عباداتمذہب

رمضان اور معمولاتِ نبویؐ

روزہ انسان کو اخلاقیات کو بگاڑنے اور انسانیت کو تباہ کرنے والے شہوات ولذات سے نکالتا ہے

 مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

رمضان المبارک یہ نہایت مہتم بالشان اور فضائل ومناقب کا حامل مہینہ ہے، اس مہینے میں نبی کریم ﷺ کے معمولات اور آپ کے صبح وشام اور آپ ﷺ کی عبادات اور اس مہینہ کے حوالے سے آپ ﷺ کا اہتمام اور انتظام اوراس کی تیاری ایک مسلمان کے لئے اس کے آنکھوں کا سرمہ اور قابل تقلید نمونہ ہے، ہم ذیل میں نبی کریم ﷺ کا اس ماہِ مبارک میں معمول اور آپ کے طریقہ کار کاذکر کرتے ہیں :

1۔ رمضان اور قرآن کریم

رمضان المبارک کو قرآن کریم کے ساتھ خصوصی نسبت حاصل ہے، جس کی وجہ سے اگر اسے ’’قرآن کا مہینہ ‘‘ کہیں تو بے محل نہ ہوگا، جس کی نشاندہی خود عزوجل نے اپنی کتاب عزیز میں کی ہے اور اسی ماہِ مبارک میں قرآن کریم کا نزول فرمایا ہے، ارشاد باری عز وجل ہے: ’’شھر رمضان الذی أنزل فیہ القرآن ہدی للناس وبینات من الہدی والفرقان‘‘ ( البقرۃ: ۲۸۵) ماہِ مبارک کے قرآن کریم کے ساتھ اسی تعلق اور نسبت کی وجہ سے نبی کریم ﷺ رمضان المبارک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے، آپ ﷺ کا قرآن کریم کے ساتھ لگاؤ اور شغف بے انتہابڑھ جاتا تھا، آپ کے رات ودن قرآن کریم کے ساتھ، اس کی تلاوت، اس میں غور وتدبر، اس کے معانی ومطالب کی غواصی اور غوطہ زنی اور احکام وآیات کی کے تعلیم وتعلم میں گذرتے، ویسے تو قرآن کریم آپ ﷺ کی زندگی جزء لا ینفک اور آپ کی حیات کا لازمہ اور خاصہ تھا، آپ ﷺ قرآن کریم ﷺ کی عام دنوں میں بھی صبح وشام اور رات ودن تلاوت میں مصروف رہتے، خصوصا ا س لئے بھی کہ آپ ﷺ اس کے من جانب اللہ اس کے مامور تھے، ’’ورتّل القرآن ترتیلا‘‘ (المزمل: ۴) یہی وجہ تھی کہ قرآن کریم آپ ﷺ کے عادات واخلاق اور آپ ﷺ کے طور وطریق میں نمایاں نظر آتا تھا، چونکہ نہ صرف آپ ﷺ قرآن کریم ﷺ کی  تلاوت فرماتے ؛ بلکہ نہایت غور وتدبر کے ساتھ اس پر عامل بھی تھے، اسی لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : ’’ کان خلقہ القرآن‘‘ آپ کے اخلاق سراسر قرآن کے مماثل تھے(مسلم )آپ ﷺ کا قرآن کریم کی تلاوت کے حوالہ سے معمول یہ تھا کہ جب آپﷺ کا گذر کسی آیت دعا پر ہوتا تو اس پر غور وتدبر فرماتے اور وہاں ٹھہر کر دعا فرماتے، اگر کسی آیت پر آپ ﷺ کا گذر ہوتا جس میں استغفار ہوتا تو استغفار کرتے یا تسبیح ہوتی تو تسبیح فرماتے، اگر کسی ایسے آیت پر گذر ہوتا جس میں قیامت اور یوم حساب کی منظر کشی ہوتی اور اس کی شدت اور ہولناکی کا تذکرہ ہوتا تو اس سے بہت زیادہ اثر لیتے، اس موقف اور وہاں کی ہیبت ناکی اور خوف کا اظہار کرتے، حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے سورہ نساء پڑھی اور اللہ عزوجل کے اس ارشاد تک پہنچے ’’ فَکَیْْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰـؤُلاَئِ  شَہِیْدًا‘‘(النساء: ۱۴) ( پس کیا حال ہوگاجب ہم لائیں گے ہر امت سے ایک گواہ کو اور ہم لائیں گے آپ کو ان  پر بطور گواہ۔ )تو ان سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ حسبک الآن‘‘ یہاں رک جاؤ، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے، کیوں کہ آپ کو قیامت اور موقف حساب کی یاد آگئی۔

