عباداتمذہب

قربانی: ایک عظیم عبادت

قربانی ایک عظیم عبادت ہے، جس کو شرعی ضابطہ کے مطابق بجالاناضروری ہے۔

قاضی محمد فیاض عالم قاسمی

عیدالاضحیٰ کاپس منظر:

عید الاضحیٰ کے معنی قربانی کی خوشی کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں صاحب ِنصاب آدمی کاقربانی کے قابل جانور کوقربانی کے دنوں میں ذبح کر کے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کوقربانی کہتے ہیں۔ شریعت محمدیہ میں قربانی کی اصل اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور ابتداء حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کا وہ مشہور واقعہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سخت امتحان لیا تھا کہ وہ اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جو ۸۶ سال کی عمر میں حضرت ہاجرہ ؓکے بطن سے بڑی آہ وزاری اور درخواست و التجاء کے بعد پیدا ہواتھااللہ کی خوشنودی کے لیے ذبح کرے ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری خندہ پیشانی سے اس امرِ خداوندی کو قبول کر تے ہوئے اپنے ہونہار، نور نظر اور لخت جگر کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کر نے کے لیے اس کے گلے پر چھری پھیر دی ؛لیکن چوں کہ اللہ کو صرف ان کا امتحان لینا تھا ذبح مقصود نہ تھا، اس لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت کاایک دنبہ ذبح کر وایاگیا۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت براہیم علیہ السلام کی یہ اطاعت وبندگی اس قدر پسند آئی کہ اس کو امتِ محمدیہ میں ہمیشہ کے لیے جاری و ساری فرما دیا۔ (احکام القرآ ن للجصاصؒ۵/۳۷۶تحت سورۃ الکوثر، تفسیر مظہری ۱۰/۳۵۳)

عیدین اورقربانی کی حکمت:

        پہلی عیدیعنی عیدالفطر اس بات کی غماز ہے کہ ہمارے جسم وجان کے مالک حقیقی اللہ رب العزت ہیں، اس نے جب اس جسم و جان کے بارے میں حکم دیا کہ اسے میری یاد میں میرے نام کے ساتھ تھکاؤ۔ قسم قسم کے حلال اناج، غلہ، پھل فروٹ، وغیرہ کا کھانا اب بند کرو، ان حلال اشیاء کو پیٹ میں ڈال کر اپنے جسم کے لئے قوت و توانائی حاصل کرنابھی دن کے اوقات میں تمہارے لیے حرام ہے، جیسے روزےمیں ہوتاہے۔ توگویاکہ ہمارے جسم و جان پر اسی مالک حقیقی کا قبضہ ہے ؛لہذا مہینہ بھر کی قید و بند کی صعوبتیں اور حلال اشیاء کی پابندی سے آزادی عید کے دن مکمل مل جاتی ہے۔ یہ آزادی اس بے بس اور نا تواں انسان کے لیے یقینا  با عث ِخوشی اور پر مسرت یادگارہے۔

        قربانی اس بات کی غماز ہے کہ مال ودولت بھی در حقیقت اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔ وہی اس کا  حقیقی مالک ہے۔ انسان کو چوں کہ اللہ تعالی نے زمین پراپنا نائب بنایا ہے اس لئے اسے کسی قدر اختیار اور ملکیت عطا کر دی ہے؛چنانچہ یہ انسان اسی ملکیت کی بناء پر اللہ کی مخلوقات سے نقل وحمل کاکام لیتاہےاوراپنی غذاکے طورپرانھیں استعمال کرتاہے۔ پس اسی کے شکرانہ کے طورپردورکعت نمازواجب قراردی گئی، اوراللہ کو خوش کرنے کے لئے قربانی کو بھی واجب قراردیا۔ تاکہ انسان کو اس بات کااحساس ہوکہ جس طرح وہ اپنے جسم وجان کامالک نہیں ہے، اسی طرح اپنے مال ودولت کابھی مالک نہیں ہے۔

قربانی کی فضیلت:

        حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ نے آ پ ﷺ سے پوچھا کہ اے  اللہ کے رسول! یہ قربانی کیا ہے؟  تو آں حضور ﷺنے جواب دیا کہ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت اوران کاطریقہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس میں ہمارا اخروی فائدہ  کیاہے؟ تو آپ  ﷺ نے فر مایا کہ قربانی کے جانور کے ایک ایک بال کے بدلہ میں نیکی ہے، صحابہ کرام نے عرض کیااےاللہ کے رسول !اون کا بدلہ ؟ تو آپﷺ نے فرمایا اون کے ہر بال کا بدلہ ایک یک نیکی ہے۔ (ابن ماجہ، حدیث نمبر:۱۳۲۷)۔

        ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی عمل اللہ کے نزدیک زیادہ پسند یدہ نہیں ہے اور یہی قربانی کا جانور قیامت کے میدا ن میں اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گااور قربانی میں بہایا جانے والا خون زمین پر گر نے سے پہلے ہی اللہ تعالی کے دربار میں قبولیت کا مقام حاصل کر لیتاہے؛لہذا خوش دلی سے قربانی کر لیا کرو۔ (ترمذی، حدیث نمبر:۱۴۹۳)۔

        چوں کہ خود انسان کے اندر روح ہے اس لئے دوسرے روح والے جانور کواپنے ہاتھ سے ذبح کر نااس پرزیادہ گراں گزرتاہے؛اس لیے قربانی کے ایام میں دیگر عبادات کے مقابلہ میں قربانی کا عمل اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ ہے۔ قربانی نہ کرنے پر سخت تنبیہ کر تے ہوئے نبی اکرم ﷺ نےجوکچھ ارشادفرمایا اس سے قربانی کی اہمیت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ آپ نے فرمایا کہ جو شخص قربانی کر سکتاہو پھر بھی قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔ (رواہ الحاکم ۲/۳۸۹)

قربانی کا مقصد:

         مال کی دو قسمیں ہیں ایک وہ مال جس میں روح نہیں ہوتی جیسے سونا، چاند ی، روپیہ پیسہ، زمین جائدادوغیرہ اور ایک وہ مال ہے جس میں روح ہوتی ہے جیسے جانور، چرند وپرندوغیرہ۔ بر بناء نیابت انسان کو اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کی مخلوقات پر قبضہ اور ملکیت عطا کی ہے ؛تاکہ صفت ِنیابت تام ہوجائے چنانچہ انسان کا روح والے جانور پر بھی قبضہ اور دسترس حاصل ہے؛لیکن چوں کہ حقیقی قبضہ اور ملکیت اللہ ہی کی ہے اسی لیے مال کی زکوۃ اور قربانی واجب قرار دیا۔ دراصل اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتاہے کہ میرابندہ اس مال کو میرے راستہ میں خرچ کر تاہے یا نہیں اور کیا وہ بھول چکاہے کہ یہ مال  اللہ کا ہے ؟ انسان اس دنیا میں رہ کر مگن نہ ہوجائے اور مال و دولت کی فراوانی اسے اللہ سے غافل نہ کر دے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہر سال قربانی اور زکوۃ دونوں کو اس پر لازم کر دیا ؛چنانچہ اللہ تعالیٰ قربانی کے مقصد کو بیان فرما یاہے۔ ترجمہ : اللہ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت نہیں پہونچتا نہ اس کا خون، لیکن اس کے پاس تو تمھارے دل کی پرہیزگاری ہی پہونچتی ہے، اس لئے کہ اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے لیے مطیع بنا دیاہے کہ تم اس کی رہنمائی کے شکریئے میں اس کی بڑائی بیان کرو اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنادیجئے۔ (کہ اللہ ان سے خوش ہیں) (سورۃالحج :۳۷)

قربانی کا نصاب:

