عباداتمذہب

شوال کے چھ روزے: فضائل ومسائل

 مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

اللہ عزوجل یہ چاہتے ہیں کہ بندہ ہر دم میری طرف متوجہ رہے ، میری احکام پر ہر دم عمل پیرا ہو ، ابھی رمضان کا سماں قائم تھا، رحمتوں ، برکتوں اور مغفرتوں سے مسلمانوں نے اپنے دامن مراد کو بھر لیا تھا، مختلف عبادتوں روزہ ، ترایح، قیام لیل، اعتکاف ، افطار ، سحر ، شب قدر کی تلاش وجستجو کے ذریعے مسلمانوں کو ایک مہینہ روحانیت کے دور سے گذارا گیا. رمضان بھر مسجدیں مصلیوں سے معمور رہیں ، ہر شخص نے اپنی وسعت بھر ، اپنی کوشش بھر عبادتوں ، ریاضتوں اور رمضان کے اعمال سے اپنے آپ کو مجلی ومصفی کیا، لیکن رحمتِ خداوندی تو یہ چاہتی ہے کہ ہر دم میرے بندے میری طرف متوجہ رہیں، ہر وقت وہ اس بات کی جویا ہوتی ہے کہ بندوں کے عفو ومعافی اور ان کے معاصی وخطایا سے در گذر کے مواقع حاصل ہوتے رہیں ، ابھی رمضان بھر روزوں کی تکمیل کی خوشی کی عید سعید منایا ہی تھا کہ چھ نفل روزوں کے ذریعے ر ب ذو الجلال نے چاہا کہ بندوں کو رمضان کے روزوں کے ساتھ اور کچھ اور مجاہدہ کروا کر ان کے سال بھر کے گناہوں اور خطاؤں کی بخشش کا سامان کیاجائے، اس کہ لئے عید کے دوسرے دن سے چھ شوال کے روزے مسنون کئے گئے ، چنانچہ اس حوالے مسلم شریف کی روایت مبارکہ ہے کہ فخر دوکونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :

جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ (نفل ) روزے شوال کے مہینے میں رکھے تو (پورے سال کے روزے رکھنے کا ثواب ملے گا ، اگر ہمیشہ ہر سال اس نے رمضان کے ساتھ چھ روزں کا معمول رکھا ) تو گویا اس نے ساری عمر کے روزے رکھے ۔ ’’ من صام رمضان ثم أتبعہ من شوال، کان کصیام الدھر ‘‘ (مسلم : باب استحباب صوم ستۃ أیام من شوال إتباعا لرمضان، حدیث:1164)

اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام ترمذی نے فرمایا ہے : اسی حدیث کی رو سے ایک قوم نے شوال کے چھ روزوں کو مستحب کہا ہے ، علامہ ابن مبارک فرماتے ہیں : ’’ یہ بہتر ہے، یہ ہر مہینے کے تین روزوں کے مثل ہیں ‘‘

 ابن مبارک مزید فرماتے ہیں : ’’ بعض احادیث میں اس کا تذکرہ ہے کہ ان روزوں کو رمضان کے روزں کے ساتھ ہی رکھا جائے ‘‘

 اس لئے ابن مبارک نے شوال کے مہینے کی ابتدا ء میں ان روزوں کے رکھنے کو پسند فرمایا ہے ، ابن المبارک سے یہ بھی مروی ہے  کہ فرماتے ہیں : ’’ اگر کسی نے شوال کے چھ روزے متفرق طور پر رکھے تو یہ بھی جائز ہے ‘‘

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں : جب ان کے یہاں شوال کے چھ روزوں کا تذکرہ ہوتاتو وہ فرماتے : ’’ اللہ عزوجل ان روزوں کے رکھنے پر سال کے تمام روزے رکھنے کاپروانہ مرحمت فرمایا ہے ‘‘ ( سنن الترمذی، باب ما جاء فی صیام ستۃ أیام من شوال، حدیث: 759)

اور ایک روایت میں چھ شوال کے روزوں کی فضیلت یوں بیان کی گئی کہ جو شخص یہ روزے رکھتا ہے تو گناہوں سے ایسے پاک وصاف ہوجاتا ہے جیساکہ وہ اپنی ولادت کے دن گناہوں سے پاک وہ صاف ہوتا ہے ’’ من صام رمضان واتبعہ ستا من شوال خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ أمہ‘‘ ( المعجم الاوسط، من اسمہ مسعود، حدیث: 8622)

36 روزے سال کا ثواب:

رمضان اگر انتیس کا ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے تیس روزوں کا ثواب دیتے ہیں ، اور شوال کے چھ روزے شامل کرنے کے بعد روزوں کی تعداد 36ہوجاتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے کریمانہ قانون ’’الحسنۃ بعشر أمثالھا‘‘ (ایک نیکی کا ثواب دس گنا) کے مطابق 36 روزوں کا ثواب دس گنا کے حساب سے 360 روزوں کے برابر ہوجاتا ہے ، اور پورے سال کے دن 360سے کم  ہوتے ہیں ؛ لہٰذا جس نے پورے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں چھ روزے رکھے وہ اس حساب سے 360کے ثواب کا مستحق ہوگا، پس اجر وثواب کے لحاظ سے یہ ایسا ہوا جیسے کوئی بندہ سال کے 360دن مسلسل روزے رکھے ۔ (شرح النووی علی مسلم : باب استحباب صوم ستۃ أیام من شوال اتباعا لرمضان، حدیث: 8؍56)  )

٭ جیسا کہ اوپر بھی معلوم ہوا کہ بہتر یہ ہے کہ شوال کے چھ روزے شوال کے شروع میں ہی عید الفطر کے بعد  رکھ لئے جائیں جیسا کہ معمول بھی ہے ،  جس کی وضاحت ایک روایت میں آئی ہے ’’ من صام ستۃ أیام بعد الفطر ککأنہ صام السنۃ ‘‘ ( جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے اس نے سال بھر کے روزے رکھے ) ہاں البتہ ا س کی گنجائش ہے کہ شوال کے مہینے میں کسی بھی دن رکھے جاسکتے ہیں ،لگاتار رکھنا کوئی ضروری نہیں ۔’’ وإن فرّقھا جاز ‘‘ ( اگر ان روزوں کو اس نے متفرق رکھا تو جائز ہے) ( مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: باب صیام التطوع: 4؍1417، دار الفکر ، بیروت ) بعض لوگوں نے ان روزوں کو مکروہ کہا ہے اوراس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لوگ اس کو مسلسل ہونے کی وجہ سے اس کا شمار رمضان میں نہ کرنے لگیں اور اس کو واجب سمجھنے لگیں ؛ لیکن چونکہ عید کے دن روزہ نہ رکھنے سے فصل ہوجاتا ہے ، اس لئے التباس کا کوئی موقع نہیں ، ہاں البتہ ان روزوں کو وجوب کا درجہ نہ دیا جائے ۔جس کے اندیشہ سے بعض لوگوں نے ان روزوں کو مکروہ کہاہے ۔ ( حوالہ سابق )

٭ اگر شوال کا رززہ رکھ کر کسی نے توڑ دیا تو صرف قضاء لازم آئے گی ، اس کے بدلے میں ایک روزہ رکھنا ہوگا۔ (رمضان کے احکام : 73، حضرت مولانا منظور یوسف، مکتبہ فکر آخرت ، کراچی)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close