قرآن کریم نے مومنین کی قرآن کریم کے ساتھ یہ شان بتلائی ہے کہ جب اللہ عزوجل کا تذکرہ ان کے سامنے کیاجاتا ہے تو ان کے دلوں پر خوف طاری ہوجاتا ہے، ارشاد باری عزوجل ہے :

’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ إِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْْہِمْ آیَاتُہٗ زَادَتْہُمْ إِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ‘‘(الانفال: ۲)

(ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان کو زیادہ کردیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں )

قرآن کریم کے حوالہ سے جب عام مسلمانوں کی یہ حالت ہے، ان کے خشوع وخضوع اور انابت الی اللہ اور اس سے تاثرکی یہ کیفیت ہے تو پھر سید المرسلین،رسول رب العالمین کا اس قرآن کریم کے ساتھ تأثر کا کیا حال ہوگا؟۔

ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ رات میں انصاریوں کی گھر سے آنے والی تلاوت کی آواز سنتے ہوئے نکلے، ایک دفعہ بوڑھی عورت کو سورۃ الغاشیہ کی ان آیتوں کو دہراتے اور روتے ہوئے دیکھا ’’ہَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ  ‘‘(العاشیۃ : ۱)(آپ کو ایسی چیز کی خبر پہنچی ہے جو چھا جانے والی ہے۔)

حضرت امام مالک بن انس سے مروی ہے کہ آپ جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوجاتا تو فتاوی نویسی، حدیث اور درس وتدریس کو چھوڑکر قرآن کی تلاوت اور اس کے معانی پر تدبر شروع فرمادیتے اور فرماتے : ’’ ھذا شھر القرآن، ھذا شھر القرآن‘‘ یہ قرآن کا مہینہ ہے، یہ قرآن کا مہینہ ہے۔

بعض ائمہ مجتہدین اور صالحین سے مروی ہے کہ وہ رمضان المبارک میں ساٹھ قرآن کریم ختم فرماتے، ہر دن دو ختم قرآن فرماتے۔

2۔ رمضان اور سخاوت :

رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کی سخاوت اور انفاق کی صفت میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا، دیگر مہینوں کے مقابل رمضان المبارک میں آپ ﷺ اپنا دستِ انفاق دراز فرماتے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس حوالہ سے مروی ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور ہمیشہ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں جب جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺسے ملتے تھے سخی ہوجاتے تھے اور آپ ﷺان سے قرآن کریم کا دور کرتے جب آپ ﷺسے جبرائیل علیہ السلام ملتے تو رسول اللہﷺفائدہ پہنچانے میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے ’’ أجود فی الخیر من الریح المرسلۃ‘‘ (مسلم) اسی لئے فرمایا : رمضان نیکی اور تقوی کا مہینہ ہے، اس لئے دیگر مہینوں کے مقابل آپ ﷺ کی جود وسخا اور عطا وداد ودہش کی کیفیت اورصفت میں اس مہینہ میں اضافہ ہوجاتا، اس لئے آپ ﷺ کی اتباع اور پیروی میں ہمیں اس مہینہ جو کہ غم خواری اور مواساۃ وہمدردی کامہینہ ہے، خوب سے خوب تر انداز میں غریبوں اور محتاجوں کی دیکھ ریکھ اور ان کی ضروریات واحتیاجات کی تکمیل کو اپنے رمضان المبارک کا لائحہ عمل کا ایک حصہ اور فریضہ سمجھیں ، ان پر وسعت کریں ۔

اور ایک روایت میں فرمایا: ’’ لا یسأ ل عن شیء أعطاہ‘‘ (مسند احمد) آپ ﷺ سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا جاتا تو آپ عطا فرماتے۔ اگر اس حوالہ سے مسلمان نبی کریم ﷺ کا اسوہ اور طریقہ کو اپنائیں تو اسلامی معاشرے میں کوئی فقیر اور محتاج اور دست سوال دراز کرنے والا نہ رہ جائے۔

