عباداتمذہب

شب بیداری کی اہمیت 

حق تعالیٰ کی خاص کرم نوازی ہوتی ہے ان لوگوں پہ جو تہجد گُزار اور شب بیدار ہوتے ہیں

مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی

راتوں کو اُٹھ کر کے اللہ کویاد کرنااوراسے منانابہت مشکل کام ہے لیکن اللہ پاک کے ایسے برگُزیدہ بندے ہردور میں موجود رہے ہیں جنہوں نے پوری رات یارات کے پچھلے حصے رب کوپکارااورآہ وزاریاں کیں۔ اللہ پاک نے ان کاذکرقرآن پاک میں کچھ یوں کیاہے:

ترجمہ۔ اُن کے پہلوخوابگاہوں سے علیحٰدہ ہوتے ہیں اس طور پر کہ وہ اپنے رب کواُمیدوخوف سے پکارتے ہیں اورہماری دی ہوئی چیزوں سے خرچ کرتے ہیں پس کسی کومعلوم نہیں جوپوشیدہ ہے ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک سے، بدلہ ان کاجوکرتے تھے۔

پہلوکوخوابگاہوں سے علیحٰدہ کرنے کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ملتے ہیں لیکن علامہ آلوسی ؒ صاحب روح المعانی نے اپنی تفسیر میں لکھاہے کہ مشہور قول یہ ہے کہ یہاں نماز تہجد کے لیے پہلوکوخوابگاہ سے علیحٰدہ کرنامراد ہے اسی طرح حضور اکرمﷺ کے ایک فرمان سے بھی یہی معلوم ہوتاہے۔

حضرت معاذؓ کی روایت ہے کہ حضوراقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:کیامیں تم کوابوابِ خیر نہ بتائوں ؟پھر آپ ؐنے ابوابِ خیرکوشمارفرمایا:

۱۔ روزہ      ۲۔ صدقہ جوگناہوں کودورکرتاہے      ۳۔ درمیان شب میں نمازپڑھنا

مطلب آیت شریفہ اورحدیث مذکورہ کایہی ہے کہ جولوگ رات کے پُرسکون وقت میں آرام وراحت کوچھوڑکرحق تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ نماز، تلاوت، دعاواستغفار وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں اورخداکی دی ہوئی چیزوں کواس کے راستے میں خرچ کرتے ہیں اور ان سب عبادات کے کرتے وقت خداکی رحمت سے مایوس اوراس کے خوف سے مامون نہیں ہوتے وہی درحقیقت سچے مسلمان ہیں ان کے لیے اللہ پاک نے ایسے انعامات تیار فرمائے ہیں جن کا آج تک کسی شخص کوبھی علم نہیں۔ اللہ پاک نے ان انعامات کے متعلق ایک حدیث قُدسی میں ارشاد فرمایاہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کی ہیں۔ جن کونہ کسی آنکھ نے دیکھاہے نہ کسی کان نے سنااورنہ ہی کسی کے دل میں ان کاخیال گُزرا۔

حق تعالیٰ کی خاص کرم نوازی ہوتی ہے ان لوگوں پہ جو تہجد  گُزار اورشب بیدار ہوتے ہیں اللہ پاک کے محبوب بندے ہی یہ کام کرسکتے  ہیں ورنہ راتوں کواُٹھنااورنیند کوقُربان کرنابہت مشکل کام ہے۔

رات میں قیام اور جنت کامکان

عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں جب حضور اکرم ؐ مدینہ تشریف لائے تولوگ آپ ؐ کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ حضور ؐ تشریف لائے ہیں میں بھی لوگوں کے ساتھ آیاتاکہ دیکھوں (کہ آپ ؐ واقعی نبی ہیں یانہیں )میں نے آپ ؐ کاچہرہ دیکھ کرکہاکہ یہ چہرہ جھوٹے شخص کانہیں ہوسکتاوہاں پہنچ کر جوسب سے پہلاارشادحضوراکرمؐ کی زبان سے سناوہ یہ تھاکہ لوگو!آپس میں سلام کارواج ڈالواور(غرباء کو) کھاناکھلاؤ، صلہ رحمی کرواوررات کے وقت جب سب لوگ سوتے ہوں نمازپڑھاکرو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائوگے۔

اس حدیث پاک میں آپ ؐ نے چار باتیں بیان فرمائی ہیں:  پہلی بات افشاء سلام یعنی سلام کوآپس میں خوب پھیلاناکیوں کہ اس سے آپس میں اُلفت ومحبت پیداہوتی ہے اورتعلقات بھی مستحکم ومضبوط ہوتے ہیں۔

