عبادات

زکوٰۃ-احکام و مسائل

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
زکوۃ کی فرضیت و اہمیت
نماز اور روزہ کی طرح مسلمانوں پر زکوٰۃ بھی فرض ہے۔ نماز اور روزہ جسمانی عبادتیں ہیں اور ہر مسلمان پر فرض ہیں، جب کہ زکوٰۃ مالی عبادت ہے اور صرف مال دار مسلمانوں پر فرض ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے والوں اور زکوٰۃ کے علاوہ بھی اپنا مال اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی قرآن پاک میں بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور ان کے لیے بارگاہِ الٰہی میں بہت اجرو انعام کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{هُدًى وَرَحْمَةً لِلْمُحْسِنِينَ * الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ * أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}(لقمان: 3۔5)
’’ہدایت اور رحمت نیکوکار لوگوں کے لیے ہے، جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے راہِ راست پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
اور جو لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں وہ اپنے لیے قیامت میں عذاب کا سامان کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جن لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، قیامت کے دن ان کا یہ مال ایک بہت زہریلے اور گنجے سانپ کی شکل میں نمودار ہوگا۔ وہ ان کی گردن میں لپٹ جائے گا اور ان کے دونوں جبڑوں کو نوچے گا اور کہے گا: ’’میں تیرا مال ہوں، میں تیرا مال ہوں۔‘‘ پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
{وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ ما بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَلِلَّهِ مِيراثُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بِما تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ}
(آل عمران: 180)
’’جن لوگوں کو اللّٰہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے۔ جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کر رہے ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔‘‘ (صحیح البخاری: 4565)
زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب کے کچھ قبیلوں نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کردیا تو خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان سے جنگ کا اعلان کیا اور فرمایا: ’’اللّٰہ کی قسم! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: 1400، صحیح مسلم: 20)
زکوۃ موجبِ تزکیہ بھی ہے اورغریبوں کی امداد کا ذریعہ بھی
زکوٰۃ کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس سے تزکیہ حاصل ہوتا ہے۔ مال کا بھی اور دل کا بھی۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک ہونے اور بڑھنے کے ہیں۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے آدمی کا بقیہ مال پاک ہوجاتا ہے۔ اس کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے دل میں مال کی محبت کم ہوتی اور اللّٰہ کی محبت بڑھتی ہے۔ اس کی مرضی کے کام انجام دینے اور اس کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے غریبوں کی امداد ہوتی ہے۔ سماج میں بھائی چارہ، ایثار، ہم دردی اور غم گساری کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ امیروں اور غریبوں کے درمیان خلیج کم ہوتی اور باہمی تعاون بڑھتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلامی معاشیات کا بنیادی اصول اور اہم ترین وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس میں مال صرف مال داروں کے درمیان محصور ہو کر نہیں رہتا، بلکہ وہ غریبوں تک بھی پہنچتا ہے اور اس کی گردش پورے سماج میں جاری رہتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ }(الحشر: 7)
