عباداتمذہبی مضامین

شوال کے چھ روزے

مفتی محمد جمیل اخترجلیلی

 اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کودوطرح کی عبادتوں کوانجام دینے کاحکم دیاہے، ایک وہ عبادتیں ، جن کااداکرناہرعاقل وبالغ کے لئے ضروری ہے،جسے اصطلاح میں ہم ’’فرض‘‘کہتے ہیں ، دوسری وہ عبادتیں ،جن کے اداکرنے کوضروری تونہیں قراردیا؛ لیکن اضافی ثواب کا ذریعہ بتلایاہے، جسے اصطلاح میں ہم ’’نفل وسنت‘‘کہتے ہیں ، یہ نفل وسنت تقریباً تمام فرضوں کے ساتھ ملحق ہے، جو دراصل فرائض میں کسی کوتاہی کی صورت میں تلافی کاباعث اورثواب میں اضافہ کاذریعہ ہواکرتاہے۔

 روایت میں آتاہے کہ نجدکے ایک شخص نے حضورﷺسے(اعمالِ) اسلام کے بارے میں سوال کیاتوآپﷺ نے فرمایا: دن ورات میں پانچ نمازیں (فرض ہیں )، اس نے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی کچھ(فرض نماز) ہیں ؟ جواب دیا: نہیں ، الایہ کہ تم نفل (نماز)اداکرو، پھرآپﷺ نے فرمایا: اوررمضان المبارک کے روزے(فرض ہیں )، اس نے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی کچھ(فرض روزے) ہیں ؟ جواب دیا: نہیں ، الایہ کہ تم نفل (روزے)رکھو، پھرآپﷺ نے زکوٰۃ کے فرض ہونے کے بارے میں بھی بتلایا تواس نے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی کچھ(فرض زکوٰۃ) ہیں ؟ جواب دیا: نہیں ، الایہ کہ تم نفل (زکوٰۃ)اداکرو، (یہ سننے کے بعد)وہ شخص یہ کہتے ہوئے لوٹا کہ بخدا میں (ان بتائے ہوئے امورمیں ) نہ توکچھ کمی کروں گااورنااضافہ، آپﷺ نے فرمایا: وہ کامیاب ہوگیا، اگراس نے سچ کہا۔(صحیح البخاری، باب الزکاۃ من الإسلام، حدیث نمبر:46)

 مذکورہ حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ فرائض کے علاوہ نوافل بھی ہیں ، جن کی ادائے گی کا حکم استحبابی ہے،علامہ ابن دقیق العیدؒ لکھتے ہیں :

ومن أتی بالفرائض وأتبعہاالنوافل، کان أکثرفلاحاً منہ، وإنماشرعت لتتمیم الفرائض۔ (شرح الأربعین، الحدیث الثانی والعشرون: 1؍59)’’جس نے فرائض کواداکیااوراس کے بعدنوافل کااہتمام کیا، وہ زیادہ بامرادشخص ہے، اورنوافل کی مشروعیت فرائض کی تکمیل کے لئے کی گئی ہے‘‘۔

 رمضان المبارک کے روزے فرض تھے،ماہِ رمضان کے اختتام کے ساتھ ہی شوال المکرم میں نفل روزے رکھنے کاحکم دیاگیاہے؛ چنانچہ حضوراکرمﷺ کا ارشاد ہے: من صام رمضان، ثم أتبعہ ستامن شوال، کان کصیام الدہر۔ (صحیح مسلم، باب استحباب صوم ستۃ أیام من شوال أتباعاً لرمضان، حدیث نمبر:1164)’’جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھراس کے بعدشوال کے چھ روزے رکھے تووہ ایسا ہی ہے، جیسے کسی نے زمانہ بھرروزے رکھے‘‘۔

اب شوال کے چھ روزوں کے سلسلہ میں ایک مسئلہ اس کی فقہی حیثیت کاہے؛ چنانچہ اس سلسلہ میں فقہائے کرام کے نقاطِ نظردرج ذیل ہیں :

1-  حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک شوال کے یہ چھ روزے مکروہ ہیں ، خواہ یہ چھ روزے تسلسل کے ساتھ رکھے جائیں یا مختلف ایام میں ۔

  2-  حضرت امام ابویوسفؒ کہتے ہیں کہ تسلسل کے ساتھ رکھنامکروہ ہے، مختلف دنوں میں رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

  3-  حضرت امام مالکؒ کے نزدیک تسلسل اورعیدکے بعدفوراً رکھنامکروہ ہے؛ کیوں کہ ایسی صورت میں کم پڑھے لکھے لوگ اس کوضروری سمجھ سکتے ہیں ؛ البتہ عدم تسلسل اورتاخیرکے ساتھ رکھنے میں کراہت نہیں ۔

4-  حضرت امام شافعی اورحضرت امام احمدبن حنبل رحمہمااللہ کے نزدیک شوال کے چھ روزے مستحب ہیں ، نیزمتأخرین احناف بھی اسی کے قائل ہیں ؛ البتہ حضراتِ شوافع کے یہاں افضل عیدالفطرکے فوراً بعدتسلسل کے ساتھ رکھناہے۔(فقہ حنفی:البحرالرائق، کتاب الصوم،الفتاوی الہندیۃ، الباب الثالث: فیمایکرہ للصائم ومالایکرہ،شرح فتح القدیر، فقہ مالکی:فقہ العبادات المالکی، 1؍323، التاج والإکلیل، فصل فی الصیام: 2؍415، فقہ شافعی:المجموع، مسائل تتعلق بکتاب الصیام: 6؍973،روضۃ الطالبین، فصل صوم التطوع: 2؍387،فتح المعین، فصل فی صوم التطوع: 2؍268،شرح النووی علی مسلم، باب استحباب صوم ستۃ أیام من شوال:         فقہ حنبلی:الفروع وتصحیح الفروع: 5؍84،کشاف القناع، باب صوم التطوع ومایکرہ منہ: 2؍337)

