا ۔حضرت ابراہیم ؑ کے اس طرز ِ عمل سے یہ سبق ملا کہ انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے اور دعا کے سلسلہ کو ختم نہیں کرلینا چاہیے ۔چناں چہ جب حضرت ابراہیم ؑ کی یہ آرزو پوری ہوئی تو آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اسمعیل واسحق ،ان ربی لسمیع الدعاء۔( ابراھیم:39)’’تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق ( جیسے بیٹے) عطافرمائے۔

اولاد کی نیکی اور بھلائی کی دعا:

   اولاد یقینا اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ،لیکن اولاد کی صحیح تربیت کرنا اور ان کے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کی فکر کرنا بھی والدین کی اہم ذمہ داری ہیں ،چناں چہ حضرت ابراہیم کی زندگی میں یہ چیز بھی بہت نمایاں ہے کہ آپ اللہ تعالی سے ہر وقت اپنی اولاد کی نیکی اور دینداری کی دعائیں مانگتے تھے ،راہ ِ راست پر قائم رہنے اور دین اسلام پر مرنے کی التجائیں کرتے تھے ،اپنے ساتھ ہمیشہ اپنی اولاد کی نیکی کی اور بھلائی کی دعائیں کرتے ۔چناں چہ آپ کی دعا ہے:واذقال ابراھیم رب اجعل ھذالبلد اٰمناواجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام  رب انھن اضللن کثیرا من الناس فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم ۔( 35،36)’’اور یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم نے ( اللہ تعالی سے دعاکرتے ہوئے ) کہا تھا کہ : یارب !اس شہر کوپرُ امن بنادیجیے،اور مجھے اور میرے بیٹوں کو اس بات سے بچائیے کہ ہم بتوں کی پرستش کریں ۔میرے پروردگار!ان بتوں نے لوگوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کیا ہے ۔لہذا جو کوئی میری راہ پر چلے ،وہ تو میرا ہے ،اور جو میرا کہنا نہ مانے ،تو (اس کا معاملہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں )آپ بہت بخشنے والے بڑے مہربان ہیں ۔‘‘ایک دعا یہ ہے :رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی ربنا وتقبل دعا ربنا اغفرلی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب۔(ابراھیم:40،41)’’یارب !مجھے بھی نماز قائم کرنے والا بنادیجئے،اورمیری اولاد میں سے بھی ( ایسے لوگ پیدا فرمادیجئے جو نماز قائم کریں) اے ہمارا پروردگار!اور میری دعا قبول کرلیجیے۔اے ہمارے پروردگار!جس دن حساب قائم ہوگا ،اس دن میری بھی مغفرت فرمائیے ،میرے والدین کی بھی ،اور ان سب کی جو بھی ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

امن وامان اور رزق کی دعا:

