عباداتمذہب

شب قدر: فضیلت اور برکتوں کی رات

مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی

اللہ پاک نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، کائنات میں رنگ برنگے درخت و پودے لگائے، بڑے بڑے پہاڑوں کو کھڑا کر دیا، زمین پہ پانی کو چلایا اور زمین کے نیچے بھی پانی کو پھیلایا، پھراس زمین کو جنوں سے آباد کیا جب جنات نے فساد بپا کیا تو اللہ پاک نے اپنے خلیفہ کے طور پہ انسان کو بنایا جس نے آکر اس زمین کو آباد کیا۔ تمام مخلوقات کے لیے اللہ پاک نے رات اور دن کو بنایا اس سے فائدہ سب ہی حاصل کر رہے ہیں اور انسانوں کو اللہ پاک نے تما م مخلوقات میں سے اشرف بنایا، اور تمام مخلوقات پہ اللہ پاک نے فضیلت انسان کو دی پھر انسانوں میں سے بھی اللہ پا ک نے بعض انسانوں کو بعض پر فضیلت دی سب سے افضل انسانوں میں انبیاء علیھم السلام ہیں اور انبیاء میں سے بھی اللہ پاک نے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کو چن لیا یہانتک کہ اللہ پاک نے تما م انبیا ء کاامام بھی بنا دیا. نبی پاک ﷺ کو دیگر انبیاء سے خصوصی شان حاصل ہے آپﷺکو بعض چیزیں خصوصی طور پر ملی ہیں۔

مسلم شریف میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ صفتیں ایسی حاصل ہیں جو مجھ سے قبل کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔

(1) مجھے ایسا رعب اور دبدبہ عطا کیا گیا کہ مہینہ بھر کی مسافت تک کوئی موجود ہو تو وہ شخص بھی مرعوب ہو جائے۔

(2) میرے لئے ساری روئے زمین پاک اور مسجد بنا دی گئی میری امت میں سے جس کسی کو جس جگہ نماز کا وقت آ جائے وہ اسی جگہ نماز پڑھ لے۔

(3) مجھ سے قبل کسی نبی کیلئے مال غنیمت حلال نہیں کیا گیا میری امت کیلئے حلال کر دیا گیا۔

(4) مجھے شفاعت کبریٰ دی گئی روز قیامت میں سب امتوں کیلئے عام طور پر اور اپنی امت کیلئے اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز ہو کر شفاعت کروں گا۔

(5) ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا اور مجھے کافۃ للناس(تمام لوگوں ) کیلئے بھیجا گیا۔

بعض محدثین نے لکھا ہے کہ چھٹی خصوصیت لیلۃ القدر کا عطا ہونا ہے جیسا کہ سورۃ القدر کے شانِ نزول سے ظاہر ہوتا ہے۔
معارف القرآن (جلد 8 صفحہ 791)پر لکھا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ایک ہزار مہینے تک اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کیا صحابہ کو رشک آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں یہ رات عطا فرمائی۔ بعض روایات میں ہے کہ حضورﷺ نے پہلی امتوں کی عمروں کو دیکھا کہ بہت زیادہ ہوئی ہیں اور آپﷺکی امت کی عمریں کم ہیں اگر وہ نیک اعمال میں انکی برابری کرنا چاہیں تو ناممکن ہے تو اس پر نبی کریم ﷺ کو رنج ہوا تو اللہ نے اس کے بدلے میں یہ رات عطا فرمائی۔ (سبحان اللہ )

اللہ پاک نے بعض راتوں کو بعض پر فضیلت بخشی اور بعض دنوں کو بعض دنوں پر فضیلت بخشی جیسے جمعۃ المبارک کو سید الایام کہا گیا تو اسی طرح لیلۃ القدر کو سید اللیل کا درجہ عطا کیا گیا کیونکہ قرآن مجید میں اس رات کو ہزار راتوں سے بہتر کہا گیا ہے۔

لیل اور یوم زمانے کے دو ٹکڑوں کے نام ہیں دن رات کو ملایا جائے تو چوبیس گھنٹے ایک دن کہلاتا ہے سات یوم کو ایک ہفتہ چار ہفتوں کو ایک مہینہ بارہ ماہ کو ایک سال اور سو سالوں کو ایک صدی کہتے ہیں جس کو دھر بھی کہتے ہیں۔ یہ سب زمانے کے ٹکڑے ہیں جیسے یہ ٹکڑے برا بر نہیں ایسے ساعتیں بھی برابر نہیں ہیں کوئی افضل کوئی غیر افضل ہے۔
تمام صدیوں میں افضل صدی وہ ہے جس میں سر کار دوعالم ﷺ تشریف لائے آپﷺ مقصود کائنات ہیں جس دن وہ ہستی پیدا ہوئی وہ سب سے افضل ہے۔

