عباداتمذہب

دنبے یابکری کی واجب قربانی میں شرکت کاحکم ؟

عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ

قربانی ہرصاحب نصاب پر واجب ہے حدیث شریف میں ہےکہ "جس کو وسعت ہو اور وہ اس کے باوجود قربانی نہ کرے، تو ہمارے مصلی(عیدگاہ) کے قریب بھی نہ آئے”(ابن ماجہ)، پتہ چلا کہ اگر گھر میں ایک سے زائد صاحب نصاب ہوں تو ہرشخص پر قربانی واجب ہے؛جس طرح  ہرفرض عبادت کامعاملہ ہےکہ کسی ایک کے ادا کرلینے سے ذمہ ساقط نہیں ہوتا ۔

باتفاق فقہاء صرف تین قسم کے جانوروں کی قربانی ہی درست ہے۔ (1) بھیڑ، بکری نر و مادہ (2) اونٹ نر ومادہ (3) گائے، بھینس نرومادہ۔

بڑے جانوروں کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی، اور بھیڑبکری میں صرف ایک آدمی شریک ہوسکتا ہے،چناں چہ واجب قربانی کے لئے بکری یادنبہ ایک سے زائد افراد کی جانب سےکافی  نہیں ہوگا،جیساکہ معروف مفسر و فقیہ ،علامہ وہبہ زحیلی نے اس مسئلہ میں فقہاءکرام کا اتفاق نقل کیا ہے کہ بکرے وغیر ہ کی قربانی صرف ایک ہی فرد کی جانب سے جائز ہے ؛چناں چہ ارقام فرماتے ہیں : اتفق الفقہا ء علی ان الشاۃ والمعز لا تجوز اضحیتھما الا عن واحد (الفقہ الاسلامی وادلتہ،ج4،ص2724)

یعنی فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بکری اور بھیڑکی قربانی صرف ایک شخص کی جانب سے جائز ہے (پورے گھرانے کی طرف سے کافی نہیں ہے )۔

 سنن ابن ماجہ شریف میں حدیث پاک مذکور ہے:

عن ابن عباس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتاه رجل فقال ان علی بدنة وانا موسر بها ولااجدها فاشتریها فامره النبی صلی اللہ علیه وسلم ان یبتاع سبع شیاه فیذبحهن۔

  ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک صاحب حاضر ہوئے اور عرض کیا: (سات افراد کی طرف سے قربانی کرنے کے لئے) میرے ذمہ ایک اونٹ ہے، میں اس کی استطاعت رکھتا ہوں جب کہ مجھے خریدنے کے لئے اونٹ نہیں مل رہے ہیں ؟ تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ سات بکریاں خریدیں اور انہیں ذبح کریں ۔ ( سنن ابن ماجہ ،کتاب الاضاحی ، باب کم یجزی من الغنم عن البدنۃ)

   اگر بکری کی قربانی سات افراد کی جانب سے جائز ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشادفرماتے کہ سات افراد کی جانب سے قربانی کے لئے اونٹ نہیں مل رہا ہو تو ایک بکری خریدکر سات افراد کی جانب سے قربانی کے لئے ذبح کردو، لیکن حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم نہیں فرمایا بلکہ سات بکریاں خریدکر ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔

  اسی طرح صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے : وامر ابوموسی بناته ان یضحین بایدیهن۔

ترجمہ : حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادیوں کو اُن کے ہاتھوں سے ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔ (صحیح بخاری، کتاب الاضاحی ، باب من ذبح ضحیۃ غیرہ )

نیز حضرت فاطمہ الزھراء رضی اللہ عنھا سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یافاطمة قومی فاشهدی اضحیتک ۔ ۔ ۔ ۔

ترجمہ : اے فاطمہ ! اٹھو اور اپنی قربانی کے موقع پر موجود رہو۔ (سنن البیہقی ، کتاب الضحایا ، باب مایستحب للمرء من ان یتولی ذبح نسکہ او یشھدہ ، حدیث نمبر19636)

حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جانب سے ایک دنبہ کی قربانی کیا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی ، حدیث نمبر1574)

  اگر ایک بکری تمام گھروالوں کے لئے کافی ہوجاتی تو حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادیوں کو علیحدہ علیحدہ قربانی کرنے کا حکم نہ فرماتے اور حضرت فاطمہ الزھراء کو حضرت علی رضی اللہ علیہ کی قربانی کے علاوہ قربانی کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔

جابر بن عبد الله يقول نحر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسائه. وفي حديث ابن بكر عن عائشة بقرة في حجته.(رواہ مسلم برقم:3254)

ترجمہ : حضرت جابرؓ سے مروی ہےکہ آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کی جانب سے بھی قربانی فرمائی۔

نیز بکری میں گائے اور اونٹ کی طرح اگر شرکت کی گنجائش ہوتی تو جس طرح گائے اور اونٹ کے بارے میں ارشاد مبارک ہے:

البقرة عن سبعة والجزور عن سبعة۔

  ترجمہ: گائے سات افراد کی جانب سے ہے اور اونٹ سات اشخاص کی جانب سے ہے۔ (سنن ابوداؤد شریف ،کتاب الضحایا،باب البقروالجزورعن کم تجزی ،حدیث نمبر2810)

اسی طرح بکری کے بارے میں بھی ارشاد مبارک ہوتا کہ بکری سات افراد کی جانب سے ہے، لیکن کتب حدیث میں ایسی کوئی روایت نظر سے نہیں گزری کہ جس میں یہ ارشاد فرمایاہوکہ ایک بکری سات افراد کی طرف سے قربانی کرسکتے ہیں ۔

