عباداتمذہب

عید کے بعد بھی بندگی

محمد سالم قاسمی سریانوی

ابھی برکت ورحمت سے مالا مال ایام کا مہینہ ’’رمضان المبارک‘‘ اختتام پذیر ہوا ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا اختتام ہوگیا ہے، جو رونق وشوکت ماہ رمضان کے مبارک ایام میں تھی، وہ ناپید ہوچکی ہے، وہ عبادت وریاضت، سمع وطاعت، اطاعت شعاری وگریہ وزاری، جود وسخا، صبر وشکر، مواسات وغم خواری اور دوسروں کے حقوق وغیرہ کے خیال کا ایسا سماں تھا، کہ اب اس کا تصور نا ممکن سا معلوم ہورہا ہے، حالاں کہ رمضان صرف اس لیے نہیں تھا کہ اسی خاص مہینے میں سب کچھ عبادت واطاعت کرلیا جائے، باقی پورے سال کو اپنی خواہشات ومرضیات کے مطابق گزارا جائے، اور اسلام کو صرف ’’رسم مسلمانی‘‘کے طور پر اپنی زندگی کے اندر اتارا جائے۔

در حقیقت ماہ رمضان پورے سال کا تربیتی کیمپ ہے، جس میں بندوں کو تقوی واطاعت شعاری کی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے، اور انھیں آہستہ آہستہ اُس نہج پر لایا جاتا ہے، جہاں اللہ اور اس کے رسول کی خوش نودی کا پروانہ نصیب ہو، آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ روزہ نام ہے ’’طعام وشراب اور جنسی تقاضوں سے اپنے آپ کو روک لینا‘‘ کا، یہ روزہ کا ظاہر ہے، جس کے باطن میں ایسے رازہائے سربستہ چھپے ہیں جن کے حقائق کی تہ تک پہنچنا سب کے بس کی بات نہیں ہے۔

 یہ ’’کھانے، پینے اور جماع سے رکنے‘‘ کا موازنہ مشہور نیت والی حدیث …جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے…سے کیجئے، جس میں آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘ (بخاری ومسلم) اس سے یہ حقیقت کھل کر واضح ہوجاتی ہے، روزے میں نیت کا مکمل دخل ہے، چوں کہ اس کے اندر ریا ودکھاوے کا کوئی شائبہ نہیں ہے، اسی لیے روزہ داروں سے یہ کہنا نہیں پڑتا کہ روزہ کی حالت میں آپ کے لیے کھانا، پینا اور جماع کرنا درست نہیں ہے، بل کہ وہ محض اللہ کے خوف اور ڈر سے یہ سب چھوڑ دیتا ہے، اور در اصل یہی تقوی کی پہلی سیڑھی ہے، جس کے ذریعہ ایک مسلمان اللہ کے قریب تر ہونا شروع کرتا ہے، اور جیسے جیسے اس کے مذکورہ احساس کے اندر اضافہ ہوتا ہے، وہ مزید معراج تقرب میں ترقی کرتا ہے، بالآخر اس منزل تک پہنچ جاتا ہے، جس کو اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں روزہ کی فرضیت کا غایت ومقصود قرار دیا ہیـ۔ ارشاد ہے:

یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلٰی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن۔ (البقرۃ: 183)

کہ اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جیسا کہ پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم متقی بن جاؤـ۔

 مشہور مفسر ابو حیان اندلسیؒ اس آیت میں ’’تتقون‘‘ کے ٹکڑے کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’تتقون‘‘، الظاہر: تعلق لعل بکتب، أي: سبب فرضیۃ الصوم ہو رجاء حصول التقوی لکم، فقیل: المعنی تدخلون في زمرۃ المتقین؛ لأن الصوم شعارہم۔ (البحر المحیط)

یعنی روزے کی فرضیت کا مقصد تقوے کا حصول ہے، اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ تم متقیوں کے زمرے میں داخل ہوجاؤ، اس لیے کہ روزہ ان (متقیوں ) کا شعار ہے۔

 اس پورے پس منظر میں یہ بات قابل غور ہے کہ جب ہم اللہ کے حکم پر روزہ رکھتے ہیں ، تروایح پڑھتے ہیں اور دیگر ممنوعات سے احتراز کرتے ہیں ، اور یہ عمل تقریبا ایک مہینہ کرتے ہیں ، پھر آخر کیا وجہ ہے کہ رمضان کا مہینہ گزرتے اور عید کا چاند نظر آتے ہی تبدیلی ہوجاتی ہے؟ اور مسلمانوں کا اکثریتی طبقہ نماز اور دیگر عبادات سے غافل اور بے پرواہ ہوجاتا ہے، اور دوبارہ انھیں نافرمانیوں اور غفلت شعاریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، جن میں وہ پہلے سے چلا آرہا تھا، پورے ایک مہینہ تربیت وٹریننگ حاصل کرنے کے باوجود کیسے اس ’’رمضانی نہج‘‘ کو چھوڑ دیتا ہے اور اللہ ورسول کی اطاعت کو ترک کرکے شیطانی وطاغوتی اعمال میں مبتلا؛ بل کہ مست ہوجاتا ہے، یہ ایک سوال ہے جو ہر دین دار کو عید بعد جھنجھوڑتا ہوگا؟؟

