عباداتمذہب

لیلۃ القدر کی عظمت و فضیلت

اس رات میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، مغفرت کے طلبگاروں کو مغفرت کا پروانہ دیا جاتا ہے، سائلوں کو عطا کیا جاتا ہے، رحمتِ الٰہی کا دریا جوش میں ہوتا ہے۔

محمد ریاض علیمی

اللہ رب العزت نے قانون قدرت کے مطابق ہرچیز کو ایک مقدار میں پیدا فرمایا۔ ہر چیز کا الگ الگ پیمانہ اور درجہ مقرر کیا۔ ہر چیز کی حیثیت اور اس کا درجہ یکساں نہیں ہے بلکہ اس میں درجہ بندی ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر اللہ قادر المطلق نے بعض شخصیات کو بعض پر فضیلت دی، بعض مقامات کو بعض مقامات کے مقابلے میں فضیلت سے شرف بخشا۔ جس طرح خدائے رب العزت کا قانون دوسری چیزوں میں جاری و ساری ہے اسی طرح سال کے دنوں میں بھی  بعض ایام کو بعض پر فضیلت دی گئی۔چنانچہ لیلۃ القدر بھی انہیں میں سے ہے جس کو اللہ رب العزت نے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا۔ اس کی عظمت و بزرگی کے بیان کے لیے قرآن میں پوری سورت ’’سورۃالقدر‘‘ کے نام سے نازل فرمائی۔

القدر کے معنی بہت عظمت اور شرف کے ہیں ۔ لیلۃ القدر یعنی بہت عظمت اور شرف والی رات۔لیلۃ القدر میں عبادت کرنے کی بہت قدر و منزلت ہے اور اس کا بہت زیادہ اجرو ثواب ہے۔ اس رات میں غروب آفتاب سے لے کر صبح صادق تک اللہ تعالیٰ کی خاص تجلی ہوتی ہے۔ اس کو لیلۃ القدر اس لیے فرمایاہے کہ اس رات میں بہت قدر ومنزلت والی کتاب، بہت عظیم الشان رسول پر، بہت عظمت والی امت کے لیے نازل کی گئی۔ اس رات میں بہت قدرو منزلت والے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ بہت خیر اور برکت اور مغفرت نازل فرماتا ہے۔ اس رات میں آسمان سے فرشتے اور حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوتے ہیں اور طلوع فجر تک اس رات میں عبادت کرنے والوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں اور اس میں بہت انوار و برکات کا نزول ہوتا ہے۔ یہ شب امت محمدی ﷺکے لیے ایک عظیم المرتبت تحفہ ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کو لیلۃ القدر عطاکی ہے اور اس سے پہلی امتوں کو عطا نہیں کی۔ (الدر المنثور)

امام مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سابقہ امتوں کی عمریں دکھائی گئیں تو آپ نے اپنی امت کی عمروں کو کم سمجھا کہ وہ اتنے عمل نہیں کرسکیں گے جتنے لمبی عمر والے لوگ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو لیلۃ القدر عطا کی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (مؤطا امام مالک)

ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے چار انبیاء کا تذکرہ کیا جنہوں نے اسی اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کی کہ پلک جھپکنے کی مقدار بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی۔ اس پر صحابہ کرام کو تعجب اور رشک ہوا تو اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ نے دریائے رحمت میں ایسا جوش مارا کہ اس نے امت محمدی ﷺ کی عظمت و شرف و بزرگی کے لیے ایک ہی رات کے دامن کو اتنا وسیع کردیا کہ اس میں کی جانے والی عبادت ہزار مہینوں سے افضل قرار پائی۔ اس رات میں جو بھی مومن بندہ اپنے رب کی رضا کے لیے قیام کرتا ہے، رکوع کرتا ہے اور اپنے پیشانی کو رب العزت کی بارگاہ میں جھکادیتا ہے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر میں قیام کیا تواللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے۔ (صحیح بخاری)

ماہِ رمضان کی ستائیسویں شب میں قیام کرنا رسول اللہ ﷺ کو بھی بہت پسند ہے۔چنانچہ حضرت عمر رضی ا للہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ماہِ رمضان کی ستائیسویں شب ‘ صبح ہونے تک عبادت میں گزاری وہ مجھے رمضان کی تمام راتوں کی عبادت سے زیادہ پسند ہے۔ (مکاشفۃ القلوب) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشادفرمایا: جس نے لیلۃ القدر بیدار ہوکر گزاری اور اس میں دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے، اپنی رحمت میں اسے جگہ دیتا ہے اور جبرائیل علیہ السلام اس پر اپنے پَر پھیرتے ہیں اور جس پر جبرائیل علیہ السلام پَر پھیریں وہ جنت میں داخل ہوتا ہے۔ (مکاشفۃ القلوب)

