عباداتمذہب

رمضان تربیت کا مہینہ ہے!

عظمت علی

 رمضان المبارک کی آمد سے لوگوں میں ایک خاص دینی جوش و خروش پیدا ہو جاتا ہے۔ نیک کام کا رکا ہوا سلسلہ پھر سے چل پڑتا ہے۔ لوگ دینی کاموں میں دلچسپی دکھانے لگتے ہیں اور قسم قسم کے مذہبی امور میں حصہ لینا شروع کر دیتے ہیں۔ احکام الٰہی کی پابندی ہونے لگتی ہے۔ دین کی مختلف فراموش کردہ ہدایات کا باب دوبارہ سے کھل جاتا ہے اور کئی ایک ایسے  نئے نیک افراد دیکھنے کو مل جاتے ہیں جن کی زیارت سال بھر میں بس اسی ماہ میں نصیب ہوتی ہے اور مہینہ کے اختتام پر وہ روپوش ہو جاتے ہیں، اب ڈھونڈنے سے ملیں گے، شاید نہ بھی ملیں۔ مسجدیں آباد ہو جاتی ہیں، گم شدہ نمازیوں کی واپسی ہو جاتی ہے۔ صفوں میں بڑی حد تک اضافہ ہو جاتا ہے، باقاعدگی سے نماز جماعت قائم ہونے لگتی ہے۔ مسجد کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے اور روزہ داروں کو افطاری کرائی جاتی ہے۔ پاس پڑوس اور غریبوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ مختلف اقسام کی غذا مہیا کی جاتی ہے اور  لوگوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ گھر سے باہر کا ماحول بھی کتنا سہانا سا ہو جاتا ہے، وقت نماز چھوٹے بڑے سب مسجد جاتے ہیں۔ ملاقات کے وقت اسلامی آئین پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ چھوٹے بڑوں کو سلام اور بڑے چھوٹوں کو دعا سے نوازتے ہیں۔ ساتھ ساتھ مسجد تک جاتے ہیں، بڑے بزرگ بچوں کو نماز سے متعلق آداب اور احکام بتلاتے ہیں، بچے بھی اپنے طور پر ان کو انجام دیتے ہیں۔

یہ رمضان کا مہینہ ہے، بچے شام تلک روزہ رکھتے ہیں۔ پورے دن کاروزہ رکھنے اور گرمی کی شدت کے سبب اگرچہ ہونٹ خشک ہو جائیں مگر پانی نہیں پیتے۔ بھلے ہی دن میں دس بار اماں جان سے وقت افطار کے بارے میں سوال کریں لیکن چپکے سے بھی روزہ نہیں کھولتے، معلوم ہے نا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ گھر والے ننھے روزہ دار کا جی بہلائے رکھتے ہیں، دوپہر ہو گئی ہے بس ذرا سا اور وقت باقی ہے، تھوڑا سا لیٹ جاو نیند آجائے گی، وقت آگے بڑھ جائے گا۔ بچہ سو جاتا ہے، مگر بھوک پیاس کی شدت سے زیادہ دیر تک نہیں سو پاتا۔ اب شام ہو چلی ہے، بس وقت ختم ہونے کو ہے، دیکھو اب سورج بھی ڈوبنے والا ہے چلو اب نماز کے لئے آمادہ ہو جاو۔ ابو جان کے ساتھ مسجد میں جانا، وضو صحیح سے کرنا، دیکھو منھ میں پانی ڈالتے خیال رکھنا پانی مت پی لینا بھولے سے۔ ۔ ۔ ۔ اب کرتا پائجامہ زیب تن کرلیا ہے۔ ابو جان کی انگلی پکڑ کر چھوٹے چھوٹے قدموں سے مسجد کی راہ کو چل پڑا۔ ننھے ننھے قدموں سے راستہ عبور کیا۔ ’’ابو جان نے کہا‘‘ بس بیٹا! دور نہیں ہے مسجد آ گئی۔ دیکھو جوتے یہیں کہیں کنارے پہ اتار دو اور کسی کے جوتوں پر پاوں نہ رکھنا، کہیں ان کو برا لگ گیا تو۔۔۔!’’دل کسی کا دکھانا بری بات ہے‘‘۔