        قربانی ہر ایسے عاقل و بالغ، مقیم، مسلمان مرد و عورت پر واجب ہے جو قربانی کے دنوں میں گھرکے ضروری ساز وسامان کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اسکی مالیت کا مالک ہو۔ مروجہ وزن کے حساب سے۸۷گرام٤۸۰ملی گرام سونا، یا۶١٢گرام ٣۶۰ ملی گرام چاندی کی مالیت کامالک ہو۔ اسی طرح آج کل دس گرام کاتولہ مروج ہے، اس حساب سے۸تولہ ۷گرام ٤۸۰ملی گرام سونایا۶١تولہ ٢گرام ٣۶۰ملی گرام چاندی کی مالیت نصاب کی مقدارہوگی۔ واضح رہے کہ اس میں حولان حول یعنی سال کا گزرنا اور مال نامی یعنی بڑھنے والا مال ہونے کی شرط نہیں ہے، جیسا کہ زکوۃ میں ہے۔ (در مختار مع ردالمحتار:۹/۴۵۲، جدیدفقہی مسائل ١/١٣۶-١٣۷)واضح رہے کہ نابالغ اورمجنون پر اگر چہ وہ مال دار ہوں قربانی واجب نہیں ہے، اسی طرح ان کی طرف سے کسی دوسرے پرمثلاان کے والد پر بھی واجب نہیں ہے۔ (فتاوی دارالعلوم دیوبند۱۵/۴۸۹)، تا ہم اگر کوئی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، بلکہ کر نا بہتر ہے، تاکہ بچوں کوبھی خوشی محسوس ہواورانھیں بھی قربانی کرنے کی عادت ہوجائے۔ (تاتارخانیہ:۱۷/۴۸۳، ردالمحتار:۹/۴۵۷)

کیاایک بکراپورے گھروالوں کی طرف سے کافی ہے؟

گھرمیں جتنےلوگ صاحب نصاب ہیں سب پر فردافرداقربانی کرناضروری ہے، البتہ اگر گھرکے سارے افراد غریب ہوں یعنی کسی پر بھی قربانی واجب نہ ہوتو سب کی طرف سے ایک بکرانفل کے طورکافی ہوگا، واضح رہے کہ بعض لوگ پورے گھروالوں کی طرف سے ایک ہی بکرے کی واجب قربانی کوکافی سمجھتے ہیں جوسنت کےاوراحتیاط کےخلاف ہے۔ ۔ (اعلاء السنن:١۷/٢١٢)

نبی کریم ﷺ اوراپنےمرحومین کی طرف سے قربانی:

        حضرت حنشؒ فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت علیؓ کو دیکھا کہ وہ دومینڈھوں کو ذبح کر رہے ہیں تو ان سے پوچھایہ کیا ہے، حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ رسول ﷺ نے مجھے ان کی طرف سے قربانی کر نے کی وصیت کی ہے اس لیے میں ان کی طرف سے قربانی کررہاہوں۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آں حضر ت ﷺ نے  ایک مینڈھا کو ذبح کیا اور کہااے اللہ اس کو محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد کی طرف سے قبول فرما!اسی طرح حضرت جابر سے روایت ہے کہ آ پ نے قربانی کے دن دو مینڈھوں کو ذبح کیا اور کہا یہ میری  اور میری امت کی طرف سے ہے؛لہذا ایسے محسن کائنات کی امت کو بھی چاہئے کہ وہ ان کی طرف سے قربانی کریں۔ آپ ﷺ کی طرف سے قربانی کرنایقیناہماری نیک بختی اورسعادت کی بات ہے، بلکہ ذریعہ نجات بھی ہے۔ (دیکھئے ابوداؤد حدیث نمبر: ۲۷۹۰، ۲۷۹۲، ۲۷۹۵، ردالمحتار ۳/۱۵۳)

        اسی حدیث سے علماء اہل سنت والجماعت نے یہ مسئلہ مستنبط کیاہے کہ میت کی طرف سے قربانی کرناجائز ہے، اس لئے کہ یہ ظاہر ہے کہ جب آپ نے امت کی طرف سے قربانی کی تھی اس وقت امت میں سے بعض کا انتقال ہو چکا تھا، البتہ اگر میت نے وصیت کی ہے تو اس کے وارثین پر اس کے ثلث یعنی ایک تہائی مال میں سے قربانی کرنا واجب ہے۔ اگر وارثین نہیں کریں گے تو گنہگار ہوں گے۔