’’تاکہ وہ تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔‘‘
کن چیزوں پر زکوۃ عائد ہوتی ہے؟
زکوٰۃ کی فرضیت درج ذیل چیزوں پر ہے:
(1) سونا، چاندی اور ان کی مصنوعات، جیسے زیورات، برتن، سکّے وغیرہ۔
(2) نقد رقم، خواہ کرنسی کی شکل میں ہو یا سرٹیفکیٹ، بانڈ وغیرہ کی شکل میں۔
(3) مالِ تجارت۔
(4) تجارت کی غرض سے پالے گئے مویشی۔
(5) زمین کی پیداوار، غلّہ ہو یا پھل، ترکاری وغیرہ۔ اس پر عائد ہونے والی زکوٰۃ کو اصطلاح میں عُشر کہتے ہیں۔
(6) معدنیات۔
نصاب اور صاحب نصاب
مال کی جس مقدار پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے اسے نصاب اور جس شخص کے پاس نصاب کے برابر مال ہو اسے صاحبِ نصاب کہا جاتا ہے۔
سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے۔ نقد رقم کا نصاب متعین کرنے کے لیے علماء نے چاندی کے نصاب کو معیار مانا ہے۔ یعنی اگر کسی کے پاس اتنی رقم ہے جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اسے صاحبِ نصاب مانا جائے گا۔
کسی شخص کے پاس کچھ سونا، کچھ چاندی اور کچھ نقد رقم ہے (کوئی نصاب مکمل نہیں ہے) اگر ان کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر پہنچ جاتی ہے تو اسے صاحب نصاب مانا جائے گا اور اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
مقدار زکوۃ
سونا، چاندی، نقد رقم اور مالِ تجارت کی زکوٰۃ میں چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فی صد نکالنا فرض ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص کے پاس چالیس ہزار روپے ہیں تو اسے ان کی زکوٰۃ کے طور پر ایک ہزار روپے نکالنے ہوں گے۔
زکوۃ کا وجوب اس مال پر ہے جو بنیادی ضروریات سے زائد ہو
وجوب زکوٰۃ کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ آدمی کے پاس جو مال ہے وہ اس کی بنیادی ضروریات سے زائد ہو۔ بنیادی ضروریات میں جو امور قابل اعتبار ہیں وہ درجِ ذیل ہیں:
(1) اپنے اور اپنے اہل و عیال نیز زیرِ کفالت رشتہ داروں سے متعلق روز مرہ کے اخراجات۔
(2) رہائشی مکان، کپڑے، سواری، صنعتی آلات، مشینیں اور دیگر وسائلِ رزق، جن کے ذریعے کوئی شخص اپنی روزی کماتا ہے۔
(3) بنیادی ضروریات ہر زمانہ، علاقہ اور افراد کے حالات اور ان کے معیارِ زندگی کی روشنی میں طے ہوں گی۔
(4) صرف سال بھر کے اخراجات کا اعتبار ہوگا۔
(نئے مسائل اور اسلامک فقہ اکیڈی کے فیصلہ، ص: 53)
زکوۃ کا وجوب کب؟
کسی مال پر زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے دوسری شرط یہ ہے کہ اس پر ایک سال گزر گیا ہو، یعنی وہ اس کے مالک کے پاس ایک سال تک رہا ہو۔ اس سلسلے میں چند باتیں یار رکھنے کی ہیں:
(1) اگر شروع سال میں اتنی رقم تھی جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی تھی، لیکن سال پورا ہونے سے پہلے وہ ختم ہوگئی تو اس پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوگی۔
