عباداتمذہب

روزہ میرے لئے ہے، اس لئے اس کی جزا میں ہی دوں گا

حفیظ نعمانی

اللہ رحمان و رحیم معاف فرمائے کہ پورا شعبان المعظم ہم اخبار والوں کا اسی میں گذر گیا کہ دوسرے رائونڈ کا حاصل کیا ہوگا اور تیسرے یا چوتھے رائونڈ کا حاصل کیا ہوگا؟ مہینہ ہر مسلمان کے لئے ماہِ مبارک کے استقبال کا ہے۔ ہر مسلمان کے گھر میں اس کی تیاری ہوتی ہے کہ موسم کا لحاظ کرتے ہوئے سحری میں روزہ داروں کو کیا کھلایا جائے اور افطار میں کیا کیا منگاکر رکھا جائے اور کیا کیا بنایا جائے؟

الیکشن کی مشغولیت بیشک گناہ نہیں ہے اور آج کا فیصلہ کہ ملک کا اختیار کیسے ہاتھوں میں دیا جائے ہماری ذمہ داری ہے۔ لیکن جب رمضان المبارک کے مقابلہ کی بات آتی ہے تو ایک مسلمان کی حیثیت سے صرف ایک روزہ کی پروردگار سے جو جزا ملے گی اس کے مقابلہ میں ایک شہر یا ایک صوبہ یا ایک ملک کیا دس حکومتوں کی بھی کوئی قیمت نہیں۔ ذرا تصور کیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے- ’’الصوم لی وانااجزی بہٖ‘‘ ترمذی کتاب الصوم باب ماجاء فی فصل الصوم حدیث نمبر (764)  یعنی روزہ میرے لئے ہے لہٰذا میں ہی اس کی جزا دوں گا‘‘

دوسرے اعمال کے بارے میں تو یہ فرما دیا کہ کسی عمل کا دس گنا اجر، کسی کا 70  گنا کسی کا 100  گنا اور صدقہ کا سات سو گنا اجر دیا جائے گا۔ لیکن روزہ کے بارے میں فرمایا کہ روزے کا اجر میں ہی دوں گا کیونکہ بندہ نے روزہ صرف میرے لئے رکھا ہے۔ عربی میں رمضان کے معنیٰ جھلسا دینے والا اور جلا دینے والا کے ہیں۔ علماء نے کہا ہے کہ جس سال روزے فرض ہوئے اس سال اس مہنہ میں شدید ترین جھلسا دینے والی گرمی تھی۔ (شاید اس ہفتہ جیسی) اس لئے اس مہینہ کا نام رمضان رکھ دیا۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اس مہینہ کو رمضان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اور اپنے فضل و کرم سے بندوں کے گناہوں کو جھلسا دیتے ہیں اور جلا دیتے ہیں۔

پاک پروردگار نے روزے کا تصور میں نہ اانے والا بدلہ کیوں رکھا اسے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ جو حضرات میری زندگی یا میری جیسی زندگی سے واقف ہیں ان میں میرے رشتہ دار ہوں یا احباب یا کسی بھی سبب سے آنے جانے والے وہ واقف ہیں کہ میں اپنے کمرہ میں تنہا رہتا ہوں میری ضرورتیں پوری کرنے والا یا والی اس وقت آتے ہیں جب میں گھنٹی بجاتا ہوں۔ گھر میں سب بڑوں اور چھوٹوں کو معلوم ہے کہ دن میں دس بجے سے ایک بجے تک کمرہ بند کرکے لکھتا ہوں اور چاہتاں ہو کہ اس درمیان کوئی نہ خود آئے اور نہ کسی کو آنے دے۔ اسی طرح ظہر کی نماز اور کھانے کے بعد سے عصر تک کوئی نہ آئے۔ میرے بستر کے قریب فریج رکھا ہے جس میں حیثیت کے مطابق پھل بھی رکھے ہوتے ہیں چھری اور پلیٹ بھی ہوتی ہے۔

رمضان المبارک میں نظام بدل جاتا ہے اور ظہر کے بعد بھی دو گھنٹہ آرام کے بعد افطار کے وقت تک تلاوت کرتا ہوں رب کریم قبول فرمائے کہ بس اتنا جہاد کرتا ہوں اگر چاہوں تو کھا بھی سکتا ہوں اور پی بھی سکتا ہوں لیکن اپنے پروردگار کے حکم کی وجہ سے آنکھ اٹھاکر دیکھتا بھی نہیں۔ اور نہ جانے کتنے بھائی ایسے ہیں جن کو میرے مقابلہ میں کہیں زیادہ سہولتیں حاصل ہیں لیکن لو ٗ دھوپ میں حلق میں کانٹے چبھتے رہتے ہیں اور وہ وقت پر نماز بھی پڑھتے ہیں اور روزے کو اپنے مولا کے حکم کے مطابق پورا کرتے ہیں۔ اور جن کی عمر 50  یا زیادہ ہوچکی ہے انہوں نے ہر مہینے کے روزے رکھے ہیں انہیں ہر طرح کے موسم کا جو اجر ملے گا اس کی طرف سے ہم نے غفلت کی اور الیکشن کی ہار جیت پر ہی پورے شعبان بحث کرتے رہے۔

اب تک جو ہوا اسے بھول کر اب صرف اس مبارک مہینے کی تیاری ہر مسلمان کو کرنا چاہئے جس کے بارے میں پیدا کرنے والے نے فرمایا ہے کہ ترجمہ: ہم نے جنات کو اور انسانوں کو صرف عبادت کے لئے پیدا کیا ہے لیکن دونوں کی عبادت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جنات اگر چاہیں بھی تو گناہ نہیں کرسکتے اور انسان سے پیدا کرنے والے نے کہہ دیا ہے کہ تم گناہ کرسکتے ہو مگر اس سے بچو۔ قرآن عظیم میں حضرت یوسف ؑ اور زلیخا کا پورا واقعہ لکھ دیا گیا ہے۔ زلیخا کے دل میں گناہ کا خیال آیا اور حضرت یوسف ؑ کے دل میں بھی گناہ کا خیال آنے کے باوجود اللہ کے خوف کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کیا اور فرمایا معاذ اللہ (میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں) یہ ہے وہ عبادت جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔ جو بدنصیب اسلام کے بارے میں نہیں جانتے وہ لوجہاد کی کہانیاں گاتے پھرتے ہیں جبکہ جہاد وہ جو حضرت یوسف ؑ نے کیا کہ گناہ بھی کرتے، دنیا کا انعام بھی پاتے اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ یہی جہاد ہر روزہ دار مسلمان پورے رمضان کے مہینے کرتا ہے کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے کھانا پینا تو کیا اور بھی بہت کچھ لیکن اس کا دل کہہ دیتا ہے کہ تیرا پروردگار دیکھ رہا ہے اور وہ اذان کی آواز آتے ہی افطار کرتا ہے۔ اس لئے کہ دیر کرنا بھی گناہ اور نافرمانی ہے۔

مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close