حکم یااجازت کے بغیردوسرےکی طرف سے قربانی کرنا:

        جس پر قربانی واجب ہے اس کی طرف سے اگر کوئی اس کے حکم یا اجازت کے بغیر قربانی کر دے تو اسکی طرف سے قربانی ادا نہیں ہو گی، اسی طرح اگربیوی یا اولاد پر قربانی کرنا واجب ہواور شوہریا والد ان کی طرف سے خود قربانی کر دیں تو ان کی طرف سے قربانی ادا نہیں ہو گی؛ البتہ اگر کسی کا معمول اور عادت ہو تو استحسا ناً ادا ہوجائے گی، لیکن اس طرح کر نا بہتر نہیں ہے، اجازت لے لینی چاہیے۔ (ردالمحتار:۹/۴۵۷، تاتارخانیہ:۱۷/۴۴۴)

قربانی کرانے والااورقربانی کاجانوراگر دومختلف جگہوں پر ہوں:

        جس آدمی کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے وہ اور قربانی کا جانوراگر دو الگ الگ جگہوں پر ہوں تو دونوں جگہ قربانی کا وقت شروع ہونا ضروری ہے، البتہ آخری وقت میں صرف قربانی کرنے کی جگہ میں وقت کا باقی رہنا کافی ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر سعودی عرب  میں ۱۰؍ذی الحجہ اور ہندوستان میں ۹؍تاریخ ہو تو وہاں کے کسی آدمی کی طرف سے یہاں قربانی جائز نہیں ہے؛جبکہ اگر وہاں ۱۳؍تاریخ ہو اور یہاں ۱۲؍تو پھریہاں جائز ہے وہاں نہیں۔ (درمختار ۹/۴۶۱، دیکھئے فتاویٰ رحیمیہ ۵/۴۱۷)

قر بانی کےجانورکیسےہوں؟

        بڑے جانوروں میں گائے، بیل، بھینس، کم از کم دو سال کا اور اونٹ کم از کم پانچ سال کا ؛چھوٹے جانوروں میں بکری، بکرا، خصی، دنبہ، اور بھیڑکم ازکم ایک سال کا ہو۔ ایسا دنبہ یا بھیڑ جو سال بھر سے کم ہو اور چھ مہینے سے زیادہ ہو، لیکن دیکھنے میں سال بھر کا لگتا ہو تو ایسے دنبے یا بھیڑ کی قربانی جائز ہے۔ واضح رہے کہ سال اور مہینوں میں قمر ی مہینوں کااعتبارہوگا۔ (در مختار مع ردالمحتار:۹/۴۶۶، ۴۶۵)، خصی یابیل کی قربانی جائز بلکہ افضل ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے دو خصی مینڈھوں کو ذبح کیاتھااور اس لیے بھی کہ خصی کا گوشت لذیذ اور عمدہ ہوتاہے جو قربانی میں مطلوب بھی ہے۔ نیز خصی کرنا عرفِ عام میں عیب بھی نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے قربانی جائز نہ ہو۔ (ابوداؤد:۲۷۹۵، عون المعبود:۷/۳۵۱، درمختار:۹/ ۴۶۷)، ایسالنگڑاجانور جو چلتے وقت پاؤں زمین پر بالکل نہ رکھ سکے، اس کی قربانی جائز نہیں۔ البتہ اگر زمین پر ٹیک سکتاہو تو جائز ہے۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار:۹/۴۶۸)، اگر جانورکے اکثر دانت ٹوٹے ہوئے ہوں اور وہ چارہ بھی نہ کھاتاہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ ہاں اگر چارہ کھاسکتاہوتو پھر جائز ہے۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار:۹/۴۶۹)، جس جانورکاپیدائشی طور پر ایک یادونوں کان نہ ہوں، یاکان کاتہائی یااس سے زیادہ حصہ کٹایاچرِاہواہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ ہاں اگر تہائی حصہ سے کم کٹایاچرِاہواہوتو پھر جائز ہے۔ (در مع الرد:۹/۴۶۹-۴۶۸)، اگر جانورکاسینگ جڑسےگوداسمیت اُکھڑگیاہوتو اس کی قربانی جائز نہیں، ہاں اگر صرف خول ٹوٹاہےتو جائز ہے۔ (شامی:۹/۹ ۴۶)، جانورکی دُم اگر تہائی سے کم کٹی ہوئی ہوتو اس کی قربانی جائز ہے؛لیکن اگر تہائی یااس سے زیادہ کٹی ہوئی ہو تو پھر جائز نہیں۔ (ہندیہ۵/۳۶۸)، گائے، بھینس وغیرہ کاایک تھن خراب ہو اوربقیہ تین ٹھیک ہوں تو قربانی جائز ہے، اور اگر دو تھن خراب ہوں تو جائز نہیں۔ اسی طرح بکری وغیرہ کاایک تھن خراب ہوتو قربانی جائز نہیں۔ (ہندیہ۵/۳۶۸)، جانوراگر اندھاہویاکانا ہویاایک آنکھ کی تہائی یااس سے زیاد ہ روشنی چلی گئی ہوتو اس کی قربانی جائز نہیں۔ ہاں اگر روشنی تہائی سے کم چلی گئی ہے تو پھر اس کی قربانی جائز ہے۔ آنکھوں کی روشنی کااندازہ جانورکے قریب یادورچارہ رکھنے کے ذریعہ ہوسکتاہے۔ (ہندیہ۵/۳۶۸)ایساجانور جس میں نر اور مادہ کی دونوں علامتیں پائی جائیں یاکوئی بھی علامت نہ ہو تواس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ (الدرلمختار:۹/۴۷۰، فتاویٰ محمودیہ: ۲۶/۲۶۳)، اگر صاحبِ نصاب نے جانور خریدااور وہ گم ہوگیا، یامر گیا، یاعیب دار ہوگیاتو اس پر دوسرے جانور کی قربانی کرناضروری ہےاور اگر وہ صاحب نصاب نہیں تھاتو عیب دار ہونے کی صورت میں اس پر اسی جانور کی قربانی واجب ہے۔ گم ہونے یامرجانے کی صورت میں قربانی ساقط ہوجائے گی۔ (الدرالمختار:۹/۴۷۱)، ذبح کر نے کے دوران اگرکوئی عیب پیداہوجائے مثلاًپیر ٹوٹ جائے تو اس عیب کااعتبار نہیں۔ قربانی جائز ہے۔ (الدرمع الرد:۹/۴۷۱)، اگرکسی علاقہ میں کسی مخصوص جانورکی قربانی قانونی طورپرممنوع ہے، تواس کی قربانی نہ کی جائے، تاہم اگرکوئی کرلیتاہے، توقربانی ہوجائے گی۔

قربانی کے جانورمیں شراکت:

        بڑے جانوروں میں زیادہ سے زیادہ  سات آد می شریک ہوسکتے ہیں او ر سات سے کم کی شرکت مثلا دو، تین، چار، پانچ اورچھ کی بھی جائز ہے۔ چھوٹے جانوروں میں شرکت جائز نہیں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے آں حضورﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ کی قربانی سات آدمی کی طرف سے اور گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کی۔ (ترمذی حدیث نمبر : ۵۰۲، ابو داؤد حدیث نمبر:۲۸۰۷)۔

        شراکت والے جانورمیں حصہ لینے والے سبھی شرکاء کا قربت و عبادت کی نیت کر نا ضروری ہے، لہذا اگر کسی نے منت، وصیت، عقیقہ، ولیمہ، نفل قربانی یاآں حضور ﷺ کی طرف سے یا کسی میت کی طرف سے قربانی کی نیت  کی ہوتوسب کی طرف سے قربانی جائزہے۔ تاہم ثواب کے بجائے اگر کسی ایک نے بھی گوشت کھانے کی نیت کی ہو تو کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی۔ (تاتارخانیہ۱۷/۴۵۰)، شراکت والےجانورمیں اگرکسی ایک بھی شریک کامال حرام ہوتوکسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی۔