دوسری بات صلہ رحمی ہے۔ ہرانسان کافرض ہے کہ اپنے والدین اوررشتہ داروں اورپڑوسیوں کے ساتھ حُسن سلوک اوراچھامعاملہ کرنے کی کوشش کرے ایک حدیث شریف میں ہے کہ حق تعالیٰ نے فرمایاکہ میں اللہ ہوں، میں رحمن ہوں، میں نے ہی رحم کوپیداکیامیں نے ہی اپنے رحمن نام سے اس کانام نکالاہے جورحم کوملائے گامیں اس کوملائوں گااورجواس کوقطع کرے گامیں اس کوقطع کرونگا(ترمذی)

تیسری بات غرباء فقراء کوکھاناکھلانا، حدیث پاک میں یہ بھی آتاہے کہ جوشخص اپنے مسلمان بھائی کوکھاناکھلائے یہانتک کہ اس کاپیٹ بھرجائے اورپانی پلائے یہانتک کہ پیاس جاتی رہے۔ اللہ پاک اس کے اور جہنم کے درمیان سات خندقیں پیداکر دیتے ہیں، ہرخندق اتنی بڑی کہ سات سوسال میں طے ہو (کنزالعمال)

چوتھی چیز ایسے وقت نماز پڑھناکہ سب لوگ آرام وراحت میں مصروف ہوں اورسورہے ہوں اس کی فضیلت کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ میں نے حضوراکرم ؐ سے دریافت کیا۔ ۔ ۔ مجھے ایسی چیز بتادیجیے کہ جس پر میں عمل کر کے جنت میں داخل ہوجائوں ؟آپ ؐ نے تین باتیں ارشاد فرمائیں۔ اول سلام کاخوب پھیلانا ،  دوم غرباء ومساکین کوکھاناکھلانا ،  سوم رات میں نماز پڑھنا۔

رات میں قیام کے چار فائدے 

حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں کہ حضوراقدس ؐ نے ارشاد فرمایاکہ تم رات کے جاگنے کولازم پکڑلوکیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین اورنیک لوگوں کاطریقہ ہے اوررات کاقیام اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب کازریعہ ہے اورگناہوں کے لیے کفارہ ہے (رات کی نماز)گناہوں سے روکنے والی اورحسد کودور کرنے والی ہے۔

اس حدیث پاک میں رات کے قیام یعنی نماز تہجد کے چار اہم فائدے ذکر کیے گئے ہیں اوریہ بھی بتایاکہ یہ صالحین کاطریقہ ہے پہلافائدہ قربۃ الی اللہ ہے یعنی نماز تہجدکے ذریعے اللہ پاک کاتقرب اوراس کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے ۔ دوسرافائدہ گناہوں کاکفارہ یعنی رات کواللہ پاک کی عبادت وطاعت میں مشغولیت سے انسان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ تیسرافائدہ یہ ہے کہ یہ انسانوں کواللہ کی نافرمانی اورگناہوں سے روکنے کابہترین اورکامیاب ذریعہ ہے اس کواختیار کرنے کے بعد انسان لاتعدادبُرے کاموں سے بچ جاتاہے۔ چوتھافائدہ یہ ہے کہ حسدجواہم ترین گناہوں سے ہے اور یہ بیماری آج کے اس دور میں عام ہے جس سے اللہ پاک کے پاک کلام میں بھی پناہ مانگی گئی ہے رات کے جاگنے سے اوررب کی عبادت میں مشغول ہونے سے انسان کی یہ لاعلاج بیماری بھی دور ہوجاتی ہے۔

رات کا پچھلاوقت مسلمانوں کے لیے انتہائی اہم ہوتاہے لیکن آج کامسلمان خواب غفلت میں سویاہے پورادن انسان رب کویاد نہیں کرتابس کمانے کے چکروں میں لگارہتاہے رات آتی ہے تواگلے دن کے بارے میں سوچتاسوچتاسوہی جاتاہے پَررب کوبھول کے سوناہی حقیقی غافل انسان کی نشانی ہے اللہ پاک نے کتنی مہربانیاں کی ہیں کہ رات کے پچھلے پہرخودپُکارتے ہیں کہ ہے کوئی معافی مانگنے والاہے کوئی بخشش طلب کنے والا۔

حق باری تعالیٰ کاسماء دنیاپہ نزول

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضوراکرم ؐ نے ارشاد فرمایاکہ حق تبارک وتعالیٰ ہر رات جب کہ پچھلی تہائی رات باقی رِہ جاتی ہے سماء دنیاپرنزول فرماتے ہیں، اورفرماتے ہیں کون ہے جومجھ سے دعاکرے میں اس کی دعاقبول کروں۔ کون شخص ہے جومجھ سے بخشش طلب کرے میں اس کے گناہ معاف کردوں مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ پھر حق تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ کھولتے ہیں (یعنی لطف ورحمت ظاہر فرماتے ہیں )اورفرماتے ہیں کہ کون ہے جوایسے ضرورت مند کوقرض دے جو نہ فقیر ہے نہ ظلم کرنے والاہے صبح تک اللہ پاک کی طرف سے یہی نداہوتی رہتی ہے۔ (مشکٰوۃ)

تہجدگُزاربلاحساب کے جنت میں

اسماء بنت یزیدؓحضوراکرمؐ سے نقل فرماتی ہیں کہ تمام لوگوں کوقیامت کے روزایک زمین پرجمع کیاجائے گا۔ پھرایک پکارنے والاپکارے گاکہ وہ لوگ کہاں ہیں جوراتوں میں اپنے پہلوئوں کواپنے بستروں سے علیٰحدہ رکھتے تھے(یعنی تہجدپڑھتے تھے)پس یہ لوگ اُٹھیں گے اوربلاحساب وکتاب جنت میں داخل ہوجائیں گیاور یہ لوگ تعداد میں تھوڑے ہونگے (اس کے بعد)پھرتمام لوگوں کے حساب وکتاب کاحکم کیاجائے گا۔

نمازِتہجدپڑھنے والوں کے لیے کس قدر فضیلتیں بیان کی گئی ہیں کہ بغیرحساب وکتاب اورسب سے پہلے جنت میں داخل ہونگے افسوس کامقام ہے آج ہم جیسے انسانوں کے لیے کہ جوتہجدجیسی اہم اورپیاری نماز سے پہلوتہی کرتے ہیں۔

شب بیداری اورجنت کی سواری

حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول کریم ؐ سے سناہے کہ آپ ؐ فرماتے تھے جنت میں ایک درخت ہے جس کے اوپر سے جوڑے اور نیچے سے یاقوت وموتی کی زین اورلگام لگے ہوئے سونے کے ایسے گھوڑے نکلتے ہیں جو نہ لیدکرتے ہیں اور نہ پیشاب۔ ان کے پَرہوتے ہیں اوران کی رفتارمنتہائے نظرہوتی ہے اہلِ جنت ان پر سوار ہوتے ہیں اورجہاں چاہتے ہیں لے اُڑتے ہیں جولوگ ان سے نیچے کے درجے کے ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں اے پروردگار!تیرے بندوں کویہ ساری بزرگی کس وجہ حاصل ہوئی؟(جواباًکہاجاتاہے )یہ لوگ رات میں نماز پڑھتے تھے اورتم سوتے تھے، یہ روزے رکھتے تھے اورتم کھاتے تھے یہ (خداکی راہ میں) خرچ کرتے تھے اورتم بُخل کرتے تھے یہ لوگ جہادکرتے تھے اورتم بُزدلی سے کام لیتے تھے(الترغیب والترہیب)

جنت کے عمدہ جوڑوں کاملنا، یاقوت موتی کے پاکیزہ وتیزرفتارگھوڑوں کاحاصل ہونااوراہل جنت کاسوارہوکربناکسی روک ٹوک کے سیروتفریح کرنایہ ایک عظیم الشان اعزازواکرام ہے۔ یہ اعزازواکرام دنیاکی راحت کوقُربان کرنے سے حاصل ہوتاہے ایک بندہ تہجدکیاصبح فجرکی نماز تک نہ پڑھے اورکہے کہ میں اعزازواکرام کی زندگی گُزاروں اورمرنے کے بعد بھی پُرسکون رہوں یہ نہیں ہوسکتارب کوراضی کرنے کے لیے راتوں کی نیندیں اورراحتیں قُربان کرناپڑتی ہیں اورجب رب راضی ہوتاہے توجَگ کوراضی کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ عافیت والامعاملہ فرمائے (آمین)

مزید دکھائیں

مولانا محمد طارق نعمان

مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی جامع مسجد خالد بن ولید فیزٹاؤن پکھوال روڈ مانسہرہ کے خطیب، مسجد فیصل شاپنگ آرکیڈ پنجاب چوک مانسہرہ کے امام اور مدرسۃ البنات صدیقہ کائنات و جامعہ اسلامیہ انوارِ مدینہ مانسہرہ کے ناظم تعلیمات ہیں۔ موصوف صوبائی اسلامک رائٹر موومنٹ کے پی کے کنونیر ہیں۔ آپ کے مضامین روزنامہ اسلام، اوصاف، ایکسپریس، جنگ، اخبارنو، شمال، جرات وغیرہ کے علاوہ دیگر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

متعلقہ

Close