قربانی کا پیغام

مولانا محمد غیاث الدین حسامی

قربانی دین کےشعائرمیں سےایک اہم شعاراور عظیم عبادت ہے،اور حضرت ابراہیم ؑ کی یادگار ہے، اور دنیا کے تمام ادیان میں کسی نہ کسی صورت میں بطورعبادت پائی جاتی ہے،دیگر شریعتوںمیں قربانی غیر اللہ کےلئے بطورعبادت اورتقرب کےکی جاتی تھی، مشرکین اپنےبتوںکے سامنے جانور قربان کرتے اوراس پرچڑھاوےچڑھاتے اور ان سے منتیں مانگتے؛لیکن اسلام نےجانور کو خالص اللہ کے لئے قربان(ذبح) کرنے کا حکم دیا اور غیر اللہ کے لئے ذبح کئے جانے والے جانور کے گوشت کو حرام قراردیا جیساکہ قرآن کریم میں اللہ ارشاد فرمایا:

’’وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ‘‘نہ کھاؤ ان جانورں کا گوشت جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہوکیونکہ یہ نافرمانی کی بات ہے(سورہ انعام121)

جانور پراللہ کا نام نہ لینے کی چند صورتیںہیں مثلاً،  جانور طبعی موت مرے، یا کسی حادثہ وغیرہ کا شکارہوجائے یا جانور کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا جا ئے،  قرآن کریم میں ان تمام صورتوں کو ناجائز اور حرام قرار دیاگیا ہے،  قربانی اللہ کی رضاجوئی اور اس کی خوشنودی کا ایک اہم ذریعہ ہےاسلئے حدیث میں جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عید الاضحی کےایام میں قربانی سے زیادہ کوئی عمل اللہ کے نزدیک پسند یدہ نہیںہے(ترمذی، باب ماجاءفی فضل الاضحیۃ، حدیث نمبر1493)اور وسعت و گنجائش کے بعد قربانی جیسی عظیم عبادت سے غفلت برتنے والوں کے لئے آپ ﷺنے فرمایا :

’’مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا‘‘

جس کو گنجائش ہو اور پھر قربانی نہ دے وہ ہمارے عید گاہ میں نہ آئے(ابن ماجہ، باب الاضاحی واجبۃ ھی ام لا، حدیث نمبر3123)

قربانی شریعت ِ مطہر ہ کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی پوری وضاحت سنت نبوی میں موجود ہے، اور یہ وہ عظیم الشان عمل ہےجسے اللہ کےﷺنے سنت ابراہیمی سےتعبیرکیاہے،اللہ رب العزت نےان کی اس عظیم قربانی کو قیامت تک کے لئے یادگار بنا دیا، اور پوری امت میں اس کو جاری فرمایا، قرآن مجید میں اللہ نے اپنے پیارے نبی ﷺکو حکم دیا ہے ’’فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ‘‘ اے محمد ﷺ اپنے رب کے لئے نماز (عید) پڑھو اور نحر کرو ( جانور کی قربانی کرو) اس امرِ خداوندی کو بجالاتے ہوئے رسو ل اللہ ﷺ نے ہر سال قربانی کرنے کا اہتمام فرماتے تھے، اور صحابہ کرام کو بار ہا اس کی تاکید فرماتے تھے۔

