عباداتمذہبمذہبی مضامین

رمضان المبارک میں کرنے کے کام!

جولوگ اس مہینہ میں روزہ رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے بہت خوش ہوتے ہیں اورانعام واکرام سے نوازتے ہیں، روزہ دارکاسب سے بڑااکرام یہ ہے کہ اس کابدلہ اوراجرخوداللہ تعالیٰ دیتاہے

محمدجمیل اختر جلیلی ندوی

گیارہ مہینوں کے طویل انتظارکے بعد ایک مقدس مہینہ ہمارے سروں پرسایہ فگن ہونے جارہاہے، جس کی بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ سرکش شیاطین وجنات پابند سلاسل کردئے جاتے ہیں ؛ تاکہ انسان بغیرکسی بہکاوئے کے پورامہینہ اللہ تعالیٰ سے لولگاسکے، اپنے مالک حقیقی کی عبادت میں مصروف ہوسکے اوراپنے اللہ سے اس رشتہ کواستوار کرسکے، جس کوگیارہ مہینہ تک غفلت کی نذرکرکے رکھ چھوڑاتھا۔

اللہ تعالیٰ سے رشتہ کواستوارکرنے اورمالک حقیقی کی عبادت میں مصروف ہونے کے لئے رمضان المبارک کے مہینہ میں درج ذیل امورکاخاص اہتمام کرناچاہئے:

1-  روزے کااہتمام:

روزہ غیرمعذوراورغیرمسافرمکلف شخص پرفرض ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: ’’(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اوّل اوّل) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں ) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے۔ تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو تو چاہئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (روزے رکھ کر) ان کا شمار پورا کر لے، اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کر لو اور اُس احسان کے بدلے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت بخشی ہے تم اُس کو بزرگی سے یاد کرو اور اُس کا شکر ادا کیا کرو۔ ‘‘(البقرۃ:۱۸۵)

جولوگ اس مہینہ میں روزہ رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے بہت خوش ہوتے ہیں اورانعام واکرام سے نوازتے ہیں، روزہ دارکاسب سے بڑااکرام یہ ہے کہ اس کابدلہ اوراجرخوداللہ تعالیٰ دیتاہے، ارشاد نبوی ہے:یقول اللہ عزوجل:الصوم لی وأنا اجزی بہ۔ (صحیح البخاری،حدیث نمبر:۷۴۹۲)’’روزہ میرے لئے ہے اورمیں خوداس کابدلہ دوں گا‘‘، اس کے علاوہ ایک بڑاانعام یہ بھی کہ بندہ کے پچھلے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں، اللہ کے رسول ﷺ کاارشادہے: ’’جس نے ایمان اوراحتساب کے ساتھ روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ معاف ہوگئے‘‘ (بخاری، حدیث نمبر: ۳۸)۔

2-  نمازوں کی پابندی :

نماز ہرمکلف پرفرض ہے، قرآن مجید میں دسیوں جگہ اس کی فرضیت کوواضح طورپربتلایاگیاہے، ایک جگہ ارشاد ہے: ’’اورنمازقائم کرواور زکات اداکرو اوررکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو‘‘(البقرۃ: ۴۳)، ایک دوسری جگہ نمازوں کی پابندی کرنے کاحکم دیتے ہوئہ فرمایاگیاہے:’’نمازوں کی پابندی کرو، بالخصوص عصرکی نماز کی‘‘(البقرۃ:۲۳۸)،پھرجولوگ نمازقائم کرتے ہیں، وہ اجروثواب کے مستحق قرارپاتے ہیں، ارشاد ہے:’’بلاشبہ جنھوں نے ایمان لایااورنیک اعمال کئے، نمازوں کوقائم کیااورزکات اداکی، ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجرہے اوران پرنہ توخوف ہوگا اورناہی وہ غم گین ہوں گے‘‘ (البقرۃ:۲۷۷)۔

نمازکی یہ فرضیت سال کے بارہ مہینے ہے؛ لیکن رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں اس کے لئے خصوصی اہتمام ہوناچاہئے کہ اس مہینے کی عبادت ثواب کے لحاظ سے دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں کئی گنابڑھی ہوئی ہوتی ہے۔

3-  زکوۃکی ادائے گی:

نماز کی زکات بھی فرض ہے؛ البتہ اس کے لئے شریعت نے ایک نصاب متعین کررکھاہے؛ چنانچہ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی() یااس کے برابرمال ہواوراس پرسال گزرجائے توایسے شخص پرزکات فرض ہے، اسے چاہئے کہ وہ مال کاحساب لگاکرمجموعہ کاڈھائی فیصد غریبوں میں تقسیم کرے، رمضان المبارک اس کی ادائے گی کاثواب بڑھاہواہے؛ اس لئے اس مہینہ میں اس کی ادائے گی کازیادہ اہتمام کرناچاہئے۔

جوشخص زکات فرض ہونے کے باوجودزکات ادانہیں کرتا، قیامت کے دن اسے سخت عذاب دیاجائے گا، اللہ تعالیٰ ارشاد ہے:’’ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کے رستے میں خرچ نہیں کرتے اُن کو اس دن کے دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ٭ جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیاجائے گا پھر اُس سے ان (بخیلوں ) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے ـ(اب) اس کامزہ چکھو ‘‘ (التوبۃ:۳۴-۳۵)۔

4-  تلاوت قرآن:

قرآن کریم کے ایک حرف پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں، اللہ کے رسول ﷺ ارشاد ہے: ’’جس نے کتاب اللہ کاایک حرف پڑھا، اس کے لئے ایک نیکی ہے اورایک نیکی کابدلہ دس گناملتاہے، میں نہیں کہتاکہ آلم ایک حرف ہے؛ بل کہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اورمیم ایک حرف ہے‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۲۹۱۰)،یعنی اگرکوئی صرف آلم پڑھ لیتاہے تووہ تیس نیکیوں کامستحق ہوجاتاہے۔

