عباداتمذہب

ماہ رمضان المبارک میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

یہ صبر کامہینہ ہے اس میں کھانے پینے اور تمام بری باتوں  سے رکنااور اپنے آپ کوقابومیں رکھناہوتاہے۔

مولاناقاضی محمداسرائیل گڑنگی

اللہ رب العاملین نے عظمت والی کتاب قرآن پاک کورمضان المبارک میں رحمۃ للعالمین پرنازل کر کے امت رسول ﷺ پر احسانِ عظیم کیا۔قرآن کاکمال ہے کہ رمضان المبارک میں سب سے زیادہ مسلمان اس کی تلاوت کرتے ہیں اس عظیم موقع کی مناسبت سے یہ مضمون حاضرِ خدمت ہے کہ ہم رمضان المبارک کیسے بسر کریں ہمارے ایک مہربان دوست وشاعر جناب محمدریاض قاصرؔنے اس مقدس عنوان پہ یوں لکھاہے

سب مہینوں کایہ حکمراں آگیا

سمجھورحمت کااک ارمغاں آگیا

ہرطرف رحمتیں ،ہر طرف برکتیں

 بن کے رمضان اک مہماں آگیا

اس کی راتیں عظیم اس کے دن بھی عظیم

لے کے سینے میں عظمت کی جاں آگیا

جس کاہرروز ہے مثل گل اے ریاضؔ

تیس پھولوں کاوہ اَرمغاں آگیا

پھول بن جاتاہے اس سے ہرآدمی

بن کے قاصرؔ تواک گلستاں آگیا

فاقہ کرنااچھی بات ہے ،تین چار روز چھوڑ کر ایک وقت کھانانہ کھائواس سے معد ہ صحیح رہتاہے ،تندرستی ٹھیک رہتی ہے ،بھوک برداشت کر لینے کی عادت پیداہوتی ہے اکثر ایساہوتاہے کہ کام کاج میں کھانے کاوقت نہیں ملتا۔اگر آپ دوکاندار ہیں توایساہوتاہے کہ آپ کوبھوک لگ رہی ہے کھانابھی آگیاہے مگر ٹھیک اسی وقت گاہک آجاتے ہیں اگرآپ فاقہ کرنے کے عادی ہیں توآپ کراہت محسوس نہیں کریں گے ،آپ گاہک سے ڈھنگ کی بات کرتے ہیں اور نفع بھی کمالیتے ہیں۔

اکثرایساہوتاہے کہ سفرمیں کھانانہیں ملتااگرآپ کو فاقہ کرلینے کے عادت ہے توآپ پریشان نہیں ہوتے۔ فاقہ کرلینے کاایک فائدہ یہ ہوتاہے کہ آپ کے اندر ان غریبوں سے ہمدردی پیداہوتی ہے جواپنی غریبی کی وجہ سے فاقہ پر مجبور  ہیں یہ ہمدردی بڑی چیزاورانسانیت کاجوہر ہے۔ فاقہ سے روحانیت میں بھی تازگی پیداہوتی ہے ،یادِ خدامیں دل لگتاہے اسی لیے ہر ایک مذہب کے اچھے لوگ فاقہ کرتے ہیں بلکہ فاقہ کی عادت ڈالتے ہیں اسلام نے اس عادت کی تعریف کی ہے مگر اس کی تعلیم یہ ہے کہ جوکچھ ہواللہ کے لیے ہو،فاقہ بھی ہوتواللہ کے لیے ہو،اللہ کے حکم کے مطابق ہوآنحضرت ﷺ نے جوتعلیم دی ہے اس کے بموجب ہو،رمضان المبارک میں اس عظیم کام کوامیر بھی اور غریب بھی کرتے ہیں اوراس کے فضائل نبی پاک ﷺ نے بتائے ہیں اسی عظیم کام کوہم روزہ کہتے ہیں ،بھوک اور پیاس کی مشقت کومسلمان برداشت کرتے ہیں دنیاکی ہر کھانے کوموجود ہے لیکن مسلمان سحری کے بعد افطاری تک اس سے پرہیز کر کے رب کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔

رمضان المبارک روحانیت کی فصلِ بہار

حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ شعبان کی آخری تاریخ میں ہمارے آقانبی کریم ﷺ نے تقریر فرمائی،آپ ﷺ نے فرمایا:وہ مہینہ آگیاجومستحق تعظیم ہے جس کی عظمت ضروری ہے ،یہ برکتوں والامہینہ ہے اس میں ایک رات ایسی آتی ہے جوایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے اللہ پاک نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں رات کی نفلیں اگرچہ فرض نہیں مگران کاثواب بے شمار رکھاہے۔ آپ ﷺ نے فرمایااس مہینہ میں نفل کاثواب ایساہے جیسے کھلے دنوں میں فرض کاثواب ہوتاہے اور اس مہینہ میں فرض کاثواب دوسرے دنوں سے ستر گنا زیادہ ہوتاہے

یہ صبر کامہینہ ہے اس میں کھانے پینے اور تمام بری باتوں  سے رکنااور اپنے آپ کوقابومیں رکھناہوتاہے۔ آپ ﷺ نے فرمایاکہ صبر کاثواب جنت ہے ،ارشاد ہوا یہ صبر اور غنخواری کامہینہ ہے (غریبوں سے ہمدردی،بھوکوں ننگوں سے ہمدردی ،کمزوروں سے ہمدردی ،اپنے ماتحتوں سے ہمدردی،ہرایک مخلوق سے ہمدردری ،ہرایک کے غم میں شرکت ،ہرایک کی مدد)

اس مہینہ میں صاحب ایمان کے رزق میں اضافہ کیاجاتاہے جوشخص دوسر ے روزہ دار کاروزہ افطار کرائے اس کوبرابر کاثواب ملتاہے اور روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آتی۔ دوسرے روزہ دار کوپیٹ بھر کر کھلادوبہت اچھاہے اگر یہ میسر نہیں توایک دانہ کھجور،تھوڑاسادودھ یاایک گلاس پانی پلاکر روزہ افطار کرادیاتواس کابھی اتناہی ثواب ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایایہ ایک ایسامہینہ ہے جس کاآغاز اللہ کی رحمتوں سے ہوتاہے اس کے وسط میں گناہوں کی بخشش ہوتی ہے اور اس کے آخری حصہ میں دوزخ سے نجات ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اس مبارک مہینہ میں جوشخص اپنے نوکر چاکر ،اپنے غلام یاباندی کاکام ہلکاکرتاہے اللہ اس کوآتش دوزخ سے آزاد کردیتاہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:جیسے ہی یہ مہینہ شروع ہوتاہے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ،دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ایک پکارنے والاپکارتاہے اور پکارتارہتاہے ’’جوخیر کے طالب ہیں ،جن کواچھے کاموں کی طلب ہے وہ آگے بڑھیں (بڑااچھاموقع ہے )جوبدکار ہیں ،جوبرائیوں میں مبتلارہتے ہیں وہ بازآجائیں (توبہ قبول ہونے کابہت اچھاموقع ہے)‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ رمضان المبارک میں نیکیوں کاثواب بڑھاچڑھاکردیاجاتاہے نفل نمازکاثواب فرض کے برابر ہوتاہے اور فرض نماز کاثواب ستر گنا۔دیکھوجب سودا نفع سے بکتاہے تودکاندار زیادہ سے زیادہ سودا بیچنے کی کوشش کرتاہے پس تم بھی رمضان شریف میں نیک کام زیادہ سے زیادہ کروتاکہ ثواب زیادہ سے زیادہ ملے ،مثلاً

۱۔کلام اللہ شریف کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرواس مہینہ میں مزہ توان کاہے جنہیں اللہ پاک نے حفظ کلام کی دولت بخشی ہے ،دن کوقرآن پاک کاورد رکھیں ،دور کریں رات کوتراویح میں قرآن شریف سنائیں پھر تہجد میں جتنی توفیق ہوقرآن شریف پڑھیں ،جنہیں خداتوفیق دیتاہے وہ دن رات میں پوراقرآن پاک ختم کر لیتے ہیں اگر آپ حافظ قرآن نہیں ہیں توجتنی زیادہ ممکن ہوناظرہ قرآن تلاوت کریں مگر قرآن شریف صحیح پڑھیں ٹھہر ٹھہر کر پورے ادب سے دل لگا کر پڑھیں ،دل اچاٹ ہوجائے تونہ پڑھیں اصل بات یہ ہے کہ یہ مبارک مہینہ قرآن پاک کامہینہ ہے اس کے تلاوت کرنے کامہینہ ،اس پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کامہینہ۔