    حضرت ابراہیم ؑ کی دعاؤں میں بڑی جامعیت اور ہمہ گیریت ہے ،آپ ؑ نے اللہ تعالی سے انسانوں کے ظاہر وباطن دونوں کے حق میں دعائیں مختلف موقعوں پر فرمائی ہے ،چناں چہ آپ نے جہاں خانہ کعبہ تعمیر کیا اس سرزمین کے حق میں وہاں کے رہنے والوں کے لئے امن وامان کی دعا مانگی اور وہاں کے لوگوں کے لئے رزق کا انتظام کرنے کی بھی دعائیں مانگی ۔حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا:واذقال ابراھیم رب اجعل ھذا بلدا امنا ورزق اھلہ من الثمرات من امنھم باللہ والیوم الاخر ۔( البقرۃ :126)’’اور جب ابراہیم نے کہاتھا کہ :اے میرے پروردگار!اس کو ایک پرامن شہر بنادیجیے ،اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور یوم ِ آخرت پر ایمان لائیں انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمائیے‘‘۔حضرت ہاجرہ ؓ اور شیرخوار حضرت اسماعیل کو جب اللہ کے حکم پر مکہ کی غیر آباد اور سنسان زمین پر حضرت ابراہیم ؑ چھوڑکر جانے لگے تو اس وقت جہاں اپنی اولاد کی نیکی کی دعا فرمائی وہیں اس سرزمین کوآباد کرنے کی بھی دعا کی۔چناں چہ فرمایا:ربناانی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ربنا لیقیموا الصلوۃ فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم وارزقھم من الثمرت لعلم یشکرون۔( ابراھیم:37)’’اے ہمارے پروردگار!میں نے اپنی کچھ اولاد کو آپ کے حرمت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں لابسایاہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی ،ہمارے پروردگار!( یہ میں نے اس لئے کیا ) تاکہ یہ نماز قائم کریں ،لہذا لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے کشش پیدا کردیجئے،اور ان کو پھلوں کا رزق عطافرمائیے ،تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔‘‘چناں چہ حضرت ابراہیم ؑ کی دعاؤں کا اثر ہے کہ مکہ مکرمہ شہر امن وامان ہیں جہاں انسان کے ساتھ جانوروں کو بھی امن ملا اور لوگوں نے زمانہ ٔ جاہلیت میں اس کے امن وامان کو برقرار رکھا اور آج بھی مکہ مکرمہ امن کا گہواہ ہے ،اور اس سرزمین کو یہ بھی اعجاز حاصل ہے کہ ابراہیمی دعاؤں کے نتیجہ میں یہاں ہر قسم کے پھل اور میوہ انسانوں کو دست یاب رہتے ہیں ،دنیا کے مختلف علاقوں اور ملکوں سے آنے والے انسان اپنی اپنی ضرورت کے مطابق غذا کو اچھے انداز میں پاتے ہیں کبھی کسی کو شکایت نہیں ہوتی ،حج کے موقع پر لاکھوں کا مجمع ہر طرح کی غذائیں ضرورتوں کے ساتھ اپنے اعمال وارکان کو انجام دیتا ہے ،یہ سب حضرت ابراہیم کی دعاؤں کا اثر ہے۔

قبولیت ِ اعمال کی دعا:

   حضرت ابراہیم ؑ سے اللہ تعالی نے بڑے بڑے کام کروائے اور حضرت ابراہیم ؑنے محبت اور فنائیت میں اللہ کے ہر حکم کو اور اس کی ہر مرضی کو پورا کیا ،پے درپے امتحانات کے سلسلہ کے بعد اللہ تعالی نے رہتی دنیا تک کے لئے ایک مرکز رشدہ وہدایت اور منبع انوار وبرکت یعنی بیت اللہ کو تعمیر کرنے کا حکم دیا، جس کے بارے میںقرآن کریم میں فرمایا گیا:ان اول بیت وضع للنا س للذی ببکۃ مبرکا وھد ی للعلمین فیہ اٰیٰت بینت مقام ابراھیم ومن دخلہ کان اٰمنا وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا ومن کفر فان اللہ غنی عن العلمین۔( اٰل عمران :97)’’حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں ( کی عبادت) کے لئے بنایاگیا یقینی طور پر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے ( اور) بنانے کے وقت ہی سے برکتوں والا اور دنیاجہاں کے لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان ہے ۔اس میں روشن نشانیاں ہیں ،مقام ابراہیم ہے ،اور جو اس میں داخل ہوتا ہے امن پاتا ہے ۔اورلوگوں میں جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لئے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے ۔اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ دنیا جہاں کے تمام لوگوں سے بے نیاز ہے۔‘‘چناں چہ اس عظیم گھر کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم کو یہ فکر لاحق تھی کہ اللہ تعالی اس عظیم خدمت کو قبول فرمالے اور بیت اللہ کی تعمیر کو اپنی بارگاہ میں مقبول بنالے ، چناں چہ آپ کی اس فکر مندی کا ذکر اللہ تعالی کی فرمایا:واذ یرفع ابراھیم القواعد من البیت واسمعیل ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم ۔( البقرۃ:127)’’اور اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیا دیں اٹھارہے تھے ،اور اسماعیل بھی ( ان کے ساتھ شریک تھے اور دونوں یہ کہتے جاتے تھے کہ ) اے ہمارے پروردگار! ہم سے ( یہ خدمت ) قبول فرمالے ۔بیشک تو اور صرف تو ہی ہر ایک کی سننے والا،ہر ایک کو جاننے والا ہے۔‘‘حضرت ابراہیم ؑ کے اس عمل نے بتایا کہ انسان کبھی اپنے کسی عمل پر بھروسہ نہ کریں بلکہ بڑے سے بڑا عمل انجام دینے کے بعد بھی قبولیت کی فکر اس پر سوار ہونی چاہیے اور وہ اس کے لئے مسلسل اللہ تعالی سے مانگتا رہے۔

