عبادات

رمضان المبارک – اکتسابِ ہدایت کا مہینہ

ہمارے لیے یہ کتنی سعادت کی بات ہے کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر ماہِ مبارک کی سعادتوں سے بہرہ ور ہونے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کتنے بندے ایسے ہیں جو گزشتہ سال حیات تھے، لیکن اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، کتنے بندے ایسے ہیں جو اس سال زندگی کی آسائشوں سے متمتع ہورہے ہیں لیکن اگلے سال رمضان المبارک آنے سے قبل اس دنیائے فانی سے کوچ کرچکے ہوں گے اور کتنے بندے ایسے ہیں جو توفیق الٰہی سے محروم ہیں۔ ہر سال ماہ رمضان آتا ہے اور چلا جاتا ہے، لیکن ان کے ایمان اور عمل میں ذرا بھی اضافہ نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی جیسے رمضان سے قبل بسر ہوتی ہے، ویسی ہی رمضان کے بعد رہتی ہے۔
رمضان المبارک کو قرآن کریم سے خاص نسبت ہے۔ اس کی صراحت خود قرآن کریم میں کردی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیاگیا، جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں‘‘۔(البقرۃ: 185)
سال کے دیگر مہینوں کے مقابلے میں ماہ رمضان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں قرآن کریم نازل کیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ کتاب انسانوں کی صحیح راستے کی طرف رہ نمائی کے لیے اتاری گئی ہے۔ اس کے اندر ایسے محکم دلائل اور قطعی حجتیں ہیں جو حق وباطل کے درمیان امتیاز کرنے والی ہیں۔ اس میں ایسی روشن نشانیاں موجود ہیں جو قیامت تک پیش آنے والے پیچیدہ سے پیچیدہ امور ومسائل کو حل کرنے میں عقل انسانی کی رہ نمائی کے لیے کافی ہیں۔ اس عظیم نعمت کی شکرگزاری کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مہینے کو روزوں کے لیے خاص فرمایا، جس میں قرآن کریم نازل ہوا تھا، تاکہ اس کے بندے اس ماہ مبارک میں اپنے نفس کا زیادہ سے زیادہ تزکیہ کریں اور اس کی عبادت میں خود کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھ کر اس کا زیادہ سے زیادہ تقرب حاصل کریں۔
روزہ وہ مخصوص عبادت ہے، جس کے ذریعے ’تقویٰ‘ کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ زندگی کے ہر لمحے میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوش نودی انسان کے پیش نظر ہو۔ وہ خود کو ہر اس عمل کی انجام دہی پر آمادہ رکھے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جس سے اس کی رضا حاصل ہوتی ہے اور ہر اس عمل سے خود کو دور رکھے جس سے اللہ تبارک وتعالیٰ سے روکا ہے اور جو اس کے غضب کو بھڑکاتا ہے۔ روزے انسان کے اندر اس وصف کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی‘‘۔(البقرۃ:183)
جن لوگوں کے اندر ’تقویٰ‘ کا یہ وصف ابھرے گا ، حقیقی معنی میں وہی قرآن کریم سے فیض اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے بغیر قرآن سے صحیح استفادہ ممکن نہیں۔ قرآن کریم کی ابتدا ہی میں اس حقیقت کو بہت واشگاف الفاظ میں بیان کردیاگیا ہے:
’’یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے متقیوں کے لیے‘‘۔(البقرۃ:2)
مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اس نکتے کی تشریح بہت عمدہ طریقے سے کی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’قرآن حکیم کا حقیقی فیض صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہے جن کے اندر تقویٰ کی روح ہو اور اس تقویٰ کی تربیت کا خاص ذریعہ روزے کی عبادت ہے۔ اس وجہ سے رب کریم و حکیم نے اس مہینے کو روزوں کے لیے خاص فرما دیا، جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا۔ دوسرے لفظوں میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن حکیم اس دنیا کے لیے بہار ہے اور رمضان المبارک کا مہینہ موسم بہار اور یہ موسم بہار جس فصل کو نشو ونما بخشتاہے وہ تقویٰ کی فصل ہے‘‘۔ (تدبرقرآن، تاج کمپنی دہلی: 1/154)
رمضان اور قرآن کے درمیان خاص تعلق کی وضاحت ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’روزہ اور قرآن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو کھانے پینے اور شہوات سے روکے رکھا، تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کہے گا۔ (اے میرے رب) میں نے اسے رات میں سونے سے روکے رکھا، تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ پس دونوں کی سفارش قبول کرلی جائے گی‘‘۔ (بیہقی فی شعب الایمان:1994)
یوں تو اہل ایمان کا قرآن کریم سے خاص ربط و تعلق ہر زمانے میں رہنا چاہیے، اس لیے کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا پیغام اور صحیفہ? ہدایت ہے، لیکن رمضان اور قرآن کے درمیان خصوصی نسبت کا تقاضا ہے کہ اس ماہِ مبارک میں قرآن کریم سے ان کے تعلق میں غیر معمولی اضافہ ہوجائے اور اس سے ان کا شغف بہت زیادہ بڑھ جائے۔
مسلم سماج کا جائزہ لیں تو بہ ظاہر ماہِ رمضان المبارک میں قرآن کریم سے مسلمانوں کا تعلق بہت زیادہ بڑھا ہوا دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ تعلق بالکل پڑمردہ اور بیجان معلوم ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت رسوم وروایات کی ہوتی ہے، جن پر بہت سختی سے عمل کیاجاتا ہے۔لیکن یہ رسوم روح سے خالی ہوتی ہیں اور ان میں زندگی کی کوئی رمق دکھائی نہیں دیتی۔
