عبادات

فلسفۂ صیام

ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

آگ برساتے ہوئے سورج، جھلسادینے والی دھوپ، دہکتی ہوئی زمین اور تپتے ہوئے عالم میں روزہ رکھنا اس قدر مشکل و دشوار نہیں جس قدر روزے کی حفاظت کرنا اور اس کو بحسن خوبی اختتام وتکمیل تک پہنچانا۔

روزہ محض کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ پورے جسم، ذہن اور روح کی پاکیزگی اور تمام قسم کے لغو، بیہودہ،فضول کاموں سے بچنے کانام ہے۔جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:جو شخص جھوٹ بولنا، برے کام کرنا اورلغو بیہودہ کلام نہیں چھوڑتا اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی اللہ رب العزت کو کوئی حاجت نہیں۔ مزید یہ کہ روزہ دنیا میں گناہوں سے بچنے کے لئے اورآخرت میں عذاب جہنم سے بچنے کے لئے ایک ڈھال ہے۔اس تناظر میں اگر دیکھا جائے توباوجود آگ برساتے ہوئے سورج، جھلسادینے والی دھوپ، دہکتی ہوئی زمین اور تپتے ہوئے عالم میں روزہ رکھنا اس قدر مشکل و دشوار نہیں جس قدر روزے کی حفاظت کرنا اور اس کو بحسن خوبی اختتام وتکمیل تک پہنچانا۔رسول اکرم ﷺ کا فرمان مبارک ہے:کل عمل ابن ادم لہ الااالصیام فانہ لی وانا اجزی بہ والصیام جنۃ فلایرفث ولایجھل وان امراء قاتلہ او شاتمہ فلیقل انی صائم۔(بخاری)

”ابن آدم کاہرعمل خود اس کا اپنا ہے، سوائے روزے کے کہ وہ میرے لئے ہے اورمیں ہی اس کابدلہ دوں گا، اورروزہ ایک ڈھال ہے اگر کوئی روزہ سے ہو تو بے ہودہ گوئی نہ کرے اور نہ شور مچائے اگر کوئی شخص اس سے گالم گلوچ کرے یا لڑے تو اس کاجواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں۔ ”

اس حدیث سے روزہ کافلسفہ واضح ہوگیا کہ پورے ایک ماہ تک ہر قسم کی بدزبانی، بدکلامی اورشہوت رانی سے دو ررہ کر اپنے اخلاق اورروحانیت کوبلند کرنا۔اپنے آپ کو جفاکش بنانا۔ اس لئے کہ مسلماں کوہر قسم کے ماحول، آب وہوا اور حالات میں مشقت کا عادی بننا ہے۔ اگر امن وخوشحالی وکشادگی میں اسے جفاکش نہ بنایاگیا تو وہ مصیبت، سختی،تنگی اورحالت جنگ کی سختیاں نہ جھیل سکے گا۔بھوکا پیاسا رہنے سے انسان کی روحانی قوتیں بلند ہوتی ہیں اورخاکی نفوس میں ملکوتی صفات پیداہوتی ہیں بلکہ اگر یہ کہاجائے کہ کھانے پینے اوردوسری شہوات سے بے نیازی اللہ رب العزت کی صفات میں سے ہے توغلط نہ ہوگا۔جب بندہ رب کی بارگاہ میں ایسے وصف وعمل سے قرب چاہتا ہے جو اس رب عظیم کی صفات کے مشابہ ہو تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ بھی اس عمل کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے اور اس عمل کااجرخودبے حد وحساب دیتاہے۔حدیث نبوی ﷺ ہے: الصوم لی وانا اجزی بہ۔”روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کی جزادوں گا”۔

دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو یہ شکم ہی ہے کہ جس کے ہاتھوں مجبور ہوکر انسان گناہوں کی دلدل میں دھنس جاتاہے اگر وہ اس شکم پر قابو پالے تو اس دنیا اورآخرت میں اس کوبلندی اوراعلیٰ مرتبہ حاصل ہوجائے۔انسان تو انسان پرندے بھی اسی شکم کی وجہ سے آسمان کی وسعتوں (بلندی اڑان) سے زمین کی پستی پرآجاتے ہیں۔ بقول شاعر