اس کے برعکس حضرت جابر رضى الله تعالى عنه کی یہ حدیث ہے: نحرنا مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بالحدیبیة البدنة عن سبعة والبقر عن سبعة. (نصب الرایہ جلد4، صفحہ 209، موطا مالک مع اوجز جلد4، صفحہ 302) اس میں چونکہ ”بدنة“ یعنی اونٹ اور ”بقرة“ یعنی گائے اور بھینس کو ہی سات آدمیوں کے لیے کافی قرار دیاگیا ہے نہ کہ بکرےاوردنبے وغیرہ کو اس لیے انہی جانوروں میں سات افراد کی شرکت جائزہوسکتی ہے نہ کہ بکرے میں ۔

  اب رہی وہ روایت جس میں مذکور ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کرام کی طرف سے ایک دنبہ اور اپنی امت کی طرف سے ایک دنبہ ذبح فرمایا تو دراصل یہاں قربانی کے ثواب میں اُنہیں شریک فرمالینامرادہے؛جیسا کہ سنن ابن ماجہ شریف میں حدیث پاک ہے: عن عائشۃ و عن ابی هریرة ان رسول الله صلی الله علیه وسلم کان اذا اراد ان یضحی اشتری کبشین عظیمین سمینین اقرنین املحین موجواین فذبح احدهما عن امته لمن شهد لله بالتوحید و شهد له بالبلاغ و ذبح الاٰخر عن محمد و عن اٰل محمد صلی اللہ علیه وسلم۔

  ترجمہ: سیدتنا عائشہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرنے کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، فربہ، سینگ والے، چتکبرے، خصی مینڈھے خریدتے اُن میں سے ایک اپنی امت کی جانب سے ان لوگوں کے لئے ذبح فرماتے جنہوں نے اللہ کے لئے توحید کی گواہی دی اور آپ کے لئے تبلیغ رسالت کی گواہی دی اور دوسرا خود اپنی جانب سے اور اپنی اٰل پاک کی جانب سے ذبح فرماتے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب الاضاحی ،باب اضاحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،  حدیث نمبر3113)

  اس روایت سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اس سے قربانی کے اجروثواب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اٰل پاک کو شریک فرمالیا،چنانچہ اس کا مفہوم بیان کرتے ہوئے محشی سنن ابن ماجہ صاحب انجاح الحاجۃ نے لکھا: وتاویل حدیث الباب انه صلی اللہ علیه و سلم اراد اشتراک جمیع امته فی الثواب تفضلا منه علی امته۔

ترجمہ:تمام امت کی جانب سے ایک دنبہ ذبح فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر کرم فرماتے ہوئے تمام امت کو ثواب میں شریک فرمایا۔ (انجاح الحاجۃ شرح سنن ابن ماجہ،ص226)

لہذا فقہ حنفی ؛بل کہ جمہور ائمہ کے مطابق واجب قربانی میں ایک بکری ایک ہی شخص کی جانب سےکافی ہوگی،البتہ بعض ائمہ کےنزدیک کچھ تفصیل کے ساتھ اس کی گنجائش ہے ۔

  جامع ترمذی میں حدیث پاک ہے :

حدثنی عمارة بن عبد الله قال سمعت عطاء بن یسار یقول سألت أبا أیوب الأنصاری کیف کانت الضحایا علی عهد رسول اللہ -صلی اللہ علیه وسلم- فقال کان الرجل یضحی بالشاة عنه وعن أهل بیته فیأکلون ویطعمون حتی تباهی الناس فصارت کما تری.

 ترجمہ : عمارہ بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عطاء بن یسار کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قربانیاں کیسی ہوتی تھیں ؟ تو اُنہوں نے فرمایا: مرد اپنی جانب سے اور اپنے گھر والوں کی جانب سے بکری کی قربانی کرتا تھا تو وہ سب کھاتے اور کھلاتے تھے یہاں تک کہ لوگ فخر کرنے لگے پھر بات ایسی ہوگئی جو تم دیکھ رہے ہو۔ (جامع ترمذی ، ابواب الاضاحی ، باب ماجاء ان الشاۃ الواحدۃ تجزی عن اھل البیت ، حدیث نمبر: 1587)

    علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ علیہ نے بنایہ شرح ہدایہ میں لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک بکری کی قربانی کئی لوگوں کی طرف سے ہوتی تھی ؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی قربانی کرتا اور اس کا ثواب اپنے گھر والوں کو ہبہ کرتا تھا۔

هذا لایدل علی وقوعه من الجماعة بل معناه انه کان یضحی ویجعل ثوابه هبۃ لاھل بیته۔ (البنایۃ شرح الھدایۃ ، کتاب الاضحیۃ،من تجزی عنہ الاضحیۃ وحکم الاشتراک فی الاضحیۃ)

ان تمام دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بکری کی قربانی کے ثواب میں ایک سے زائد بلکہ سات سے زائد جتنے افراد کو شریک کرنا چاہیں درست ہے،لیکن ہر صاحب نصاب کو اپنی طرف سے مستقل قربانی دینی ضروری ہے اور واجب قربانی کرنے کی صورت میں ایک بکری ایک ہی شخص کی طرف سے ہوگی ایک سے زیادہ کی جانب سے نہیں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے رقم فرمایا:

واجمعوا علی ان الشاۃ لا یجوز الاشتراک فیها۔

 ترجمہ: علماء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ بکری کی قربانی میں شرکت درست نہیں ۔ (شرح مسلم للنووی ج 1،کتاب الحج باب الاشتراک فی الہدی وإجزاء البقرۃ والبدنۃ کل منہما عن سبعۃ،ص424) نیز انجاح الحاجۃ حاشیۂ سنن ابن ماجہ ابواب الاضاحی ص226 میں بھی اسی طرح کی عبارت مذکور ہے۔واللہ اعلم بالصواب.

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Close