3۔ رمضان اور قیام لیل:

رمضان المبارک میں راتوں کو عبادتوں ، تہجد میں گذارنا، دعاء وتضرع میں صرف کرنا، ذکر اور توجہ الی اللہ میں مصروف رہنایہ اس ماہ مبارک میں نبی کریم ﷺ کا خصوصی معمول تھا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فرماتی ہیں :

جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ اپنا تہبند باندھ لیتے (اپنی کمر کس لیتے ) رات کو خود جاگتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے۔

یہ تو نبی کریم کا رمضان کے آخری عشرہ کامعمول ہے، ورنہ نبی کریم ﷺ کا سارا رمضان المبارک اوراس کی راتیں اس طرح عبادت وراضت، ودعا وابتہال، تضرع اور خشوع وخضوع اور رجوع إلی اللہ میں گذرتی، آپ ﷺ نے رمضان کی راتوں کو دعاء واستغار، قیام لیل، تہجدمیں گذار کر امت کو یہ بتلادیا کہ وہ بھی رمضان المبارک کے مہینے کی قدر واہمیت کو جانیں اور پہلے سے ہی اس کی قدر دانی کریں اور خصوصا اس کے راتوں کو عبادتوں اور ریاضتوں ، استغار وابتہال اور تلاوت قرآن وذکر واوراد میں گذاریں ۔

4۔ رمضان اور روزہ :

رمضان المبارک میں ایک مسلمان کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ روزہ کے تربیتی کورس سے گذر واقعی ایک مکمل، اللہ کا محبوب اور چہیتا انسان بن جائے، اس سلسلے میں روزہ کے تمام آداب کو بجالائے اور رمضان کے احترام کو پیش نظر رکھے، اور اس کے ہر لمحہ اور لحظہ کو قیمتی بنائے، اگر ایک مسلمان رمضان المبارک کے ماہ کو مامور بہ معمولات میں گذارتا ہے، اس کی ہر گھڑی کو قیمتی بناتا ہے اوراس کے رات ودن سے صحیح استفادہ کرتا ہے تو وہ ایسے پاک وصاف وستھرا ہوجاتا ہے اور وہ گناہوں سے ایسے دھل جاتا ہے جیسے کپڑادھونے کی وجہ سے میل وکچیل سے پاک وصاف ہوجاتا ہے۔

روزہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ روزہ انسان کو اخلاقیات کو بگاڑنے اور انسانیت کو تباہ کرنے والے شہوات ولذات سے نکالتا ہے، انسان میں رحمت ورافت، فقراء ومساکین پر عطف ومہربانی، کا جذبہ بیدار کرتا ہے، چونکہ جب انسان بھوکا ہوگا تو اسے دوسروں کی بھوک اور پیاس کا احساس ہوگا، اس کے علاوہ روزہ انسان کو امانت دار بناتا ہے، چونکہ بھوک اور پیاس تو ایک مخفی اور پوشیدہ چیز ہے، اگر اس نے چھپ کر کچھ کھایا ہوتا تو اسے کوئی نہ دیکھتا، لیکن اس نے اللہ عزوجل کو حاضر وناظر سمجھ کر کھانے اور پینے سے رک گیا، تو جو شخص اللہ عزوجل کے ڈر سے کھانے اور پانی سے رک سکتا ہے، یہاں اللہ کے حضور امانت داری کا اظہار کرسکتا ہے تو وہ دیگر امور خیانت کیوں کر ے گا، جو شخص پورا رمضان اللہ عزوجل کو حاضر وناظر سمجھ کر شہوات ولذات سے بچتا ہے، اس کے لئے دیگر ماہ وشہور میں اپنے نفس کا محاسبہ کرنا آسان ہوجائے گا، جب روزہ دار رمضان بھر اس کے اعمال، اوقات، معمولات اور گھڑیوں کا پابند ہو کر گذارتا ہے، تو اس کی ساری زندگی بھی مرتب اور منظم اور بے ترتیبی اور بد نظمی سے پاک ہوگی، اس لئے روزہ وقت افطار سے ایک منٹ پہلے افطار نہیں کرتا، وقت سے پہلے روزہ شروع نہیں کرتا، سحر کے وقت سحر کرتا ہے، وقت پر تراویح ادا کرتا ہے، اس طرح اس کی زندگی بھی ڈسپلن اور تربیت کا نمونہ بن جاتی ہے۔