اطاعت و فرماں برداری کی دعا:

    حضرت ابراہیم ؑ کی ذات گرامی بڑی عجیب تھی ،محبت الہی میں ہمیشہ سرشار رہنے والے ،اشارہ ٔ خدا ملا کہ فوری پورا کرنے کے لئے بے تاب و بے چین رہنے والے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہروقت اللہ تعالی سے یہ بھی دعا کرتے کہ اے اللہ مجھے اپنے اطاعت گزار بندوں میں شامل فرما،ہر موقع پر یہی تمنا ان کے مبارک لبوں پر دعا بن کر آتی کہ میں اور میری نسلیں آپ کی فرماں بردار رہیں ۔چناں چہ بیت اللہ کی تعمیرکے موقع پر ہی آپ نے یہ دعا بھی مانگی:ربناواجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک وارنا مناسکنا وتب علینا  انک انت التواب الرحیم ۔ ( البقرۃ :128)’’اے ہمارے پروردگار!ہم دونوں کو اپنا مکمل فرماں بردار بنالے ،اور ہماری نسل سے بھی ایسی امت پیدا کر جو تیری پوری تابع دار ہو۔اور ہم کو ہماری عبادتوں کے طریقے سکھادے ،اور ہماری توبہ قبول فرمالے ۔بیشک تواور صرف تو ہی تو معاف کردینے کا خوگر( اور) بڑی رحمت کا مالک ہے‘‘آگے کی چند آیتوں بعد اللہ نے فرمایا:اذقال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العلمین ۔( البقرۃ:131)’’جب ان کے پروردگار نے ان سے کہاکہ :سر ِ تسلیم خم کردو!تو وہ ( فورا) بولے: میں نے رب العالمین کے ( ہر حکم کے ) آگے سرجھکادیا۔‘‘

 سید البشر ﷺ کے لئے دعا کرنا:

    حضرت ابراہیم ؑکے خاندان کو اللہ تعالی نے نبوت ورسالت کورکھا ،حضرت ابراہیم ؑکی قربانیوں کی بدولت انبیاء کرام کو آپ کے خاندان میں مبعوث فرمایا،قرآن کریم میں فرمایا:وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب واتینہ اجرہ فی الدنیا  وانہ فی الاخرۃ لمن الصالحین۔(ا لعنکبوت:27)’’اورہم نے ان کی اولاد میں نبوت او رکتاب کا سلسلہ جاری رکھا ،اور ان کا اجرہم نے انہیں دنیا میں ( بھی) دیا اور یقینا آخرت میں ان کا شمار صالحین میں ہوگا۔‘‘انبیاء کرام کی بڑی تعداد کا تعلق حضرت ابراہیم ؑاور ان کی اولاد سے ہے ،لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی یہ آروز وتمنا تھی کہ نبی آخر الزمان سید الرسل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی کے خاندان اور نسل سے ہوں ،چناں چہ اس کے لئے آپ نے جب بیت اللہ کی تعمیر فرمائی ،یہ وقت چوں کہ بڑی اہمیت کا حامل تھا ،اس کائنات میں خدا کاپہلا گھر انسانوںکے لئے رب اطاعت وبندگی کے لئے تعمیر کیا گیا تھا ،اس حسا س اور اہم موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اور کریم پروردگار کی الطاف وعنایات کو سامنے رکھ کر آپ نے دعاکی:ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلوا علیھم اٰیتک ویعلمھم الکتب والحکمۃ ویزکیھم  انک انت العزیز الحکیم۔( البقرۃ:129)’’ہمارے پروردگار !ان میں ایک ایسا رسول بھی بھیجنا جو انہی میں سے ہو،جو ان کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے ،انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے ،اور ان کو پاکیزہ بنائے ،بیشک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے ،جس کی حکمت بھی کامل ۔‘‘جس نبی کی آپ کی تمنا کی تھی اس سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہے ۔( تفسیر ابن کثیر:2/92)نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ : میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا کا نتیجہ ہوں ۔(مسند ابو داؤدطیالسی:1224)حضرت ابراہیم نے کائنات کی سب سے عظیم ترین ہستی کو اپنے خاندان میں مانگ لیا ،اورہمیشہ کے لئے سعادت کو حاصل کرلیا ۔

دنیا وآخرت کی سعادت کی دعا:

