عباداتمذہب

عبادت میں ریا کاری کا دخول

 عبدالباری شفیق السلفی

سوال : کیا انسان کو ايسے عمل پر ثواب حاصل ہوتا ہے جو رياکاری کے ليےکيا جائے اور دوران عمل ہی نيت بدل کر وہ خالصتا اللہ کے ليے ہو ؟ مثلا ميں نے قرآن مجيد مکمل ختم كکيا تو مجھ ميں رياکاری کا عنصر داخل ہو گيا، لھذا جب ميں نے اس سوچ كکاخالص اللہ کی سوچ کے ساتھ مقابلہ کيا توکيا مجھے اس تلاوت کا ثواب ملے گا؟یا رياء کے سبب ضائع ہو جائے گا؟ اگرچہ رياء عمل کرنے كکے بعد ہی آئی ہو ؟

جواب : شيخ علامہ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہيں کہ:عبادت ميں رياء كکاری کا عنصر تين طرح سے شامل ہوتا ہے:

پہلی وجہ:کہ ابتداء سے اس عبادت کا باعث رياکاری اور لوگوں کو دکھلاوا ہو، مثلا اس شخص کی طرح جو لوگوں کو دکھانے كکے ليے نماز ادا كکرنا شروع کر دے، تاکہ لوگ اس كکی نماز پر اس ك کی تعريف کریں ، تو يہ عمل عبادت کو باطل کر دے گا۔

دوسری وجہ:دوران عبادت رياکاری شامل ہو جائے، يعنی دوسرے معنی ميں يہ کہ ابتدا ميں تو اس نے عبادت خالصتا اللہ تعالیٰ کے ليےشروع کی،لیکن پھر عبادت کے دوران ہی اس ميں رياکاری شامل ہو گئ، تو يہ عبادت دو حالتوں سے خالی نہيں ہو سکتی:

پہلی حالت:عبادت کا پہلا حصہ عبادت کے آخری حصہ سے مرتبط نہ ہو ، لھذا عبادت کاپہلا حصہ تو ہر حالت ميں صحيح ہے، اور اسکا آخر باطل ہے،اس کی مثال اس طرح ہےکہ: ايک شخص کے پاس سو ريال ہيں وہ انہيں صدقہ كکرنا چاہتا ہے، تو اس نے پچاس ريال خالص اللہ كکے ليے صدقہ کر دیئے، پھر باقی پچاس ريال ميں رياکاری آگئ، لھذا پہلے پچاس ريال صحيح اور مقبول ہيں ، اور باقی پچاس ريال كکا صدقہ اخلاص اور رياکاری دونوں کے اختلاط کی بناء پر باطل ہيں ۔

دوسری حالت:کہ عبادت كکا ابتدائی حصہ بھی آخری عبادت كے ساتھ مرتبط ہو: تو اس وقت بھی انسان دو معاملوں سے خالی نہيں ہو گا:

پہلا معاملہ:  وہ رياکاری کو دور اور ختم کرے، اور اس ك کی طرف دھيان نہ ديتا ہو بلکہ اس سے اعراض كکرتا اور اسے ناپسند کرتا ہو: تو اس پر کچھ بھی اثرانداز نہيں ہو گی:کيونکہ نبی کريم صلی اللہ عليہ وسلم کا فرمان ہے:’’ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّ اللہَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ ، أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بهِ ،  أَوْ تَكَلَّمْ.(بخاری:6664)بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ميری امت سے وہ کچھ معاف کرديا ہے جو اس کے نفس ميں ہوتا ہے، جب تک کہ وہ اس پر عمل نہ کرلے يا کلام نہ کرے۔

دوسرا معاملہ:وہ اس رياکاری پر مطمئن ہو اور اسے دور نہ کرے: تو اس وقت اس کی ساری عبادت ضائع وبربادہوجائے گی۔کيونکہ اس کا پہلا حصہ بھی آخرکے حصہ کے ساتھ مرتبط ہے۔اس كکی مثال اس طرح ہے کہ:نماز خالصتا اللہ تعالیٰ کے ليے شروع کی ى جائے، پھر دوسری رکعت ميں رياکاری شامل ہو جائے، توپہلا حصہ آخری حصے كکے ساتھ مرتبط ہونے کی بنا پر ساری کی ساری نماز باطل ہو جائے گی۔

تيسری وجہ:  يہ کہ عبادت ختم ہو جانے كکے بعد رياکاری پيدا ہو جائے: تو اس صورت ميں اس پر كکوئی اثر نہيں ہوگا، اور نہ ہی باطل ہو گی، کيونکہ وہ عبادت صحيح پوری  ہوئی ہے، تو عبادت ختم ہونے كکےبعد پيدا ہونے والی رياکاری کی بنا پر وہ عبادت باطل نہیں ہو گی۔اور يہ رياکاری ميں شامل نہيں ہوتاکہ لوگوں كکو انسان کی عبادت معلوم ہوجائےتو وہ انسان خوشی محسوس کرے،کيونکہ یہ عمل توعبادت سے فارغ ہو جانےکے بعد ہوا ہے۔اور يہ بھی رياکاری نہيں کہ انسان اطاعت اور فرمانبرداری كکا فعل کرنے پر مسرور ہو،کيونکہ يہ تو اس کے ايمان کی دليل ہےنبی کريم صلی اللہ عليہ وسلم كکا فرمان ہے:’’عَنْ أَبِي مُوسَى  قَالَ : قَالَ رَسُولُﷺ : مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ ‘‘(المنتخب من مسندعبد بن حمید۔ح:559)جسے اس کی ى اپنی نيکی خوش کردے، اور برائی اسے ناراض کردے تو يہی مومن ہے’’ا ور نبی کريم صلی اللہ عليہ وسلم سے اس كکے بارے ميں سوال کيا گيا تو رسول كکريم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:يہ مومن كکے ليے دنيا ميں ہی جلدی ملنے والی خوشخبری ہے’’ديکھيں : مجموع فتاوی ٰالشيخ ابن عثيمين ۔(2؍29،30)

    اس لئے ہم تمام مسلمانوں کو اپنے تمام اعمال صالحہ خالصۃ لوجہ اللہ کرنا چاہئے ا سلئے کہ وہی ہمارے اعمال کو دیکھنے والا اور کل قیامت کے دن پائی پائی کا حساب لینے والا ہے ، اور اسی کی رضا ہی ہماری کامیابی کا ضامن ہے ۔

مزید دکھائیں

عبدالباری شفیق

مضمون نگار ماہنامہ مجلہ ’’النور‘‘ (ممبئی) کے ایڈیٹر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close