 قربانی کا عمل صرف گوشت خوری اور تن پروری کا ذریعہ نہیں ہے،  بلکہ جو شخص اس مقصد کے لئے جانور کو قربان کرتاہےاس کی قربانی اللہ عزو جل کے بارگاہ میں مقبول نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ قربانی عبدیت اور تواضع و انکساری کا مظہر ہے، جس سےتکبر اور بڑائی دل سے نکلتی ہے ایک مسلمان بغیر چون چرا کے محض اپنے رب کے حکم کو بجالاتےہوئے جانور کو ذبح کرتاہے،  اس کے پیش نظر قربانی کی حکمتیں نہیں ہوتیں کہ جانور ذبح کیوں کیاجارہا ہے،  اس سے انسان کوکیا فائدہ ہوگا وغیرہ،  اس کے دل و دماغ میں صرف حکمِ خداوندی کی تعمیل ہوتی ہے،  جس کو بجالانا وہ اپنی سعادت اور خوش بختی تصور کرتا ہے،لیکن افسوس ہے آج کے ان دانشوران ِ قوم پر جو شریعت کے ایک اہم حکم قربانی کے بارے میں لب کشائی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قربانی میں مال اور جانور کا ضیاع ہے،  قربانی پر خرچ ہونے والے مال کومسلمانوں کی خستہ حالی کو دور کرنے یا مسلمانوں کی تعلیم پر خرچ کیا جائے تو غربت دور ہوگی اور ان کا تعلیمی معیار بلند ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ دین کی روح کو اور اسلام کے مزاج سے بالکل ہی ناواقف ہے، دین کی روح صرف یہ ہے کہ بندہ احکام الہی پر کشادہ دلی کے ساتھ عمل کرتے ہوئے اپنے رب کو راضی کرے اور بس۔

 اس کے علاوہ احکام کی حکمتیں کیا ہے اس کو جاننے کا نہ بندہ کو مکلف بنایا گیا ہےاورنہ ایسی باتیں اس پر واضح کی گئیں، اسلئے کہ انسان احکامات کا پابند ہے حکمتوں کانہیں، جب حضرت ابراہیم ؑ کو بذریعہ خواب اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تو انہوں نے اللہ سے حکم کی حکمت نہیں پوچھی،  بلکہ حکمِ خداوندی کی تعمیل میں اپنے بیٹے کو اس پر آمادہ کرکے گلے پر چھری چلادی، تعمیل حکم کا یہ انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ قیامت تک کے لئے اس کو جاری فرمادیا،  امام غزالی ؒ فرماتےہیں کہ زمین کو جوتتے وقت جانور کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ زمین کیوں جُوتی جارہی ہے،  اسے تو صرف یہ پتہ ہوتا ہےکہ اس سے کچھ کام لیا جارہا ہے،  یعنی جانور کو حکم کا پتہ ہوتا ہےحکمت کا پتہ نہیں،  اور اپنے مالک کے حکم کو برابر بجالاتا ہے، (کیمیائے سعادت) قربانی کے وقت ہم ہزاروں جانور محض خالق ِ کائنات کے حکم پر ذبح کرتےہیںتو اس سے عبدیت کا اظہار ہوتا ہے، یہی عبدیت زندگی کے ہر شعبے میں مطلوب ہے،  کاش کہ ہم اس بات کو سمجھتے۔ ۔

  اخلاص اور حسن نیت عمل صالح کے مقبول ہونے کے لئے اولین شرط ہے،  جو شخص نام و نمود اور سستی شہرت حاصل کرنے کےلئے عمل صالح کرتاہے اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس کے عمل کی کوئی وقعت نہیں ہے،  قیامت کے روز یہ عمل سرابِ محض ثابت ہوگا، قربانی جیسے عظیم الشان عمل کو انجام دیتے وقت تصحیح نیت پر کافی زور دیا گیا ہے، ،  قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے، چنانچہ اللہ رب العزت نے فرمایا:

’’لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ‘‘

اللہ کو ہرکز تمہارے جانور کا گوشت اورخون نہیں پہنچے گا بلکہ اس تک تو تمہارے دلوں کاتقوی( نیت) پہنچے گی (الحج 37)