سالوں میں سب سے افضل وہ سال ہے جس میں سرکار دوعالمﷺنے ہجرت فرمائی وہ سال یاد گار ہے سن ہجری کے نام سے پکارا جاتا ہے پھر سال کے مہینوں میں افضل ماہ رمضان ہے اس کی راتوں میں افضل رات لیلۃ القدر ہے۔

لیلۃ القدرکا ایک معنیٰ 

لیل کے معنی رات کے ہیں اور قدر کے معنی ہیں عظمت و شرف تو اس رات کو شرف حاصل ہوا ہے کیونکہ اس میں نزول قرآن مجید ہوا ہے قرآن مجید سب کتابوں میں عظمت و شرف والی کتاب ہے اور جس نبی کریمﷺ پر یہ کتاب نازل ہوئی وہ تمام انبیاء پر عظمت و شرف رکھتے ہے۔ اس کتاب کو لانے والے جبرائیل امین بھی سب فرشتوں پر عظمت و شرف رکھتے ہیں تو یہ رات لیلۃالقدر بن گئی۔حضرت ابوبکر وراق فرماتے ہیں اس رات کو لیلۃ القدر اس وجہ سے کہتے ہیں جس آدمی کی اس سے قبل اپنی بے عملی کی وجہ سے قدر و منزلت نہ تھی تو اس کو توبہ استغفار اور عبادت کے ذریعہ صاحب قدر و شرف بنا دیا جاتا ہے۔

قدر کا دوسرا معنی 

قدر کے معنی تقدیر و حکم کے بھی آتے ہیں اس اعتبار سے لیلۃ القدر کہنے کی وجہ یہ ہوگی کہ اس رات تمام مخلوقات کیلئے جو تقدیر ازلی میں لکھا ہے اس کا جو حصہ اس سال رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے وہ ان فرشتوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو کائنات کی تدبیر اور تنفیذ کے امور کیلئے مامور ہیں۔ اس میں ہر انسان کی عمر اور موت اور رزق وغیرہ فرشتوں کو لکھوا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس سال میں جس شخص کو حج نصیب ہو گا وہ بھی لکھ دیا جاتا ہے اور جن فرشتوں کو یہ امور سپرد کر دیئے جاتے ہیں بقول حضرت ابن عباس چار ہیں (1) حضرت جبرائیل (2 ) حضرت میکائیل (3) حضرت عزرائیل (4) حضرت اسرافیل (معارف القرآن بحوالہ قرطبی جلد 8 صفحہ 792)

اہم سوال اور اس کا جواب

بعض روایات میں ہے، یہ فیصلے لیل النصف من شعبان، شبِ برات میں ہوتے ہیں۔  تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں روایتوں میں تطبیق ہے کہ ابتدائی فیصلے اجمالی طور پر شب برات میں ہو جاتے ہیں پھر اس کی تفصیلات لیلۃ القدر میں لکھی جاتی ہیں اور مقررہ فرشتوں کے سپر د کئے جاتے ہیں (معارف القرآن جلد 8 صفحہ 792)

لیلۃ القدر میں آسمان سے اتنے فرشتے اترتے ہیں کہ زمین پر جگہ تنگ ہو جاتی ہے کہ پاؤں رکھنے کی جگہ بھی نہیں ملتی تنزل الملءِکۃ والروح فرشتے بھی نازل ہوتے ہیں اورر وح الامین بھی تشریف لاتے ہیں۔ نیز احادیث میں بھی اس رات کی فضیلت کو واضح کیا گیا ہے۔

مختصرفضائل لیلۃ القدر

(1)اسی رات میں فرشتوں کی پیدائش ہو ئی۔(مظاہر حق جدید2,680)

(2)اسی رات جنت میں درخت لگائے گئے (ایضا)

(3) اسی رات حضرت آدمؑ کا مادہ جمع ہو نا شروع ہوا (ایضا)

(4)اسی رات بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہو ئی۔ (در منثور)

(5)اسی رات حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے (در منثور)

(6)اس رات میں بندوں کی توبہ قبول ہو تی ہے (در منثور)

(7) اس رات میں آسمان کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔

(8)حضرت عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: اس رات میں رزق، بارش، زندگی، یہاں تک کہ اس سا ل حج کرنے والوں کی تعداد، لوح محفوظ سے نقل کر کے، فائلیں فرشتوں کے حوالہ کر دی جا تی ہیں۔ یکتب حاج بیتِ اللہِ (قرطبی)