   حضرت ابراہیم ؑ کی اور بھی مختلف دعائیں ہیں جو آپ نے موقعوں کی مناسبت سے مانگی لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ وہ دعائیں اگر ہمارے وردِ زبان ہوجائیں تو پھر سعادت کاحصول آسان ہوگا۔حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ تعالی سے علم وحکمت کو بھی مانگا،نیک لوگوں میں بنانے کی التجا بھی کی اور آنے والوں انسانوں کی زبانوں پر ذکر ِ خیر کو جاری کرنے کی تمنا بھی ظاہر کی ۔آج سے ہزاروں سال گزرنے جانے کے بعد بھی حضرت ابراہیم کے تذکرے ایمان ویقین کی مضبوطی کا باعث ہیں ،اور دل میں آپ کی عظمتوں کو موجزن کردیتے ہیں ،اس میں آپ کی اس دعا کا بھی اثر ہے جس میں آپ نے اللہ تعالی درخواست کی تھی کہ آنے والوں میں میرا ذکرِ خیر جاری رکھیے۔چناں حضرت ابراہیم نے فرمایا: رب ھب لی حکما والحقنی بالصلحین واجعل لی لسان صدق فی الاخرین واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم واغفرلی لابی انہ کان من الضالین ولا تخزنی یوم یبعثون یوم لاینفع مال ولابنون الا من اتی اللہ بقلب سلیم۔( الشعراء:83،89)’’میرے پروردگار!مجھے حکمت عطا فرما،اور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرمالے ،اور آنے والی نسلوں میں میرے لئے وہ زبانیں پیدا فرمادے جو میرسچائی کی گواہی دیں ،اور مجھے ان لوگوں میں سے بنادے جو نعمتوں والی جنت کے وارث ہوں گے،اور میرے باپ کی مغفرت فرما ،یقینا وہ گمراہ لوگوں میںسے ہے ۔اور اس دن مجھے رسوا نہ کر جس دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ،جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا ،نہ اولاد،ہاں جوشخص اللہ کے پاس سلامتی والا دل کے کر آئے گا( اس کو نجات ملے گی)۔حضرت ابراہیم ؑ نے ان دعاؤں میں دنیا و آخرت کے خیر کو جمع کردیا اور اللہ تعالی سے دو جہاں کی سعاد ت کو مانگ لیا۔( التفسیر المنیر:10/190)

سبق اور پیغام:

    بہت اختصار کے ساتھ حضرت ابراہیم ؑ کی مانگی ہوئی چند دعاؤں کاتذکرہ کیا گیا ،یہ دعائیں ہمیں بہت سی باتوں کا پیغام دیتی ہیں ،اللہ کے نہایت مقبول اور محبوب بندے اور خلیل و دوست ہونے کے باوجود حضرت ابراہیم کی عاجزانہ دعائیں انسانوں کو ہمیشہ اللہ تعالی ہی طرف رجوع کرنے اور اسی کے سامنے دامن کو پھیلانے کا سبق دیتی ہیں ۔انسان کو اللہ سے مانگنے میں کنجوسی اور بخالت سے کام نہیں لینا چاہیے وہ اللہ سے دین ودنیا کی ہر بلندی ،عزت ،نیک نامی اور ترقی مانگ سکتا ہے ،اعمال صالحہ کو انجام دینے میں اسی سے توفیق طلب کرنا اور توفیق کے ملنے پر اعمال کے قبول کئے جانے کی دعائیں کرتے رہنا بھی اسوہ ٔ ابراہیمی ہے ۔حضرت ابراہیم ؑ نے محبت ِ الہی میں بڑی سخت امتحانات دئیے اور ان موقعوں پر بڑی عظیم نعمتیں بھی اللہ سے مانگی ،اس لئے کہ اللہ تعالی اہل ِ ایثار وقربانی کی دعاؤں کو رائیگاں جانے نہیں دیتا بلکہ جو بندہ اللہ کے لئے خود کو کھپادیتا ہے وہ پھر اللہ سے جو مانگتا ہے اللہ اسے ضرور دیتا ہے ۔ایک انسان کے دین کی خوش نصیبی اور آخرت کی کامیابی کے لئے جو دعائیں ہوسکتی ہیں حضرت ابراہیم ؑ نے مانگ ہمیں بھی تلقین فرمائی کہ اس طرح ایک بندہ کا تعلق اپنے رب سے ہونا چاہیے۔

تبصرے