(2) اگر سال کے شروع میں زکوٰۃ واجب ہونے کے بہ قدر رقم تھی، درمیان میں کم ہوگئی، لیکن سال کے آخر میں پھر اتنی رقم ہوگئی جس پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے تو درمیان کے چند مہینوں میں رقم کم ہونے سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی۔
(3) اگر کسی شخص کے پاس مثلاً سال کے شروع میں پچاس ہزار روپے تھے اور سال کے آخر میں اس کے پاس ستر ہزار روپے ہوگئے تو اسے ستر ہزار روپے کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
(4) سال کا آغاز اس وقت سے شمار کیا جائے گا جب سے مالکِ مال صاحبِ نصاب ہوا ہو۔
کن سامانوں پر زکوۃ ہے اور کن پر نہیں؟
(1) اگر کوئی شخص کسی کارخانہ کا مالک ہے تو اس کی ان مصنوعات پر بھی زکوٰۃ عائد ہوگی جو ابھی فروخت نہیں ہوئی ہیں اور جن کا ابھی اسٹاک موجود ہے۔
(2) کارخانہ میں لگی ہوئی مشینوں اور سامان تیار کرنے کے آلات پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
(3) اگر کوئی شخص کسی دُکان کا مالک ہے تو اس میں موجود تمام اموالِ تجارت پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
(4) ذاتی استعمال کی چیزوں مثلاً فرنیچر، برتن، کپڑوں وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
(5) مکان، زمین، جائیداد اگر تجارتی مقصد سے نہ ہوں تو اُن پر بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔
(6) کسی شخص کے پاس کئی مکان ہوں اور وہ اُنہیں کرایہ پر اُٹھاتا ہو یا کچھ دوسری چیزیں ہوں جنہیں کرایہ پر چلاتا ہو تو اُن پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ ہاں بہ طور کرایہ حاصل ہونے والی رقم اگر نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ عائد ہوگی۔
زیورات پر زکوۃ
عورتیں زیب و زینت کے لیے سونے چاندی کے جو زیورات بنوا لیتی ہیں اُن پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں علماء کا اختلاف ہے۔ یہ اختلاف صحابہ و تابعین کے زمانے میں بھی تھا۔ فقہائے اربعہ میں امام مالک، امام شافعی اور امام احمد استعمالی زیورات میں زکوٰۃ کے عدم وجوب کے قائل ہیں۔ یہ حضرات آثار صحابہ سے استدلال کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ، حضرت عبد اللّٰہ بن عمرؓ، حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ اور حضرت جابر بن عبد اللّٰہؓ سے مروی ہے کہ یہ حضرات اپنے زیر کفالت بچیوں کے زیورات پر زکوٰۃ نہیں نکالتے تھے۔ (موطا امام مالک، سنن بیہقی)
امام ابو حنیفہؓ کے نزدیک زیورات پر زکوٰۃ نکالنی واجب ہے۔ ان کا استدلال درج ذیل احادیث سے ہے:
(1) حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ آپؐ نے میرے ہاتھوں میں چاندی کے چھلّے (بغیر نگینے کی انگوٹھیاں) دیکھیں تو فرمایا: ’’یہ کیا ہے عائشہ؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’اے اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں نے انہیں آپ کے لیے زینت اختیار کرنے کے مقصد سے پہنا ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’نہیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’جہنم کی آگ سے محفوظ رہنے کے لیے ان کی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 1565)
