خصوصیعباداتمذہب

قربانی کا گوشت: ہماری صحت اور دیگر تقاضے

ڈاکٹر اسلم جاوید

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیدالاضحی پر قربانی کی روایت پر عمل کرنا ایک سعادت ہے لیکن محض قربانی ادا کردینا ہی کافی نہیں بلکہ دیگر اہم باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ان میں سے سب سے اہم بات جس سے آپ سب اچھی طرح واقف ہیں وہ یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا نہ بھولیں۔ ایک حصہ اپنے عزیزواقارب کیلئے، دوسرا مستحقین کیلئے اور تیسرا اپنے گھروالوں کیلئے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ اس حساب کتاب میں ’’ڈنڈی‘‘ مارنا کسی طوردرست نہیں کہ اپنے لیے تو اچھا اچھا گوشت علیحدہ کرلیا جائے اور بچا ہوا گوشت تقسیم کردیا جائے۔ مزید یہ کہ اس موقع پر صفائی ستھرائی کا بھی بے حد خیال رکھیں اور صرف اپنا گھر ہی صاف ستھرا نہ رکھیں بلکہ گلی محلے کی صفائی کا انتظام بھی یقینی بنائیں، باہر قربانی کی آلائشیں نہ پھینکیں بلکہ انہیں مناسب طریقے سے ٹھکانے لگوائیں تاکہ سب کی صحت یقینی رہے۔

عیدالاضحی اور وافرمقدار میں گوشت، دو ایسے نام ہیں جو ہمیشہ ایک ساتھ ہمارے ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔ عید کے موقع پر لوگ جہاں قربانی کا فریضہ ادا کر کے سنتِ ابراہیمیؑ ادا کرتے ہیں، وہیں گوشت کے نت نئے پکوان بھی تیار کرتے ہیں۔ عید قرباں پر چونکہ گوشت کا استعمال بڑھ جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں پر ذرا تفصیل سے بات کی جائے۔

گوشت کے غذائی اجزاء کے بارے میں ماہر ین غذائیات بتاتے ہیں کہ سرخ گوشت کا اہم جزوپروٹین ہے جو انسانی جسم کی اہم ضرورت ہے۔ ’’ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جسم میں موجود ہر خلیے اور ٹشو میں پروٹین موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کے حصول کے لئے گوشت کھانا چاہئے، تاہم اس کے لئے صرف گوشت پر انحصار ضروری نہیں، اس لئے کہ پروٹین دیگر ذرائع مثلاً دالوں، سبزیوں اور پھلوں میں بھی موجود ہوتی ہے۔ ‘‘ گوشت میں ضروری معدنی اجزاء بھی مناسب مقدار میں پائے جاتے ہیں جو صحت کے لئے بہت مفید ہیں۔ مثلاًاس میں موجود میگنیشیم ہڈیوں کو مضبوط کرتا اور انہیں بھربھرے پن (اوسٹیو پروسس )سے بچاتا ہے۔ اس میں موجود زنک قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتا اور پٹھوں کی تعمیرا ور بڑھوتری میں مدد دیتا ہے۔ بقرعید کے گوشت کے سلسلے میں ماہر ین امراض قلب کی رائے ہے کہ عید کے دن ہر شخص کا دل چاہتاہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ گوشت کھائے، لیکن عام لوگوں کو بالعموم اوردل اور بلڈپریشر کے مریضوں کو بالخصوص اپنی اس خواہش پر تھوڑا سا قابو پانا چاہئے۔

’’ان مریضوں کے لئے دن میں دو بوٹیوں سے زیادہ گوشت کھانا نقصان دہ ہے۔ اس کے علاوہ انہیں یہ کوشش بھی کرنی چاہئے کہ کم آئل اور کم مسالہ جات میں پکا ہوا گوشت کھائیں ورنہ وہ شریانوں کی تنگی اور غیر مفیدکولیسٹرول میں اضافے کا باعث بن کر ان کی اور ان کے اہل خانہ کی عید کا مزہ کر کراکر سکتا ہے۔ ‘‘ اسی طرح تھیلسیمیا کے مریضوں کو سرخ گوشت بالکل نہیں کھاناچاہئے، اس لئے کہ اس میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو ان کیلئے سخت نقصان دہ ہے۔ اگر ان کا دل بہت زیادہ چاہ رہا ہو تو انہیں گوشت کے ساتھ چائے یا کافی ضرور پینی چاہئے، اس لئے کہ اس میں موجود کیفین آئرن کو جسم میں جذب ہونے سے روکتی ہے۔ مزید برآں گردوں کے مریض بھی سرخ گوشت کھانے سے اجتنا ب کر یں۔ قدیم زمانوں سے لیموں کا رس نہاری، پائے اورحلیم وغیرہ کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے۔ گوشت اور سالن پر لیموں نچوڑ کرکھائیے، اس لئے کہ یہ ہاضمے کو درست رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ مزید بر آں اس کا رس جسم میں چکنائی کو جمنے سے بھی روکتا ہے۔

