عباداتمذہب

رمضان المبارک اور معمولات نبویؐ

جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے یا کسی غازی کے لیےسامان جہاد فراہم کرکے دے تو اس کو ویسا ہی اجر ملےگا جیسا کہ اس روزہ دار کو روزہ رکھنے اور غازی کو جہاد کرنے کا ملے گا۔

مولانا محب اللہ قاسمی

ماہ رمضان المبارک اپنے ساتھ بے شمار فضائل و برکات لیے ہوئے ہر سال ہم پر سایہ فگن ہوتا ہے۔ مگر اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھاپاتے ہیں جو اپنے معمولات زندگی میں تبدیلی لانے کے خواہش مند ہوتے ہیں یا جو پیارے رسول حضرت محمد  ﷺ کی حیات طیبہ اور معمولات کواپنی زندگی میں جاری کرنے  کے خواہاں ہوتے ہیں۔ نبی ؐ کی پوری زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے۔ ہمیں چاہیےکہ رمضان المبارک میں آپ کے معمولات کو جانیں اور ان پر عمل کرکے اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں، کیوں کہ ہم اس ماہ میں اپنی تربیت پر جس قدرتوجہ دیں گے اسی قدر دیگر مہینوں میں بھی ہم اللہ کی رضاجوئی اور اس کے احکام کی پابندی کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارسکیں گے۔

اللہ کے رسول ﷺ کا معمول تھا کہ آپ شعبان کے مہینے سے ہی رمضان کی تیاری میں مصروف ہوجاتے تھے۔ چنانچہ آپؐ معمول سے زیادہ عبادت و ریاضت کا اہتمام شروع کردیتے تھے۔ شعبان کے آخری راتوں میں صحابہ کرام کو اکٹھاکرتے اورخطبہ دیتے جس میں انھیں رمضان کی آمدکی خوشخبری سناتے۔

آپؐ کایہ بھی معمول تھا کہ صحابہ کرامؓ کو رمضان کی خوش خبری دیتے تھے۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے صحابہ کرام کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا :

’’رمضان کا مہینہ آچکا ہے، جومبارک مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں شیاطین کو باندھ دیاجاتاہے۔ اس ماہ مبارک میں ایک ایسی بابرکت رات ہے جوہزارمہینوں سے بہترہے، جواس ماہ مبارک کی سعادتوں سے محروم ہوگیا تووہ محروم ہی رہا۔ ‘‘(احمد، نسائی)

چاند دیکھنے کا اہتمام 

رمضان کی تاریخ کا پتہ لگانے کے لیے چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ اس کے پیش نظر نبی کریمﷺ کا معمول تھا کہ آپ صحابہ کرامؓ کو لے گاؤں کے باہر کھلی جگہ  جاتے اور چاند دیکھتے اور دوسروں کوبھی اس کی تلقین فرماتے تھے۔

لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ”  فی روایۃ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، إِلَّا أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ۔ (متفق علیہ)

’’جب تک (رمضان کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ رکھنا شروع نہ کرو، او ر جب تک (شوال کا) چاند نہ دیکھ لو افطار نہ کرو(روزہ ختم نہ کرو)پھر اگر مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سےچاند تم کو نظر نہ آئے تو اس کا اندازہ کر لو۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں۔ ’’مہینہ ۲۹ دن کا ہوتا ہے۔ پس روزہ رکھنا شروع نہ کرو جب تک کہ (رمضان کا) چاند دیکھ لو۔ اگر مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ تم کو نظر نہ آئے تو (شعبان کے ) تیس دن پورے کرو۔ (متفق علیہ)

پتہ چلا کہ رویت ہلال کی بڑی اہمیت ہے۔ ضروری ہے کہ چاند دےکھنے کا اہتمام کیا جائے، محض کلنڈرپر بھروسہ کرلینا درست نہیں۔

روزہ کا اہتمام 

یوں تو آپ ؐ ہر ماہ ایام بیض کے روزوں کا اہتمام کرتے تھے اور شعبان کے مہینہ میں بہ کثرت روزہ رکھتے تھے، مگر رمضان کے پورے مہینے کا روزہ رکھتے۔ جب سے اس مہینے کے روزوں کی فرضیت نازل ہوئی تب سے تاعمر آپ نے ماہ رمضان کے مکمل روزہ کا اہتمام کیا ہے۔ اس ماہ کے روزہ کی فضیلت اور بلاعذر اس کے ترک کرنے کی ممانعت اور وعید بھی سنائی۔ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا:

 مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِْبِهِ (متفق علیہ)

’’جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب(ثواب کی امید) کے ساتھ، اس کے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے، جو اس سے پہلے سرزد ہوئے ہوں گے۔ ‘‘(متفق علیہ)

روزہ ایک ایسا عمل ہے جو  بندے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔ کیوں کہ کوئی دنیا کو دکھانے کے لیے کسی کے سامنے کچھ نہ کھائے پیے مگر تنہائی میں کھاپی سکتا ہے۔ اس کے باوجود وہ صرف اس لیے ایسا نہیں کرتا کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے جو ہر جگہ موجود ہے۔ اس لیے وہ شیدید گرمی میں پیاس کی شدت کو برداشت کر لیتا ہے، بھو ک کی بے چینی کو جھیل لیتا ہے مگر پانی کا ایک قطرہ یا کھانے کا کوئی لقمہ وہ اپنے گلے سے نیچے نہیں اتارتا۔ آپ ؐ نے روزے کے اجر کو بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:

كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْك (بخاری)

’’ابن آدم کا ہرعمل اس کے لیے ہوتاہے سوائے روزے کے۔ روزہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ بندہ اپنی خواہشات اورخوراک صرف میرے ہی لیے چھوڑدیتاہے۔ ‘‘  (بخاری)

نبی کریمﷺ حالت روزہ میں مسواک کرتے، سرمہ لگاتے، وضوکے دوران ناک میں پانی ڈالتے، کلی کرتے، البتہ مبالغہ سے بچتے تاکہ پانی حلق سے نیچے نہ اترآئے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ان سب چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا جب تک کہ کوئی شخص اختیاری  طور پرقدرتی راستے سے کو ئی چیز پیٹ حلق یا دماغ داخل نہ کر لے۔ بھول کر کوئی شخص کچھ کھا پی لے تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔

حالت روزہ میں مکروہات سے اجتناب

روزے کی حالت میں جائز چیزوں (کھانے، پینے اور بیوی سے جنسیتعلق)کے استعمال پر اللہ نے روک لگادی ہے۔ یہ اس بات کی تربیت ہے کہ انسان بقیہ تمام حالتوں میں بھی اللہ کے احکام کی پابندی کرے گا۔ پھر روزہ رکھ کر انسان برے اور گندے کام کرے اس کی کیسے اجازت ہوسکتی ہے۔ روزے میں تو یہ اور بھی ناپسندیدہ عمل ہوجاتاہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے روزے کی حالت میں ایسے عمل سے بچنی کی سختی سے ہدایت دی ہے۔ آپ ؐکا فرمان ہے۔

مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ "(بخاری)

’’جس نے جھوٹ بولنا اورغلط کام کرنا نہیں چھوڑا، اللہ تعالی کو ایسے شخص کے روزہ کی حالت میں کھانا پینا چھوڑنےکی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘

اسی طرح آپؐ نے غیبت، چغلی، جھگڑا فساداور لوٹ مار جیسے برے عمل سے بھی سختی سے رکنے کی تاکید کی ہے ورنہ روزہ دار کو بھوک پیاس اور رت گجے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا:

 كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ (سنن الدارمی)

’’کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کے سوا انھیں کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور کتنے ہی راتوں کو کھڑے رہنے والے ایسے ہیں جنھیں اس قیام سے رت جگے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ‘‘(سنن الدارمی)

تلاوت قرآن اور تراویح

 نزول قرآن انسانیت پر اللہ کی بڑی مہربانی ہے۔ یہ کتاب تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہےاور رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ اس لحاظ سے رمضان کو قرآن سے خاص مناسبت ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ(البقرۃ:)

’ماہ رمضان جس میں قرآن کریم کا نزول ہواجوتمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے‘۔

 آپ ﷺماہ رمضان میں حضرت جبرئیل ؑ کے ساتھ قرآن کا دورہ فرماتے اور بہ کثرت قرآن کی تلاوت کرتے۔

آپ ؐ اس ماہ مبارک میں قیام لیل کا خاص اہتمام کرتےتھے۔ تراویح درحقیقت قیام لیل ہے۔ یعنی رات کو نماز میں کھڑے ہوکر قرآن پڑھنا اور سننا۔ اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ ہم احادیث نبویﷺ کا مطالعہ کریں توجس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ کا رمضان کے روزے سے متعلق یہ ارشاد ہے:

” مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (متفق علیہ)

’’جس نے رمضان کا روزہ ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رکھا تواس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ‘‘۔

اسی طرح آپ نے اس مبارک مہینے میں قیام لیل کے سلسلے میں بھی یہ ارشاد فرمایاہے:

وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ  (متفق علیہ)

جس نے رمضان کے مہینے میں قیام لیل (رات کو کھڑے ہوئے کر نوافل ) کا اہتمام  ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رکھا تواس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ‘‘۔

اس روایت سے صلوۃ تروایح کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے عہد میں صحابہ کرام ؓ مسجد میں انفرادی طور پر یا چھوٹے چھوٹے گروپوں کی شکل میں تراویح کی نماز پڑھتے تھے۔ آپ ﷺ نے انھیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو ان سب کو یکجاکیا اور ان کی امامت فرمائی۔ صحابہ کرام کا نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا شوق بہت زیادہ بڑھنے لگا تو تیسرے دن آپ ؐان کی امامت نہیں فرمائی اور ارشاد فرمایا:

’’ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ نماز فرض نہ ہوجائے اس لیے آپ نے اس روزتراویح کی نماز نہیں پڑھائی۔ ‘‘

اس کے بعد صحابہ کرامؓ بدستور انفرادی طور پریا چھوٹے چھوٹے گروپ میں حضرت ابوبکر ؓ کے پورے دور خلافت اور حضرت عمرؓ کے عہد خلافت کی ابتدا میں نماز پڑھتے رہے۔ ایک موقعے پر حضرت عمر ؓنے مسجد میں لوگوں کو الگ الگ نماز پڑھتے دیکھا تو انھیں ایک امام پر جمع کیا اور اسی کی اقتدا میں نماز تراویح کا اہتمام شروع ہوگیا۔ تب سے آج تک دنیا کے ہر گوشے میں جہاں مسجد ہے وہاں تراویح کا باجماعت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس میں مکمل قرآن سننے اور سنانے کا اہتمام ہوتا ہے۔

نوافل کی کثرت

اس ماہ مبارک میں نفل کا ثواب فرض کے برابراور فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابرکردیاجاتا ہے۔ آپ ؐ نوافل کا خاص اہتمام کرتےاور صحابہ ؓ کو اس کی اہمیت دلاتے ہوئے فرمایا :

 مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ، كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً، كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ (مشکوۃ)

’’جس نے اس ماہ مبارک میں کوئی نیک کام(نفل) انجام دیا وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے دیگر مہینے میں کوئی فرض ادا کیا ہو۔ اور جس نے کوئی فرض ادا کیا وہ ایسے ہے جیسے دیگر مہینے میں اس نے ستر فرض ادا کیے ہوں۔ ‘‘

سحری میں تاخیر اور افطار میں جلدی کرنا

 طلوع فجر سے پہلے کچھ کھانے پینے کو سحری کہتے ہیں۔ سحری کرنا آپؐ کا معمول تھا۔ آپ سحری میں تاخیر کرتے تھے۔ آپؐ صحابہ ؓ کوبھی اس کے لیے آمادہ کرتے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے سحری میں برکت رکھی۔ نیز آپ ؐ کا ارشاد ہے:

استعینوا بطعام السحرعلی الصیام، وبالقیلولۃ علی قیام اللیل (ابن ماجہ)

’’سحری کھاکر روزے پر اورقیلولہ (دوپہرکے وقت سونے)کے ذریعے رات کی نماز پر مددحاصل کرو۔ ‘‘

اسی طرح آپ کا معمول تھا کہ آپ افطار میں جلدی کرتے۔ افطار میں جلدی کرنا اصل میں اظہار عبودیت کی علامت ہے۔ اللہ کا حکم ہے روزہ رکھا، وقت پورا ہوتے ہی اللہ کا حکم ہوا فوراً افطار کیا۔ افسوس کہ اس پر توجہ نہیں دیاجاتا افطارکا وقت ہوچکا ہوتا ہے مگربہت سے لوگ بلاوجہ تاخیر کرتے ہیں یا یہ سمجھا جاتا ہے کہ دوچار منٹ رک جانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ جب کہ ایسا کرنا غلط ہے۔ یہ یہودیوں کا طریقہ ہے کہ جب تک آسمان میں ستارے نظر نہ آجائیں وہ افطار نہیں کرتے تھے اور اس تاخیر کو قابل اجروثواب مانتے تھے۔ آپ ؐ وقت ہوتے ہی فوراً افطار کرتے اور صحابہ کو بھی اس کی اہمیت کا احساس دلاتے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

