عباداتمذہب

زکوۃ: مال کی پاکیزگی کا ذریعہ

اللہ عزوجل نے زکاۃ کو مال کی پاکیزگی تطہیر اور آفات وبلیات سے حفاظت کا ذریعہ بتلایا اور عدم ادائیگی زکاۃ کو سخت ترین عذابات اور وبالوں کے نزول کا باعث قرار دیا۔

 مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

آج اس وقت ساری دنیا میں دولت کے حصول کے لئے گویا بازی سے لگی ہوئی ہے، غریب کو غریب سے غریب تر کردینا اور امیر کا امیر سے امیر ترین ہونا اور ساری دنیا کی دولت کو اپنی مٹھی میں کر لینا آج کے سرمایہ دارنہ ذہنیت کی اپچ ہے، بڑے سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے کاروبار کو سرمایہ کار اپناتے جارہے ہیں ، جس سے ایک طرف امراء کی دولت میں اضافہ اور انہیں کے یہاں پیسوں کی گردش اور غریب کے تنگ دستی اور تہی دامنی اور اس کی غربت وافلاس نے معاشرے اور سماج میں ایک ایک غیر متوازن صورتحال پیدا کردی ہے، مال ودولت کی اس گردش کی غیر متوازن صورتحال سے نمٹنے کے لئے اشتراکی نظام اور دیگر بہت سارے نظام وجود میں آئے ؛ لیکن غربت اور مفلسی کے خاتمہ اور امیر وغریب کے درمیان دولت کی منصفانہ تقسیم کا کام ان سے نہیں ہوسکا، اسلام ایک آفاقی اور ابدی مذہب ہے، اس میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے، بغیر دیکھے بغیر چوں وچرا کے اس ابدی نظام اوراس کے ایک ایک حکم کو اپناتے جائیں اور اپنے مسائل کے حل خود بخود ہوتے جائیں گے، کسی بھی نظام کے قیام یا کسی بھی طرح کی تگ ودو کی ہر گز ضرورت نہیں ، اسلام کا نظام انفاق یا زکاۃ وصدقات کا نظام اور اس کی جس انداز میں ترغیب دی گئی ہے، یہ نظام زکوۃ وصدقا ت اور نظام انفاق بجائے خود یہ معاشرے میں دولت کے منصفانہ تقسیم کا نہایت اور بہترین ذریعہ ہے، جس سے امیر کی امارت اور غریب کی مفلسی دونوں کا حل بجائے خود ہوجائے گا، نہ امیر کی دولت کو جس نے تگ ودو سے کمائی ہے ہتھیانے کاحربہ اختیار کرنا پڑے اور نہ غریب کی مفلسی اور ناداری کے زخموں نمک پاشی کا موقع ملے، اگر سارے دنیا میں نظام زکوۃ وصدقات رائج ہوجائے تو ایک معتدل اور متوازن اور معاشرے میں دولت کی تقسیم کا ایک منصفانہ نظام وجود میں آئے گا اور ساری دنیا امن وآشتی کا گہوارہ کا بن جائے گی۔

زکاۃ ایک اہم فریضہ:

چنانچہ اللہ عزووجل نے زکوۃ کو نہ صرف ایک عبادت قرار دیا ؛ بلکہ اس کو منجملہ ارکان کے جس پر اسلام کی بنیاد ہے شمار کیا ہے، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کا اقرار کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، نماز پابندی سے پڑھنا، زکو ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ (بخاری: باب الإیمان، حدیث:۸)

زکاۃ مال کی پاکیزگی اورآفات سے حفاظت کا ذریعہ:

اس کے علاوہ اللہ عزوجل نے زکاۃ کو مال کی پاکیزگی تطہیر اور آفات وبلیات سے حفاظت کا ذریعہ بتلایا اور عدم ادائیگی زکاۃ کو سخت ترین عذابات اور وبالوں کے نزول کا باعث قرار دیا۔