لاتا ہے بلندی سے شکم سب کو بہ پستی

طائر کو بھی ہوتے نہ سنا سیر ہواپر

مقصد صیام:

الصوم تمرین ترک الحرام بترک الحلال۔ روزہ حلال چیزوں کو حرام چیزوں کی خاطر چھوڑنے کی تمرین و مشق (Exercise)ہے۔روزے کی روح اور اصل مقصد اس ایک جملے سے عیاں ہوجاتاہے۔

خواہشات ایک سمندر ہے، جس میں ہرجائز وناجائز خواہش موجزن ہے۔ یہ تلاطم خیزوٹھاٹھیں مارتا سمندر کسی ایک رخ نہیں بہتا۔ ظاہری سمندر کی طرح خواہشات کے سمندر کا  بھی کوئی ایک رخ متعین نہیں۔بلکہ ظاہری سمندر کا توپھر  کوئی کنارہ یا ساحل ہوتا ہے یہ تو اس ساحل سے بھی محروم ہے اور یہ ایسا سیلاب  ہے جو ہروقت ہرجہت میں بہتا ہی چلاجاتاہے۔یہاں تک کہ انسان ان خواہشوں کے سیلاب میں ڈوب کر فناہوجاتاہے۔بقول اسماعیلؔ میرٹھی:

خواہشوں نے ڈبو دیا دل کو

ورنہ یہ بحر بیکراں ہوتا

اب اگر  اس سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا گیا تو انسان اس کے بھنور وگرداب میں پھنس جائے گا جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ اس کے بندباندھنے کے لئے اللہ رب العزت نے ہمیں ایک مہینہ کی ٹریننگ کورس دیاہے۔جو رمضان المبارک کی صورت ہے بہترین ٹریننگ مہیا کرتاہے۔ اس ٹریننگ کے لئے سخت محنت درکار ہے۔ اب جو شخص اس مہینہ میں محنت ومشقت سے یہ ٹریننگ کرلے گا وہ رب کی رحمت سے سرفراز ہوگا۔ اس ٹریننگ سے محروم فرد زحمت کا شکار ہوگا۔ایک فریق ایسا بھی ہے جو محنت کرنا چاہتا ہے لیکن ہمت وتوانائی کی کمی کے باعث وہ صرف حسرت میں مبتلا ہے۔ لیکن اللہ رب العزت کی رحمت سے امید ہے کہ وہ اس حسرت زدہ محروم کو بھی اخروی رحمت سے نوازے گا لیکن ایک فریق جو زحمت کا شکار ہوگا وہ رب کے عتاب وغیض وغضب کا شکار ہوگا۔

مقام افسوس:

لیکن افسوس اورتاسف سے کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں بھی اس عبادت عظمیٰ، نعمت کبریٰ (روزہ) کی بہت بے توقیری ہے۔مقام حیرت واستعجاب یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ پاکستان اسلامی ملک ہے یہاں آج بہت سے افراد ماہ صیام میں دن کے وقت بھی آزادانہ وبے باکانہ کھاتے پیتے اورشعار اسلامی کا مذاق اڑاتے نظرآتے ہیں۔ اس ماہ مقدس کا تقدس و احترام تک ختم ہوگیا۔ شاید ان ہی کے لئے علامہ اقبال نے فرمایاتھا:

طبع آزاد پر قید رمضان بھاری ہے

تم ہی کہہ دو، یہی آئین وفاداری ہے؟

مزید یہ کہ آج روزہ جیسی عظیم عبادت بھی رسم بن کر رہ گئی۔ جیساکہ اقبال نے اذان کے بارے میں کہاتھا :