لیلۃ القدر بڑی بابرکت اور مقبولیت کی رات ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے انوارو تجلیات کے حصول کے لیے جس قدر ہوسکے اپنے گناہوں سے توبہ کی جائے۔ یہ رات اپنے دامن ِ خالی کو رحمتِ الٰہی سے بھرنے والی رات ہے۔توبہ و استغفار کرکے اپنے رب کو راضی کرنے والی رات ہے۔ اپنے گناہوں کا بوجھ ہلکا کرنے والی رات ہے۔ رزقِ حلال طلب کرکے خزانۂ غیب سے مالا مال ہونے والی رات ہے۔ بیماریوں سے شفایابی کی رات ہے۔ مصیبتوں اور پریشانیوں سے خلاصی حاصل کرنے والی رات ہے۔ جو اس رات کو غفلت میں گزاردے اور اس کی برکات وتجلیات اپنے دامن میں نہ سمیٹے تو وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ماہِ رمضان کے متعلق ارشاد فرمایا: اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے تو جو شخص اس کی برکتوں سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہا۔ (ابن ماجہ)

حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : لیلۃ القدر میں زمین کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں ہوتا جہاں فرشتے سجدے یا قیام کی حالت میں مومن مردوں اور عورتوں کے لیے دعا نہ مانگ رہے ہوں ۔ فرشتے تمام رات مومن مردوں اور عورتوں کے لیے دعا مانگتے رہتے ہیں ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمام مومنین سے مصافحہ کرتے ہیں اور سلام کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر تم اطاعت گزار ہو تو تم پر قبولیت اور احسان کے ساتھ سلام ہو اگر تم گناہگار ہوتو تم پر بخشش کے ساتھ سلام ہو۔۔۔اگر تم سوئے ہوئے ہو تو تم پر رضاء الٰہی کے ساتھ سلام ہو۔۔۔ اگر تم قبر میں ہو تو تم پر خوشی اور خوشبو کے ساتھ سلام ہو۔۔ ۔۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیتا ہے کہ وہ زمین پر اتریں ۔ ان کے ساتھ سدرۃ المنتہیٰ پر رہنے والے ستر ہزار فرشتے ہوتے ہیں ۔ ان فرشتوں کے پاس نورانی جھنڈے ہوتے ہیں ، جب وہ زمین پر اترتے ہیں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اور باقی فرشتے اپنے جھنڈے چار مقامات یعنی کعبۃ اللہ، حضور اکرم ﷺ کی قبر انور، بیت المقدس کی مسجد اور طور سینا پر گاڑ دیتے ہیں ۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ پھیل جاؤ تو وہ پھیل جاتے ہیں اور وہ فرشتے ہرایسے مکان، حجرہ، گھر اور کشتی میں داخل ہوتے جہاں کوئی مر د مومن یا عورت ہو۔۔۔۔ فرشتے اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں ۔ اس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں اور امت محمدیہ ﷺ کے یے بخشش کی دعا کرتے ہیں ۔ جب صبح کا وقت ہوتا ہے تو آسمان کی طرف چلے جاتے ہیں ۔ آسمان دنیا کے فرشتے ان کا استقبال کرتے ہیں اور مژدہ سناتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان نیک لوگوں کو بخش دیا اور بد کار لوگوں کے بارے میں شفاعت قبول کی گئی۔ ( غنیۃ الطالبین۔ ۔۔ملخصا)

اس رات میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، مغفرت کے طلبگاروں کو مغفرت کا پروانہ دیا جاتا ہے، سائلوں کو عطا کیا جاتا ہے، رحمتِ الٰہی کا دریا جوش میں ہوتا ہے۔ اخلاص او ر صدق دل سے رب کی بارگاہ میں رجوع کرنے والوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا۔ اپنی پیشانیوں کو خاک میں بچھادینے والوں کی پیشانیاں نور سے بھردی جاتی ہے۔ خوفِ خدا میں رونے والوں کو اخروی خوشیوں کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔ بارگاہِ خداوندی میں رجوع ہونے والے دلوں کو حلاوتِ ایمانی سے بھر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس مقدس شب میں جتنا ہوسکے عبادت کی جائے۔ نماز، تلاوت قرآن اور ذکرو اذکارمیں مشغول رہا جائے اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابر کت رات کی برکتیں نصیب فرمائے۔ آمین

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close