عباداتمذہب

رمضان: اسراف اور فضول خرچی

رمضان المبارک میں اسراف یوں کر ہوتا ہے کہ ضرورت سے زائد کھانے تیار کئے جاتے ہیں ، رمضان المبارک میں مطعومات اور مشروبات کی بھرمار ہوتی ہے، انواع واقسام کے کھانے اور مشروبات تیار ہوتے ہیں

 مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

اسراف کہتے ہیں کسی بھی چیز کے استعمال اور اس میں انہماک میں مبالغہ آرائی سے کام لینا، بلا ضرورت اور حاجت کسی بھی چیز کو صرف کرنا، بلا موقع ومحل کے کسی بھی چیز کا بے محابا اور بے تحاشا استعمال، ا یہ نہایت مذموم عمل ہے، اللہ عزوجل نے اسراف اور زیادتی کو گذشتہ گم کردہ راہ امتوں کا وصف بتلایا ہے، ارشاد باری عزوجل ہے :

’وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْن’‘‘ (الانعام: ۱۴۱) فضول خرچی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔

اسراف اور مبالغہ آرائی  ایسی قوم کا وصف ہوسکتا ہے جو اللہ عزوجل کی نعمتوں کی قدر دانی نہیں کرتے، اس کا بے بے دریغ، مسرفانہ استعمال کرتے ہیں ، اللہ عزو جل کا ارشاد گرامی ہے : ’’إِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا إِخْوَانَ الشَّیَاطِیْنِ وَکَانَ الشَّیْْطَانُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا‘‘(الإسراء:۲۷)(بلاشبہ مالوں کو بے جا اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے)اسراف کا یہ عمل دیگر مواقع سے ممنوع ہے، اسی طرح رمضان المبارک کے مہینے میں اسراف جیسے مذموم عمل سے بچنا کا اہتمام کریں ، جس طرح رمضان میں نیکی کا اجر بڑھایا جاتا ہے، اسی طرح گناہ کا عذاب اور عقاب بھی دو چند کردیا جاتاہے۔

رمضان میں اسراف :

۱۔       رمضان المبارک میں اسراف یوں کر ہوتا ہے کہ ضرورت سے زائد کھانے تیار کئے جاتے ہیں ، رمضان المبارک میں مطعومات اور مشروبات کی بھرمار ہوتی ہے، انواع واقسام کے کھانے اور مشروبات تیار ہوتے ہیں ، ہر قسم کی لذت کام ودہن والی اشیاء سحر وافکار میں تیار ہوتی ہیں ، پھر ان اشیاء کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ضیاع اور نقصان کے نذر ہوجاتی ہیں ۔

اس طرح کے اسراف اور فضول خرچی سے احتراز ضروری ہے ؛ اس لئے کہ سماج اور معاشرے میں بہت سارے فقراء ومساکین اور محتاج ہیں ، جو اپنی حاجت اور ضرورت سے زائد اشیاء ہیں ان سے ان محتاج اور فقراء کو افطار کروائیں یہ ذخیرۂ آخرت ہوگا، اللہ عزوجل نے اپنے نیک بندوں کی یہ صفت بیان فرمائی ہے : ’’وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَیَتِیْمًا وَأَسِیْرًا  إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَائً  وَلَا شُکُوْرًا،  إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا یَوْماً عَبُوساً قَمْطَرِیْرا‘‘( الانسان : ۸۔۱۰)(وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین یتیم اور قیدی کو، (اور وہ دل میں یا زبان  سے کہتے ہیں کہ)ہم تو تمہیں محض اللہ کے لئے کھلا رہے ہیں تم سے نہ کوئی بدلہ لینا چاہتے ہیں نہ کوئی شکریہ، ہمیں تو اپنے رب سے ایک ایسے دن کا سخت ڈر لگا رہتا ہے جو بڑا ہی ہولناک اور تلخ دن ہوگا )

اور صحیح حدیث میں مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا؟” بندہ عرض کرے گا کہ اے میرے رب! میں کھانا کس طرح کھلاتا تو تو دونوں جہانوں کا پروردگار ہے (اور کسی چیز کا محتاج نہیں ہے) اللہ تعالی فرمائے گا کیا تجھے یاد نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندہ نے کھانا مانگا تھا اور تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا تھا۔ کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اسے ((یعنی اس کے ثواب کو)میرے پاس پاتا۔ ‘‘ (مسلم : باب فضل عیادۃ المریض، حدیث: ۹۶۵۲)