قربانی کیلئے قصاب کے اوزار، گھروں میں گوشت کاٹنے کی چھریاں اور گوشت رکھنے کے برتن صاف ستھرے ہونے چاہئیں۔ اسی طرح قربانی کے گوشت کو مکھیوں، مچھروں اور گرد سے بچانے کیلئے ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں۔ ہمارے ہاں بعض لوگوں میں ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ قربانی کے گوشت کو دھو نا نہیں چاہئے۔ یہ ایک بالکل غلط اور بے بنیاد تصور ہے۔ گوشت ہمیشہ دھو کر ہی استعمال کرنا چاہئے۔

بعض گھرانوں میں قربانی کے فوراً بعد کلیجی کو پکا لیا جاتا ہے جسے بچے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ پکا نے سے پہلے اس کی باریک سفید جھلی اتارکر دیکھئے کہ اس (کلیجی) پر کوئی داغ یاسوراخ تو نہیں۔ اگر ایسا ہو تو اسے استعمال مت کیجئے۔

 زیادہ دیر تک گوشت کو فریز کرنا یا فریز شدہ گوشت کو ایک دفعہ استعمال کرنے کے بعدبار بار فریز کرنا درست نہیں۔ گوشت کو ہمیشہ ڈھانپ کر اورہلکی آنچ پر پکائیں تاکہ اس کے غذائی اجزاء  ضائع نہ ہوں۔ اچھی طرح سے نہ پکا ہوا گو شت بیماری کا باعث بنتا ہے۔

طبی نقطہ نظر کے مطابق گو شت موجودہ دور کے خطرناک اور مہلک امراض کا باعث بھی بنتا ہے۔ امراضِ قلب، امراضِ گردہ، جگر، مثانہ، یو رک ایسڈ کولیسٹرول، جوڑوں کا درد، ہائی بلڈ پریشر، قبض، گیس اوردماغی بیماریوں کو انسانی جسم پر مسلط کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

ماہرین غذائیات کہتے ہیں کہ گوشت انسان کے اندر حیوانی خصوصیات پیدا کرتا ہے۔ ذہن کو کْند کرکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ماند کرتا ہے۔ ہوش کی نسبت جوش اور اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ دانتوں میں گوشت کے ریشے پھنس کر امراض ِ دندان کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ بڑے کے گوشت کے بارے ماہرین کی رائے ہے کہ اس کی زیادہ مقدار کھانے سے دماغی و سوداوی امراض پیدا ہو تے ہیں۔

علاوہ ازیں ہونٹوں اور مسوڑھوں پر سوجن کی کیفیت بھی طاری ہو جاتی ہے۔ بڑے گوشت کی نسبت چھوٹا گوشت کم مضرات کا حامل ہوتا ہے لہٰذا کوشش کریں کہ بڑے کی بجائے چھوٹے کو ترجیح دی جائے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر گوشت میں سبزیاں ملا کر پکایا اور کھایا جائے تو اس کے مضر اثرات کا فی حد تک بے اثر ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا گوشت پکاتے وقت اس میں شلجم، مولی، پالک، گھیا، ٹینڈے اور کریلے شامل کر کے ہم اس کے نقصانات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سبز پتوں والی کچی سبزیوں کی سلاد، سلاد کے پتے، ٹماٹر، پیاز اور بند گوبھی کو بھی بطور سلاد استعمال کر کے ہم اس روزِ سعید کو اپنے اور اپنی صحت کے لئے پیغامِ شفاء بناسکتے ہیں۔

گوشت خود ضرور کھایئے مگر حقیقی مستحقین تک ان کا حصہ بھی ضرور پہنچا یئے۔ قربانی کا دن در اصل ہمیں ایثار و قربانی کا درس دیتا ہے۔ ہم اپنے مذہب، ملک و قوم، عزیز و اقرباء، دوست و احباب اور اپنے گرد و نواح کے لوگوں کیلئے قربانی دینے والے بن جائیں۔ حضرت ابراہیمؑ کی تقلید کرتے ہوئے اللہ کی رضاء و خوشنودی کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کریں۔

 گوشت کے ہمراہسلادکا اہتمام ضرورکیجئے۔ اس کیلئے مولی، پیاز، ہری مرچ، سلاد کے پتے، پود ینہ، گاجراوربندگوبھی کاٹ کر ڈش میں سجائیے اور اس پر ہلکا سانمک چھڑک کر کھانے کی میز پر چن دیجئے۔ سلاد نہ صرف غذا کو متوازن بنائے گا بلکہ اس سے گوشت بھی ذرا کم کھایا جائے گا۔ کھا نے کے ساتھ دہی ضرور رکھیے۔

تاہم اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ زیادہ گوشت کھانے سے مندرجہ ذیل پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ جوڑوں کا درد لاحق ہو سکتا ہے اور جو افراد پہلے سے جوڑوں کی تکلیف میں مبتلا ہوں، ان کے مر ض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ موٹے ریشے کا گوشت دانتوں اور مسوڑھوں کی سوجن کا باعث بنتا ہے۔ گوشت کے بکثرت استعمال سے جگر کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وہ افراد جو گوشت کا استعمال زیادہ کر تے ہیں، ان کے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہو نے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ گائے کے گوشت کازیادہ استعمال امراض قلب کا سبب بن سکتا ہے۔ جسم میں غیر مفید کولیسٹرول کی مقدار میں اضافہ ہوتاہے جو کئی بیماریوں کی جڑ ہے۔ موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔ گوشت میں موجود پروٹین کی زیادتی جگر اور گردوں کے افعال کو متاثر کرتی ہے۔

مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Close