(2) ایک عورت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی ایک لڑکی کے ساتھ حاضر ہوئی۔ اس لڑکی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے۔ آں حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تمہیں اچھا لگے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ روز قیامت اس کے بدلے جہنم کی آگ کے کنگن پہنائے؟‘‘ (سنن ابوداؤد: 9742، جامع ترمذی: 637)
(3) حضرت اُمِّ سلمہؓ بیان کرتی ہیں: ’’میں سونے کے زیورات پہنا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ میں نے اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ’’کیا ان کا شمار بھی اس مال میں ہوگا جس کے جمع کرنے پر عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ آں حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر ان کی زکوٰۃ ادا کردی جائے تو ان کا شمار ایسے مال میں نہیں ہوگا۔ (سنن ابوداؤد: 1964)
ان احادیث سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ زیورات کی زکوٰۃ نکالنی واجب ہے۔ اسی بنا پر امام خطابیؒ نے اختلافِ فقہاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی رائے اِن الفاظ میں پیش کی ہے:
’’کتاب اللّٰہ میں مال و دولت جمع کرنے اور اللّٰہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے پر عذاب کی خبر دی گئی ہے۔ (التوبۃ: 224) اس سے ان لوگوں کے قول کو تقویت ملتی ہے جو زیورات پر زکوٰۃ کے وجوب کے قائل ہیں اور روایات سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے زیورات پر زکوٰۃ ساقط کیا ہے اُنہوں نے استعمال کی چیزوں پر زکوٰۃ کے عدمِ وجوب پر قیاس کیا ہے۔ ان کی تائید میں چند آثارِ صحابہ ہیں۔ اس لیے احتیاط کا تقاضا ہے کہ زیورات پر زکوٰۃ ادا کی جائے۔‘‘
(بہ حوالہ فقہ السنۃ، السید سابق، دارلکتاب العربی، بیروت، 1983: 1/343)
ایک بات یہ واضح رہنی چاہیے کہ اگر سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کا زیور ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ اسی طرح ہیرے جواہرات پر بھی زکوٰۃ نہیں ہے اگر وہ ذاتی استعمال کے لیے ہوں (اگر وہ تجارت کے لیے ہوں گے تو ان پر زکوٰۃ عائد ہوگی) ۔
سونے چاندی کے یہ زیورات خواہ عورتوں کے زیر استعمال ہوں یا لاکر (Locker) میں رکھے ہوں، دونوں صورتوں میں ان کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
پروویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ
پروویڈنٹ فنڈ (تنخواہ سے لازمی طور پر وضع ہونے والی رقم) جب تک اس پر قبضہ نہ ہوجائے، اس کی زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔ جب یہ رقم وصول ہوجائے اور بہ قدر نصاب ہو اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
بعض اوقات کچھ لوگ قانون انکم ٹیکس کی زد سے بچنے یا دیگر مصالح کی خاطر اختیاری طور پر اپنی تنخواہ سے کچھ زائد رقم وضع کراکر پی. ایف. (P.F.) جمع کراتے ہیں۔ یہ رقم اگر قدر نصاب کو پہنچ جائے تو سال بہ سال زکوٰۃ ادا کرنی پڑے گی۔ اس اختیاری وضع کرائی ہوئی رقم کی حیثیت ودیعت کی ہے اور مال ودیعت پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔
(نئے مسائل اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے فیصلے، ص: 16)
شیئرز پر زکوۃ
موجودہ زمانے میں شیرز کی خرید و فروخت عام ہوگئی ہے۔ یہ شیرز مالِ تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اُن کی قیمت میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ شیرز کی خریداری پر ایک سال گزر گیا ہو تو ان پر بھی زکوٰۃ عائد ہوگی۔ اور زکوٰۃ نکالتے وقت مارکیٹ میں ان کی جو قیمت ہوگی اس کا اعتبار کیا جائے گا۔