چلو اب میرے ساتھ چلو وضو بھی تو کرنا ہے، یاد ہے نا ممی نے کیا کہا تھا۔۔۔؟ بچہ چلو میں پانی بھرتا ہے منھ میں ڈالتا ہے۔ امی کی بات یاد آگئی  کہ پانی مت پینا۔ وضو مکمل کرکے نمازیوں کی صف میں ابو جان کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے، اگر بچوں کے ساتھ رہا تو شرارت کرتا، اس لئے ابو جان کے ساتھ بیٹھ گیا ہے اور اس لئے بھی تاکہ قاعدہ سے ارکان نماز کو بجا لائے اور دیکھ دیکھ کر کچھ سیکھ جائے۔ ابو جان کے ساتھ نماز ادا کر کے سب سے مصافحہ کرتا ہے اور بزگوں سے دعائیں پاتا ہے۔ بچہ افطار کر کے روزہ مکمل کرتا ہے۔ گھر آ کر والدین اور بھائی بہن سے ڈھیر ساری دعاوں کے ساتھ ساتھ انعامات بھی پاتا ہے۔

اس مبارک ماہ میں ہر ایک بچوں کی تربیت میں کوشاں رہتا ہے چونکہ یہ بہترین مہینہ ہے تریبت کا۔ بچے بہت ہی شوق سے مسجد جاتے ہیں۔ قرآنی کلاسز میں شریک ہوتے ہیں۔ اس مقدس ماہ میں جگہ جگہ  قرآن کریم کا دور شروع ہو جاتا ہے، یہ کافی اہم کام ہے۔ اس ماہ میں ایک آیت کی تلاوت کا ثواب دیگر مہینوں کی نسبت پورے قرآن کے ثواب کے برابر ہے۔ ان کلاسوں میں خورد و کلاں سب جاتے ہیں۔ یہ کلاس بلا استثناء سب کے لئے رکھی جاتی ہے۔ اس میں ایک مولانا ہوتے ہیں جو سکھاتے ہیں کہ قرآن کو کیسے پڑھیں۔ سب باری باری تلاوت کرتے ہیں، جب غلطیاں کرتے ہیں تو ان کی تصیح کرائی جاتی ہے۔ اچھا پڑھتے ہیں تو دعائیں دی جاتی ہیں اور مہینہ کے آخری ایام میں انعامات سے بھی نوازا جاتا ہے۔ بچے انعام پاکر گھر سے بھی خوب دعائیں اور پیسہ پاتے ہیں۔

علاوہ ازیں اور بہت سارے مذہبی کام ہوتے ہیں، اس ماہ مبارک میں دین کی طرف سبھی مائل ہو جاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ دین کے رنگ میں رنگ جائیں۔ دین کی جانب لوگوں کا دل مائل ہو جاتا ہے۔ اس لئے تربیت اور اسلامی ماحول سازی کا بہت ہی مناسب موقع ہوتا ہے۔ ان دنوں اگر کسی سے بھول سے کوئی خطا سرزد ہو جاتی ہے تو عذر خواہی کا سہارا کے کر معاملہ کو فورا رفع دفع کرکے وہیں دفن کردیا جاتا ہے اور اخوت و برادری میں کوئی ہلکی سے دراڑ تک نہ آ پاتی۔ اس پر برکت ماہ میں غریبوں اور بے سہاروں پر خصوصی نظر کرم کی جاتی ہے، افطار کے وقت ان تک افطاری پہنچائی جاتی ہے اور بوقت ضرورت ان کی ضروریات بھی پوری کی جاتی ہیں۔ بہت سے ایسے حضرات بھی ہیں جو پورے ماہ کئی ایک گھرانوں کا خرچ چلاتے ہیں۔ محلہ اور رشتہ داروں کی خاطر بھی روزہ کشائی کا مکمل اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ افطاریاں بانٹنا دراصل نیکیوں کی تقسیم ہے، اس سے معاشرہ پر کافی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے ملاقات ہو جاتی ہے جوکہ صلح رحمی کی زمرے میں آتا ہے۔ روزہ داروں کا روزہ افطار ہو جاتا ہے، اس کا بھی کافی ثواب بیان کیا گیا ہے۔ عام دنوں میں کاروبار دنیا کے سبب جو فاصلے آڑے آ جاتے تھے تو روزہ کشائی کے وسیلہ یہ دوریاں، نزدیکیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

رمضان المبارک میں اسلامی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ اگر مکمل  نہیں تو بہتری یقینی طور پر آجاتی ہے۔ سلام و دعا کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ غریبوں کی مدد کی جانے لگتی ہے۔ دل اللہ سے قریب ہو جاتے ہیں۔ تربیت کا ماحول بن جاتا ہے، بچوں کی اسلامی تربیت کا۔ اگر یوں ہی یہ سلسلہ چلتا رہے تو وہ دن دور نہیں جب مسلمانوں کو اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت دوبارہ مل جائے گی اور انشاءاللہ مل کر رہے گی!

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close