عباداتمذہب

ماہ رمضان المبارک اور خاتم النبیین ﷺ

جس آدمی کا ہاتھ کھلا ہوتاہے سخاوت کرتاہے اس کی موت بھی آسان ہوتی ہے

 مولاناقاضی محمد اسرائیل گڑنگی

بعض حضرات نے تو بہت ہی عجیب بات لکھی ہے جس کوامام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اشارۃً ذکر کیاہے کہ رمضان اللہ پاک کامبارک نام ہے، اسی ماہِ رمضان کے پھر ساٹھ نام ہیں جتنی بھی کوئی چیز اہمیت اور عظمت ورفعت والی ہوگی اس کے نام بھی زیادہ ہونگے حضرت علامہ ابوالخیر طالقانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب خطائر القدس میں رمضان شریف کے ساٹھ نام نقل کیے ہیں (بخاری شریف مترجم ص760طبع شبیر برادرز)

فرشتوں کے سردار کی مخلوقاتِ ربانی کے سردار سے ملاقات

نبی پاک ﷺ کے چچا حضرات عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ لوگوں کی خیر خواہی میں بہت سخی تھے اور اس سے بھی زیادہ سخی رمضان المبارک کے مہینے میں ہوتے جب حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ سے ملتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام رمضان المبارک میں ہر رات آپ ﷺ سے ملاقات کرتے یہانتک کہ ماہِ رمضان گزر جاتا،نبی کریم ﷺ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن پاک کادور فرمایاکرتے تھے۔

نبی پاک ﷺ کی سخاوت و فیاضی رحمت کی بارش کی طرح برسا کرتی تھی جس طرح اللہ پاک بادل کوبرسنے کے لیے بھیجتاہے وہ ہر جگہ برستا ہے خواہ زمین زندہ ہویا مردہ اس سے سب کو نفع پہنچتاہے نبی پاک ﷺ اس سے بھی زیادہ فیاض ہوتے ( حوالہ بالا ص761-762)

مسلمانو!کیاتمہارا عمل نبی پاک ﷺ کے طریقے کے مطابق ہے؟کیاہم سخی اور فیاض ہیں ؟کیا ہمارا رمضان کے مہینے میں دروازہ غربا ء ومساکین کے لیے کھلا رہتاہے ؟کیاہم اللہ پاک کی مخلوقات کو اس مبارک ماہ میں کھلاتے پلاتے ہیں ؟ہر آدمی اپنے حال پر نظر رکھے۔

دانائے وقت حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سخی انسان مال کا پھل کھاتاہے یعنی اللہ کی مخلوق پر خرچ کرتاہے، کنجوس انسان مال کا غم کھاتاہے اور سانپ بن کر مال پر بیٹھا رہتاہے یہانتک کہ آواز آتی ہے کہ آج فلاں بن فلاں مر گیا۔جس آدمی کا ہاتھ کھلا ہوتاہے سخاوت کرتاہے اس کی موت بھی آسان ہوتی ہے اور کمال کی بات یہ بھی ہے کہ مرتے وقت وہ کسی کا محتاج بھی نہیں ہوتااسے اللہ پاک معذوریوں اور مجبوریوں سے محفوظ رکھتاہے۔

استقبالِ رمضان اورسیدالانس والجان ﷺ

حضور نبی کریم ﷺرمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے کہ اس کے پانے کی دعا اکثر کیا کرتے تھے۔ اور رمضان المبارک کا اہتمام ماہ شعبان میں ہی روزوں کی کثرت کے ساتھ ہو جاتا تھا۔

حضور نبی کریمﷺ ماہ رجب کے آغاز کے ساتھ ہی یہ دعا اکثر فرمایا کرتے تھے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا جب رجب المرجب کا مہینہ شروع ہوتا تو حضورﷺیہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ!ہمارے لئے رجب اور شعبان بابرکت بنا دے اور ہمیں رمضان نصیب فرما۔(مسند احمد بن حنبل۔ج1، 259)

حضور نبی کریم ﷺ اس مبارک مہینے کا خوش آمدید کہہ کر اس کا استقبال کرتے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوالیہ انداز کے ذریعے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رمضان المبارک کے استقبال کے بارے میں پوچھ کر اس مہینے کی برکت کو مزید واضح کیا

جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو حضورﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت کرتے

تم کس کا استقبال کر رہے ہو اور تمہارا کون استقبال کر رہا ہے؟ (یہ الفاظ آپ نے تین دفعہ فرمائے)

اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ کیا کوئی وحی اترنے والی ہے یا کسی دشمن سے جنگ ہونے والی ہے۔ حضور ﷺنے فرمایا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:تم رمضان کا استقبال کر رہے ہو جس کی پہلی رات تمام اہل قبلہ کو معاف کر دیا جاتا ہے۔(الترغیب والترہیب۔ج2ص105)

روزے میں سحر ی و افطاری کا معمول

رمضان المبارک میں پابندی کے ساتھ سحری و افطاری بے شمار فوائد اور فیوض و برکات کی حامل ہے۔ حضور ﷺ بالالتزام روزے کا آغاز سحری کے کھانے سے فرمایا کرتے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺنے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔(صحیح البخاری۔ ج،1ص257)

 حضرت ابوقیس نے حضرت عمرو بن العاص سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں سحری کھانے کا فرق ہے۔(صحیح مسلم کتاب الصیام)

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایاسحری سراپا برکت ہے اسے ترک نہ کیا کرو۔

 حضورﷺنے یہ بھی فرمایا کہ سحری کرنے والے پر اللہ کی رحمتیں ہوتی ہیں (مسند احمد بن حنبل ج،3ص12)