 دوسرامسئلہ یہ ہے کہ ان روزوں کوکس طرح اورکب رکھاجائے؟ تسلسل کے ساتھ یا حسب ِسہولت مختلف ایام میں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ماہِ شوال میں روزہ رکھناہے، اب خواہ پے درپے رکھے، یا کبھی رکھے اورکبھی چھوڑے، یاعیدکے دوسرے دن ہی سے رکھناشروع کردے، یاپھرمہینہ کے آخریابیچ میں رکھے،بہرصورت حضوراکرم ﷺ کے بتائے ہوئے ثواب کامستحق ٹھہرے گا، علامہ صنعانیؒ لکھتے ہیں : واعلم أن أجرصومہایحصل لمن صامہامتفرقۃ أومتوالیۃ، ومن صامہاعقیب العیدأوفی أثناء الشہر۔ (سبل السلام، باب صوم التطوع:2؍167)’’جانناچاہئے کہ ان روزوں کاثواب اُن تمام لوگوں کے لئے ہے، جوتسلسل کے ساتھ رکھے، یاجوچھوڑچھوڑکررکھے، یا جوعیدکے فوراًبعد رکھے، یاجوبیچ مہینہ میں رکھے۔

 تیسرا مسئلہ ان روزوں کے فوائدکاہے،ان روزوں کاسب سے بڑافائدہ ’’کم خرچ، بالانشین‘‘والاہے، صرف چھ روزے کی وجہ سے سال بھرروزے رکھنے کا ثواب؛ لیکن اگران چھ روزوں سے غفلت برتی گئی توتمام سال کی عبادت سے محرومی،دراصل نیکیوں کے سلسلہ میں شریعت کاایک اصول ہے، جس کوقرآن مجیدمیں اِس طرح بیان کیاگیاہے: مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہ‘ عَشْرُ اَمْثَالِہاَ۔ (الأعراف: 160)’’جونیک کام کرے، اس کے لئے دس گناہے‘‘، یہاں بھی اسی اصول کوپیش نظررکھاگیاہے، رمضان المبارک کے پورے مہینے روزہ رکھنے سے دس ماہ روزہ رکھنے کاثواب ملتاہے، دومہینے جوبچ جاتے، وہ شوال کے چھ روزے رکھنے سے پورے ہوجاتے ہیں ، اس طرح صرف چھ روزوں کی وجہ سے سال بھرروزہ رکھنے کاثواب مل جاتاہے۔

 ان کادوسرافائدہ یہ ہے کہ رمضان المبارک کے روزے میں جوکوتاہی ہوئی اورکمی رہ گئی ہے، ان سے ان کی تلافی ہوتی ہے؛ کیوں کہ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے کماحقہ‘ رمضان المبارک کی قدر کی، حدیث میں آتاہے کہ :قیامت کے دن سب سے پہلے بندوں کے اعمال میں سے نمازکے بارے میں پوچھ ہوگی، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہے گا: میرے بندے کی نماز دیکھو، پوری ہے یاناقص؟اگرپوری ہوگی توپوراثواب دیاجائے گا؛ لیکن اگرکمی ہوگی تواللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو! میرے بندے کا کچھ نفل ہے؟ اگرکچھ نفل ہوگاتوحکم دے گا کہ : اس کے فرض کی کمی کونفل سے پوراکیاجائے، پھراس کے مطابق بدلہ دیاجائے۔(ترمذی،باب ماجاء أن أول مایحاسب بہ العبد یوم القیامۃ الصلاۃ، حدیث نمبر:413، ابوداؤد،باب قول النبیﷺ: کل صلاۃلایتمھاصاحبھا، تتم من تطوعہ، حدیث نمبر:864)

 تیسرافائدہ یہ ہے کہ بندہ ان کے ذریعہ سے اللہ کامحبوب بن جاتاہے؛ چنانچہ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ: بندہ نوافل کے ذریعہ سے مجھ سے قریب ہوتارہتاہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتاہوں ، جب میں محبت کرتاہوں تواس کاکان بن جاتاہوں ، جس سے وہ سنتاہے، اس کی آنکھ بن جاتاہوں ، جس سے وہ دیکھتاہے، اس کا ہاتھ بن جاتاہوں ، جس سے وہ پکڑتاہے، اس کا پیربن جاتاہوں ، جس سے وہ چلتاہے، اوراگروہ مجھ سے سوال کرتاہے تواسے نوازتاہوں ، اوراگرپناہ چاہتاہے تومیں پناہ دیتاہوں ‘‘۔ (صحیح بخاری، باب التواضع، حدیث نمبر:6502)

 ان روزوں کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ایک مہینہ مسلسل روزہ رکھنے کی وجہ سے معدہ بھوک سہنے کا عادی ہوگیاہے، اچانک کھانے پینے کے نتیجہ میں اسے نقصان ہوسکتاہے؛ اس لئے ان چھ روزوں کے ذریعہ معدہ کے بھوک سہنے کی عادت کوختم کیاجاتاہے؛ تاکہ نقصان سے بچاجاسکے۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں ان روزوں کے اہتمام کی توفیق عطافرمائے، آمین!

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close