عباداتمذہب

ماہِ رمضان اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام

اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بڑھ کر بزرگ و برتر نہیں۔

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

‘‘دعاء’’ ایک عظیم عبادت اورخداکاانمول تحفہ ہے،دعاءطاعات کا جوہر اور عبادات کا مغزہے،دعاءاخلاصِ عمل کی رغبت وخواہش بڑھانے والا نسخۂکیمیاہے،دعاءاحساس بندگی کی معراج اور خالق و مخلوق کے درمیان  تعلق کاوسیلہ ہے، دعا اللہ رب العزت  کی ذا ت پربھروسہ کی  گائیڈ لائن ہے،دعاء آفت ومصیبت کی روک تھام کا مضبوط ذریعہ ہے، دعاء اللہ کے متقی بندوں کے اوصافِ حمیدہ میں ایک ممتاز وصف ہے،بلاشبہ دعاء اپنی اثر انگیزی اور انقلاب آفرینی کے لحاظ سےمومن کا ہتھیار ہے،دین کا ستون ہے اور آسمان وزمین کی روشنی ہے۔

کائنات کاکوئی بھی انسان کسی بھی صورت میں دعاءسےمستغنی نہیں ہوسکتا،اگر دولت و ثروت اور تعیش و تنعم میں دعاء کو بھول گیا تو فقر و غربت اور تنگی و عسرت میں ضرور یاد کرے گا،اگر فراوانی وبہتات اور اسباب کی کثرت میں دعاء سے غافل ہوگیا تو پریشانی و اضطراب اور بے چینی و انتشار میں اللہ کی طرف رجوع ہوگا۔غرض ہر مخلوق اچھے برے وقت اپنے خالق و مالک کو یاد کرتی ہے اور اسی کے سامنے دست سوال دراز کرتی ہے۔

دعاء کی حقیقیت:

عبادت کی روح یہ ہے کہ بندہ خداوند قدوس کو حاضر وناظر جان کر،اس کی صفات کا استحضار کرتے ہوئے،اس کے مقابلہ میں اپنی عاجزی ، بے بسی اور لاچاری کے احساس کے ساتھ اس طرح متوجہ ہو کہ عبدیت اس کے رویں رویں سے عیاں اور بندگی اس کی ہر ادا سے نمایاں ہو۔ مثلاً کوئی بندہ اگر نماز ادا کررہا ہو اور اس کو یہ حضوری حاصل ہوجائےکہ وہ خدا سے مخاطب ہےاور خدا اس کی سرگوشی سن رہاہےتو یہ نماز اصل عبادت ہوگی۔ دوسری طرف اگر عبادت کے تمام مراسم اداکردیئے جائیں؛لیکن اپنے مالک کے سامنے موجود ہونے کی حقیقت پر توجہ نہ ہو اور اسے پکارنے کی توفیق حاصل نہ ہو تو ایسی عبادت اپنی اصل روح سے خالی ہوگی۔درحقیقت یہی توجہ عبادت اور یہی پکار دعا ہے۔محی السنۃ حضرت مولانا ابرارالحق صاحب ہردوئیؒ نے فرمایاکہ :دعا تو دل کی پکار ہے، کوئی ہاتھ پھیلائے زبان سے کہے اور دل کہیں اور ہو تو وہ دعا نہیں ہے، صرف دعا کی صورت ہے۔ اس کی مثال میں عرض کرتا ہوں: ایک شخص نے حاکم کے پاس ایک درخواست لکھی اور وہ بہت عمدہ ٹائپ ہے، کاغذ بھی اچھا ہے، القاب و آداب ہیں، ٹکٹ لگاکر پیش کی، لیکن جب درخواست دینے کا وقت آیا تو حاکم کے سامنے درخواست پیش کی اور منہ پھیر لیا تو کیا ہوگا؟ اس کی درخواست منظور ہو جائے گی؟ یا کہا جائے گا کہ بڑا گستاخ اور بے ادب ہے کہ درخواست پیش کرنے کا سلیقہ بھی نہیں آتا۔ اسی طرح دعا میں بھی قلب غافل ہے اور دل کہیں اور ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسی دعا قبول نہیں کی جاتی۔

دعاء کی دو اہم خصوصیات:

پہلی خصوصیت یہ ہے کہ جتنی بھی عبادات ہیں، اگر دنیا کے لیے ہوں تو وہ عبادت نہیں رہتیں، برخلاف دعا کے کہ اگر یہ دعا دین کے لیے ہو تو سبحان الله! پھر تو کیا کہنے!لیکن اگر دنیا کے لیے ہو تو پھر بھی وہ عبادت ہے، اس لیے کہ دعا میں جو نیاز مندی اور عبدیت کا اظہار ہے، وہ دنیا کے مانگنے کے وقت بھی موجود ہے۔