چنانچہ ارشاد باری عزوجل ہے:۔ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (اے نبی) انہیں آپ دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے، جس دن اس سونے اور چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیوں ، پہلوں اور پشتوں کو داغا جائے گا (اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کر رکھا تھا لہذا اب اپنی جمع شدہ دولت کا مزا چکھو(سورۃ التوبۃ : ۳۴۔ ۳۵)

ایک حدیث میں ہے : جس شخص نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کردی، اس نیاس کے شر کو دورکردیا(کنزالعمال، حدیث: ۱۵۷۷۸)اور ایک روایت میں ہے کہ : ’’جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کردی تو تم پر جو ذمہ داری عائد ہوتی تھی، اس سے تم سبکدوش ہوگئے ’’فقد قضیت ما علیک‘‘(ترمذی)اور ایک جگہ ارشاد نبوی ہے :’’ اپنے مالوں کو زکوۃ کے ذریعہ محفوظ کرو، اپنے بیماروں کا صدقے کے ذریعے علاج کرو، اور مصائب کا مقابلہ دعاء اور تضرع سے کرو‘‘( ابو داؤد) اور ایک روایت میں ہے : جوشخص اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، قیامت میں اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اوراس کی گردن سے لپٹ کر گے کا طوق بن جائے گا‘‘(سنن النسائی)۔

زکاۃ کے دیگر فوائد:

زکاۃ جہاں مال کی تطہیر ارو پاکیزگی، رب کی رضاجوئی وخوشنودی اور مال کی ہلاکت اور آفات وبلیات میں ضائع ہونے سے بچانے کا ذریعہ ہے، وہی یہ سارے معاشرے میں میں دولت کے منصفانہ تقسیم کا بھی ایک مضبوط نظام ہے۔

۱۔ اگر لوگ زکوۃ کو ایک معاشرتی ذمہ داری اور ملک اور قوم سے غربت کے خاتمہ کا ذریعہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں ، تو نہ صرف اس سے ملک اور قوم کی غربت اور افلاس کا خاتمہ ہوجائے گا ؛ بلکہ ملک اور قوم کی مضبوطی اور طاقت بھی ملک وقوم سے افلاس اورناداری ولاچاری اوربھوک مری کو ختم کرنے میں ہی مضمر ہے، اس سے نہ صرف امیری اورغریبی کی جنگ کا خاتمہ ہوگا ؛ بلکہ رضاکارانہ طور نظام زکوۃ کو اپنانے سے غریبی اور اور امیری کی خلیج ختم ہوجائے گی اور بذات خود دولت کی منصفانہ تقسیم کا عمل وجود میں آجائے گا۔ اور امراء اور غرباء میں ایک دوسرے سے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوں گے اور معاشرے میں تال میل کے مواقع جنم لیں گے۔

۲۔ علماء نے معاشرے میں مال کی گردش کی مثال جسم میں خون کی گردش سے دی ہے، بقائے حیات کے لئے جسم کے ہر ہر عضو میں خون کی دوران اور گردش ضروری ہے، اسی طرح سماج اور معاشرے کے بقائے باہم کے لئے مال ودولت کی منصفانہ تقسیم کے نظام کار کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے، اگر خون کی گردش جسم میں بند ہوجائے تو حرکت قلب کے بند ہونے کا خطرہ درپیش ہوتا ہے، یہی کچھ صورتحال مال کی معاشرے میں عادلانہ تقسیم اور گردش ہے، ورنہ معاشرہ کا ایک حصہ بیمار زدہ اور تکلیف زدہ اور مصائب ومتاعب کا شکار ہوجائے گاجو کہ سارے معاشرے کے لئے وبال جان بن جائے گا۔ اس کے لئے اسلام کے نظام زکاۃ کاسہارا لیا جاتا ہے تو اس مرض کا علاج خود بخود نکل آئے گا۔ اور سارا معاشرہ خوشخالی اور امن وعافیت کا گہوارہ بن جائے گا۔

۳۔ یا معاشرے کی مثال پورے جسم سے دی ہے اور اس کے افراد کی مثال جسم کے مختلف اعضاء سے دی ہے، جب جسم کے کسی عضو میں کسی حادثے یا بیماری سے خون منجمد ہوجاتاہے، تو وہ گل سڑ کر باہر نکل آتا ہے، اور یہ زخم اس کے لئے سوہان روح اور وبالِ جان ثابت ہوتاہے، اسی طرح جب معاشرے کے بعض افراد میں مال ودولت کی فراوانی ہوجاتی ہے تو یہ مال ودولت کی زیادتی انسان کوتعیش پسندی، عیش کوشی، حرام کاری پر آمادہ کئے دیتی ہے، کبھی تو یہ پیسہ عدالتوں اور کورٹوں کی چکر میں ضائع ہوجاتا ہے، یا بیماریوں یا امراض میں لگ جاتا ہے، یا کسی اور دوسرے طریق سے برباد ہوجاتاہے، اس زیاں اور بربادی کا احسا س تک نہیں ہوتا،اللہ عزوجل نے مال ودولت کی فراوانی جو انسان کو آمادہ جرائم کئے دیتی ہے، مال ودولت کی شکل میں در آنے والے ان پھوڑے پھنسیوں کے علاج کے لئے زکاۃ اور صدقات کانظام رائج کیا ہے، اس سے انسان کو بے جااسراف سے مصاعب ومتاعب کو دعوت دینے سے بچ جاتاہے۔

۴۔ اس کے علاوہ غریبوں اور مسکینوں کے ساتھ ہمدردی، ان کے دکھ درد میں شرکت، اور ان کے فقر وافلاس میں کام آنے، ان کی تنگی معیشت اور ان کی معاشی بدحالی کے ازالے کے لئے کوشاں ہونا اور ان کے لئے دل میں رحم وکرم کے جذبات پید ا ہونا یہ خود ایک اعلی انسانی وصف ہے، جو شخص اس وصف سے عاری ہے وہ بجائے انسان کے جانور کہلائے جانے کے زیادہ قابل ہے، زکاۃ اور صدقات کا یہ نظام او ر اس پر عمل آوری یہ غریبوں کے کام آنے کا بڑا ذریعہ ہے، ان کی غربت وافلاس کے خاتمہ کا سبب ہے۔ امراء اور غرباء میں تال میل اور محبت والفت پیدا ہوتی ہے۔

۵۔ اس کے علاوہ مال کا نہ ہونا یہ انسان کے لئے بگاڑ اور خراب کا ذریعہ بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ کبھی غیر اخلاقی اور غیر انسانی حرکات پر آمادہ نظر آتا ہے، معاشرے کی ناانصافی، دولت کی تقسیم میں عدم توازن کو دیکھ کر وہ معاشرتی سکون کو برباد کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے، اس کے لئے کبھی وہ ڈکیتی، چوری چکاری، جھوٹ، دھوکہ دہی، کا سہارا لیتا ہے، کبھی تو وہ غربت کے خاطر اپنی جان سے ہاتھ دھونے پر تل جاتا ہے تو کبھی وہ دو وقت کی روزی کے عدم حصول پر عزت وعصمت کو نیلام کرنے سے باز نہیں آتا، کبھی تو فقر وفاقہ کے علاج کے لئے کفر پر آمادہ اور ایمان سے ہاتھ دھونے کی سوچنے لگتا ہے، اسی کو فرمایا: ’’کاد الفقر أن یکون کفرا‘‘(شعب الایمان) فقر ومحتاجی کفر کا سبب بن جاتی ہے، زکوۃوصدقات کے ذریعہ ان برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

۶۔ اس کے علاوہ مال واسباب کی فروانی بھی آمادہ گناہ ومعصیت کئی دیتی ہے، مال کی زیادتی سے جو معصیتیں اور گناہ انسان سے سرزد ہوتے ہیں ، مالدار گھرانوں کے نوجوان جس قسم کی عیاشی اور غیر اخلاقی وغیر انسانی حرکتوں میں ملوث نظر آتی ہے، یہ مال کی زیادتی کا وبال ہے، زکوۃ اور صدقات کے نظام کے ذریعہ مال کی زیادتی در آنی والی برائیوں کے خاتمہ کی راہ اللہ تعالیٰ نے نکالی۔

۷۔ اس کے علاوہ زکوۃ اور صدقات کے ذریعہ بلیات اور مصائب کا دفاع ہوتاہے، اسی لئے حدیث میں فرمایا: ’’الصدقۃ تدفع البلاء‘‘ صدقہ بلیات اور مصائب کو دفع کرتاہے، دولت مند طبقہ بد قسمتی سے جس طرح قدر دولت میں رہتا ہے، اسی طرح آفات ومصائب اور بڑے بڑے امراض میں بھی اسی قدر مبتلا نظر آتا ہے، جس کاحل زکاۃ اور صدقات کو اپنانے میں مضمر ہے۔

۸۔ صدقات وزکاۃ کے اہتمام کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ مال ودولت میں برکت ہوتی ہے، صدقات میں بخل سے کام لینا یہ برکتوں کے نزول کو روک دیتاہے، بے شمار روایتیں اس حوالہ سے مروی ہیں ، حدیث میں ہے کہ : جو قوم زکاۃ روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر قحط اور خشک سالی مسلط کردیتا ہے اور آسمان سے بارش بند ہوجاتی ہے‘‘(طبرانی)اور ایک حدیث میں ہے کہ چار چیزوں کا وبال چار چیزوں کی شکل میں ہوتا ہے :

۱۔ جب کوئی قوم عہد شکنی کرتی ہے تو اس پر دشمنوں کو مسلط کردیاجاتاہے، ۲۔ جب وہ اللہ کے احکام کے خلاف فیصلے کرتی ہے، تو قتل وخونریزی اور موت عام ہوجاتی ہے۔ ۳۔ جب کوئی قوم زکوۃ روک لیتی ہے تو ان سے بارش روک لی جاتی ہے۔ ۴۔ جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو زمین کی پیداوار کم ہوجاتی ہے اور قوم پر قحط مسلط ہوجاتاہے(السنن الکبری للبیہقی)۔ زکوۃ کو روک لینے بارش جس پر ساری زندگی کا مدار ہے روک لی جاتی ہے۔

۹۔ اس کے علاوہ ایک مومن حقیقی کے لئے اس دنیا کے حقیر منافع سے بڑھ کر آخرت کی ہمیشہ ہمیش کی زندگی مقصود ہونا چاہئے، یہ زکوۃ اورصدقات کی شکل میں جو انسان اپنے اموال کو راہ خدا میں خرچ کرتا ہے تویہ اس کے ذریعہ فقراء پر کوئی احسان تو نہیں کرتا؛ بلکہ اس کا خرچ کیا ہوا اس کیلئے آخرت میں عند اللہ ذخیرہ ہوگا، اسی کو اللہ عزوجل نے فرمایا:’’ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ  تعالی کو اچھا قرض دے پس اللہ  تعالی اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے گا  اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جا گے۔ ‘‘(البقرۃ(۲۴۵) یہاں اللہ کے راہ میں خرچ کرنے کو ’’قرض حسن ‘‘سے تعبیر کیا، جس طرح قرض واجب الاداء ہوتا ہے، اسی طرح صدقہ کرنے والے کو مطمئن ہونا چاہئے اس کا یہ صدقہ بے انتہا اور بے پناہ بڑھاکر اسے دیا جائے گا۔

زکوۃ ایک نہایت ہی اہم فریضہ اور معاشرے میں مال کی منصفانہ اور عادلانہ تقسیم کا ذریعہ ہے، اس کے ذریعہ جہاں امیروں میں غربیوں کی تئیں ہمدردی اور ان پر رحم وکرم اور ان کے ساتھ مساوات وبرابری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں وہیں وہیں غریبوں کی غربت، افلاس کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس کی ضروریات کی تکمیل کا سامان ہوجاتاہے، اس طرح سارا معاشرہ خوش بختی اور خوش حالی اور فارغ البالی کا نمونہ بن جاتا ہے، جہاں امیروں اور غریبوں کے درمیان کھینچا تانی اور جنگ کا سا ماحول نہیں ہوتا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close