قرض پر زکوۃ
جس شخص کے اوپر زکوٰۃ واجب تھی، اس نے وہ رقم کسی کو بطور قرض دے دی تو اس کی زکوٰۃ بھی اس کو (یعنی قرض دینے والے کو) ادا کرنی ہوگی۔ البتہ اس کی ادائیگی اس پر اُس وقت واجب ہوگی جب و ہ قرض اُسے واپس مل جائے۔ جتنے سال کے بعد قرض کی وہ رقم اسے واپس ملے گی اس کا حساب کرکے اس پوری مدت کی زکوٰۃ نکالنی ہوگی۔
مکانوں اور پلاٹوں کی تجارت پر زکوۃ
کسی شخص کی ملکیت میں ایک سے زائد مکان یا پلاٹ ہوں، لیکن اس کی نیت ان کی تجارت کی نہ ہو تو ان پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔ مکان یا پلاٹ خریدتے وقت خریدار کی نیت یہ ہو کہ وہ اُنہیں آئندہ فروخت کرکے منافع کمائے گا تو ان کی حیثیت مالِ تجارت کی ہوجائے گی اور ان پر زکوٰۃ عائد ہوگی۔
چند قابل ذکر مسائل
1. زکوٰۃ کا وجوب نصابِ زکوٰۃ پر ایک سال گزرنے کے بعد ہوتا ہے، لیکن کوئی شخص چاہے تو پورا سال گزرنے سے پہلے بھی اس کی زکوٰۃ ادا کرسکتا ہے۔
2. ادائیگی زکوٰۃ کے لیے کوئی مہینہ بھی خاص کیا جاسکتا ہے۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ رمضان المبارک میں اپنی زکوٰۃ نکالا کرتے تھے۔
3. زکوٰۃ ادا ہونے کے لیے اس کی نیت ضروری ہے۔ کوئی شخص بغیر زکوٰۃ کی نیت کے چاہے جتنا صدقہ و خیرات کردے، اس سے اس کے ذمہ لازم زکوٰۃ ادا نہ سمجھی جائے گی۔
4. زکوٰۃ کی پوری رقم کو فوراً خرچ کرنا ضروری نہیں ہے۔ کوئی شخص زکوٰۃ کی رقم کو علےٰحدہ کرلے اور یہ ارادہ کرلے کہ اس میں سے تھوڑا تھوڑا غریبوں پر خرچ کرتا رہے گا تو یہ جائز ہے۔
5. زکوٰۃ کی ادائیگی چھپا کر بھی کی جاسکتی ہے اور اعلانیہ بھی۔ فقہاء نے اعلانیہ ادائیگی کو بہتر قرار دیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس شخص کو زکوٰۃ دی جائے اس کے نام کا اعلان کر دیا جائے۔
6. جس شخص کو زکوٰۃ کی رقم دی جائے اُسے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوٰۃ کا پیسہ ہے، بلکہ نہ بتانا بہتر ہے۔ وہ رقم کسی بھی نام سے دی جاسکتی ہے۔
7. زکوٰۃ میں نقد روپیہ بھی دیا جاسکتا ہے اور کوئی سامان بھی، مثلاً کپڑا، غلّہ، کتابیں وغیرہ۔
8. کسی شخص کو زکوٰۃ کی رقم انعام، تحفہ یا قرض کے نام سے دی اور دل میں زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت کر لی تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
9. اگر زکوٰۃ دینے والے کا کسی شخص پر قرض ہو اور وہ زکوٰۃ کا مستحق ہو تو زکوٰۃ میں قرض کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ اسے چاہیے کہ پہلے اسے زکوٰۃ دے پھر اس سے اپنا قرض واپس لے لے۔
01. اِن لوگوں کو زکوٰۃ دینی جائز نہیں ہے: ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی، بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسہ نواسی وغیرہ۔
11. شوہر اپنی بیوی کو او ربیوی اپنے شوہر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی۔
21. زکوٰۃ کی رقم مسجد کی تعمیر میں نہیں لگائی جاسکتی۔
پیداوار کی زکوۃ (عُشر)
زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں کی جو زکوٰۃ دی جاتی ہے اُسے عُشر کہتے ہیں۔ ان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو زمین سے اُگتی ہے اور اس سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔ مثلاً ہر قسم کے غلّے، پھل، میوے، ترکاریاں وغیرہ۔ اس کے لیے کوئی نصاب مقرر نہیں ہے، بلکہ جو کچھ پیدا ہو اور جتنا ہو اس میں سے عُشر نکالنا ہوگا۔ (یہ امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کے مطابق ہے۔ امام شافعیؒ ، امام احمدؒ اور صاحبین (امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ ) کے نزدیک پانچ وسق یعنی تقریباً 52 مَن سے کم پیداوار پر عُشر نہیں ہے اور ایسی چیزوں پر بھی عُشر نہیں ہے جو ایک سال تک نہ باقی رہ سکتی ہوں)
عُشر کے چند مسائل 
1. کسی کھیت میں جتنی بار پیداوار ہوگی اتنی بار عُشر نکالنا ہوگا۔
2. اگر پیداوار بغیر آبپاشی کے (بارش کے پانی سے یا بغیر پانی کے) ہوئی ہے تو اس کا دسواں حصہ نکالنا ہوگا اور اگر آبپاشی کے ذریعے ہوئی ہے تو بیسواں حصہ۔ اسے ’نصف عُشر‘ کہتے ہیں۔
3. پوری پیداوار پر عُشر واجب ہے۔ بوائی، سینچائی، مزدوری اور بیج وغیرہ کا خرچ وضع نہیں کیا جائے گا۔
4. جو چیز پیدا ہوئی ہے اسے بھی عُشر میں نکالا جاسکتا ہے اور اس کی قیمت بھی ادا کی جا سکتی ہے۔
زکوۃ کے مستحقین
زکوٰۃ کن لوگوں کو دینی چاہیے؟ اس کا صریح بیان قرآن کریم میں موجود ہے۔ اللّٰہ تعالی کا ارشاد ہے:
{إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ} (التوبہ: 60)
’’(فرض) صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو، نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور اللّٰہ کی راہ میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللّٰہ کی طرف سے اور اللّٰہ سب کچھ جاننے والا ہے اور دانا و بینا ہے۔‘‘
اس آیت میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں:
(1) فقراء: فقیر سے مراد وہ شخص ہے جو بالکل خالی ہاتھ نہ ہو، لیکن وہ اپنی ضروریات کے لیے دوسرے کا محتاج ہو۔
(2) مساکین: مسکین وہ شخص ہے جو بالکل تہی دست ہو اور روزی کمانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔ مثلاً معذور، بوڑھا، بے سہارا، یتیم، بیوہ وغیرہ۔
(3) عاملین: زکوٰۃ کی وصولی کرنے والے۔
(4) جن کی تالیف قلب مطلوب ہے: یعنی وہ لوگ جن کو اسلام کی طرف مائل کرنے یا اسلام پر قائم رکھنے کے لیے یا دشمنوں کے فتنوں سے بچنے کے لیے بہ طور امداد کچھ رقم دینے کی ضرورت پیش آئے۔
(5) وہ لوگ جن کی گردنیں دوسروں کے قبضہ میں ہوں :
ماضی میں ان سے مراد غلام لیے جاتے تھے۔ انہیں آزاد کرانے کے لیے زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی تھی۔ موجودہ دور میں مسلم نوجوان بڑے پیمانے پر ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ جیلوں میں بند اور مقدمات سے دوچار ہیں۔ ان کی رہائی کے لیے قانونی چارہ جوئی کرنا، ان کے مقدمات کی پیروی کرنا، انہیں قید و بند سے چھٹکارا دلانا اوران کی فلاح و بہبود کے دیگر کام انجام دینا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اس میں زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے۔
(6) قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگ
(7) اللّٰہ کی راہ میں: اس مصرف کی تعبیر و تشریح میں تین قسم کی آرا پائی جاتی ہیں: علما کی اکثریت تضییق (یعنی اس مد کو محدود تر کرنے) کی قائل ہے۔ وہ فی سبیل اللّٰہ کو عسکری جہاد کے معنی میں لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اول سے اب تک تمام محدثین، مفسرین اور فقہا سے یہی منقول ہے۔ گویا اس پر امت کا اجماع ہے۔ بعض علما تعمیم (یعنی اس مد کو وسیع تر کرنے) کے قائل ہیں۔ وہ اس سے تمام وجوہِ خیر مراد لیتے ہیں اور ہر نیک کام کو زکوٰۃ کا مصرف قرار دیتے ہیں۔ علما کا ایک تیسرا طبقہ ہے جس نے بین بین کی راہ اختیار کی ہے۔ وہ نہ تو ایسی تعمیم کا قائل ہے جو دین کے نام پر ہونے والے ہر کام کو محیط ہو اور نہ اس کے نزدیک ایسی تنگی ہے کہ اس مصرف کے تحت مالِ زکوٰۃ کو قتال کے علاوہ احیاء دین کے کسی کام پر خرچ نہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کے نزدیک جہاد بالسلاح کا مقصود اعلائے کلمۃ اللّٰہ ہے اور یہ جس طرح قتال سے ہوتا ہے اسی طرح داعیوں کی تیاری اور ان کی مدد اور تعاون کے ذریعے دعوت الی اللّٰہ اور اشاعتِ دین سے بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا دونوں طریقے جہاد ہی کے ہیں۔ اسلام پر آج اس کے دشمنوں کی طرف سے فکری اور عقائدی حملے ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں انتہائی ضروری ہے کہ ان کا مقابلہ انہی ہتھیاروں سے کیا جائے جن سے وہ اسلام پر حملے کرتے ہیں۔ اس رائے کے حاملین فی سبیل اللّٰہ کو جہاد فی سبیل اللّٰہ کے معنی میں لیتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک جہاد اپنے درجات اور مراحل کے اعتبار سے عسکری نوعیت کا بھی ہوتا ہے نظری و فکری بھی۔ غرض خالصتاً اعلائے کلمۃ اللّٰہ کے مقصد سے کی گئی ہر جدوجہد پر فی سبیل اللّٰہ کا اطلاق ہوگا۔
(8) مسافر: اس سے مراد وہ شخص ہے جسے راستے میں کسی حادثہ کی وجہ سے سفر خرچ کی ضرورت پیش آگئی ہو، خواہ وہ گھر کا مال دار ہی کیوں نہ ہو۔
زکوۃ کا اجتماعی نظم مطلوب ہے
تمام اسلامی عبادات میں اجتماعیت کی روح پائی جاتی ہے۔ پنج وقتہ نمازیں فرض کی گئیں تو ساتھ ہی ان کی باجماعت ادائیگی کی بھی تاکید کی گئی۔ روزے فرض کیے گئے تو پوری اُمت کو متعین دنوں میں ایک ساتھ روزے رکھنے کا حکم دیا گیا۔ حج فرض کیا گیا تو اس کے لیے ایک خاص مقام پر ایک خاص مہینہ اور وقت مقرر کیا گیا اور تمام لوگوں کے لیے اس کی پابندی لازم قرار دی گئی۔ اگر ہر شخص کو اجازت ہوتی کہ وہ تنہا جب چاہے نماز پڑھ لے، جب چاہے روزہ رکھ لے، اور جب چاہے حج آئے تو ان عبادتوں کی ادائیگی کا وہ اہتمام نہ ہوتا جو ہم دیکھتے ہیں۔ اجتماعیت کی یہی روح زکوٰۃ کے معاملے میں بھی پائی جاتی ہے۔ قرآن پاک میں نماز اور زکوٰۃ کا ذکر بہت سے مقامات پر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ اس سے بھی ان کی اجتماعی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ یعنی جس طرح نماز کی ادائیگی جماعت کے ساتھ فرض ہے اسی طرح زکوٰۃ کی ادائیگی اور تقسیم بھی اجتماعی طور پر ہونی چاہیے۔ کسی مسلمان کا انفرادی طور سے زکوٰۃ ادا کرنا ایسا ہی ہے جیسے بغیر جماعت کے نماز ادا کرنا۔ ادائیگی زکوٰۃ کے حکم سے ساتھ مختلف احتیاطی تدایبر بتائی گئی ہیں۔ مثلاً زکوٰۃ دے کر کسی پر احسان نہ جتایا جائے، اس سے بدلہ یا شکر کی خواہش نہ رکھی جائے، نمود و نمائش اور ریاکاری سے بچا جائے۔ وغیرہ۔ زکوٰۃ کا اجتماعی نظام انسان کو ان تمام خرابیوں سے بچاتا ہے۔
موجودہ دور میں مسلمانوں کو عام طور پر زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کی اہمیت کا احساس نہیں ہے۔ اسی لیے ان کی طرف سے اس کے قیام کی شعوری کوشش بھی نہیں ہوتی۔ جو خوش حال مسلمان ایک دینی فریضہ سمجھ کر زکوٰۃ ادا کرنا چاہتے ہیں ان کی ایک بڑی تعداد اپنی دولت کا ٹھیک ٹھیک حساب کرکے زکوٰۃ نہیں نکالتی اور جو پورا پورا حساب کرکے زکوٰۃ نکالتے ہیں ان کی اکثریت اس رقم کو اپنی صواب دید پر خرچ کرلیتی ہے۔ ان کی طرف سے یہ کوشش نہیں ہوتی کہ منظم طریقے سے زکوٰۃ کی رقمیں جمع کی جائیں اور منصوبہ بندی کے ساتھ متعینہ مصارف پر انہیں خرچ کیا جائے۔