دوسری خصوصیت دعا میں یہ ہے کہ اس میں صورت کے بجائے معنی پر نظر ہوتی ہے،برخلاف دوسری عبادات کے کہ ان میں صورت کا بھی اعتبار ہوتا ہے، جیسے نماز ہے، اس کی ایک خاص ترتیب وکیفیت ہے، اگر اس سے ہٹ کر ادا کی جائے تو وہ ادا نہیں ہوتی، جب کہ دعا میں ایسا نہیں ہے، اس کی کوئی خاص ترتیب وکیفیت نہیں ہے، بلکہ آپ جس وقت، جہاں ،جس زبان میں الله رب العزت سے گفت گو کر سکتے ہوں، اس میں صرف عاجزی وانکساری کا مولیٰ کے سامنے اظہار کرنا ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں دعاء کی ترغیب:

اپنے آخری دستورقرآن مجید میں اللہ تعالی نےجا بہ جا بندوں کو دعاء کی تاکید فرمائی  ہے ، اس کی قبولیت کا وعدہ کیاہے نیز اس پر انبیاء کرام علیہم السلام اور رسولوں کی تعریف کی ہے ، اللہ کا ارشاد ہے:بے شک وہ سب نیک کاموں میں جلدی کرنے والے تھے اور وہ ہمیں امید اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے سامنے عاجزی  کرنے والے تھے(الانبیاء)

ایک اور مقام پر ارشاد ہے :

‘‘لوگوں! اپنے پرور دگار سے عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو!وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خداسے خوف کرتے ہوئے اور اُمید رکھ کر دعا ئیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے’’۔(الاعراف)

جس طرح قرآن پاک کو رمضان المبارک سے ایک خاص نسبت وتعلق ہے اسی طرح دعاء کا بھی رمضان سے گہرا ربط ہے ۔چناں چہ اللہ پاک کا ارشاد ہے:اور(اے نبی )اگر آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں ، تو آپ کہہ دیجئے کہ میں قریب ہوں،پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے ،پس انہیں چاہیے کہ میرے حکم کو مانیں اورمجھ پر ایمان لائیں ،تاکہ راہ راست پرآجائیں ۔ “ (البقرة)

یہ آیت گذشتہ آیت کے مضمون کی تکمیل کرتی ہے،گذشتہ آیت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ رمضان کے روزے پورے کرلینے کے بعد تکبیر کہو اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے رمضان جیسا بابرکت مہینہ عطا کیا اوراس میں روزے رکھنے کی توفیق بخشی ،اب اس آیت میں اللہ نے خبر دی کہ وہ اللہ جسے وہ یاد کریں گے اورجس کا شکر ادا کریں گے،وہ اُن سے قریب ہے-

مفسرین کرام نے یہاں اس بات کی صراحت کہ ہے کہ روزوں کے احکام کے درمیان دعاء کے ذکر سے مقصود اس طرف اشارہ ہے کہ رمضان میں دعاء کی بڑی اہمیت ہے۔

 مسند طیالسی میں ہے کہ عبداللہ بن عمروؓ افطار کے وقت اپنے تمام بال بچوں کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ روزہ دار کے افطار کے وقت کی دعا قبول ہوتی ہے۔

ایک اورحدیث ہے کہ تین آدمی کی دعا رد نہیں کی جاتی : امام عادل کی ،روزہ دار کی ، اورمظلوم کی ۔ (مسند احمد، ترمذی ،نسائی )

ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے روایت کی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اورعرض کیاکہ اے اللہ کے رسول !کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی کریں ،یا دورہے تاکہ اسے پکاریں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ۔

اللہ اپنے بندوں سے قریب ہے ،اس لیے کہ وہ ”رقیب “ ہے ”شہید“ ہے ،ظاہر وپوشیدہ کو جانتا ہے ، دلوں کے بھید جانتا ہے ،اس لیے وہ اپنے پکارنے والوںسے قریب ہے ، اوران کی پکار کو سنتا ہے ، جو بندہ اپنے رب کو حضورقلب کے ساتھ پکارتا ہے ، اورکوئی چیز دعا کی قبولیت سے مانع نہیں ہوتی‘ تو اللہ تعالی اس کی دعا قبول کرتا ہے ، خاص طور سے اگر قبولیتِ دعا کے دینی اسباب بھی موجود ہوں، یعنی بندہ اللہ کے اوامر ونواہی کا پابند ہو اوراللہ تعالی پر اس کا ایمان کامل اور یقین محکم ہو ۔