حدیث شریف میں ہے کہ رمضان شریف میں آنحضرت ﷺ حضرت جبرئیل ؑ کے ساتھ قرآن پاک کادور کیاکرتے تھے آخری رمضان میں (جس سال آنحضرتﷺ کی وفات ہوئی )پورے قرآن شریف کادو بار دور کیا۔

۲۔آنحضرت ﷺ نے فرمایایہ مہینہ صبر کامہینہ ہے صبر کامطلب ہے تحمل کرنا،برداشت کرنا،قابو میں رکھنا،جمے رہنا،روکنا۔پس تم بھوک پیاس تو برداشت کرتے ہی ہوکوئی بُری بات کہے اسے بھی برداشت کرو۔غصہ ہر گز مت کروبلکہ غصہ کوضبط کرواپنے آپ کواور اپنی زبان کوقابو میں رکھو،جھوجل مت کروکوئی بری بات زبان سے نہ نکالوکسی کی غیبت نہ کرو۔آنحضرت ﷺ نے فرمایاجب روزہ ہونہ کوئی بری بات زبان سے نکالو،نہ چلائو،نہ شور مچائواگر کوئی تم سے الجھنے لگے تویہ کہہ کر الگ ہوجائوکہ بھائی معاف رکھومیراروزہ ہے

۳۔آنحضرت ﷺ نے فرمایایہ مہینہ ہمدردی اور غمخواری کامہینہ ہے بس خلق خدا پر رحم کرو،ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرو،یتیموں مسکینوں بیوائوں اور محتاجوں کی خبر گیری کرو،نوکر چاکراور جوہاتھ تلے ہیں ان کے کاموں کابوجھ ہلکاکرو،تم پہلے پڑھ چکے ہوکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایاجواپنے ماتحت کاکام ہلکاکرے گااللہ پاک اس کوآتش دوزخ سے نجات دے دے گا

۴۔آنحضرت ﷺ کواللہ پاک نے سخاوت کادریابنایاتھایہ دریاہمیشہ بہتاہی رہتاتھامگر رمضان شریف میں یہ دریاگویاسمندر بن جاتاتھاجس کی موجوں کی کوئی انتہانہیں ہوتی تھی پس تم بھی کوشش کروکہ سخاوت کاچشمہ رمضان شریف میں جاری رہے اور زیادہ سے زیادہ خلقِ خدااس سے سیراب ہو،زبان سے نعرہ لگائواورعمل کر کے دکھائو۔

جو دے گیاوہ لے گیا

جوکھاگیاوہ گماگیا

جوجوڑ گیاوہ چھوڑ گیا

آخری عشرہ(دس دن)

جب تم اس ماہ مبارک کے بیس دن اس طرح گزار دوکہ زبان پر کلام اللہ کی تلاوت ہویادرود شریف ،سبحان اللہ یالاالہ الااللہ کاورد ہودل میں غریبوں کی ہمدردی ہواللہ کی یاد اور اس کاخوف ہونیک کاموں کی لگن زیادہ سے زیادہ ہوتوظاہر ہے آخری دس دن میں اس کے جلوے نمایاں ہونگے اب تم سُستی مت کرو،زیادہ مستعدہوجائواور کوشش کروکہ باقی دنوں میں اللہ تعالیٰ کاانعام اس کی رحمتیں اوراس کی برکتیں زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکو،آنحضرت ﷺ جن کی پوری زندگی پاک ہی پاک تھی اس عشرہ میں آپ کی چستی اورمستعدی اورزیادہ بڑھ جاتی تھی جیسے ہی یہ عشرہ شروع ہوتاآپ ﷺ کمر کس لیتے خود بھی رات بھر جاگتے اورگھر کے آدمیوں کوبھی جگاتے ،اورفرمایاکرتے تھے کہ وہ مسلمان بہت بڑابدقسمت ہے کہ یہ ماہ مبارک آئے اور گزر جائے اور وہ اس عرصہ میں اپنے گناہ نہ بخشواسکے۔