لا یزال الناس بخیر ماعجلوا الفطر۔ (متفق علیہ)

لوگ بھلائی پر رہیں گے جب تک کہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔ (متفق علیہ)

افطار کا وقت دعا کی قبولیت کا ہوتا ہے۔ آپ ؐافطار سے قبل دعا کرتے اور جو میسر آتا اس سے افطار کرتے، خاص طور سے آپؐکھجور یا پانی سے افطار کرتے تھے۔

افطار کے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے :

اللھم  لک صمت وبک امنت  وعلی رزقک افطرت  ( ابو داؤد )

افطار کےبعد یہ دعا بھی ثابت ہے :

 ذھب  الظما وابتلت  العروق وثبت  الاجران  شاء اللہ۔ (ا بو داؤد )

ہمدردی اور مواساۃ

آپ ؐ نے اس پورے مہینے کو ہمدردی و مواسات کا مہینہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ ہےکہ جب انسان روزہ رکھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ جو پورے سال بے سروسامانی کی وجہ سے بھوک پیاس کی شدت برداشت کرتے ہیں ان کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ اب جب کہ وہ بھی روزے کی حالت میں ہے تواللہ کے ان محتاج بندوں کی امداد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یوں تو آپ ؐ بڑے فیاض اور سخی تھے مگررمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی آپ عطا، بخشش و سخاوت بہت بڑھ جاتی تھی، آپ ؐ ہر قیدی کو رمضان بھر کے لیے رہا کردیتے تاکہ وہ اس ماہ سے استفادہ کرے اور ہر سائل کو کچھ کچھ نہ کچھ دیتے خالی واپس نہیں کرتے تھے:

کان رسول اللہ ﷺ اذا دخل شہر رمضان اطلق کل اسیر وا عطی کل سائل(بیہقی فی شعب الایما ن)

’’رسول اللہ کا طریقہ تھا کہ جب رمضان آتا تھا تو آپ ؐ ہر اسیر (قیدی) کو رہا کردیتے تھے اور ہر سائل کو کچھ نہ کچھ دیتے تھے۔ ‘‘

آپ نے روزہ دار کے افطار کرانے پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا، أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ (بیہقی، محی السنہ)

’’جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے یا کسی غازی کے لیےسامان جہاد فراہم کرکے دے تو اس کو ویسا ہی اجر ملےگا جیسا کہ اس روزہ دار کو روزہ رکھنے اور غازی کو جہاد کرنے کا ملے گا۔ ‘‘

مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ "، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ كُلُّنَا نَجِدُ مَا نُفَطِّرُ بِهِ الصَّائِمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ” يُعْطَى هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى مَذْقَةِ لَبَنٍ، أَوْ تَمْرَةٍ، أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ، وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ    (مشکوۃ)

’’جس نے ماہ رمضان میں کسی روزے دار کو افطار کرایا اس کے لیے اس کے گناہوں معافی اور جہنم سے چھٹکارا ہے اور اس کے لیے روزہ دار اس کے اجر میں کمی کے بغیرروزہ دار کے برابر ہی اجر ہوگا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ہم میں تو ہر شخص روزہ افطار کرانے کی سکت نہیں رکھتا؟آپؐ نے فرمایا: اسے بھی یہی اجر ملے گا روزے دارکودودھ کا گھونٹ پلائےیا ایک کھجورکے ذریعے افطار کرائےیاپانی کا گھونٹ پلاے، اور جو روزہ دار کو سیراب کرے اللہ اسے میرے حوض سے ایسا گھونٹ پلائے گا کہ پھر وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا حتی کہ وہ جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ ‘‘

آپ ؐ رمضان کے مہینے میں اپنے تحتوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے ان سے کم کام لیا کرتے تھے اور صحابہ کو بھی اس کی تلقین کرتے:

 مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ فِيهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ(مشکوۃ)

’’جس نے اپنے ماتحتوں سے ہلکاکام لیااللہ اسے بخش دے گا اور اسے جہنم سے نجات دے گا۔ ‘‘

