عباداتمذہب

روزے کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے!

الحاج حافظ محمد ہاشم قادری 

رمضان المبارک کا مہینہ اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جتنی شریعتیں یعنی امتیں آئیں ان سبھی پر روزے کی عبادت فرض تھی۔ کوئی امت بھی روزے کی عبادت سے خالی نہیں رہی ہے۔ غور کیجئے کہ آخر روزے میں کیا بات ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس عبادت کو ہر زمانے میں فرض کیا ہیْ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے کہ یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْ اکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَاکُتِبَ عَلیَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْلَعَلَّکُمْ تَتَقُوْن۔ترجمہ:اے ایمان والو!تم پر اس طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پر ہیزگار بن جاؤ۔(القرآن، سورۃ البقرہ، آیت 183)

اللہ تعالیٰ نے روزہ فرض کرنے کی وجہ بتائی کہ تم پرہیزگار اور پارسابن جاؤ۔اور یہ مثال بھی دی کہ صرف تم پر ہی روزہ فرض نہیں کیا ہے۔ یہ عبادت تمام پیغمبروں کی شریعت میں فرض رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ امت محمدی کے ایمانداروں کو مخاطب فرماکر انہیں حکم دے رہا ہے کہ روزہ رکھو۔روزہ کے معنی اللہ تعالیٰ کے فرمان کی بجا آوری کی خالص نیت کے ساتھ کھانے پینے اور جماع سے رک جانے کے ہیں ۔ اس سے فائدہ یہ ہے کہ انسان کانفس پاک و صاف ہوجاتاہے اور برے اخلاق سے انسان پاک ہوجاتاہے اور یہ بھی مقصد ہے کہ پچھلی امتوں سے امت محمدی کے ایمان دار پیچھے نہ رہ جائیں ۔روزہ رکھ کر اپنے اندر اللہ کا خوف پیدا کریں اور جو چیزیں اللہ اور رسول نے کرنے سے منع فرمائی ہیں ان سے ہر حال میں بچیں اور صرف رمضان المبارک میں ہی نہیں باقی اور دنوں میں بھی اپنے اندر خوفِ الٰہی کو برقرار رکھیں ۔

گناہوں سے بچتے رہیں روزے کا یہ بنیادی مقصد ہے:روزے کے بے شمار فوائد قرآن وحدیث میں موجود ہیں ۔رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: روزہ دوزخ سے بچنے کے لئے ایک ڈھال ہے اس لئے (روزہ دار) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں کرے اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں ۔(یہ الفاظ) دو مرتبہ(کہہ دے) ۔ اس کی ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منھ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے۔(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لئے چھوڑ دیتا ہے ۔روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور (دوسری) نیکیوں کا ثواب بھی اصلی نیکی سے دس گنا زیادہ ہوتا ہے۔ (بخاری شریف باب روزے کی فضیلت کا بیان ، حدیث نمبر1893)۔

 روزہ بغیر ریا والی عبادت ہے ۔ روزے دار کا حال اللہ اور بندے کے سوا کسی دوسرے پر نہیں کھل سکتا۔ جو شخص حقیقت میں روزے رکھتا ہے اور وہ چوری چھپے بھی کچھ نہیں کھاتاپیتا، سخت گرمی کی حالت میں بھی جبکہ پیاس سے زبان سوکھ جاتی ہے اور حلق سے آواز نہیں نکلتی، پانی کا ایک قطرہ حلق سے نیچے نہیں اتارتا، سخت بھوک کی حالت میں جبکہ آنکھوں میں دم آرہاہو،کوئی چیز کھانے کا ارادہ تک نہیں کرتا، روزے دار کو اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے پر ایمان کتنا مضبوط ہے ، کس قدر زبردست یقین کے ساتھ وہ جانتا ہے کہ اس کی کوئی حرکت ساری دنیا سے چھپ جائے گی مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپ سکتی۔ کیسا خوفِ خدا روزے دار کے دل میں ہے کہ بڑی بڑی تکلیفیں اٹھاتا ہے مگر صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے کوئی ایسا کام نہیں کرتا جو اس کے روزے کو توڑنے والا ہو۔ روزے دار کا اعتماد کس قدر مضبوط ہوتا ہے سزا و جزا پر یہ روزے کا فائدہ ہے۔

روزہ دار کے لیے اسپیشل جنت:مسلسل ایک مہینہ روزانہ پندرہ سے سولہ گھنٹے روزہ رکھ کر کڑی آزمائش میں پورا اترنے کے بعد روزے دار کے اندر یہ قابلیت پیدا ہوتی ہے کہ اللہ سے ڈر کر رہے اور دوسرے گناہوں سے بھی پرہیز کرے۔ یہی روزے کا اصل مقصد ہے ۔ لعلکم تتقون تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ اور جب پرہیز گار بن جاؤگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں مخصوص (Special)جنت میں جگہ عنایت فرمائے گا۔ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ’’ریان ‘‘کہتے ہیں ۔ قیامت کے دن اس دروازے سے صر ف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا کوئی اس میں سے نہیں داخل ہوگا۔ پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں ؟وہ کھڑے ہوجائیں گے ۔ان کے سوا اس کے اندر کوئی نہیں جا پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گاپھر اس سے کوئی اندر نہ جاسکے گا۔(بخاری باب روزہ دار کے لئے ریان نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان، حدیث نمبر 1895)

حضور نبی کریم  ﷺ نے روزے کے اصل مقصد کو بتایا اور مختلف طریقوں سے اس جانب توجہ دلائی اور سمجھایا ہے کہ مقصد سے غافل ہوکر بھوکا پیاسا رہنا کچھ فائدہ نہیں ۔ آپ  ﷺ فرماتے ہیں : من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجتہ فی ان یدع طعامہ وشرابہ ۔ترجمہ:جس کسی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا ہی نہ چھوڑا تو اس کا کھانا اور پانی چھڑا دینے کی اللہ کو کوئی حاجت نہیں ۔اس طرح کی اور احادیث بھی موجود ہیں ۔مطلب یہ ہے کہ محض بھوکا پیاسا رہنا عبادت نہیں اصل عبادت ہے خوفِ خدا تاکہ خوف خدا سے انسان اللہ کے حکم کی پیروی کرے خلاف ورزی بالکل نہ کرے اور محبت الٰہی میں ہر وہ کام کرے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیاہے۔ یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزے کا حکم دینے کے بعد فرمایا : لعلکم تتقون ،تم پر روزے فرض کئے گئے تاکہ تم متقی و پرہیز گار بن جاؤ۔اب جو حکم خداوندی کو سمجھے گا وہ اصل مقصد (Objective)کو پانے کی کوشش کرے گا اور جو نہ سمجھے گا وہ مقصد کو پا نہیں سکے گا اور جو مقصد کو سمجھ کر بھی جھوٹ وغیرہ سے نہ بچا ، عبادت سے غافل رہا ، خواہ مخواہ اپنے پیٹ کو بھوک ،پیاس کی تکلیف دی۔ اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ روزے کے مقصد کو پورا کرنے کی طرف رسول کریم ﷺ نے توجہ دلائی ،فرماتے ہیں :جس نے روزہ رکھا ایمان اور احتساب کے ساتھ اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئے گئے۔ (صحیح بخاری ، حدیث نمبر1900) ۔اللہ سے دعا ہے ہم سب کو روزے کا مقصد سمجھنے کی توفیق اور اس کے مقصد کو پانے کی بھی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین ثم آمین!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close