اعتکاف

اچھی بات یہ ہے کہ ان دس دنوں میں تم اسی آقااور مالک کی ڈیوڑھی پر پڑجائوجس کے حکم سے روزے رکھ رہے ہوجس نے روزوں پر بہت بڑااجروثواب کاوعدہ فرمایاہے اسی پڑجانے کواعتکاف کہتے ہیں دن رات مسجد ہی میں رہو،پاخانہ پیشاب کی ضرورت ہوتوباہر آکر پوری کر لوپھر فوراًاعتکاف کی جگہ مسجد میں پہنچ جائوگویااپنے تمام بدن اوروقت کوخداکی عبادت کے لیے وقف کردو۔

۱۔اس کاپہلافائدہ یہ ہے کہ بہت سے گناہ جوملنے جلنے ،بازارہاٹ جانے اور آنے میں ہوتے ہیں ان سے محفوظ رہوگے۔

۲۔اپنے مالک اور مولاکی رضامندی کے لیے اسی مولاکے گھرمیں ٹھرنااور پڑجاناخود عبادت ہے بس اعتکاف کے دنوں میں ایک ایک لمحہ کاتم کوثواب ملتارہے گااگر تم سو گئے تویہ وقت بھی عبادت میں صرف ہوااس کابھی تمہیں ثواب ملے گاکیونکہ تم اسی کی ڈیوڑھی پر پڑے ہوئے ہو۔

۳۔تم یہاں جماعت اور نماز کے اشتیاق میں بیٹھے ہولہذاہرلمحہ تمہیں نماز کاثواب مل رہاہے۔

۴۔مسجداللہ کاگھر ہے تم اس کے گھر میں پڑے ہوتواس کے پڑوسی اوراس کے مہمان ہو۔

۵۔تم فرشتوں سے مشابہت پیداکر رہے ہوکہ فرشتوں کی طرح ہر وقت عباد ت اور اللہ کی یاد میں لگے ہوئے ہو۔

۶۔بیمار کی تیمارداری ،کسی پڑوسی کاسوداسلف بازار سے لادینا،کسی بیمار کی مزاج پُرسی کے لیے جانا،جنازہ میں شرکت کرنااور ایسے بہت سے نیک کام جس کے لیے مسجد سے جاناپڑتاہے وہ اعتکاف کے دنوں میں نہیں کر سکوگے لیکن اگر تم یہ کام کیاکرتے تھے توزمانہ اعتکاف میں بغیر کیے ہی ان کاثواب تم کوملتارہے گا۔

۷۔آنحضرت ﷺ کی سنت مبارکہ پر عمل ہوگاکیونکہ آپ نے اگرچہ کبھی پورے مہینہ اورآخری سال میں بیس روز کابھی اعتکاف کیاہے مگردس روزکااعتکاف توآپ ہمیشہ کرتے رہے ہیں اس لیے علماء نے اعتکاف کوسنت مئوکدہ فرمایاہے۔

۸۔جب اعتکاف کاہر لمحہ عبادت ہے تواگر ان دس دنوں میں شب قدر ہوئی توخودبخود اس کاعظیم الشان اجروثواب بھی تمہارے حصہ میں آئے گا

۹۔جماعت کی بڑی فضیلت ہے تومعتکف کے لیے ضروری ہے کہ اعتکاف ایسی مسجد میں کرے جس میں نمازپنجگانہ کی جماعت کاانتظام ہو۔

۱۰۔اعتکاف کرنے والاقسمت کاسکندر ہے کہ اللہ پاک کی لاتعدادنعمتوں کووہ حاصل کر رہاہے

جب اعتکاف ختم ہوگاتوزباں یہ کہتی پھرے گی

؎ جی ڈھونڈتاہے پھر وہی فرصت کے رات دن

بیٹھارہوں تصورجاناں کیے ہوئے

 پھر بھی جی میں ہے کہ درپہ کسی کے پڑارہوں

سرزیربارمنت درباں کیے ہوئے

شب قدر

اللہ رب العزت جوسمندروں کی تہہ میں سُچے موتی پیداکرتاہے ،جس نے پہاڑ کے پتھروں میں لعل اور ہیرے پیداکیے اور ہیروں میں ایک وہ ہیرابنایاجس کی نظیر سے دنیاخالی ہے جس کانام کوہ نور ہے جس پر بادشاہوں کے تاج بھی فخر کرتے ہیں اس رب العزت قادر مطلق نے جس طرح ہفتہ میں جمعہ کے دن کوسال کے بارہ مہینہ میں ماہ رمضان المبارک کوبیشمار فضیلتیں بخشیں اسی طرح راتوں میں ایک رات بنائی جسے شبِ قدر کہتے ہیں ،شب فارسی کالفظ ہے جس کامعنیٰ قدر والی رات۔ جس کاعربی نام :لیلۃ القدر ہے ،ہر رات کاآخری حصہ شب بیداروں کے لیے ہیراہے اور لیلۃ القدر ان ہیروں میں کوہِ نور ہے۔