قرآن کریم نزول رمضان المبارک میں ہواہے(البقرۃ:۱۸۵)،پھررمضان میں کئے ہوئے نیک کام کااجردوسرے دنوں کے مقابلہ میں کئی گنازیادہ ہوتاہے؛ اس لئے رمضان کامہینہ اس بات کاحق دارہے کہ اس میں خوب خوب تلاوت کی جائے، خود اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں مروی ہے کہ آپﷺ اس مہینہ میں قرآن کودہراتے تھے؛ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ’’حضرت جبرئیل ؑ رمضان المبارک کی ہررات میں حضروﷺ سے ملتے اورقرآن کادورکرتے‘‘(بخاری، حدیث نمبر: ۶)۔

5-  صدقات وخیرات :

صدقات وخیرات کاعام حکم دیاگیاہے، یہ اللہ تعالیٰ کی ناراض گی کودورکرتے ہیں اوربری موت سے بچاتے ہیں (جامع الأصول، حدیث نمبر: ۷۲۵۵)؛ چوں کہ رمضان میں ہرنیکی کاثواب زیادہ ہوتاہے؛ اس لئے رمضان میں کثرت سے صدقہ وخیرات کرناچاہئے، خود اللہ کے رسول ﷺ دوسرے دنوں کے مقابلہ میں رمضان میں زیادہ سخاوت کرتے تھے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:’’رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اورخاص طورپررمضان میں جب جبرئیل ؑآپﷺ سے ملتے توآپﷺ کی اورزیادہ سخی ہوتے تھے‘‘(بخاری، حدیث نمبر:۶)۔

6-  ذکرواذکار:

ذکرسے دل کواطمینان حاصل ہوتا ہے(الرعد: ۲۸)، گیارہ مہینے فکرمعاش میں جوبے اطمینانی رہتی ہے، وہ ڈھکی چھپی بات نہیں، رمضان المبارک کا مہینہ دل کواطمینان دینے کامہینہ ہے؛ اس لئے ادھرادھرکی باتوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ذکرواذکارمیں مشغول رہناچاہئے، اس سے دل کواطمینان توحاصل ہوگا ہی، ثواب بھی خوب خوب ملے گا، ویسے بھی لایعنی باتوں میں مشغول ہونے سے روکاگیاہے، اللہ کے رسول ﷺ کاارشاد ہے: ’’آدمی کے اسلام کی اچھائی میں سے لایعنی باتوں کا ترک دیناہے‘‘(سنن الترمذی:۲۳۱۸)۔

7-  نوافل کی کثرت:

نوافل فرائض میں کمی کوتاہی کی تلافی کرتے ہیں، عام دنوں میں بھی اس کااہتمام کرناچاہئے، رمضان المبارک میں اس کاخاص اہتمام اس لئے کرنا چاہئے کہ اس میں نوافل کاثواب عام دنوں کے فرائض کے برابرہوتاہے(صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر: ۱۸۸۷)۔

پھرنوافل میں تمام نمازوں سے پہلے اوربعدکی سنتوں کے ساتھ ساتھ تہجدبھی شامل ہے، گیارہ مہینہ اس سے غفلت رہتی ہے؛ لیکن رمضان میں اللہ تبارک وتعالیٰ ایک اچھاموقع ہمیں عطاکرتاہے، ہم سحری کے لئے اٹھتے ہی ہیں، دس منٹ پہلے اٹھ جائیں اورجتنامیسرہو، تہجد پڑھ یں اوراللہ تعالیٰ کے سامنے بخشش چاہیں ؛ اس لئے کہ وقت ایساہوتاہے، جس میں اللہ رب العالمین آسمان ِدنیاپرنزول اجلال فرماتاہے اورکہتاہے کہ’’کون مجھ سے دعاکرتاہے کہ میں اس کی دعاقبول کروں ؟کون مجھ سے مانگتاہے کہ میں اسے نوازوں ؟ کون مجھ سے مغفرت چاہتاہے کہ میں اسے بخش دوں ؟‘‘(سنن ابوداؤد، حدیث نمبر: ۱۳۱۷)۔

8-   اعتکاف :

رمضان المبارک کے اخیرعشرہ میں اعتکاف کرناچاہئے، یہ سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، اگرمحلہ کی مسجدمیں کوئی بھی شخص اعتکاف نہ کرے توسارے محلہ والے گناہ گار ہوں گے، حضورﷺ اعتکاف کاخاص اہتمام فرماتے تھے اورآپﷺ کے ساتھ آپ کی ازواج مطہرات بھی اعتکاف کرتی تھیں ؛ اس لئے ہمیں بھی اس کاخاص اہتمام کرناچاہئے۔

9-  شب قدرکی تلاش:

رمضان المبارک کے اخیرعشرہ میں ایک رات ایسی آتی ہے، جوہزارمہینوں سے بہتررات ہوتی ہے(القدر:۳)، اگرکوئی اس رات میں عبادت کرلے توہزارمہینے عبادت کرنے کاثواب ملے گا، اس رات کوتلاش کرناچاہئے اوراس میں عبادت کرنی چاہئے، اللہ کے رسولﷺ اس رات کوتلاش کرتے تھے اورصحابہ کوبھی اسے تلاش کرنے کاحکم فرماتے تھے۔

 10-  دینی کتب کامطالعہ:

مذکورامورسے اگروقت فارغ بچے تودینی کتب کامطالعہ کرناچاہئے، تفسیر، سیرت اورفقہ اسلامی پرخاص توجہ دینی چاہئے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم تمام کوعمل کی توفیق عطافرمائے، آمین یارب العالمین!!!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close