۲۔رمضان المبارک میں اسراف کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ ضرورت اور حاجت سے زائد سویا جاتا ہے، خصوصا پورا دن نیند کے نذر ہوجاتا ہے، بلکہ بعض روزہ داروں نے تو اپنے دن کو غفلت اور گہری نیند کے نذر کیا ہواہوتا ہے، عجیب تر یہ کہ راتیں بے جا قیل وقال میں جاگ لیتے ہیں ، بعض لوگ راتوں کو حرام اور مکروہ امور جو غضب رب کو دعوت دیتی ہیں صرف کردیتے ہیں ۔

۳۔رمضان میں اسرف اور فضول خرچی کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ عید الفطر کی تیاری میں بھی نہایت اسراف سے کام لیا جاتا ہے، چادر سے زیادہ ٹانگ لمبے کئے جاتے ہیں ، کپڑے، زیب وزینت، موج ومستی کے اشیاء کی خریداری میں بے جا خرچ کیا جاتا ہے ؛ بلکہ بعض لوگ صرف اپنے کام ودہن کی لذت اورزیب وزینت کے غیر ضروری امور میں لاکھوں لاکھوں روپیئے اڑا دیتے ہیں ، انہیں سے جب کار خیر، نیکی کے امور میں خرچ کرنے کے لئے کہاجاتا ہے تو بخل اور کنجوسی سے کام لیتے ہیں ۔

جن کے یہاں مال ہے، دولت ہے، انہیں معاشرے میں موجود یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں مسکینوں اور پاس وپڑوس کے محتاجین وفقراء کا خیال کرنا چاہئے، غریب کو کھانا کھلائیں ، ننگے کو کپڑے پہنائیں ، مسجد کی تعمیراور آبادی  میں حصہ لیں ، صلہ رحمی کریں ، مصیبت زدہ افراد کی مصائب کو ختم کرنے کا سامان کریں ۔

۴۔رمضان میں اسراف کی ایک شکل یہ ہوتی ہے کہ بلاوجہ میل میلاپ اور لوگوں سے بلامقصد اختلاط بکثرت ہوا کرتا ہے، جس میں وقت کا یوں ہی ضیاع اور نقصان ہوتا ہے، خصوصا رمضان کے اوقات اور گھڑیوں کا یہ ضیاع روز قیامت حسرت وندامت کا باعث ہوگا ’’یَا حَسْرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطْنَا فِیْہَا‘‘ ( الأنعام : ۳۱) (یقینا خسارے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی ملاقات کو، یہاں تک کہ جب آجائیگی ان  کے پاس قیامت اچانک تو کہیں گے ہائے ہمارا افسوس اس پر جو ہم نے کوتاہی کی اس معاملے میں اور وہ اٹھائے ہوئے ہونگے اپنے  گناہوں کے بوجھ اپنی پیٹھوں پر، خبردار! برا ہے جو وہ بوجھ اٹھار ہے ہیں ۔ )

۵۔رمضان میں اسراف کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ دن گذار ی کے لئے خصوصا نوجوان کرکٹ، والی بال، یا جسمانی ورزش اور سیر وتفریح میں مصروف ہوجاتے ہیں ، یہ رمضان تو عبادت، ریاضت، مجاہدہ، ذکر وتلاوت، بھلائی کے حکم، برائی سے روکنے جیسے اعمال کے لئے ہے، اس طرح وقت کے ضیاع کا نقصان روز قیامت نظر آئے گا۔

خلاصہ یہ ہے کہ رمضان المبارک کے ایک ایک ساعت اور گھڑی کو قیمتی بنائیں ، بیکاری اور بیہودگی اور لایعنی میں اس کے اوقات کو صرف نہ کریں ، بے جا کھیل، لا یعنی نیند، یا سامان عید کی خریداری، یا خریدداری میں میں بھی اسراف اور فضول خرچی اور رمضان کے کھانوں اور سحروافطاری کی تیاری میں اوقات کا ضیاع، یا حد سے زیادہ افطار وسحر کے نظم کے ذریعہ سحری وافطاری کا ضیاع نہ کریں ، اوقات کو ضیاع سے بچا کر اپنے آخرت کا سامان کریں اور سامان اور کھانے اور پینے اور کپڑے وغیرہ میں ضیاع سے بچا کر غریبوں کے لئے ان کی ضروریات کی فراہمی کاسامان کریں ، اس طرح اپنے لئے ذخیرہ آخرت کریں ، چونکہ ارشاد باری عزوجل ہے ’’وما عندکم ینفد وما عند اللہ باق‘‘ (النحل : ۹۶) جو کچھ تم نے کھالیا، پہن لیا اسے ختم کردیا اور جو تم نے اللہ کی راہ میں دیا وہ اللہ عزوجل کے یہاں محفوظ ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close