(9)اس رات میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر پوراقرآن کریم نازل ہوا (مظا ہر حق)

(10)اس رات میں آسمان سے بکثرت فرشتے اترتے ہیں جو مومنوں کو سلام کرتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں، ان کے لئے دعا خیر کرتے ہیں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔

لا یلقون فیھا مؤمنا مؤمنۃا لا سلمو علیہ (تفسیربی السعود8,41)

(11)حضرت ابوہریرہؓ سے حضور ﷺکا یہ ارشاد منقول ہے کہ: جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے نیز شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت کرے، تواس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔

(12)حضرت انسؓ فرماتے ہیں :کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا تو حضور ﷺنے فرمایا کہ: تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا ساری ہی خیر سے محروم رہ گیا(ابن ماجہ، کتاب الصیام)

؂عرش پر دھوم ہے فرش پر دھوم ہے، ہے وہ بدبخت جو آج محروم ہے

پھر یہ آئے گی شب کِس کو معلوم ہے ہم پہ لطفِ خدا آج کی رات ہے

شب قدر کی علامات

(1) حضرت انسؓ حضورﷺسے نقل کرتے ہیں کہ :وہ رات نورانی اور چمکدار ہوتی ہے نہ زیادہ گرم، نہ زیادہ ٹھنڈی۔

(2)اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے (رات میں آسمان پرانگارہ اور شعلہ سا جو بھاگتا ہوا نظر آتا ہے وہ اس رات میں نہیں ہوتا )

(3)شب قدر کی صبح کو نکلنے والا سورج چاند کے مانند، شعاؤں وکرنوں کے بغیر طلوع ہوتا ہے۔

(4) سمندر کا کڑوا پانی بھی اس رات میں میٹھا پایا گیا ہے۔عذ وبۃ الماِء المِلحِ (درالمنثور )

(5)اس رات میں انوار کی کثرت ہوتی ہے۔ کثرۃ الانوارِ فِی تِلک اللیلۃ (قرطبی)

(6) اس رات میں کتے کم بھونکتے ہیں اور گدھے بھی کم بولتے ہیں۔ قِلۃ نبح ا لکِلابِ ونھِیقِ ا لحِما رِ (صاوی4، 337)

لیلۃ القدر میں ہم نے کیا دعا مانگنی ہے 

لیلۃ القدر میں خدا تعالی کی رحمتوں کے تین سو دروازے کھلے ہوتے ہیں جو بھی دعا مانگو قبول ہوتی ہے وہ کریم ذات کسی کو بھی خالی نہیں لوٹاتی۔یہ رات دعا کی قبولیت کی رات ہے اپنے لئے، دوست و احباب کے لئے، اوروالدین کے لئے، تمام گزرے ہوئے لوگوں کے لئے دعا مغفرت کرنی چاہئے، اورسفیان ثوریؒ کے نزدیک اس رات میں دعاء میں مشغول ہوناسب سے بہتر ہے(روح المعانی)

اور دعاؤں میں سب سے بہتر وہ دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے: اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے تو مجھے بھی معاف فرمادے، اللھم اِ نک عفو تحِب ا لعفو فاعف عنِی (ترمذی رقم 3822)

؂مانگ لو مانگ لو چشم تر مانگ لو، درد دل اور حسن نظر مانگ لو 
کمبلی والے کی نگری میں گھرمانگ لو!مانگنے کا مزا آج کی رات ہے 

اس رات توبہ و استغفار کرنا چاہیے اور عجزو انکساری سے رو رو کر دعا کرنی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو لیلۃ القدر کی برکات نصیب فرمائے۔ (آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین)

مزید دکھائیں

مولانا محمد طارق نعمان

مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی جامع مسجد خالد بن ولید فیزٹاؤن پکھوال روڈ مانسہرہ کے خطیب، مسجد فیصل شاپنگ آرکیڈ پنجاب چوک مانسہرہ کے امام اور مدرسۃ البنات صدیقہ کائنات و جامعہ اسلامیہ انوارِ مدینہ مانسہرہ کے ناظم تعلیمات ہیں۔ موصوف صوبائی اسلامک رائٹر موومنٹ کے پی کے کنونیر ہیں۔ آپ کے مضامین روزنامہ اسلام، اوصاف، ایکسپریس، جنگ، اخبارنو، شمال، جرات وغیرہ کے علاوہ دیگر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

متعلقہ

Close