عباداتمذہب

رمضان: عالم ناسوت سے عالم ملکوت کا سفر!

محمد صابر حسین ندوی

انسا ن حیوانات اور فرشتوں کی درمیا نی مخلوق ہے ،جسمیں بہتر طریق پر بہیمیت ،درندی ،بے دردگی کے ساتھ ساتھ ملکوتیت ،روحانیت و للہیت کا مادۃ بھی ودیعت کیا گیا اور اسی خوبی کی بنا اسے اس عالم آب و گل میں اشرف المخلوقات و خلیفۂ الہی کے اعزاز  سے نوازا گیا ،’’اذقال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الأرض خلیفۃ،قالوا أتجعلوا فیہا من یفسد فیھا و یسفک الدماء ،و نحن نسبح بحمدک ونقدس لک ،قال انی اعلم ما لا تعلمون ‘‘(بقرۃ:30)لیکن خلافت کے تقاضہ کو پورا کر نے کیلئے باری تعالی نے انسا نی طبائع کو ایک ’’روح‘‘نا می منفرد ویکتا اور محیر لعقول چیزسے بھی نوازا ،یہی وہ حل لا عقد ہے جسے وقت کے دانشور ومفکر حل نہ کر سکے ؛بالآخر اللہ نے فر ما یا :’’و یسئلونک عن الروح ،قل الروح من امر ربی‘‘ (بنی اسرائیل :85)،’’و نفخت فیہ من الروح ‘‘(حجر:29)اسی روح کی وجہ سے انسان منصب خلافت کی ذمہ داری ونگرانی اور حکومت و تولیت کا سزاوار ہے ،اورصفات عا لیہ و اخلاق عالیہ کا عکس قبول کرتا ہے ،جنکو ہم پاکی اور بلندی،بے نیاز ی و استغناء ،رحم و کرم ،ہمدرد ی و شفقت،صبر وحلم،قوت وقہر،صفائی وپاکیزگی اور امن و سالامتی کے نام سے تعبیر کر سکتے ہیں ،یہاں تک کہ نظا م قانون و علل اور اسباب سے پرے ملأاعلی کی سیر،آخرت کی فلاح و کا میا بی اور روحانیت کا منبع و سر چشمہ اسی(روح)کی عمدگی و صلاح اور تسویہ پر موقوف بتلا یا گیا ہے ،چنانچہ قرآن گویا ہے:’’ونفس و ما سوا ھا ،فألھمھا فجورھا وتقواھا ،قد أفلح من زکھا ‘‘،اس تصریح سے روحانی طبیعت کا طبیب یقین کے ساتھ کہ سکتا ہیکہ ؛ ظلم وجبر،گناہ و بد بختی ،مادیت ومعدہ پرستی اور عالم ناسوت کے قفس زریں میں محصوری روح انسانی کیلئے سم قاتل ہے۔

واقعتا قابل غور امر ہیکہ ؛پیغمبر فیضان نبوت کیلئے کس طرح استعداد پیدا کرتا ہے ،دنیا میں کب مبعوث ہو تا ہے ،اوراس سے معجزات کا ظہور ،انکار و مزاحمت پر مہا جرۃ الی اللہ کیونکر کرتا ہے ،اور اس کے متبعین و مطیعین کو فلاح و کا میا بی کا مزدہ اور جاحدین و عاندین کو جہنم کی خوشخبری کب سنا تا ہے ؛یہ تمام چیزیں منظم و قواعدو ترتیب کے مطابق ہی عمل میں آتی ہیں ،چناچہ قرآن مجید میں تیرہ مقام پر ’’سنۃ اللہ ‘‘کا لفظ آیا ہے ،لیکن انمیں سے زیا دہ تر اسی روحانی نظام و ترتیب کی طرف اشارہ ہے ؛پیغمبرانہ تاریخ کے انہیں اصول و قواعد میں یہ بھی ہیکہ ؛ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہونچ کر فیضان نبوت کے قبول و استعداد کا انظار کرتا ہے تو ایک مدت کے لئے انسانی دنیا سے کنارہ کش ہو کر ملکوتی خصائص میں جلوہ گر ہوتا ہے ،اسی وقت سے اس کے دل و دماغ میں وحی الہی کا سر چشمہ موجیں مارنے لگتا ہے ،خواہ وہ کوہ سینا کا پر جلال پیغمبر(حضرت موسیؑ)ہوں ،یا کوہ سعیر کا مقدس آنے والا (حضرت عیسیؑ)ہوں ،اسی طرح فاران کا ّتشیں شریعت والا پیغمبر (حضرت محمدؐ)،لہذا آپؐ نزول قرآن سے پہلے پورے ایک مہینہ غار حراء میں مصروف عبادت رہے بالآخر اسی اثناء میں ناموس اکبر ’’اقرأباسم ربک الذی خلق۔۔‘‘کا مزدۂ جانفزالیکر نمودار ہوا۔(دیکھئے:سیرۃالنبی5/218)