نہ چھوڑ ائے دل فغان صبح گاہی

اماں شاید ملے ‘‘اللہ ھو’’میں

احادیث مبارکہ میں دعاء کی تاکید:

سرکار دو عالمﷺ نے بھی اپنی امت کو قدم قدم پر دعاء کی تلقین فرمائی ہے اور اپنی حیات طیبہ میں اس کا نمونہ بھی پیش فرمایا ہے۔یہاں اختصار کے پیش نظر چند احادیث پر اکتفاء کیاجاتا ہے :

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ فخردو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بڑھ کر بزرگ و برتر نہیں۔ (مشکوٰۃالمصابیح)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا اللہ تعالیٰ شانہٗ اس پر غصہ ہوتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھل گیا اس کے لیے رحمت کے دروازے کھل گئے (پھر فرمایا کہ) اللہ تعالیٰ سے جو چیزیں طلب کی جاتی ہیں ان میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب یہ ہے کہ اس سے عافیت کا سوال کیا جائے۔ (ترمذی)

حضرت سلمانؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ تمہارا رب شرم کرنے والا ہے، کریم ہے، جب اس کا بندہ دعا کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو ان کو خالی واپس کرتا ہوا شرماتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺنےارشادفرمایا  :دعا کے بارے میں عاجز نہ بنو، کیوں کہ دعا کے ساتھ ہوتے ہوئے ہر گز کوئی شخص ہلاک نہ ہو گا۔ (الترغیب والترہیب)

دعاء کا طریقہ :

باوضو ہو کر قبلہ رخ بیٹھا جائے ، خدا کو حاضر وناظر تصور کر لیا جائے ، دونوں ہاتھ اپنے سینے کے مقابل اٹھائے جائیں ، ہتھیلیاں آسمان کی طرف رکھی جائیں اور عاجزی کو اپنے اوپرمسلط کر کے نظریں نیچےکی طرف کرلی جائیں ، پھر خدا تعالیٰ کی حمد و تعریف کی جائے اور درود شریف پڑھ کر پہلے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی تمام حاجات رکھی جائیں اور پھر اپنے اقرباء، رشتہ دار اور تمام مسلمانوں کے لیے خوب دعا مانگی جائے ، اخیر میں درود شریف پڑھ کر منہ پر ہاتھ پھیر لیا جائے اوریقین کرتے ہوئے اٹھاجائے کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ضرور قبول ہوچکی ہوگی۔

بلاشبہ دعا سے غفلت بڑی محرومی کی بات ہے – دعا انفرادی بھی ہوسکتی ہے اور اجتماعی بھی، سرّی بھی ہوسکتی ہے اور جہری بھی، لیکن زیادہ اہتمام انفرادی اور سرّی دعاؤں کا کرنا چاہیے کہ اس میں زیادہ حضوری نصیب ہوتی ہے، اور ریا کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے – ساعاتِ اجابت کا بھی اہتمام کرنا چاہیے؛ خاص طور پر جمعہ کے دن، تہجد کے وقت، اور بعد عصر قُبیل مغرب قبولیت کی گھڑیاں ہیں – سفر میں بھی دعا کی قبولیت کا ذکر حدیث میں آتا ہے – دوسروں سے بھی دعا کی درخواست کرنی چاہیے، اس کا بھی ذکر حدیث میں آتا ہے – مسنون اور جامع دعائیں یاد نہ ہوں تو ان کو یاد کرلینا چاہیے –

اب اس مضمون کو ایک جامع دعا پر ختم کیا جاتا ہے؛ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ نے بہت سی دعائیں سکھائی ہیں جو سب ہمیں یاد نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ بتادوں جو ساری دعاؤں کی جامع ہو؛ وہ دعا یہ ہے :

” أَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا إسْتَعَاذَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلّى اللّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ باللّه "

( اے اللہ میں تجھ سے ہر وہ بھلائی چاہتا ہوں جو تیرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہی، اور ہر اس بُرائی سے پناہ چاہتا ہوں جس سے تیرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ چاہی – تیری ہی ذات سے مدد طلب کی جاسکتی ہے اور تجھ ہی پر بھروسہ ہے، اور جو کچھ بھی طاقت وقوت ہے وہ اللہ ہی کے واسطے سے ہے) –

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close