عبادات

رمضان: دعا کی قبولیت کا مہینہ 

سیدہ تبسم منظور

دنیا کی ہر شئے اللہ رب العالمین کی تابع ہیں۔ اسی نےدن رات بنائے۔ دن ہفتے مہینے تقسیم کئے۔ویسے تو ہر دن اللہ کا ہی ہے لیکن اللہ تعالی نے کچھ دن کچھ راتیں کچھ مہینے مخصوص کیے ہیں جن میں عبادت کرنے کا ثواب زیادہ ہوتا ہے۔اور دعا قبول کی جاتی ہےاس میں سے ایک ماہ، ماہ رمضان ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔رمضان المبارک کا پورا مہینہ قبولیت دعا کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس لئے اس ماہ مقدس میں دعاؤں کا خوب اہتمام کرنا چاہئے۔ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی بندہ دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے یا اگر دعا قبول نا ہو تو اس کے بدلے کوئی دوسری نعمت دی جاتی ہے یا اس پر سے کوئی مصیبت ٹالی جاتی ہے یا پھر آخرت کے لئے ذخیرہ کردی جاتی ہے۔

   حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کے ہر شب و روز میں جہنم کے قیدی چھوڑے جاتے ہیں اور ہر مسلمان کی ہر شب وروز میں ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ 3 آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ ایک روزہ دار کی افطار کے وقت، دوسرے عادل بادشاہ کی اور تیسرے مظلوم کی (مسند احمد، ترمذی،  صحیح ابن حبان)

   جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگتا تو اس پر اللہ ناراض ہوتا ہے۔ ساری دنیا میں ایسا کوئی نہیں جو سوال نہ کرنے پر ناراض ہوتا ہو یہاں تک کہ والدین بھی بچوں کے ہر وقت مانگنے سے چڑھ جاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہے رحم کرنے والا ہے کہ جو بندہ اللہ سے نہ مانگے تو وہ اُس سے ناراض ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا نہ کرنا تکبر کی علامت ہے۔ اور مانگنے پر اللہ تعالی خوش ہوتا ہے اور بندہ جو مانگتا ہے اپنی رحمت سے اسے عطا کرتا ہے۔ دعا اللہ تعالی کی طرف سے ایک نعمت ہے۔اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو دعا کی دولت عطا فرمائی ہے اور دعا کی تلقین کی کہ مشکل کے وقت دفع بلا و آفات سے بچنے کے لیے دعا سے زیادہ کوئی چیز مؤثر نہیں۔

  رمضان المبارک دعا کی قبولیت ِکا مہینہ ہے اس لئے ہمیں دعا کی اہمیت اور اس کی عظمت کو سمجھنا چاہیے۔ قرآن و حدیث میں دعا مانگنے اور دعا کرنے کے طریقے و آداب ذکر کیا گیا ہے۔  دعاکی اہمیت اور عظمت پر قرآن میں مختلف مقامات میں اس کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا (سورۃ البقرہ۔ آیت نمبر 117) "جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ  میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں۔ اس لئے لوگوں کو چاہیے  کہ وہ میری مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان لائیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔ “ اللہ تعالی نے خوب عاجزی اور اہتما م کے ساتھ دعاکرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا (سورۃالاعراف آیت نمبر 55)”تم اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر بھی اورچپکے چپکے بھی۔ واقعی اللہ تعالی ان لوگوں کو نا پسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں۔ “اللہ تعالی ہر حال میں دعا قبول کرنے والا اور مسائل ومشکلات سے نجات دینے والا ہے جب بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ تعالی اس کی حاجت کو پور اکرتے ہیں۔ (سورۃ النمل ایت نمبر 62)”بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےکس اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے اور تکلیف دور کردیتا ہے، اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے۔

    ِ دعا سے متعلق قرآن میں کئی جگہ پر دعا مانگنے کا حکم دیا ہے۔دعا مومن کا خاص ہتھیار ہے۔ مفسرین وعلمافرماتے ہیں دعا کو ہتھیار سے تشبیہ  دینے کی خاص وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ جس طرح ہتھیار دشمن کے حملے سے بچاؤ کا ذریعہ ہے اسی طرح دعا بھی آفات سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ جب بندہ اس کے آگے مانگنے کے لئے ہاتھ پھیلا تاہے تو اللہ اپنے بندے کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرتا  کچھ نہ کچھ عطا فرمانے کا فیصلہ ضرور فرماتا ہے۔

   دعا درحقیقت انسان کے لئے امید کی کرن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرم والا ہے جو مانگنے والوں کو کبھی محروم نہیں کرتا اور بندہ کی ضرورت کو اپنی مصلحت کے مطابق ضرور عطا فرماتا ہے۔ وہ رحمان  ہے رحیم ہے قادر ہے۔ اپنے دست دعا کے لئے دراز کرو، اپنے دامنِ پھیلا کر دیکھو،  سچے دل سے اس کے درِ پر آواز دو،  وہ ضرور سنے گا فریاد، وہ قبول کرے گا دعا۔ اللہ کے در سے بندے کو کیا نہیں ملتا جو مانگنے کا طریقہ ہے اس طرح مانگو انسانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے اللہ نے بندوں کو دعا جیسی عظیم نعمت عطا فرما کر اور دعا کو اعظیم فرماکر اس کی عظمت کا اعلان فرمایا ۔حضور صلی اللہ علیہ والسلام نے  فرمایا اللہ کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بڑی نہیں۔ ہر بشر محتاج ہے اور زمین و آسمان کے سارے خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہیں۔ وہی مانگنے والوں کو عطا کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔” اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ہو” ( سورہ محمد،آیت 38)

    اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں، نعمتوں اور مغفرت کے وعدے کے ساتھ ایک بار پھر سایہ فگن ہے۔ مومن بندے اس مہینے کے ایک ایک لمحے کو قیمتی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مہینے کی خاص عبادت میں دعا شامل ہے۔ خاص طور پر افطاری کے وقت ہر گھر میں دعا کی ایک روحانی کیفیت دیکھنے ملتی ہے۔حدیث مبارکہ کے مطابق افطاری کا سامان سامنے رکھ کر دعا میں مشغول بندے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ فرشتوں پر فخر فرماتے ہیں، اسی طرح یہ وقت دعا کی قبولیت کا بھی خاص وقت ہوتا ہے۔ بندے کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ دعا مانگیں کیوں کہ اِس سے اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے۔ دعا کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ پر ہدایت دی ہے، ان آیات مبارکہ سے دعا کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ (سورۃ البقرۃ،  آیت نمبر186) میں اللہ تعالی فرماتا ہے” جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو کہہ دو کہ میں تو تمہارے پاس ہوں، جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close