مولانا ابو الکلام آزاد نے زکوٰۃ کے اجتماعی نظم پر بہت زور دیا ہے اور اسے شرعی طور پر مطلوب و مستحسن قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں:
’’اگر مسلمان آج اور کچھ نہ کریں، صرف زکوٰۃ کا معاملہ ہی احکامِ قرآن کے مطابق درست کرلیں تو بغیر کسی تامل کے دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی تمام اجتماعی مشکلات و مسائل کا حل خود بخود پیدا ہوجائے گا۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں نے یا تو احکام قرآن کی تعمیل یک قلم ترک کردی ہے یا پھر عمل بھی کر رہے ہیں تو اس طرح کہ فی الحقیقت عمل نہیں کر رہے ہیں۔‘‘
(ترجمان القرآن، ساہتیہ اکیڈمی، نئی دہلی، 1986ء، 3/ 424۔ 425)
زکوٰۃ کا اجتماعی نظم ہندوستان جیسے ملک میں بھی جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، قائم ہونا چاہیے، مولانا آزاد نے اس جانب توجہ دلاتے ہوئے لکھا ہے:
’’لوگوں نے سمجھ لیا، زکوٰۃ نکالنے کا معاملہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ خود حساب کرکے ایک رقم نکالیں اور پھر جس طرح چاہیں خود ہی خرچ کرڈالیں، حالاں کہ جس زکوٰۃ کی ادائیگی کا قرآن حکیم نے حکم دیا ہے، اس کا قطعاً یہ طریقہ نہیں ہے اور مسلمانوں کی جو جماعت اپنی زکوٰۃ کسی امینِ زکوٰۃ یا بیت المال کے حوالے کرنے کی جگہ خود ہی خرچ کر ڈالتی ہے وہ دیدہ و دانستہ حکمِ شریعت سے انحراف کرتی ہے اور یقیناًعند اللّٰہ اس کے لیے جواب دہ ہوگی۔
اگر کہا جائے کہ ہندوستان میں اسلامی حکومت موجود نہیں، اس لیے مسلمان مجبور ہوگئے اور انفرادی طور پر خرچ کرنے لگے تو شرعاً و عقلاً یہ عذر مسموع نہیں ہوسکتا۔ اگر اسلامی حکومت کے فقدان سے جمعہ ترک نہیں کر دیا گیا، جس کا قیام امام و سلطان کی موجودگی پر موقوف تھا تو زکوٰۃ کا نظام کیوں ترک کردیا جائے؟ کس نے مسلمانوں کے ہاتھ اس بات سے باندھ دیے تھے کہ اپنے اسلامی معاملات کے لیے ایک امیرمنتخب کرلیں یا ایک مرکزی بیت المال پر متفق ہوجائیں یا عقلاً ویسی ہی انجمنیں بنالیں جیسی انجمنیں بے شمار غیر ضروری باتوں کے لیے، بلکہ بعض حالتوں میں بدع محدثات کے لیے انہوں نے جابہ جا بنالی ہیں۔‘‘ (ترجمان القرآن، 3/428۔429)
موجودہ دور میں مسلمانوں کی حالت معاشی اعتبار سے بہت ناگفتہ بہ ہے۔ وہ تعلیم، صحت، روزگار وغیرہ ہر میدان میں ملک کی دیگرمذہبی و تہذیبی اکائیوں سے کافی پیچھے ہیں۔ اگرچہ ملک میں مال دار مسلمان بھی قابل لحاظ تعداد میں ہیں، لیکن ان کا سرمایہ پوری ملت کو معاشی اعتبار سے اوپر اٹھانے میں کام نہیں آتا۔ جو باحیثیت مسلمان اپنے مال میں غریبوں کا بھی حصہ سمجھتے ہیں اور حسبِ توفیق ان پر خرچ کرتے ہیں ان کا انفاق اتنا غیر منظم اور غیر منصوبہ بند ہوتا ہے کہ کچھ بھی ثمربار نہیں ہوتا۔ اگر موجودہ دور میں مسلمان صحیح طریقے سے نظم زکوٰۃ قائم کرلیں اور احکامِ شریعت کے مطابق اس کے جمع و تقسیم کی منصوبہ سازی کرلیں تو اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے اور وہ صدرِ اول کی طرح اس کی دنیاوی برکتوں سے بھی فیض یاب ہوں گے۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close