روزہ انسان میں عزم واستقلال اور اس کی قوت ارادی کو مضبوط کرتا ہے، چونکہ روزہ کی وجہ سے انسان ماکولات ومشروبات سے پرہیز کر کے بھوک اور پیاس پر صبر وضبط سے کام لیتا ہے، خصوصا موسم گرما میں جب کہ گرم اور تپتی ہوئی لو اور ہوائیں چلتی ہیں ، سورج کی تمازت اور شدت بھی انسان کی شدت پیاس کو بڑھادیتی ہے،تو ایسے وقت صرف اور صرف اس کا مصمم عزم وارادہ ہی اور اس کا اللہ عزوجل کے ساتھ تعلق ہی اس کو کھانے پینے سے روکے رہتا ہے۔

روزہہ کے نہ صرف اخروی فائدے ہیں ؛ بلکہ روزہ جسمانی فوائد کا بھی حامل ہے، چنانچہ حدیث کریم میں ہے :’’ صوموا تصحوا‘‘ (مسند احمد) روزہ رکھ کر صحت حاصل کرو اور ایک روایت میں ہے ’’سافروا تربحوا، وصوموا تصحوا‘‘ (مسند احمد) صبر کرو اور نفع حاصل کرو اور روزہ رکھ کر صحت حاصل کرو۔

روزہ انسان کی شہوات ولذات سے پاکی، مادہ اور معدہ کی گرد اس کی گھومتی ہوئے زندگی اور نفس کی صفائی وستھرائی کا کام کرتا ہے۔

روزہ کا سب سے بڑا اور عظیم مقصد یہ ہے کہ انسان میں تقوی اور اللہ کاڈر اور خوف آجائے، جس کو اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں یوں ارشاد فرمایا: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ‘‘ (اے ایمان والو! فرض کئے گئے تم پر روزے جیسا کہ فرض کئے گئے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ) (البقرۃ: ۱۸۳) یہاں اللہ عزوجل نے روزہ کی فرضیت کے ضمن میں جس تقوی کا ذکر کیا ہے وہی تقوی کا حصول روزہ کا مقصد اصلی ہے، تقوی کہتے ہیں : اللہ کے ڈر اور خوف اور اور ہر عمل، ہر وقت اور ہر ہر قدم پر اس کے استحضار کو، اور یہ احساس رہے کہ وہ ہمیں ہر جگہ اور ہر وقت دیکھ رہا ہے، یہ تقوی انسان کو اللہ عزوجل کے حرام کردہ اشیاء سے روکتا ہے، انسان کی زندگی میں تقوی کو بڑی اہمیت حاصل ہے، یہ اخلاص کی بنیاد، ریاکاری کا سم قاتل اور انسان کا ہردم اور ہر لحظہ، علانیہ وپوشیدہ نگران، یہ ایسان امین ہے جوکہیں خیانت کا ارتکاب نہیں کرتا، یہ خود اپنے اور دوسروں کے حوالہ سے صادق اور سچا ہوتا ہے، وہ ہر چیز کو تول کر اور وسطیت وخیریت اور استقامت اور اعتدال کے ساتھ متصف ہوتا ہے، جس سے وہ سرموانحراف نہیں کرتا، وہ سرحد کو پھلانگتااور حدود شرعیہ کو پامال نہیں کرتا، مطلوبہ منہج اور طریقہ کار سے وہ ہٹتا نہیں ، اس کو بے ترتیبی اور بدنظمی لاحق نہیں ہوتی، وہ ہر دم اللہ کانیک اور مقبول بندہ ہوتا ہے، جو اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے حساس اور اپنے کاروبار حیات کے حوالہ سے چست، امانت دار، حساس، حقوق کا پاسدار، سخی النفس ہوتا ہے۔

بہر حال رمضان میں نبی کریم ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ روزہ میں خوب سے تلاوت وتدبر فرماتے، آپ کی جود وسخا اور داد ودہش میں اضافہ ہوجاتا ہے، خصوصا آخری عشرہ اور ساری رمضان کو عبادت وریاضت اور مناجاۃ إلی اللہ میں گذارتے، اور روزہ کی حقیقت اوراس کے مصالح وفوائد کے حوالہ سے نہایت حساس ہوتے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close