رمضان المبارک کا آغاز نمازِ تراویح سے ہوتا ہے۔ عموماً ہر مسجد میں ایک مرتبہ ختم قرآن کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض مساجد میں ایک سے زیادہ ختم ہوتے ہیں۔ کہیں دس دنوں کی تراویح ہوتی ہے ، کہیں پانچ دنوں کی اور کہیں تین دنوں کی شبینہ تراویح پڑھی جاتی ہے۔ کچھ منچلے حفاظ کرام تو اکٹھے ہوکر ایک رات میں پورا قرآن ختم کرنے کی ہمت کربیٹھتے ہیں۔ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھ لینے کی دھن میں انھیں یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ قرآن حکیم کے الفاظ پورے طور پر ادا ہورہے ہیں یا نہیں؟ مقتدیوں کو تو آیات کے آخری الفاظ یعلمون تعلمون کے علاوہ کچھ نہیں سنائی دیتا۔ ایک مرتبہ مولانا مودودیؒ کی مجلس میں اس رویے کا تذکرہ آیا تو آپ نے فرمایا:
’’ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھا جائے۔ سننے والے ایک ایک لفظ سن سکیں۔ قرآن کریم کی تلاوت صرف اسے زبان سے گزار دینے کا نام نہیں ہے‘‘۔ (5۔اے، ذیل دار پارک: مولانا مودودی کی عصری مجالس، مکتبہ ذکریٰ، دہلی:1/108)
رمضان المبارک میں انفرادی طور پر بھی تلاوتِ قرآن کا اہتمام بڑھ جاتا ہے۔ جن حضرات کا عام دنوں میں روزانہ ایک پارہ کی تلاوت کا معمول رہتا ہے، وہ اس ماہ میں دو ، تین، چار، بلکہ اس سے زائد پاروں کی تلاوت ایک دن میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رمضان المبارک میں ہر نیکی کا ثواب کم از کم ستر گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہ بشارتِ نبوی انھیں زیادہ سے زیادہ تلاوتِ قرآن کے لیے مہمیز کرتی ہے۔ اس جذبے کا غلبہ انھیں یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتا کہ قرآن، پڑھ کر سمجھنے کی کوئی چیز ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی کئی مرتبہ قرآن ختم کرلینے کے باوجود:
دل سوز سے خالی رہتے ہیں، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہدایت نامہ ہے۔ اس میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ اس نے کن کاموں کا حکم دیا ہے اور کن کاموں سے روکا ہے ؟ کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں اور کیا چیزیں حرام ہیں؟ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کے کیا حقوق عائد ہوتے ہیں اور دوسرے انسانوں کے معاملے میں کن حقوق کی ادائی کا انہیں پابند کیاگیا ہے؟ کون سے عقائد اور اعمال انسان کو مرنے کے بعد کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے اجر و انعام کا مستحق بناتے ہیں اور کن عقائد و اعمال کی وجہ سے وہ اس کی سزا اور دردناک عذاب جھیلے گا؟ یہ تمام باتیں قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ اب اگر قرآن کو پڑھنے اور سننے کا تو زیادہ سے زیادہ اہتمام کیاجائے ، لیکن اسے سمجھنے کی مطلق کوشش نہ کی جائے تو ان باتوں کا علم کیوں کر ہوسکتا ہے؟
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص مشہور صحابی ہیں۔ قرآن کریم سے انھیں غیرمعمولی شغف تھا۔ اس بناپر وہ زیادہ سے زیادہ اس کی تلاوت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے رسول اللہ سے دریافت کیا:
میں قرآن کو کتنے دنوں میں ختم کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ایک مہینے میں۔ انھوں نے عرض کیا: مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ فرمایا: بیس (20) دنوں میں ختم کرلو۔ انھوں نے اسی طرح اور بھی کم دنوں میں ختم کرلینے پر اپنی قدرت ظاہر کی تو آپؐ نے پندرہ، پھر دس، پھر سات دنوں میں قرآن ختم کرنے کی اجازت دی۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا:
’’سات دن میں پورا قرآن پڑھ لو، اس سے کم میں ہرگز ختم نہ کرو‘‘۔ (سنن ابی داؤد:1388)
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے مزید اصرار کیا کہ وہ اس سے بھی کم دنوں میں قرآن ختم کرسکتے ہیں تو آپؐ نے انھیں تین دنوں میں ختم قرآن کی اجازت دے دی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا:
’’جو شخص تین دنوں سے کم میں پورا قرآن پڑھے گا وہ ٹھیک طریقے سے اسے سمجھ نہیں سکتا‘‘۔(سنن ابی داؤد:1394)
اس حدیث کے درج بالا الفاظ قابل غور ہیں۔ ان سے نبی اکرم ؐ کا یہ تاکیدی حکم معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے، بغیرسمجھے بوجھے اسے پڑھنا پسندیدہ نہیں۔
رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی جہاں ہم مختلف عبادتوں کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں، وہیں ہمیں قرآن کریم کا فہم حاصل کرنے کی بھی شعوری کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنا پروگرام اس طرح ترتیب دینا چاہیے کہ روزانہ کم از کم ایک پارہ تلاوت کرنے کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی پڑھ لیں۔ موقع ملے تو کسی تفسیر کو بھی شاملِ مطالعہ کرلیں، ایسے دینی اجتماعات میں شرکت کریں جن میں قرآن کا درس دیا جاتا ہو یا اجتماعی مطالعہ کیاجاتا ہو، ایسی کتابوں کا مطالعہ کریں جن میں قرآنی تعلیمات پیش کی گئی ہوں۔ یہ تدابیر ان شاء اللہ قرآن کریم سے ہمارے تعلق میں اضافہ کا باعث بنیں گی۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close