اللہ تعالی اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر اپنی رحمتیں ناز ل کرتے ہیں ۔

حضورﷺ نے امت کو تلقین فرمائی ہے کہ سحری ضرور کھایا کرو خواہ وہ پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو۔ آپ ﷺکا یہ معمول تھا کہ سحری آخری وقت میں تناول فرمایا کرتے تھے۔ گویا سحری کا آخری لمحات میں کھانا حضور ﷺ کی سنت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے لوگ بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔

 اسی طرح دوسری حدیث میں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اپنی ضرورت پوری کئے بغیر اسے نہ رکھے۔

 حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے میرے بندوں میں مجھے پیارے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کریں ۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اس امت کے لوگوں میں یہ دونوں باتیں یعنی افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرنا رہیں گی تو اس وقت تک سنت کی پابندی کے باعث اور حدود شرع کی نگرانی کی وجہ سے خیریت اور بھلائی پر قائم رہیں گے۔

حضورﷺ کس چیز سے روزہ افطار فرماتے تھے؟

حضور ﷺ اکثر اوقات کھجوروں سے روزہ افطار فرمایا کرتے تھے۔ اگر وہ میسر نہ ہوتیں تو پانی سے افطار فرما لیتے تھے۔ حضرت سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:

جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے کیونکہ پانی پاک ہوتا ہے۔(جامع الترمذی، ج،1،ص83)

آنحضرت ﷺ رمضان کی راتوں میں تواتر و کثرت کے ساتھ کھڑے رہتے اور نماز تسبیح و تہلیل اور ذکر الہی میں محورہتے۔

نماز کی اجتماعی صورت جو ہمیں تراویح میں دکھائی دیتی ہے اسی معمول کا حصہ تھی۔ حضورﷺ نے رمضان المبارک میں قیام کرنے کی فضیلت کے باب میں ارشاد فرمایا:جس نے ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور راتوں کو قیام کیا وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے جس دن وہ بطنِ مادر سے پیدا ہوتے وقت بے گناہ تھا۔(سنن نسائی ج،1ص308، کتاب الصیام )

معمول تہجد

رمضان المبارک کے دوران حضور اکرمﷺکی نماز تہجد کی ادائیگی کے بارے میں معمول مبارک یہ تھا کہ آپ ﷺ نماز تہجد میں آٹھ رکعت ادا فرماتے جس میں وتر شامل کر کے کل گیارہ رکعتیں بن جاتیں ۔ تہجد کا یہی مسنون طریقہ آنحضور ﷺسے منسوب ہے۔

حضور ﷺنے ارشاد فرمایا:تم پر رات کا قیام (نماز تہجد)لازمی ہے کیونکہ تم سے صالحین کا یہ عمل رہا ہے۔(سنن الترمذی ج،2،ص194)

معمول اعتکاف

رمضان المبارک میں حضور نبی کریم ﷺ بڑی باقاعدگی کے ساتھ اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ زیادہ تر آپ ﷺ آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے کبھی کبھار آپ ﷺ نے پہلے اور دوسرے عشرے میں بھی اعتکاف فرمایا۔ لیکن جب حضور نبی کریم ﷺ کومطلع کر دیا گیا کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے۔ اس کے بعد حضور نبی اکرمﷺ نے ہمیشہ آخری عشرے میں ہی اعتکاف فرمایا۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ کے معمول اعتکاف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں :حضور نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ اللہ تعالی سے جا ملے۔(صحیح البخاری ج،1،ص271)

حضور نبی کریمﷺ نے ایک مرتبہ آخری عشرہ کے علاوہ رمضان المبارک کے پہلے اور دوسرے عشرے میں بھی اعتکاف فرمایا۔

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک کا پہلا عشرہ اعتکاف فرمایا پھرآپﷺ نے درمیانی عشرہ اعتکاف فرمایا اور یہ اعتکاف ایسے ترکی خیمہ میں تھا جس کے دروازے پر بطور پردہ چٹائی تھی جس کو آپﷺنے مبارک ہاتھ سے پکڑ کر خیمہ کی طرف ہٹایا اور پھر اپنا سر اقدس نکال کر صحابہ کرام کو اپنے قریب آنے کے لئے فرمایا جب وہ قریب آ گئے تو فرمایا میں نے لیلۃ القدر کی تلاش میں پہلا عشرہ اعتکاف کیا پھر میں نے درمیانی عشرہ اعتکاف کیا پھر مجھے بتایا گیا کہ وہ آخری عشرہ میں ہے۔  تم میں سے جو اعتکاف جاری رکھنا چاہتا ہے وہ اسے جاری رکھے۔(صحیح مسلم ج 1ص370)

وصال مبارک کے سال آپ ﷺ نے بیس دن اعتکاف فرمایاحضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریمﷺہر سال رمضان المبارک میں دس دن تک اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ لیکن جس سال آپ ﷺ نے وصال فرمایا اس سال آپ ﷺ نے بیس دن تک معتکف رہے۔(صحیح البخاری ج،1،ص272)

نبی پاک ﷺ کے رمضان المبارک کے معمولات بہت ہیں جن میں سے مختصراًچند ایک درج کیے گئے ہیں پڑھنے والوں سے التجاء ہے کہ بندہ عاصی کودعائوں میں ضرور یاد رکھیں اور مبارک ماہ کی برکات کوسمیٹتے ہوئے اللہ اور اس کے پیاری نبی ﷺ کو راضی کرلیں اسی میں ہی کامیابی ہے اللہ پاک رمضان المبارک کی برکات ہمیں نصیب فرمائے (آمین یا رب العالمین)

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close