عباداتمذہب

شبِ قدر: ایک نعمت عظمی

جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان اور ثواب کی امید پر عبادت کے لیے کھڑا ہو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

مفتی محمد سالم قاسمی سریانوی

رمضان المبارک کا آخری عشرہ چل رہا ہے، ماہ مبارک جو بہت ساری خوشیوں اور نعمتوں کے ساتھ جلوہ فگن تھا جلد ہی ہم سے رخصت ہوجائے گا، یہ اللہ کی قضا وقدر ہے جس پر کسی انسان کا اختیار وبس نہیں ہے، اللہ نے محض اپنے فضل سے ہم کو یہ مبارک مہینہ عطا فرمایا، اس مہینے میں عبادت بھی اسی کی توفیق سے انجام پاتی ہے، خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے ساتھ توفیق ایزدی شامل حال رہی اور اس نے اس مہینے سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا لیا اور اپنے کو تباہ وبرباد ہونے والوں کی فہرست سے نکال کر صالحین ومقربین میں اپنا نام درج کرالیا، اللہ ہم کو بھی اسی فہرست میں شامل فرمالے۔ آمین۔

ویسے تو پورارمضان مختلف خصوصیات کا حامل ہے، لیکن اس کا آخری عشرہ کچھ الگ ہی نوعیت رکھتا ہے، اس عشرے میں کچھ خصوصی عطایا و نعم اللہ نے عطا فرمائے ہیں جن سے آدمی بہت جلد ہی اللہ کا تقرب حاصل کر سکتا ہے،اسی لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے آپ ﷺ آخری عشرہ میں جتنی کوشش عبادت وریاضت میں کرتے تھے اتنی پہلے دوعشروں میں نہیں کرتے تھے،دوسری روایت میں ہے کہ اپنی لنگی مضبوط باندھ لیتے تھے، (یعنی عبادت کا خوب اہتمام فرماتے تھے اور ازواج مطہرات سے دور رہتے تھے) اور گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے اٹھاتے تھے؛ اسی عشرہ میں ’’اعتکاف‘‘ کی سنت ادا کی جاتی ہے جس پر آپ ﷺ نے ہمیشہ عمل فرمایا ہے، اسی عشرہ میں ’’لیلۃ القدر‘‘ ہے جو اپنے اندر وہ خصوصیات رکھتی ہے جس سے دوسری راتیں خالی ہیں، خود قرآن نے اس کی بہت زیادہ اہمیت وفضیلت بیان فرمائی ہے، چہ جائے کہ مستقل احادیث اس کی فضیلت وخصوصیت میں نقل کی گئی ہیں۔

’’شب قدر‘‘ کی فضیلت میں مستقلا اللہ تعالی نے پوری ایک سورت نازل فرمائی ہے جو قرآن کریم کا جز بن کر ہمیشہ کے لیے اس رات کی اہمیت کی سب سے بڑی دلیل بن گئی، اس سورت میں اللہ نے اس رات کی مختلف خصوصیات بیان فرمائی ہیں، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سورت کا خلاصہ پیش کردیا جائے، تاکہ اہمیت وفضیلت بالکل واضح ہو۔

اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’یقینا ہم نے قرآن جیسی عظیم ومتبرک کتاب کو ’’شب قدر‘‘ میں اتارا، نزول قرآن اس کی عظمت وقدسیت کی بہت بڑی دلیل ہے، اے نبی ﷺ ! آپ کو اس کی فضیلت کی کچھ خبر بھی ہے، یہ رات ایسی ہے کہ اس میں عبادت وریاضت کرنا اور اس کا احیاء کرنا ہزار مہینوں سے افضل ہے، جن کے تقریبا  ۸۳/ سال ہوتے ہیں، جو اس میں عبادت کرلے گا وہ گویا کہ ہزار مہینوں تک مستقل عبادت میں مشغول رہا، اس رات میں اللہ کے حکم سے فرشتے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر خیر کا حکم لے کر زمین پر اترتے ہیں، یہ رات سراپا سلامتی وامن والی ہے، اور یہ انوار وفضائل ابتدا سے لے کر اختتام رات یعنی طلوع صبح صادق رہتے ہیں۔ ‘‘

اس سورت میں اللہ نے اس رات کی چند خصوصیات کا تذکرہ کیاہے جس میں قرآن کا نزول، ہزار مہینوں سے زیادہ اس کی افضلیت، فرشتوں اور حضرت جبرئیل امین کا خیر کے ساتھ اترنا اور صبح تک اس کا انھیں خصوصیات کے ساتھ باقی رہنا۔

احادیث طیبہ کے اندر مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے اس کی اہمیت وفضیلت بیان کی گئی اور اس میں عبادت کرنے کے مختلف ثواب بتائے گئے ہیں اور اس سے محروم رہ جانے والے کو حقیقی محروم بتلایا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’من قام لیلۃ القدر ایمانا واحتسابا غفر لہ ماتقدم من ذنبہ ‘‘ (مسلم )

 جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان اور ثواب کی امید پر عبادت کے لیے کھڑا ہو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

دوسری روایت میں شب قدر سے محروم رہنے والوں کو حقیقی محروم لوگوں میں سے شمار کیا گیا ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ إن ہذ االشہر قد حضرکم، وفیہ لیلۃ خیر من الف شہر،من حرمہا فقد حرم الخیر کلہ، ولا یحرم خیرہا إلا محروم۔‘‘(ابن ماجہ)

’’تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ ساری خیر وبھلائی سے محروم رہ گیا اور اس کی خیر وبھلائی سے وہی شخص محروم رہتا ہے جو واقعۃ محروم ہی ہوتا ہے۔‘‘

روایات بالا سے شب قدر کی اہمیت وفضیلت بالکل نمایاں ہوجاتی ہے اوریہ بات بھی واضح ہوجاتی کہ ا س اہم نعمت عظمی سے جو محروم رہ جائے اس کو واقعی محروم اور حرماں نصیب کہا گیا ہے۔

یہ رات اللہ تبارک وتعالی کی طرف غیر متعین ہے، احادیث طیبہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ نے اس رات کی تعیین کی تھی، لیکن بعد میں اس تعیین کو اٹھا لیا گیا، اس رات کی تعیین ختم کرنے کا اصل سبب کیا ہے یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے، لیکن یہ چیز قدر دانوں کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوگئی کہ وہ شب قدرکی ایک رات کو تلاش کرنے اور اس میں عبادت کرنے کے لیے کئی ایک راتوں کا احیاء کریں گے جس کی وجہ سے ان کو بے نہایت ثواب دیا جائے گا، البتہ یہ رات کب ہوتی ہے اور اس کا غالب امکان کیا ہے؟ اس سلسلہ میں بے شمار اقوال ہیں جن میں خود کئی ایک راتوں کے بارے میں جناب نبی کریم ﷺ نے شب قدر ہونے کے امکان کو بیان کیا ہے،اور ان میں عبادت کرنے کی ترغیب دی ہے، چناں چہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات رمضان میں پائی جاتی ہے، اور رمضان میں آخری عشرہ میں، اور آخری عشرہ میں طاق راتوں میں، یعنی ۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷ اور ۲۹ ویں رات میں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا راویہ ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’تحروا لیلۃ القدر في الوترمن العشر الأواخر من رمضان‘‘

’’ لیلۃ القدر کو رمضان کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘ (بخاری شریف)

اس کے علاوہ اور بھی روایات ہیں جن سے اس کے علاوہ دیگر راتوں میں شب قدر کے ہونے کا تذکرہ کیا گیا ہے، جس کی وجہ اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ رات غیر متعین ہے اور پورے سال میں دائر رہتی ہے، اس لیے اپنی بساط بھر اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے، لیکن اقرب ترین اس سلسلہ میں یہی ہے کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے، اس میں بھی طاق راتوں میں ؛ اس لیے رمضان کے عشرۂ اخیرہ کی راتوں کو شب قدر کی تلاش کرنے کے لیے بہت مفید ہے، آپ ﷺ کے آخری عشرے میں اعتکاف کی ایک بڑی غرض لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کی بتلائی گئی ہے، اگر آدمی دس راتوں کو عبادت کی خاطر جاگنے کا عزم کرلے تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، ابھی چند مہینے پہلے ایک بڑی تعداد عوام کی ایسی تھی جو پیسوں کے لیے رات رات بھر جاگ کر گزار دیتی تھی اور دن کو بھی ایک حصہ اسی مشقت کے ساتھ گزرتا تھا؛ اس لیے باہمت افراد کے لیے دس رات عبادت میں گزارنا کوئی مشکل امر نہیں ہے، لیکن اگر کوئی اس کی بھی ہمت نہ کرسکے تو طاق راتوں میں اس کی کوشش کرے، اگر یہ بھی نہ ہوسکتا ہو تو کم ازکم ستائیسویں رات کو ضرور جاگنے کا اہتمام کرے، کیا پتہ وہی شب قدر ہو اور جاگنے والا اللہ کے یہاں قبول ہوجائے۔

اس رات میں جتنی بھی عبادت وریاضت حتی المقدور ہوسکتی ہو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے، اگر پوری رات کا جاگنا ناممکن لگ رہا ہو تو کم از کم شروع اور آخر کے حصوں کا ضرور احیاء کیا جائے، اور نوافل، تلاوت قرآن، ذکر ووظائف،اور توبہ واستغفارمیں اس کو صرف کیا جائے۔

اس رات میں خصوصی طور پر ’’اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنا‘‘ کا پڑھنا احادیث سے ثابت ہے؛ اس لیے اخیر عشرے کی راتوں میں اس کا ہمہ وقت ورد رکھنا چاہیے۔ واللہ الموفق وہو من وراء القصد وہو یہدی السبیل

مزید دکھائیں

محمد سالم قاسمی سریانوی

استاذ جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور اعظم گڑھ یوپی

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close