اس آیت کی تفسیر میں حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ : اس آیت میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ قربانی جو ایک عظیم عبادت ہے اللہ کے پاس اس کا گوشت اور خو ن نہیں پہنچتا، نہ وہ مقصود قربانی ہے؛ بلکہ مقصود اصلی اس پر اللہ کا نام لینا اور حکم ربی کی بجا آوری دلی اخلاص کے ساتھ ہے۔ یہی حکم دوسری تمام عبادات کا ہے کہ نماز کی نشست و برخاست کرنا اور بھوکا پیاسا رہنا اصل مقصود نہیں؛ بلکہ مقصود اصلی اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل دلی اخلاص و محبت کے ساتھ ہے، اگر یہ عبادات اس اخلاص و محبت سے خالی ہیں تو صرف صورت اور ڈھانچہ ہے روح غائب ہے ؛مگر عبادات کی شرعی صورت اور ڈھانچہ بھی اس لئے ضروری ہے کہ حکم ربانی کی تعمیل کیلئے اس کی طرف سے یہ صورتیں متعین فرما دی گئی ہیں(معارف القرآن جلد6 ص267)  اسلام میں تصحیح نیت کی بڑی اہمیت ہے بلکہ اُسی پر تمام اعمال کا مدار رکھا گیا،  قربانی جیسی عظیم عبادت کے ذریعہ یہ چاہا جارہا ہےکہ زندگی کے تمام اعمال صحیح نیت کے ساتھ ادا ہو اور ہر عمل اس خالق ومالک کے لئےخاص ہو جس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا،  اسی لئے اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

’’أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ‘‘

اے لوگو سن لو!کہ بندگی تو صرف اللہ کے لئےہوگی ( الزمر3)

امام قشیری ؒ اپنی کتاب رسالہ قشیریہ میں لکھتے ہیں : اللہ تعالی فرماتا ہےکہ اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے،  اورمیں اپنے راز انہیں لوگوںکے دلوں پر کھولتا ہوں جس سے میں محبت کرتا ہوں ( رسالہ قشیریہ 346)ایک مومن جو اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہے وہ کبھی بھی اپنے اعمال و افعال میں غیر کی شرکت برداشت نہیں کرتا،  زندگی کے تمام شعبوں میں تصحیح نیت کے ساتھ اعمال کو پورا کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔

 قربانی قرب سے مشتق ہے اور قربانی کے ذریعہ بندہ اللہ عز و جل کا قرب حاصل کرتا ہے،  قربانی کی اس عمل سے ہمیں یہ پیغام دیا جارہا ہےزندگی کے ہرلمحہ میںاللہ کے قرب و معیت فکر کرنی چاہئے اور قرب ِ خداوندی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنا چاہئے، جیسے حضرت ابراہیم اللہ کی محبت اور اس کی رضاو خوشنودی کے لئے اپنا گھر بار،  ملک و وطن،  عزیز و اقارب،  بیوی بچےسب کچھ قربان کردئےحتی کہ اپنے بیٹے(جو بڑھاپے کا سہارا،  ضعیفی کا آسراتھا)  کے گلے پر چھری چلانے سے بھی تامل نہیں کئے،  اور پوری دنیا کےانسانوں کے لئے ایک مثال قائم کردی،اور یہ بتلادئے کہ قربانی محض جانور کے گلے پر چھری چلانے اور اس کا خون بہانے کا نام نہیں بلکہ قربانی اپنی خواہشات اور جذبات کو قربان کرنے اور اپنی محبوب ترین چیزوں کو اللہ کے راستہ میں لٹانے اور اپنی قوت و توانائی کو اس کے دین کی خدمت میں صرف کرنے اور نفس کو طاعات کی طرف پھیرنےکا نام ہے، اور جب تک اس طرح کی کیفیت پیدا نہ ہو قربانی کا اثر ہماری زندگی میں ظاہر نہیں ہوگا، چنانچہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا:

’’لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ‘‘

تم نیکی( خیر کثیر،  احسانِ عظیم ) ہرگزحاصل نہیں کرسکو گے جب تک کہ تم اپنی محبوب چیزوں کا اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کردواور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس کو جاننے والا ہے(آل عمران92)