اس حوالے سے قابل غور بنیادی بات یہ ہے کہ ہم روزہ بھی رکھ لیتے ہیں ، تراویح کا بھی اہتمام کرلیتے ہیں اور دیگر عبادتوں کو بھی انجام دے لیتے ہیں ، لیکن در حقیقت وہ ایک رسم ورواج اور ماحول کے طور پر ہوتی ہے، جس کی حقیقت ہمارے اندر نہیں ہوتی ہے، بل کہ وہ ایک جسد ہوتا جس کی روح مفقود ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عید کے دن ہی بہتیرے مسجد سے دور ہوجاتے ہیں ، جب کہ وہ دن خوشی کا ہوتا ہے اور اللہ کی طرف سے انعامات کادن ہوتا ہے، لیکن بڑا طبقہ اس کی حقیقت سمجھنے سے قاصر ہے۔

 یہ ’’رمضانی نہج‘‘صرف اسی مبارک ماہ کے ساتھ خاص نہیں ہے؛ بل کہ یہ چیز تو ہر مسلمان کی زندگی میں ہمہ وقت اور ہر شعبہ میں ہونی چاہیے، کوئی بھی مسلمان اس حوالے سے کامل مسلمان ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کی زندگی کے بعض حصوں اور بعض شعبوں میں تو ایمان واعمال ہوں ، اور بقیہ اس سے عاری ہوں ، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ادْخُلُوْا فِیْ السِّلْمِ کَافَّۃً وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ اِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّْ مُبِیْنٌ۔ (سورۃ البقرۃ:208)

کہ اے ایمان والو! تم اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر مت چلو، وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

 اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں ، جہاں مشہور قول کے مطابق اس آیت کا نزول اہل کتاب جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں مفسرین نے بیان کیا ہے، وہیں بہت سے مفسرین نے یہ بھی اختیار کیا ہے کہ آیت مذکورہ مخلص مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اور ان سے کہا گیا ہے کہ تم اسلام کے تمام شعبوں پر عمل درآمد کرو، کسی بھی شعبہ میں اس کے احکام کی خلاف ورزی نہ ہو۔ علامہ آلوسی بغدادیؒ آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ذکر کرکے لکھتے ہیں :

وقیل: الخطاب للمسلمین الخلص، والمراد من السلم شعب الإسلام، وکافۃ حال منہ، والمعنی: ادخلوا أیہا المسلمون المؤمنون بمحمد ﷺ في شعب الإیمان کلہا، ولا تخلوا بشيء من أحکامہ، وقال الزجاج في ہذا الوجہ: المراد من السلم الإسلام، والمقصود أمر المسلمین بالثبات علیہ، وفیہ أن التعبیر عن الثبات علی الإسلام بالدخول فیہ بعید غایۃ البعد، وہذا ما اختارہ بعض المحققین۔ (روح المعانی)

اس کا خلاصہ یہ کہ اس آیت میں خطاب عام مخلص مسلمانوں سے کیا گیا ہے، اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اے مسلمانو! تم ایمان کے تمام شعبوں پر عمل کرو، اور کوئی بھی شعبہ تمہارے عمل سے خالی نہ رہے، بل کہ تم اس پر ثابت قدم رہو۔

یہ ثبات قدمی اور دوام کا مضمون احادیث طیبہ کے اندر بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

’’إن أحب الأعمال إلی اﷲ ما دام وإن قل‘‘ (بخاری ومثلہ فی مسلم)

کہ اللہ تعالی کو محبوب عمل وہ ہے جس میں مداومت یعنی پابندی ہو، چاہے وہ کم ہی ہو۔

مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رمضان المبارک میں ہمارے اندر رسمی ورواجی دین داری آتی ہے، جو کہ محض ماحول کے تاثر سے ہوتی ہے، جس کا حقیقت بالا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے، اسی لیے جیسے ہی یہ ماحول ختم ہوتا ہے، وقتی دین داری بھی ہم سے رخصت ہوجاتی ہے اور پھر وہی گھسے پٹے پرانے دین دار باقی رہ جاتے ہیں ، جیسے لگتا ہے کہ انھوں نے دین کا ٹھیکہ لے رکھا ہو اور باقی حضرات فقط دنیا داری کے ذمہ دار ہیں۔

   ہمیں اس رمضان کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا، اور جو عظیم مقصد اس کے اندر پنہاں کیا گیا ہے اسے اختیار کرکے اپنی زندگی کو مکمل نہج اسلامی اور دین داری پر لانا ہوگا، جو وقتی اور ناپائیدار دین داری کا فروغ ہمارے اندر ہے اس کو الوداع کہنا ہوگا، اور حقیقی معنوں میں کامل ومکمل دین کو اپنے اندر سمونا، اس کی نشر واشاعت کی فکر وکوشش اور ہر چہار جانب اس کو پھیلانے کو اپنا فرض منصبی سمجھنا ہوگا۔

 اگر ہر فرد اس کو سمجھنے لگے اور اس فکر وسوچ کو زندگی کا جزو لاینفک بنا لے تو یقینا یہ بات کہا جاسکتی ہے کہ بہت جلد یہ ماحول بدل سکتا ہے اور صحیح وحقیقی دین داری ہمارے اندر بھی فروغ پاسکتی ہے، جس پر جناب نبی کریم ﷺ نے امت کو چھوڑ اتھا، اور اعلان کیا تھاکہ تم جب تک کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو پکڑے رہوگے ہر گز کمراہ نہیں ہوسکتے۔

’’ترکت فیکم أمرین، لن تضلوا ماتمسکتم بہما: کتاب اﷲ وسنۃ نبیہ‘‘۔ (موطأ امام مالک)

مزید دکھائیں

محمد سالم قاسمی سریانوی

استاذ جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور اعظم گڑھ یوپی

متعلقہ

Close