قربانی کرنے کاسنت طریقہ:

         قربانی کر نے کا سنت طریقہ یہ ہے جانور کو دائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا سر جنوب کی طرف اور پیر مغرب کی طرف ہوں، جانور کو اچھی طرح اپنے قبضہ میں کر لیں، ضرورت پڑے تو ہاتھ پیر کو باندھ دیں۔ جانور کو زمین پر لٹانے کے لیے مناسب طریقہ اپنا یا جائے کہ جانور کوزیادہ تکلیف نہ ہو، اس کا کوئی عضو تلف نہ ہوجائے۔ اسی طرح گرانے کے بعد زمین پر گھسیٹنا نہیں چاہیے، کہ اس سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس کے بعداپنا دایاں پیر جانور کے شانے پر رکھیں اور تیز چھری سے گلے اور سر کے درمیان ذبح کریں یہاں تک کہ حُلقوم (جس رگ سے سانس لیا جاتاہے )، مَری( جس نالی سے کھانا، پانی اندر جاتاہے )اور شَہ رگ کٹ جائیں۔ ذبح کر نے سے قبل یہ دعاء پڑھیں: اَللّٰھُمَ اِنِّی وَجَّہْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ الْسَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفَا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنْ، اِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتیِ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَلَمِیْن، لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذَلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْن، اَللّٰھُمَ مِنْکَ وَلَکَ۔ اس کے بعدبِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہٗ اَکْبَرُ کہکرذبح کریں، ذبح کے بعد یہ دعا پڑھیں:اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْہٗ مِنِّی کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ ﷺ وَ مِن خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْم عَلَیْہِ السَّلَام۔ اگر قربانی دوسرے کی طرف سے کر رہے ہیں تو منی کے بجائےمن کہکر اس کا نام لیا جائے۔ (ابوداؤد حدیث نمبر:۲۷۹۲، ۲۷۹۵، فتاوی محمودیہ:۱۷/۴۸۷)۔ بہتر ہے کہ قربانی کرنے والا خود قربانی کرے، اگر وہ نہیں جانتا ہے توکسی دوسرے جاننے والے سےذبح کرائےاورذبح کے وقت وہاں مو جود ر ہے۔ (در مختار ۹/ ۴۷۴ )

ذبیحہ کے ساتھ حسن سلوک:

        نبی ا کرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے ہر چیز میں احسان کو رکھا ہے، لہذا جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اپنی چھری کو تیز کر لیا کرو اور جانور کو آرام پہونچاؤ۔ ذبح کرنےکے بعددم نکلنے اور ٹھنڈا ہوجانے تک جانور کو چھوڑ دیاجائے اور خون بھی اچھی طرح سے نکل جائے اس کے بعد کھال اتارنے کاعمل شروع کر نا چاہیے۔ روح نکلنے سے پہلے کھال اتارنا قطعا ًجائز نہیں ہے۔ (ابوداؤد، حدیث نمبر: ۲۸۱۴، بدائع الصنائع :۴/۲۲۳، تاتار خانیہ۱۷/۳۹۷، ۳۹۶)

گوشت کا مصرف:

        اللہ رب العزت کے لطف و عنایت کا کیاکہیے!اس کامال اسی کی راہ میں قربان کیاگیا۔ صرف ثواب حاصل کر نے کے لیے اوراس بات کا مظاہر ہ کر نے کے لیے کہ اللہ ہی اس کا مالک ہے، اس کا مقتضی تو یہ تھا کہ اس جانور کوقربانی کرنے والاخود نہ کھائے، لیکن اللہ نے اپنے رحم و کرم سے اس کو بھی ہمارے لیے حلال کر دیا اورہمیں ا س کے کھانے کی بھی اجازت دے دی، جب کہ  دیگر مالی عبادت میں ایسا نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کاارشادہے: فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ.ترجمہ:پس قربانی کے جانورسے کھاؤاورغریبوں کو کھلاؤ، (سورہ حج : ۲۸) ہم خرما وہم ثواب!چنانچہ قربانی کے گوشت کا مالک خود صاحبِ قربانی ہوتاہے، اس لیے وہ جس طرح چاہے اورجب تک چاہےاس کواپنےاستعمال میں لا سکتاہے۔

