عباداتمذہبمذہبی مضامین

قربانی کے جانور وگوشت کی نمائش: ایک لمحۂ فکریہ

محمد سالم قاسمی سریانوی

عید الاضحی کی آمد آمد ہے، ہر ایک اس کی خوشی میں سرشار ہے، قربانی کے لیے جانوروں کی خرید وفروخت جاری ہے، ہر آدمی اپنی خواہش کے مطابق جانور کا انتخاب کررہا ہے، واقعۃ ’’قربانی‘‘ ایک عظیم الشان عمل ہے، جس میں اپنے عزیز وقیمتی اموال کو محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے قربان کردیا جاتا ہے، یہ قربانی سیدنا حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کی زندہ یادگار ہے، جس کو اللہ رب العزت نے اس امت کے لیے ’’عظیم نعمت‘‘ بنا دیا، اس کے مختلف طرح کے فضائل ذکر کیے گئے، نیکیوں اور حسنات کی برتری وتفوق کا احساس دلایا گیا اور ’’عقبی‘‘ میں ڈھیروں ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔

لیکن ’’نفس وشیطان‘‘ کا وسوسہ اور دھوکہ ہر جگہ لگا رہتا ہے، آدمی کسی طرح سے نفس کی خواہشات کو ترک کرکے نیکی کی طرف آتا ہے اور اپنے مالک کی رضا وخوش نودی حاصل کر نے کی سعی مبروک کرتا ہے، لیکن انسان کا ’’ازلی دشمن‘‘ جس نے خود رب سے وعدہ وعہد کر رکھا ہے کہ وہ ہر وقت ابن آدم کو گمراہ کرتا رہے گا، اور گمراہی کی چیزوں کو مزین کرکے حضرت انسان کے سامنے پیش کرتا رہے گا تاکہ یہ اس میں مشغول ہوکر احکام خداوندی کے اصل مغز  کو چھوڑ دے اوراس میں ایسی چیزوں کی آمیزش کرلے جس سے اس کا عمل ہی ناقابلِ قبول گردان دیا جائے، چناں چہ احکام اسلامی میں اس کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں، جس میں بعض بالکل واضح ہیں۔

قارئین سمجھ رہے ہوں گے کہ میری مراد کیا ہے؟ درحقیقت ’’ریا ودکھلاوے‘‘ کا پہلو آج کل اتنا زیادہ عام ہوگیا ہے کہ لوگ اس کی جانب توجہ ہی نہیں دے پاتے کہ کہیں یہ ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ کا مصداق تو نہیں بن رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ موبائل جیسی جدید آلات اشیاء نے جہاں ابن آدم کو کافی فائدہ پہنچایا، وہیں پر یہ چیزیں اس کے لیے ناسور بھی بنی رہی اور آج بھی بنی ہیں، اس میں مزید تکلیف کا پہلو ’’سوشل میڈیا‘‘ کا غلط استعمال بھی ہے، چاہے وہ دانستہ ہو یا غیر دانسہ، آج کل تصاویر وویڈیوز کی طوفان بلا خیز نے نہ جانے کتنے عظیم فتنوں، برائیوں اور ہلاکتوں کو جنم دیا ہے، شاید شمار سے باہر……!

’’قربانی‘‘ کے ان مقدس ایام میں ’’سوشل میڈیا‘‘پر جانوروں کی تصاویر، اور ذبح کے دوران اور اس کے بعد کی تصاویر وویڈیوز، نیز جانور کے گوشت وغیرہ کی تصاویر وویڈیوزعام کرنے اور دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کا مزاج ہے، بل کہ اس کو فیشن اور ہنر سمجھا جانے لگا ہے، جو کہ انتہائی خطرناک بات ہے، جہاں تک جاندار کی تصویر کی بات ہے تو ہر ایک اس سے باخبر ہے کہ شریعت نے اس کو حرام قرار دیا ہے، اس لیے ایسی صورت میں زندہ جانوروں کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر ڈالناہر گز جائز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی ضرورت وحاجت کی بات کہی جاسکتی ہے۔

جہاں تک گوشت کی بات ہے تو وہ اگر چہ جاندار کے حکم میں نہیں رہا، لیکن ہندوستان کے موجودہ حالات میں اس کی بھی اجازت نہیں ہوسکتی، بل کہ یہ ایک طرح غیروں کو ظلم وبربریت کی دعوت دینا ہے۔

اس تصویری زاویۂ نظر سے ہٹ کر جو دوسرا پہلو ہے، جس کو ابتدا میں ذکر کیا تھا وہ بہت ہی اہم ہے، اس میں بظاہر ’’ریا وشہرت‘‘ کے پہلو کے علاوہ کوئی اور پہلو نہیں پایا جاتا جس کی وجہ سے اس میں کسی قسم کی تاویل کی جاسکے، شریعت نے جملہ احکام میں ’’اخلاص وتقوی‘‘ کو بڑی اہمیت دی ہے، اور ہر ممکن اس کو اختیار کرنے کا حکم دے رکھا ہے، بل کہ ’’انفاق‘‘ کے باب میں تو اس کو بڑی وضاحت کے ساتھ قرآن نے بیان کیا ہے۔

اس لیے اس مذکورہ صورت حال کی مناسبت سے بہت ہی اہم بات ہے کہ ہم اس ’’نمائش وشہرت‘‘ سے بچیں، جہاں اخروی اعتبار سے ضیاع کا خدشہ ہے، وہیں پر دنیوی اعتبار سے جان ومال کے لیے بھی خطرہ ہوسکتا ہے، ہم جس کے لیے قربانی کررہے ہیں وہ دیکھ رہا، اسے تو بس قلب کا معیار وپیمانہ دیکھنا ہے، اسے نہ خون کی ضرورت ہے، نہ گوشت کی، نہ اور کسی چیز کی۔

بنا بریں میری ہر فرد سے نہایت ہی عاجزانہ ومخلصانہ گزارش ہے کہ اس امر پر توجہ دیں اور اپنے کو بھی اس سے بچائیں اور دوسروں کو بچانے کی فکر کریں ـ۔

واللہ الموفق وہو المستعان وعلیہ التکلان

مزید دکھائیں

محمد سالم قاسمی سریانوی

استاذ جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور اعظم گڑھ یوپی

متعلقہ

Close