محبوب حقیقی تک پہنچنے کا ذریعہ محبوب مجازی کو محبوب حقیقی کی راہ میں قربان کرنا ہے،  اور جسے قربِ خداوندی کی یہ دولت نصیب ہوجاتی ہے تو کم از کم اس کا حال یہ ہوتا ہےکہ اسے ہمیشہ اللہ کا دھیان رہتا ہے،اور اس کے تفویض کردہ تمام فرائض و احکام کی بجا آوری میں اس سے کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی سرزد نہیں ہوتی ہے۔

 پھر یہ کہ قربانی کے صحیح ہونے کے لئے جانور کا شریعت کے مقررکردہ عمر کو پہنچنا اور صحت مند اور فربہ ہونا ضروری ہے،  عیب دار جانور کی قربانی شریعت مطہرہ میں ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، اس سے ہمیں یہ تربیت دی جارہی ہے کہ اللہ کے راہ میں خرچ کئے جانے والا مال حلال اور طیب ہو چنانچہ قرآن مجید میں اللہ نے ارشادفرمایا:

’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ‘‘

اے ایمان والو!خرچ کرو اپنی کمائی میں سے اور زمین کی پیداوار میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں ( البقرۃ 267)

جس طرح اہتمام سے جانور کو جانجا اور پرکھا جا تا اور عمدہ سے عمدہ جانور قربانی میں دینے کی فکر کی جاتی ہے اسی طرح دیگر اشیاء میں بہتری کا خیال رکھنا چاہئے،  عہد نبوی میں مسجد نبوی میں فقرائے صحابہ کے لئے کھجور کے خوشے لٹکا ئے جاتے تھے وقتا فوقتا آپ کی نظر اس پر پڑجاتی تھی اگر اس میں کچھ کھجور ردّی قسم کے ہوتے تو آپ ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے اور صحابہ سے فرماتے ردّی اور بےکار مال اللہ کے راستہ میں دینے اور لینے سے اجتناب کرو ( نسائی حدیث نمبر2492)موجودہ دور میں یہ خراب عادت عام ہوتی جارہی ہے، ہر شخص یہ چاہتا ہےکہ اچھا اور عمدہ چیزوں کو خود استعمال کرے اور خراب اور بے کار اور ناقابل انتفاع چیزوں کو راہِ خدامیں وقف کردے،جب کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

’’وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ – أَوْ قَالَ لأَخِيهِ – مَا يُحِبُّ لِنَفْسِه‘‘

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی بندہ مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ اپنےبھائی یااپنے ہمسائے کےلئے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے‘‘(مسلم، باب الدلیل علی ان من خصال حدیث نمبر71)

  جانور کو ذبح کرنے کے بعدشریعت مطہرہ میں گوشت کی تقسیم کے سلسلہ میں تین حصے بنانے کا حکم دیا گیا، ایک حصہ غرباء و مساکین کے لئے دوسرا حصہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے لئے اور تیسرا حصہ اپنے اور اپنے اہل وعیال کےلئے،  اگرچہ یہ حکم استحبابی ہے لیکن اس میں ایک لطیف اشارہ ہے کہ زندگی کے تمام امور میں انصاف کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑے رہناچاہئے اور انصاف کے تقاضوں کو ہمیشہ پورا کرتے رہنا چاہئے،  یہی آپسی محبت کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے اورتقوی کے زیادہ لائق اور مناسب ہے،  قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی نے کئی مقامات پر اجمال اور تفصیل کے ساتھ عدل و مساوات کا حکم دیا  ہے،اور فرمایا

’’اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ‘‘

عدل و انصاف کو قائم رکھو اسلئے کہ یہی تقوی کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈر تےرہو کیونکہ اللہ تمہارے تمام کاموں سے باخبر ہے(المائدہ 8)

اور ایک مقام پر فرمایا ’’ان اﷲ یامر بالعدل والاحسان‘‘بے شک اﷲ تعالیٰ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے(سورۃ النحل 90)اسی طرح فرمایا ’’فاحکم بین الناس بالحق ‘‘تم لوگوں کے درمیان میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو(سورہ ص 26)