تلاش شب قدر اور اعتکاف

رمضان المبارک کے تین عشروں کو اللہ کے رسول ﷺ نے تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان کے فضائل بیان کیے ہیں کہ اس کا پہلا عشرہ ’رحمت‘دوسرا’مغفرت‘ اور تیسرا ’جہنم سے چھٹکارے ‘کا ہے۔ اس لیے مطلوب یہ ہے کہ تیسرے عشرے میں غفلت کی چادرہٹاکر اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت وریاضت کرکے ذریعے ہم خداکا قرب حاصل کریں اوراپنے گناہوں سے تائب ہوکر جہنم کی آگ سے چھٹکارہ پائیں۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں (اللہ کی عبادت )میں جس قدرسخت محنت کرتے تھے اتنی اور کسی زمانے میں نہیں کرتے تھے۔ (مسلم)حضرت عائشہ ؓ سے ہی ایک اورروایت ہے کہ جب رمضان کی آخری دس تاریخیں آتی تھی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمربستہ ہوجاتے تھے۔ رات بھرجاگتے اوراپنے گھروالوں کوبھی جگاتے تھے۔ (بخاری)

رمضان کے آخری عشرے کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ نے اسی کی ایک طاق رات میں شب قدرجیسی عظیم ترین رات رکھی ہے۔ جس کے تعلق سے اللہکا فرمان ہے۔

’’بیشک ہم نے قرآن کو شب قدرمیں اتارا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ شب قدرکیسی چیز ہے؟شب قدرہزارمہینوں سے بہترہے۔ اس رات میں فرشتے اورروح القدس (جبریل ؑ)اپنے پروردگارکے حکم سے ہرامرخیرکولے کراترتے ہیں۔ سراپاسلام ہے۔ یہ شب قدر(اسی صفت وبرکت کے ساتھ)طلوع فجرتک رہتی ہے۔ ‘‘ (سوۂ قدر)

 نبی کریم ؐ نے بھی متعدداحادیث اس کی فضیلت بیان کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشا فرمایاکہ جوشب قدرمیں عبادت کے لیے کھڑاہوا(نمازیں پڑھیں، ذکرواذکارمیں لگارہا) تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ (متفق علیہ)

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: شب قدرمیں وہ تمام فرشتے جن کا مقام سدرۃ المنتہی پر ہے، جبرئیل امین کے ساتھ دنیا میں اترتے ہیں اورکوئی مومون مردیا عورت ایسی نہیں جس کو وہ سلام نہ کرتے ہوں، بجزاس آدمی کے جوشراب یا خنزیرکا گوشت کھاتا ہو۔

اس رت کی فضیلت کے حصول کے تعلق سے نبی کریمﷺ کا عمل دیکھاجائے تومعلوم ہوتا ہے کہ آپؐ اس رات کی برکت حاصل کرنے کے لیے بے حد جدجہد کرتے ہیں، جس چیز کی جتنی اہمیت ہوتی ہے، اس کے لیے اتنی ہی کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپؐ نے ایک ترکی طرز کے خیمے کے اندررمضان کے دس دن گزارے۔ اعتکاف ختم ہونے پرآپؐ نے اپنا سرمبارک خیمے سے باہر نکالا اورفرمایا: میں نے اس رات کی تلاش میں پہلے دس دن کا اعتکاف کیا، پھرمیں نے بیچ کے دس دن کا اعتکاف کیا۔ تب میرے پاس آنے والا آیا اورا سنے مجھ سے کہا:’’ لیلۃ القدررمضان کی آخری دس راتوں میں ہے۔ پس جولوگ میرے ساتھ اعتکاف میں بیٹھے تھے انھیں چاہیے کہ وہ اب آخری دس دن بھی اعتکاف کریں۔ مجھے یہ رات (لیلۃ القدر)دکھائی گئی تھی مگرپھربھلادی گئی اورمیں نے دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کوپانی اورمٹی میں (برسات کی وجہ سے) نماز پڑھ رہا ہوں۔ پس تم لوگ اسے آخری دس دنوں کی طاق تاریخوں میں تلاش کرو۔ ‘‘( بخاری ومسلم )

جہاں تک شب قدر کی تعیین تعلق ہے تو اس سلسلے میں بہت سی احادیث ہیں۔ ایک حدیث میں ہے :

تحروا لیلۃ القدرفی العشرالاواخرمن رمضان

  یعنی شب قدررمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔

 بخاری شریف کی ہی ایک اورروایت کے مطابق آپؐ کا ارشاد ہے :

تحروالیلۃ القدرفی الوترمن العشرالاواخر من رمضان۔

   یعنی شب قدرکو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

اگرآخری عشرے کی طاق راتوں (۲۱۔ ۲۳۔ ۲۵۔ ۲۷۔ ۲۹) کومرادلیاجائے اور شب قدرکوان راتوں میں دائراور ہررمضان میں منتقل ہونے والا قراردیاجائے توایسی صورت تمام احادیث صحیحہ میں جوتعیین شب قدرکے متعلق آئی ہیں، تطبیق جمع ہوجاتی ہے۔ اسی لیے اکثرائمہ فقہانے اس کو عشرہ اخیرہ میں منتقل ہونے والی رات قراردیاہے۔

آپؐ کا یہ طرز عمل اورشب قدرکی تلاش وجستجواور اس کاہتمام اس کی اہمیت کا پتہ دیتا ہے۔ مذکورہ واقعہ سے یہ بات بالکل درست ثابت ہوتی ہے کہ اعتکاف کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ معتکف کواس رات کی خیروبرکت سے مالامال کردیتا ہے۔ اس لیے کہ معتکف کا ہرعمل خداکی رضاکے لیے اسی کے دربارمیں حاضری کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو عبادت میں شمار کیاجاتاہے۔ لہذا آخری عشرے کی طاق راتیں بھی انھیں میسرہوتی ہیں جس میں شب قدرکوتلاش کرنے کا حکم ہے۔

شب قدرکی دعا

حضرت عائشہ صدیقہ ؓنے نبی کریم ؐ سے دریافت کیا کہ اگرمیں شب قدرکوپاؤں توکیا دعاکروں۔ آپ نے فرمایا:یہ دعاکرو

’’اللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفْوٌ تُحِبُّ الْعَفْوَفَاعْف عَنِّی‘‘(قرطبی)۔

اے اللہ آپ بہت معاف کرنے والے ہیں اورعفوودرگزرکوپسند فرماتے ہیں میری خطائیں معاف فرمائیے۔

رمضان، سفراور جہاد فی سبیل اللہ

اللہ کے رسول ﷺ نے ماہ رمضان المبارک میں سفر بھی کیا اوراعلائے کلمۃ اللہ کے لیے عزوات بھی کیے۔ اس طرح آپ نے کئی بار حالت سفر میں روزہ بھی رکھا اور کئی بار صحابہ کے درمیان پانی منگواکر روزہ توڑبھی دیا تاکہ صحابہ کو حالت سفر میں اور جنگی ضرورت کے پیش نظر کم زوری کا احساس نہ ہو۔ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ رمضان کا تعلق جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ گہرامعلوم ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی پہلی جنگ جسے یوم الفرقان سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی جنگ بدرجسے قرآن نے بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ 17رمضان المبارک کوہوئی۔ فتح مکہ کی سورت میں حج اور عمرے کی سعات یہ بھی رمضان المبارک میں حاصل ہوئی۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا اس کے علاوہ بہت سے معرکے رمضان المبارک میں ہوئے۔ اس لیے مسلمانوں کی بڑی ذمہ داری ہے کہ ایسے مشکل وقت میں جب کہ روزہ کی حالت میں ہوتو اسے مزید مجاہدے کی ضرورت ہے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ اللہ کا قرب حاصل ہوسکے۔

رمضان کی آخری رات

رمضان کی آخری رات جسے سب عید کی ’چاند رات‘ کہتے ہیں، اس میں بہت سے لوگ عبادت میں مشغول ہوتےہیں لیکن بہت سے لوگ ہیں جوعید کی خریداری میں مصروف ملتے ہیں۔ جب کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اسے امت مسلمہ کی مغفرت کی رات سے تعبیر کیا ہے:

 قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ

رمضان کی آخری رات کو میری امت کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہؐ کیاےہی وہ لیلۃ القدر ہے؟ حضورؐ نے ارشاد فرمایا نہیں، بلکہ مزدور کو اس کی مزدوری اس وقت دی جاتی ہے جب وہ اپناکام مکمل کرلیتا ہے۔ (مسند احمد )

مزید دکھائیں

محب اللہ قاسمی

معاون شعبہ تربیت مرکز جماعت اسلامی ہند

متعلقہ

Close