۱۔جوشروع شام سے لے کر طلوعِ فجرتک رحمت ہی رحمت اور سلامتی ہی سلامتی ہے۔

۲۔جس میں اللہ پاک کے فرشتے اللہ کے حکم سے خیروبرکت لے کر زمیں کی طرف آتے ہیں۔

۳۔خصوصاًحضرت روح الامین (جبرئیل )علیہ السلام جورحمت اوربرکت کے فرشتوں کے سرتاج ہیں ان کانزول ہوتاہے جس سے اللہ والوں کے دلوں میں نور اورتازگی پیداہوتی ہے۔

۴۔یہ ایک رات ہزار مہینوں سے بہتراورافضل ہے۔

۵۔اسی کویہ خسوصیت حاصل ہے اس مبارک رات میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔

۶۔ہمارے لیے اس میں یہ سعادت ہے کہ فرشتوں کے لشکر اہل ایمان کوہدیہ سلام پیش کرتے ہیں۔

۷۔فرشتوں کی ایک فوج سلام پیش کرتے ہوئے آتی ہے دوسری جاتی ہے۔

۸۔یاد رہے یہ سلسلہ ساری رات جاری رہتاہے نصیب والے ہیں وہ لوگ جنہیں فرشتے سلام کرتے ہیں۔

۹۔قلب مومن پر ان برکتوں کاظہور اس طرح ہوتاہے کہ خشوع وخضوع زیادہ ہوتاہے گریہ کی کیفیت طاری ہوتی ہے عبادت میں دل زیادہ لگتاہے۔

۱۰۔اس رات میں دعاقبول ہوتی ہے آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاکوہدایت فرمائی تھی کہ شب قدر میں اس دعاکاورد رکھیں

 اللھم انک عفوتحب العفوفاعف عنی

ترجمہ:اے اللہ توبہت معاف کرنے والاہے معاف کر دینے ہی کوپسند کرتاہے پس مجھے بھی معاف کردے(آمین)

حضرت شیخ سعدی اس کویوں نقل کرتے ہیں

من نگویم کہ طاعتم بپذیر  

  قلم عفوبرگناہ ہم کش

شب قدر کی تاریخ

ظاہر ہے کہ اتناقیمتی ہیرااتنی آسانی سے نہیں مل سکتااگر تمہیں یقین ہوکہ پارس کی پتھری ان ہی کنکریوں میں ملی ہوئی ہے جوتمہارے سامنے پڑی ہیں توایساکرو کہ ان تمام کنکریوں کوسمیٹ کرجھولی میں بھر لو،ان کنکریوں اورگٹکوں کے ساتھ پارس کی انمول پتھری بھی تمہاری جھولی میں آجائے گی ،پس اگر سال بھر شب بیداری کی عادت ڈال لوتولیلۃ القدر کی سعادت بھی میسر آجائے گی لیکن اگر تمام سال تہجد کے وقت نہیں اٹھ سکے توکم ازکم رمضان المبارک میں تہجد کی پابندی کر لواور خصوصیت سے آخری عشرہ اوربالخصوص ہر ایک طاق رات کوذکر وتلاوت سے زندہ رکھو۔شب قدر کی برکتیں اورسعادتیں میسر آجائیں گی کیونکہ علماء کافیصلہ یہ ہے کہ وہ سال بھر میں ایک شب ضرورہوتی ہے اورزیادہ احتمال یہ ہے کہ رمضان شریف میں ،اوربالخصوص اخیرعشرہ اور خصوصاًطاق رات میں ،اور زیادہ ترستائیسویں شب میں۔

اس رات کے فضائل اوررمضان المبارک کی برکات اورقرآن پاک کے بے مثال فضائل سلف صالحین مسلمانوں کی بے مثال عبادات کوملاحظہ کرنے کے بعددل میں تڑپ پیداہوتی ہے کہ اللہ کے در پہ جاپڑیں اور اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک درخواست قبول نہ ہواور زبان سے گنگناتے ہوئے کہیں

  نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے

 یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close