 اب جب کہ آپؐ خاتم المرسلین اور آپ کی امت توشۂ نبوت ہی کے خوشہ چیں ہیں ،ایسے میں اس ورثہ کا تحمل ،دعو ت و تبلیغ کی جفا کشی اور روح کو ملأاعلی وحظیرۃالقدس کے ہمسر کر نے ،اور’’ان کنتم تحبو ن اللہ فاتبعونی ،یحببکم اللہ ‘‘ا ور ’’من یطع اللہ و رسولہ فقد فاز فوزا عظیما ‘‘کی رو سے اسی نبوی ریا ضت ،بھوک و پیاس اور دل میں حرارت و گداز پیدا کرنے کیلئے ایک مہینہ کا انتخاب فر ما یا ؛جسے ’رمضان ‘(راء اور میم کے زبر کے ساتھ ،یعنی جھلسا دینے اور جلا دینے )کے نام سے یاد کیا جاتاہے ،یہ وہی مہینہ ہے جسمیں حراء کا واقعۂ مبارک پیش آیا اور قرآن مجید کانزول ہوا’’شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ‘‘اور آپ کو عالم کی رہنمائی اور انسا نوں کی دستگیری کیلئے دستور نامۂ الہی کا سب سے پہلا صفحہ عنایت کیا گیا۔

واقعہ یہ ہیکہ اسلام محض جسمانی ریا ضت وعبادت اور قوائے جسمیہ کو طاقت پہونچانے کا نام نہیں بلکہ اس کا مدار و محورقوائے شہوانیہ ،زخارف دنیا کی شیفتگی اور لذات حسیہ کے انہماک و توغل سے پیدا ہو نے والے روحانی امراض کا علاض و مداوی ہے ،جس کا حصول صحابہ کرام ؓکو دور مکی میں ظلم و ستم اور فاقہ کشی کے ذریعہ ہو جایا کرتا تھا ،مگر جب مدنی دور میں عمومی فراخی وکشادگی اور مختلف تداخل کا موسم آیا جن میں مرض کے پیدا ہو نے سے پیشتر پرہیز کی ضرورت تھی اور یہی وہ پرہیز چنچلاتی و تپتی دھوپ کے عالم (رمضان)میں سن ۲ ہجری میں فرض ہو نا تھا ،جسکی حکمت علامہ ابن قیم نے زادالمعاد میں یوں لکھتے ہیں ’’کہ مرغوبات شہوانیہ کا ترک کرنا نہایت مشکل کام تھا اس لئے روزہ وسط اسلام میں فرض کیا گیا ،جبکہ لوگ توحید ،نماز اور احکام قرآنی کے خوگر ہوگئے تھے ،اس لئے احکام کا اضافہ اسی زما نے کے لئے موزوں تھا ‘‘(دیکھئے:سیرۃالنبی5؍220،بحوالہ؛زادالمعاد)

روزے کی فرضیت اسلام کے تیسرے رکن کے طور پر ہوئی ہے ،عربی میں اس کو ’’صوم‘‘کہتے ہیں ،جس کے لفظی معنی رکنے اور چپ رہنے کے ہیں ،جبکہ اصطلاح میں نفسانی ہواو ہوس اور بہیمی خواہشوں سے اپنے آپ کو روکنے اور گمراہی و ضلالت کے ڈگمگا دینے والی ڈگر پہ ثابت قدم رہنے کا نام ہے ؛روزانہ میں جس کا مظہر کھانا،پینا،اور عورت ومرد کے جنسی کے جنسی تعلقات سے ایک مدت معینہ تک رکنا شرعا روزہ ہے،اللہ عزوجل نے اسکی فرضیت ’’یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم ،لعلکم تتقون‘‘سے کی ہے ،یعنی مسلمانوا:روزہ تم پر اس طرح فرض ہوا جس طرح تم سے پہلی قوموں پر فرض کیاگیا،تاکہ تم پر ہیزگار بنو،قرآن پاک کی اس تصریح اور نبی امی ؐکا مد عیانہ طورپر اعلان (کما کتب علی الذین من قبلکم )بتلاتا ہیکہ ؛روزہ کل مذاہب کے مجموعہ احکام کاایک جز رہا ہے ،اس دعوے کی تصدیق میں یورپ کے محقق ترین ماخذ(انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا)کے حوالہ سے علامہ سید سلیمان ندویؒسیرۃالنبی میں رقم طراز ہیں کہ:’’روزے کے اصول و طریق گو آ ب و ہوا ،قومیت و تہذیب اور گرد و پیش کے حالات کے اختلافات سے بہت کچھ مختلف ہیں ،لیکن بمشکل کسی ایسے مذہب کا ہم نام لے سکتے ہیں جس کے مذہبی نظام میں روزہ مطلقا تسلیم نہ کیا گیا ہو ‘‘آگے چل کر لکھتے ہیں ’’گو کہ روزہ ایک مذہبی رسم کی حیثیت سے ہر جگہ موجود ہے ‘‘۔