 افراط و تفریط سےبچنا اور اجتناب کرنے کا نام ہی عدل ہے، عدل کا معنی بڑا وسیع ہے، جس طرح اقوال میںعدل ہے تو افعال میں بھی عد ل ہےاور زندگی کےہر کام میں عدل کے تقاضہ کو پورا کرنا ہی تقوی کا باعث ہے، نبی کریم ﷺ نے عدل کی وہ اعلی مثال پیش کی جو دنیا کی دیگر قومیں پیش کرنےسے قاصر ہے اور آپ ﷺ تمام اقوام عالم کو بتلادیا کہ اسلامی طرز زندگی کے تما م پہلوؤں کی اصلاح کا واحد ذریعہ صرف عد و انصاف ہے،  چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا میری امت اس وقت تک سر سبز رہے گی اب تک اس میں تین خصلتیں باقی رہیں گی ایک تو یہ کہ جب وہ بات کریں تو وہ سچ بولیں گے دوسرا جب وہ فیصلہ کریں گے تو انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دیں گے تیسرا یہ کہ جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو کمزور پر رحم کریں گے(اسوہ رسول اکرمﷺ ڈاکٹر محمد عبدالحی ص546 )اور عدل وانصاف کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑے رہنے والوں کی ہمت افزائی کرتے ہوئےآپ ﷺ ارشاد فرمایا انصاف کرنے والوں کو قرب الہی میں نوری ممبر عطا ہوں گے( مسلم شریف کتاب الامارۃحدیث نمبر1828 )

 پھریہ کہ قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غریبوں،  مسکینوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کا حق بھی رکھا گیا ہے جس پتہ چلتا ہےایام قربانی میں جس طرح دوسروں کا خیال رکھا جاتا ہےاسی طرح زندگی کےتمام مراحل میں ایک دوسری کی مدد اور دلجوئی کرنا چاہئے کیونکہ اسلام ہمدردی اور خیرخواہی کانام ہے،  قربانی کے اس عمل کے ذریعہ ہم کو یہ ادب سکھایا جارہا ہے اور ہم سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ ہر حال میں محتاجوں کی مدر کرنا اور ان کی ضرورتوں کی تکمیل کرنا عبادت کے بعد سب سے اہم حکم ہے،  اسی لئے قرآن و حدیث میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کرکے بتلادیا ہے کہ دوسروں کی ہمدردی اور دلجوئی کرکے بندہ قربِ خداوندی کے اس بلند مرتبہ پر فائز ہوتا ہے جو دیگر اعمال کے ذریعہ بڑی مشکل سے حاصل ہوتے ہیں،  اس نفسا نفسی کے دور میں ہمدردی اور غمخواری،  دلجوئی اور دلچسپی جیسے صفات کی اشد ضرورت ہے۔

غرض یہ کہ قربانی اللہ تعالی کی وہ عظیم عبادت ہے جس کے ہر پہلومیں انسان کے لئے کچھ نہ کچھ نصیحتیں موجود ہیں،  جس پر عمل کرکے انسان اپنے اندرونی نظام کی اصلاح کرسکتا ہے،  جب تک بندہ کے اندر قربانی کے جانور کی طرح اپنے آپ کو مٹانے کا جذبہ پیدا نہ ہو اس وقت تک وہ بارگاہِ رب العالمین میں مقبول نہیں ہوگا، اور قربانی کے اس پورے عمل سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ زندگی کے ہر موڑ اپنا سب کچھ یہاں تک کہ اپنے جذبات اور خواہشات کو بھی اللہ کے لئے قربان کرنا اوراپنے کو کمتر اور حقیر سمجھ کر زندگی گذارنا یہی حقیقی مومن کی نشانی ہے اور ایسے ہی بندہ کو خالق کائنات کی رضا و خوشنودی میسر ہوتی ہے۔



⋆ مولانا محمد غیاث الدین حسامی

مدیر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

مجھے تجھ سے پشیمانی بہت ہے

 مری آنکھوں میں کیوں پانی بہت ہے "مجھے تجھ سے پشیمانی بہت ہے"

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے