عبادات

سیدنا ابراہیم ؑ کی محبت ِالہی میں قربانیاں

مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری

         قربانی قرب سے نکلا ہوا لفظ ہے جس کے معنی تقرب اور نزدیکی کے آتے ہیں۔ جس مقصد کے لئے انسان قربانی دیتا ہے اور محنت و مجاہد ہ برداشت کرتا ہے نتیجۃ وہ چیز اس کو حاصل ہوجاتی ہے۔ دنیا میں لوگ مال ومتاع اور اسباب و وسائل کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دیتے ہیں، دن ورات مشقتیں اٹھاتے ہیں، صبح و شام کو ایک کردیتے ہیں تاکہ مقصود میں کامیابی اور منصوبے میں کامرانی مل جائے، اللہ تعالی نے دنیا کا دستور بھی یہ بنایا ہے کہ جو قربانی دے گا وہ اپنے مقصود کو پائے گا چاہے وہ دنیا کے لئے دی جانے والی قربانی کیوں ہو؟جس راہ میں انسان خود کو کھپاتا ہے اور فنا کردیتا ہے وہ سرخروئی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ قربانیاں مختلف قسم کی ہیں اور مختلف مقاصد کے لئے دی جاتی ہیں، لیکن جب قربانی کا لفظ بولا جاتا ہے اور سماعتو ں سے ٹکراتا ہے فوراذہن سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ولافانی اور محیر العقول قربانیوں کی طرف جاتا ہے اور دل وجان میں ایک ایمانی حرارت دوڑجاتی ہے، نگاہوں کے سامنے اطاعت وفرماں برداری اور فنائیت کا عجیب نقشہ گشت کرنے لگتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مبارک زندگی مختلف قربانیوں کے انجام دینے میں لگی رہی، آپ ؑ نے محبت الہی کے حصول اور اطاعت و وفا کے امتحانات کوپورا کرنے کے لئے پے درپے قربانیاں دیں اور آپ کی تمام قربانیاں رنگ لائیں اور ان قربانیوں نے آپ کو دنیائے انسانیت کا امام بنادیا۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس کا ذکر فرمایا کہ :واذابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماما( البقرۃ:124)اور (وقت یاد کرو) جب ابراہیم کو ان کے پروردگا رنے کئی باتوں سے آزمایا، اور انہوں نے وہ ساری باتیں پوری کیں۔ اللہ نے (ان سے )کہا:میں تمہیں انسانوں کا پیشوابنانے والا ہوں۔ حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی ابتداء سے ابتلا ء وآزمائش سے دوچار رہی، خلیل اللہ کے منصب جلیل سے نوازے جانے والے تھے اور انسانیت کے امام و پیشوا اور نبی آخر الزمان سروردوعالم کے جد امجد بننا مقدر تھا اس لئے کڑے امتحانات میں مبتلا کئے گئے اور قدم قدم پر محبت وفنائیت کا نرالا امتحان لیا گیا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے آپ کے فضائل و کمالات کا ذکر بھی کیا اور آپ کی مضبوط توحید اور بے مثال استقامت کو جابجا بیان کیا اور امت محمدیہ کو تلقین کی گئی کہ ملت ابراہیمی کی پیروی کی جائے کیوں کہ ابراہیم ؑ دین حنیف پر قائم اور صراط مستقیم پر گامزن تھے بلکہ یہاں تک بھی فرمایا کہ حضرت ابراہیم کی ذات میں وہ تمام خویباں جمع تھیں جوایک امت اور ایک بڑے گروہ میں پائی جاتی ہیں، حق کی نشر واشاعت کے لئے جو کام اور پیغام رسانی کا فریضہ بڑی بڑی جماعتیں انجام دیتی ہیں حضرت ابراہیم ؑ نے تنہا اداکیااور ہر باد ِ مخالف اور طوفان بلاخیز کے آگے چٹان بنے رہے۔ ہر مرحلہ پر محبت الہی اور اطاعت و انقیاد کا عجیب وغریب نمونہ پیش کیا، حکم الہی کے آگے سرِ تسلیم خم کردینا اور بے چوں وچرا رب کی مرضی کو پورا کرنا آپ کا خاص امتیاز تھا۔ علامہ طبری ؒ لکھتے ہیں کہ:ابراہیم ؑ پر آنے والے امتحانات میں سے اہم یہ ہیں نمرود سے مقابلہ، آگ میں جانا، بچے کو ذبح کرنا، بیت اللہ کا تعمیر کرنا اور مناسک حج۔ ۔ ۔ ان امتحانات کی تعداد میں بعض علما ء کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک کہ تیس( 30) ہیں۔ (تاریخ ِ طبری:1/196مترجم)

      حضرت ابراہیم ؑ کی قربانیوں کاآغاز خود آپ کے گھر سے ہوا، کیوں کہ آپ کا باپ آزر نہ صرف بت پرست تھا بلکہ قوم کا بت ساز بھی تھا، بت پرست کے گھر میں اللہ تعالی نے امام الموحدین حضرت ابراہیم کو پیدا فرمایا، احقاق ِ حق کی گراں بار ذمہ داری جب آپ پر ڈالی گئی تو آپ نے سب سے پہلے اپنے گھر سے اس کا آغاز کیا اور پورے ادب واحترام کے ساتھ رشتہ ٔپدریت کا بھر پور لحاظ کرتے ہوئے توحید کی دعوت دینی شروع کی، اور سوز دل کے ساتھ راہ حق کی طرف آنے کا پیغام سنا یا۔ حقائق کو کھول کر بیان کیا، بتوں کی بے بسی اور ان کی لاچاری کو دلائل وبراہین سے پیش کیا اور پروردگار عالم کی عظمت کو اس کی شان وشوکت کو ظاہر کیا، لیکن آزر نے قبول ِ حق کے بجائے خود اپنے ہی جگر گوشے اور نوررِ نظر کے خلاف محاذ قائم کیااور ڈرانے ودھمکانے سے مخالفت کا آغاز کیا، قرآن کریم میں اس مکالمہ کو بیان کیا گیا اور آخر میں باپ نے اپنے بیٹے ابرہیم ؑکو جو نہایت تلخ جواب دیا اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیاکہ:قال اراغب انت عن الھتی یا ابراھیم لئن لم تنتہ لارجمنک واھجرنی ملیا۔ (مریم:46)ان کے باپ نے کہا:ابراہیم !کیاتم میرے خداؤں سے بیزار ہو؟یاد رکھو  اگر تم باز نہ آئے تو میں تم پر پتھر برساؤں گا، اور اب تم ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجاؤ۔ اس سختی کے باوجود وفا کے خوگر حضرت ابراہیم نے باپ کی گستاخی یا بے ادبی نہیں کی بلکہ خدا سے ہدایت کے طلبگا ررہنے کی تمنا ظاہر کی۔ گھر کا پیارا ماحول آپ کے لئے نفرت کی فضا میں بدل گیا، اور الفت ومحبت کا گہوارہ عداوت و دشمنی کا ظلمت کدہ ثابت ہوگیا۔ حق کے اعلان کے لئے حضرت ابراہیم آگے بڑھے اور اب اپنی قوم کو راہ راست کی طرف بلانا شروع کیا، بت پرستی کے خلاف مستحکم انداز میں اور دلنشین پیرائے بیان میں قوم کو سمجھانے لگے۔ ہٹ دھرم اور ضدی قوم نے آپ کی بات کو قبول کرنے سے انکار کیا، آپ نے بتوں کی بے بسی ثابت کروانے کے لئے بت شکنی کا کام بھی انجام دیا پورا تفصیلی واقعہ سور ۃ انبیاء میں بیان کیا گیا، بات بادشاہ وقت کے پاس پہنچی، اور بادشاہ اورحضرت ابراہیم ؑکے درمیان احقاق ِ حق و ابطال ِ باطل کے لئے زبردست مباحثہ ہوا، جب باشادہ نمرود دلائل کے میدان میں ناکام ہوگیا اور حق کے سامنے مغلوب تو اس نے حضرت ابراہیم کو دھکتی ہو ئی آگ میں جھونکنے کا حکم دیا۔ نمرود نے اسیّ(80 ) ہاتھ اونچی اور چالیس( 40) ہاتھ چوڑی بلند عمارت بنوائی، ایک مہینہ تک لکڑیوں سے دھکایا گیا جب پرندہ بھی اس کے قریب سے گزرنے کی تاب نہیں رکھ سکتا تب حضرت ابرہیم ؑکو اس آگ میں ڈالا گیا، مشرکین کے سوا اللہ کی پوری مخلوق حیران و ششدر تھی کہ ابراہیم کے ساتھ یہ کیا ہورہاہے ؟ہر مخلوق نے حضرت ابراہیم کی حفاظت کے لئے درخواست پیش کی لیکن آپ نے تمام کاانکار کیا اور آخر میں اپنے سر کو آسمان کی جانب کرکے کہنے لگے:اللہم انت الواحدفی السماء، واناواحدفی الارض، لیس احد یعبدک غیری، حسبی اللہ ونعم الوکیل۔ (الجامع لاحکام القراٰ ن للقرطبی:14/227)یعنی اے اللہ ! آپ آسمان میں تنہا ہے، اور مین زمین میں اکیلا ہوں، میرے علاوہ آپ کی کوئی بندگی کرنے والا نہیں ہے، آپ ہی میرے لئے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔ حضرت ابراہیم کی اس درجہ فنائیت اور محبت الہی میں غرقیت کے بعد اللہ تعالی آگ کو حکم دیا :قلنایانار کونی بردا وسلاماعلی ابراھیم۔ ( الانبیاء:69)ہم نے کہا: اے آگ ! ٹھنڈی ہوجا، اور ابراہیم کے لئے سلامتی بن جا۔ اس کے بعد بالاخر حضرت ابراہیم نے نقل مکانی کی اور عراق سے ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی۔ امتحانات کا سلسلہ باقی ہے اور خلیل اللہ کو قدم قدم پر آزمانے کا مرحلہ جاری ہے۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو ایک امتحان میں ڈالا وفا شعار بیوی اور آرزؤں کے بعد ملا شیر خوار بچہ حضرت اسماعیل دو نوں کو لے جاکر ایک ایسی سرزمین پر چھوڑآنے کا حکم دیا جو ابھی غیر آباد تھی اور چاروں طرف صحرا وجنگل کا سناٹاتھا، چرند وپرند کا کوئی پتہ نہیں اور انسانوں کی آمد ورفت کا کوئی گمان نہیں۔ حضرت ابراہیم بے چوں چرا کچھ سامان ِ سفر لے کر ان دونوں کے ساتھ چل دئیے، وہ جگہ آگئی، حکم ہوا کہ ان دونوں کو یہیں چھوڑکر واپس ہوجاؤ، حضرت ابراہیم پلٹ گئے، حضرت ہاجرہ پیچھے پیچھے یہ کہتی ہوئی آنے لگی کہ:اے ابراہیم ! آپ کہاں جارہے ہیں اور ہمیں ایسی وادی کیوں چھوڑرہے ہیں جہاں کوئی انسان اور شئی نہیں ؟حضرت ابراہیم برابر چلے جارہے ہیں، کوئی التفات ہی نہیں فرماتے۔ بالاخر ہاجرہ نے پوچھا کہ : کیا یہی اللہ کا حکم ہے؟آپ نے کہا:ہاں !تب حضرت ہاجرہ نے نہایت ایمان افروز جملہ کہاکہ: اذا لا یضیعنا: ٹھیک تب تو اللہ ہم کو ضائع نہیں ہونے دے  گا۔ جب حضرت ابراہیم کی نگاہوں سے وہ دونوں اوجھل ہوگئے تو آپ نے رقت انگیزدعافرمائی۔ (بخاری؛ حدیث نمبر:3136)آپ کی اس عظیم قربانی نے بارگاہ خدا میں قبولت حاصل کی اور آپ کے ساتھ آپ کی بیوی حضرت ہاجرہ کی استقامت نے مقبولیت پائی، ان وفا شعاروں کی قربانی کی بدولت اللہ تعالی نے اس سرزمین کو ہمیشہ کے لئے انسانوں کا قبلہ بنادیااور محترم ومکرم جگہ بنادی اور وہی سرزمین مکہ مکرمہ نبی اوراسی مقا م پر بیت اللہ کی تعمیر ہوئی۔

     حضرت ابراہیم ؑ کی قربانیوں میں سے بے مثال اور لازوال قربانی سیدنا اسماعیل ؑ کو ذبح کے لئے تیار ہوجانا ہے۔ تاریخ انسانی میں قربانیاں تو یقینا بے شمار ہیں اور ہر کسی کی قربانی ایمان افروز بھی، پیغمبروں نے حق کے لئے حیرت انگیز قربانیاں دیں، راہ حق میں کٹھن منزلوں سے گزرے۔ لیکن محبت الہی میں حضرت ابراہیم کی قربانیاں کچھ انفرادی حیثیت اور جدا گانہ شان رکھتی ہیں۔ تقریبا 86سال کی عمر میں دعاؤں کے بعد ایک سہار اور آنکھوں کاتارا بیٹا حضرت اسماعیل کی شکل میں ملا، شیر خوارگی کی عمر ہی میں امتحان ہوا اور بیٹے سے دور رہے اب جب بیٹا چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور باپ کے کام کاج میں ساتھ دینے کے لائق ہوا، باپ کے دل میں بیٹے کی محبت پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالی نے عجیب امتحان کا فیصلہ فرمایا۔ حضرت ابراہیم ؑنے مستقل تین رات خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں، حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ یہ صرف خیالی خواب نہیں ہے بلکہ حکم الہی ہے لہذا اس کو پورا کرنا چاہیے، آپ نے بیٹے کی رائے حاصل کرنے اور اس کی اطاعت و فرماں برداری کے جذبے کو جانچنے کے لئے کہاکہ میں خواب میں تمہیں ذبح کررہاہوں، تمہارے کیا خیال ہے ؟وفا شعار اور فرماں بردار بیٹے نے کہا کہ ابا ّجان ! آپ کو جس کام کا بھی حکم دیا جارہا ہے آپ اس کو پورا کیجئے انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ چناں چہ باپ اور بیٹا دونوں حکم الہی کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے، راستہ میں رکاوٹ بھی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور عزم وارادہ میں خلل اندازی کی بھی سعی کی گئی لیکن محبت الہی سے سرشار اور جذبہ ٔ اطاعت سے لبریز باپ بیٹے آگے بڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ مقام آگیا جہاں بیٹے کو قربان کرنا تھا، باپ نے بیٹے کو لٹا دیا، آسمان بھی یقینا حیرت زدہ تھااور زمین اور دیگر مخلوقات بھی محوِ حیرت کے ماجرا کیا ہے؟بیٹے نے کہا کہ آپ مجھے پیشانی کے بل لٹادیجیے اور کپڑوں کو اچھی باندھ لیجئے تاکہ خون زیادہ پھیلنے نہ پائے اور جب آ پ میری ماں کو دکھائیں تو وہ شدت الم سے غمگین نہ ہوں اور چھری تیز چلائیے تاکہ جلد موت آئے اور حکم الہی پورا ہوجائے، حضر ت ابراہیم نے اپنے اس اکلوتے اور فرماں بردار بیٹا کا بوسہ دیااور دنوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ (روح المعانی :23/130)حضرت ابراہیم ؑ گلے پر چھری چلارہے ہیں لیکن وہ چلنے کو نہیں۔ بالآخر اللہ تعالی نے اپنے خلیل کواس موقع پر بھی کامیاب دیکھااور محبت الہی میں سرشار پایا تو آواز دی:ونادیناہ ان یا ابراھیم  قد صدقت الرؤیا اناکذلک نجزی المحسنین ان ھذا لھو البلا ء المبین وفدینٰہ بذبح عظیم وترکنا علیہ فی الاخرین سلام علی ابراھیم( الصافات:104۔ 109)اور ہم نے آواز دی کہ : اے ابراہیم !تم نے خواب کو سچ کردکھایا۔ یقیناہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا۔ اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے کر اس بچے کو بچالیا۔ اور جو ان کے بعد آئے، ان میں یہ روایت قائم کی ( کہ وہ یہ کہا کریں کہ:)سلام ہوا براہیم پر۔

      جب حضرت ابراہیم ؑ اس عظیم اور تاریخی قربانی سے فارغ ہوگئے اور دنیا کے سامنے اطاعت و فرماں داری کی انوکھی مثال قائم کردی اور خلیل اللہ ہونے اور محبت الہی میں فنا ہونے کا ثبوت دے دیا، ہر چیز سے بڑھ کر حکم الہی کی اہمیت کو ثابت کردیا تو اللہ تعالی نے اب کعبۃ اللہ کی تعمیر کا عظیم الشان ان باپ بیٹے سے کروایا اور دنیا کے بتکدے میں خدا کا گھر بنا کر ساری دنیا کو پروردگار عالم سے اپنے رشتے کوجوڑنے اور اسی کی عبادت و بندگی کرنے اسی کے حکموں پر چلنے کے لئے ایک کارنامہ انجام دلوایا۔ انسانیت کی امامت اور کعبۃ اللہ کی تعمیر اور اپنی نسل مین سید الاولین ولاخرین محمد ﷺ کی آمد یہ تما م خیر اور خوبیاں آپ ؑ کے بے پناہ امتحانات کے بعد ملی ہیں۔ ایسی بے مثال قربانیا ں کہ جس کے تصور ہی سے انسان حواس باختہ ہوجائے خلیل اللہ پورے اطمینان کے ساتھ انجام دئیے۔ بقول علامہ طبری ؒ کہ :جب اللہ تعالی نے دیکھا کہ ابراہیم ؑ نے ہر امتحان میں صبر کیا اپنے فرائض کو بحسن و خوبی انجام دیااور اللہ کی محبت کو سب محبتوں پر فوقیت دی تو اللہ تعالی نے آپ کو اپنا خلیل بنایااور بعد میں آنے والوں کے لئے پیشوابنادیا اور آپ کی اولاد مین بنوت، کتاب و رسالت کو جاری فرمادیا۔ آ ج بھی دنیا حج کے ایام میں اور قربانی کے دنوں میں اسی ابراہیم اور ان کے خاندان کی اداؤں کی نقالی کر کے اپنی عبادتوں کو انجام دیتی ہے۔ قربانی کی عبادت اور حج کی عبادت ہر موقع پر ایک بندہ مومن کو اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ محبت الہی کیسی ہونی چاہیے؟وفا اور خلوص کس کو کہتے ہیں ؟راہ وفا میں قربانیاں دینے والے کیسے ہوتے ہیں ؟مرضی مولی ازہمہ اولی میں جان وتن لٹانے والے کس انداز کے ہوتے ہیں؟ سال کی دوعبادتیں ہر سال ہمارے ایمان کی تجدید، ہمارے یقین کو مضبوط اور رشتہ عبدیت کو مستحکم کرتی ہیں۔ ہمیں ان سے سبق لینا چاہیے اور محنت و تعلق مع اللہ کو صحیح رخ پر ڈھالنا چاہیے تبھی دین ودنیا کی کامرانیا ں اور سربلندیاں ہمارا مقدر بنیں گی۔

                                    بر اہیمی  نظر  پیدا   بڑی  مشکل  سے  ہوتی  ہے

                                    ہوس چھپ چھپ کے سینے میں بنالیتی ہیں تصویریں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close