 ہندوستان کو سب سے زیا دہ قدامت کا دعوی ہے لیکن ہندوازم بھی روزہ و برت سے خالی نہیں ،لہذا ہر مہینہ کی گیا رہ ،بارہ کو بر ہمنوں پر ’’اکادشی‘‘کا روزہ ہے ،اس حساب سے سال میں چوبیس روزے ہو ئے ،بعض برہمن ’’کاتک‘‘کے مہینہ میں ہر دوشنبہ کو روزہ رکھتے ہیں ،ہندو ’’جو گی‘‘ چلہ کشی کرتے ہیں ـــ۔۔بلکہ ’’جینی‘‘دھرم میں روزے کے سخت شرائط کے ساتھ چالیس،چالیس دن تک کا روزہ ہوتا ہے ،گجرات و دکن میں ہر سال جینی کئی کئی ہفتہ کا روزہ رکھتے ہیں ،قدیم مصریوں کے یہاں بھی روزہ دیگر مذہبی تہواروں کے شمول میں نظر آتا ہے،یونان میں صرف عورتیں ’’تھسموفیریا‘‘کی تیسری تا ریخ کوروزے رکھتی تھیں ،پارسی مذہب میں گو عام پیرپر روزہ فرض نہیں لیکن ان کی الہامی کتاب کی ایک آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ روزے کا حکم ان کے یہاں موجود تھا خصوصا مذہبی پیشواوں کے لئے پنجسالہ روزہ ضروری تھا۔حتی کہ آسمانی کتب کے حاملین مذاہب بھی اس فریضہ سے مستثنی نہیں ،چنانچہ یہودیوں میں روزہ فرض ہے اور حضرت موسیؐہی کی پیروی میں چالیس دن کا روزہ رکھنا اچھاسمجھتے ہیں ،جن میں آپؐکو تورات دی گئی تھی۔عیسائی مذہب میں آکر بھی ہمکو روزوں سے دوچار ہو نا پڑتا ہے چنانچہ حضرت عیسیؐنے بھی چالیس دن تک روزہ رکھا ،حضرت یحیؐجوحضرت عیسیؐ کے گو پیش رو تھے وہ بھی روزے رکھتے تھے ۔اہل عرب بھی روزوں سے کچھ نہ کچھ ما نوس تھے ،مکہ کے قریشی جاہلیت کے دنوں میں عاشوراء (دسویں محرم)کو روزہ رکھتے تھے کہ ؛اس دن خانۂ کعبہ پر غلاف ڈالا جا تا تھا ۔ (دیکھئے:ارکان اربعہ 235،اور سیرۃ النبی بحوالہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا 5؍212)

بالائی تاریخی سطریں شاہد ہیں کہ گزشتہ انسانوں پر روزے نہ صرف فرض تھے بلکہ انمیں تشدد و جاں کشی کا بھی دور دورہ تھا ،لیکن قرآن کریم میں فرضیت صوم کے تعلق سے فرمان ’’لعلکم تتقون ‘‘اور ایک دوسری آیت میں مذکور ’’یرید اللہ بکم الیسرولا یرید بکم العسر‘‘جس کا واضح مطلب ہے کہ ؛روزے سے مراد اسلام میں اگلی امتوں و باطل فرقوں اوربت پرستوں کی انتہا پسندی ،غلو انگیزی اور امتیازی و جنسی تفاوت ،ایام و دنوں کی بد فالی کے شیووں سے قطع نظر بہیمیت کی جڑ کاٹنا ،مادیت اکھاڑ پھینکنا اور شہوانیت کا کچل دینا ہے ،نیز روح کو سر سبز ی و شادابی ،نورانیت و خشیت اور یاد الہی سے معمو ر کر دینا ہے ،اور نت نئے پروانے و انعامات امت پر برسانا ہے ،یہی وجہ ہیکہ رمضان میں صبح  کھا نے کو بھی برکت وثواب قرار دیا گیا ’’تسحروا فان فی السحور برکۃ(بخاری و مسلم)‘‘اور ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھنے نفل  (تراویح)جماعت کے ساتھ پڑھنے اور قرآن سننے سنانے اور اسکی سحر انگیزی سے لطف اندوز ہو نے کو پروانۂ مغفرت تک بتلایا ’’من صام رمضان ایما نا و احتسا با غفر لہ ما تقدم من ذنبہ و من قام رمضان ایما نا و احتسا با غفر لہ ما تقدم من ذنبہ ۔۔۔۔‘‘(بخاری و مسلم)،نیز اخیر عشرہ میں ’’اعتکاف‘‘سنت کفایہ قرار دے کر عزم و پا ئیداری کے ساتھ حضور الہی میں راز و نیازکر نے اور تمام قسموں کے حسنات اپنے نامۂ اعمال میں درج کرا نے کا موقع بتلا یا’’المعتکف ھو یعتکف الذنوب یجری لہ من الحسنات تعامل الحسنات کلھا‘‘(ابن ماجہ)،صدقات و فطرات کی برکات اور روح کے ساتھ مال کی پا کی و طہارت کا سبق یاد دلا کر دنیا وما فیہا سے بے رغبتی کا درس دیا چنانچہ خود آپؐ اس مہینہ میں خیرات و صدقات کرنے میں ہواوں سے بھی زیادہ تیزنظر آتے تھے ’’فاذا لقیہ جبرئیل (فی رمضان)کا ن أجود بالخیر من الریح المرسلۃ‘‘(بخاری و مسلم)۔