؎ رہ گئی رسم اذان روح بلالی نہ رہی

ماہ صیام بھی کمرشل(تجارت و کاروبار) ہوکررہ گیا ہے۔ اس مہینہ کو جس طرح عبادت، تلاوت،ریاضت، میں صرف کیاجانا چاہئے اس کے برعکس آج روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کانام رہ گیا ہے۔ اب روزہ کی ہیئت و شکل رہ گئی ہے جو روح ونشاط سے یکسر خالی ومجرد ہے۔ لوگ ٹی وی کے سحر اسپیشل یا افطار ٹرانسمیشن کی لائیو کوریج دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ جس میں ”نہ کار دنیا نہ کار عقبیٰ (آخرت)”بلکہ لغویات اوروقت کے ضیاع کے سواکچھ نہیں۔ روزہ کشائی(وہ بھی شاید روزہ خوروں کی) اور دیگر وہ افعال اوراعمال جن سے اسلام نے ہمیں منع کیا ہے ان کابرملا اظہار وارتکاب کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کو اکبرالہ آبادی نے نہایت بذلہ سنجی سے یوں بیان کیا :

روزوہ خوروں کوڈنر دینے میں سرگرم ہیں

وہ گھرمیں وہ ولولہ روزہ کشائی نہ رہا

(اکبر الہ آبادی)

اور اسی طرح یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جونہی ماہ رمضان ختم ہوتا ہے اورعید کا چاند نظرآتاہے لوگ اپنے ڈگر، روش وعادت پر لوٹ جاتے ہیں۔ پھر کسی بھی طور پر ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک شب بیداری میں مصروف تھے اور آج فرض نماز سے بھی غافل ہیں اوربے خبر ہیں۔

صدحیف کے ماہ رمضان ختم ہوا

آج پھر رات کو عالم ہے وہی بے خبری کا

خلاصہ کلام:

یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کوئی شخص روزہ رکھے اور اس کا روزہ اسے لغو،فضول اور برے کاموں سے نہ روکے تو گویا اس کا روزہ ہی نہیں ہے بلکہ بھوکے پیاسے رہنے کی مشقت ہے۔ کیونکہ اگرروزہ رکھنے کی وجہ سے حلال چیزیں اس شخص پر حرام ہوجاتی ہیں تو پھر جو مستقل حرام چیزیں ہیں ان میں مبتلاء ہونے والے کے روزے کی بھوکے پیاسے رہنے کا علاوہ کیاحیثیت رہ جاتی ہے۔جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ ہے:من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجۃ فی ان یدع طعامہ وشرابہ۔”جوشخص روزے کی حالت میں جھوٹ اوربدکاری سے باز نہیں آتا اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے اورپیاسے رہنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔” (بخاری،کتاب الصوم)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سعادتِ دارین، کامیابی و کامرانی فوزوفلاح عطاکرے۔ اورنیکی وبھلائی،اچھائی وعمدگی، حسن و خوبی کے ساتھ قیمتی وبامقصد کاموں میں بالعموم پوری زندگی اور بالخصوص رمضان جیسے مقدس مہینے کوگزارنے کی توفیق دے۔ تاکہ ہم ایک لمحہ،لحظہ،پلک جھپکنے جتنی بھی کوتاہی،سستی اورغفلت کامظاہرہ نہ کریں۔ اوراللہ سبحانہ وتعالیٰ ہماری تمام عبادتوں کوحضور سیدالمرسلین وخاتم الانبیاء ﷺ کے وسیلہ سے قبول ومنظور فرمائے۔(آمین)

آخرمیں جناب اسمٰعیل میرٹھی صاحب کی ایک خوبصورت نظم پیش خدمت ہے جس میں بہت ہی بلیغ انداز سے آپ نے روزے کی حقیقت بیان فرمائی ہے:

روزہ کیا چیز ہے بتائیں تمہیں

حرص کی قید نفس کی تہدید

تیس دن بھوک پیاس کوروکو

 یہ ریاضت ہے آدمی کومفید

سب کوبھولو کروخداکو یاد    

 سب کوچھوڑو، بجزخدائے وحید

دوجہاں میں اسی کا جلوہ ہے

 ہے وہی مثل آفتاب پدید

دل کی آنکھوں سے دیکھئے لیکن

 کہ خدارا بچشم نتواں دید

وحدہ لاالہ الا ھو 

  کچھ نہیں ہے سوائے رب مجید

تابہ مقدور کیجئے تہلیل     

  تابہ امکان چاہئے تمجید

معتکف خانۂ خدا میں بنو

  کچھ تو سیکھو طریقۂ تجرید

رمضاں مہینہ یوں گزرا    

 ختم روزے ہوئے توآئی عید

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close