گوشت کی تقسیم:

        اگر ایک سے زائد لوگوں کی شراکت ہوتو جانورکے ہر عضو کوشراکت داروں کی تعداد کے بقدرٹکڑے کر لئے جائیں۔ اور پھر تول کر تقسیم کر لیاجائے۔ اندازہ کرکے تقسیم کرنابھی درست ہے، اگرکسی کے حصہ میں تھوڑاساگوشت زیادہ چلاجائےتو زائد گوشت کو اس کے حق میں ہبہ تصور کر لیاجائے۔ اس سلسلے میں ہر فریق کو رواداری کامظاہر کرناچاہیے۔ (حاشیۃ الشرنبلالی علی دررالحکام شرح غررالاحکام:۱/۲۶۷) مستحب ہے کہ اپنے حصے کے گوشت  کوتین حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ فقیروں کو ایک حصہ رشتہ داروں کو اور ایک حصہ اپنے استعمال میں لائے۔ (رد المحتار ۹/۴۷۵، ۴۷۴) قربانی کا گوشت غیر مسلموں کوبھی دینا جائز ہے۔ ہندیہ ۵/۳۰۰، اعلاء السنن ۱۷/۳۶۰، فتاوی دارالعلوم دیوبند، ۱۵/۵۷۰)

 ممنوع اعضاء:

        سات اعضاء کے علاوہ جانور کے ہر حصہ کو کھانا جائز ہے۔ وہ سات چیزیں یہ ہیں:ذکر(نرکی شرمگاہ)، فرج (مادہ کی شرمگاہ)، مثانہ(پیشاب کی تھیلی )، غدود(گانٹھ)، خصیہ، پتہ جو کلیجی میں تلخ پانی کا ظرف ہوتاہے، اور بہنے والا خون، یہ سب قطعی طور پر حرام ہیں۔ حرام مغز جو ریڑھ کی ہڈی میں سفید مادہ ہوتاہے اس کا بھی کھانا منع ہے۔ (دیکھئے فتاوی دارالعلوم دیوبند، ۱۵ /۴۶۷، فتاوی محمودیہ، ۱۷/۲۹۸)واضح رہے کہ اوجھری کا کھانا جائز ہے، البتہ کراہت طبعی الگ چیز ہے۔ (فتاوی دارالعلوم دیوبند، ۱۵/۴۶۸)

کھال کا مصرف:

        کھال کا حکم گوشت جیسا ہے۔ صاحب قربانی اس کو اپنے استعمال میں لا سکتاہے اور کسی کودے بھی سکتا ہے، البتہ اگر بیچ دیا تو اس کی قیمت کا صدقہ کر نا ضروری ہے۔ مدارس میں دینے کی صورت میں چوں کہ اہل مدارس کھال دینے والے کی طرف سے وکیل ہوتے ہیں، اس لیے اگروہ بیچتے ہیں تو اس کی آمدنی صرف مستحق طلبہ ہی پر خرچ کر سکتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ کھال دیتے وقت ہدیہ اور ہبہ کی  نیت کر لی جائے اور اس کو مالک بنادیاجائے۔ تاکہ اگر وہ بیچیں بھی تو حسب سہولت استعمال کرسکیں۔ البتہ اگرروپیہ پیسہ کے علاوہ کسی چیز کے بدلہ میں بیچاجائے تو پھر اس کواستعمال کیاجاسکتاہے، جانور کے ساتھ جو رسی، ہار وغیرہ رہتےہیں ان کو بھی صدقہ کر دینا چاہیے۔ (درمختار ۹/۴۷۴)۔

مزید دکھائیں

قاضی محمد فیاض عالم قاسمی

قاضی شریعت دارالقضاء آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ،ناگپاڑہ،ممبئی

متعلقہ

Close