ساتھ ہی ساتھااللہ تبار ک و تعالی اس مہینہ میں پوری انہماکی و غرق انگیزی کے ساتھ کا ر بند رہنے اور دونوں ہاتھ سے ثواب لوٹنے کیلئے وہ ما حول و ذرائع بھی فراہم کئے ،لہذاان آزاد و بے خطر دشمنان انسان(شیاطین)کو پوری مہلت وچھوٹ کے با ونہ صرف قید و بند کر دیا جا تا ہے؛بلکہ جنت کے دروازے کھول دئے جا تے ہیں اور ہر رات بہت سے بندوں کو جن پر جہنم لازم ہوچکی تھی جنت میں داخل کیا جاتا ہے ’’اذا کان أول لیلۃ من شھر رمضان صفدت الشیاطین و مردۃ الجن و غلقت ابواب النار ،فلم یفتح منھا باب ،و فتحت ابواب الجنۃ فلم یغلق منھا باب ۔۔۔و للہ عتقاء من النار وذلک کل لیلۃ‘‘(ترمذی،ابن ماجہ)،مزید شیطانی نخوت و کبریائی کی ناک گرد آلود کرتے ہوئے اسی مہینہ میں ’’شب قدر‘‘کی وہ مبارک رات بھی عنا یت فرمائی جسکی تلاش و جستجو(اخیر عشرہ کی طاق راتوں )میں ہر مؤمن سر گرداں و محو رہتا ہے کیونکہ؛’’اذا کان لیلۃ القدر نزل جرئیل فی کبکۃ من الملئکۃیصلون علی کل عبد قائم یذکراللہ عزوجل‘‘(بیہقیفی شعبالایمان)،اور بالآخرانہی کا وشوں وجہد مسلسل کی بنا پر’’الصوم لی وانا اجزی بہ‘‘(بخاری و مسلم)کی سرفرازی سے سرفراز ہوتا ہے ۔

 آج ضرورت اس بات کی ہیکہ رمضان پر غالب آرہے تقلید و مراسم اور رواج کے عناصر کو دور کیا جائے ،جھوٹ،مکروفریب ،ریا کاری اور دھوکہ دھڑی ،نزع و انتشار اور بے جا لغو کاموں میں ملوث ہو نے سے بچاجا ئے ،مادی اغراض ومقاصد اور طبی و ظاہری فوائد کے حصول کیلئے روزے نہ رکھے جائیں بلکہ روحانی غذا،احتساب وایمان ،تقوی و پر ہیزگاری ،عفت و طہارت کے حصار میں اپنے آپ کو گھیر لیا جائے ،شب بیداری ،قیام اللیل کی پابندی،عبادت کا جشن ،تلاوت کاموسم ،ابرار ومتیقن اور عبا د و صالحین کے حق میں فصل بہار بنا دیا جائے ،تاکہ دینی جذبۂ و حمیت اور دینی شوق و احترام کلی طور پر نکھر جائے کیونکہ ایسوں ہی کیلئے آپؐ کا یہ نوید مسرت ہے’’کہ ابن آدم کا ہرعمل کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور نیکی دس گنا سے لیکر سات سوتک بڑھا دی جاتی ہے ،اللہ تعالی فرماتا ہیکہ سوائے روزے کہ ؛اس لئے کہ بیشک وہ خاص میرے لئے ہے ،اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا،میری خاطر اپنا کھانا اور اپنی خواہش نفس سب چھوڑ دیتا ہے ،رازہ دار کیلئے دو خوشیاں ہیں ،ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملا قات کے وقت اور بیشک روزہ دار کے منھ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک سے زیادہ اچھی اور پاکیزہ ہے‘‘(صحاح ستہ؛کتاب الصوم)۔

  اس کے لطائف تو عام ہیں سب پر

اپنے آپ کو اس کے قابل بنا ئیے تو سہی

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close