عباداتمذہب

ماہ رمضان نیکیوں کاموسم بہار!

عبدالکریم ندوی گنگولی

 درحقیقت ماہ رمضان اللہ کی بے پایہ رحمتوں اور برکتوں کے نزول کی ارزانی وفراوانی کا موسم بہار ہے ،جس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی نگاہِ رحمت پوری امت مسلمہ عالم وجاہل ،امیر وفقیر ،کم ہمت وعالی حوصلہ ہر قسم کے لوگوں پر ہوتی ہے اور پورے عالم ِاسلام میں اس کے جلال وجمال کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ،گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پورے اسلامی معاشرہ پر نورانیت وسکینت کا وسیع شاہانہ سایہ فگن ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ اس ماہِ مبارک میں جنت کے تمام دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے بندھ کئے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے اور ہر مسلمان طلوع ِآفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک اللہ کی چشمہ ٔ رحمت وبرکت سے سیراب ہوتا رہتا ہے اور زندگی قیمتی سے قیمتی اور حسین سے حسین لمحات میں بدل جاتی ہے۔

 آہ ایسا مبارک مہینہ جس کا ہر روز روز سعید اور ہر شب شب مبارک ہے ،روزہ ،تراویح،تلاوتِ قرآن،قیام لیل،افطار وسحری اور انفاق فی سبیل اللہ ہر عمل باعث ِثواب اور ہر لمحہ باعثِ اجر ہے ،ابتدائِ دن ہی سے انتہائِ یوم تک سحری کے نام پر اللہ کی رحمت وبرکت کانزول شروع ہوجاتا ہے اور سارادن انسان نیکیوں ،عبادتوں کے چادر میں لپیٹ لیاجاتا ہے گویا یہ ماہ عالمی عبادات اور اعمالِ صالحہ کا جشن عام ہے اور مسلم معاشرہ کے لئے خوشگوار وسازگار اثرات مرتب ہونے اور دینی وایمانی فضاء قائم ہونے کا اہم ذریعہ اور کلیدی سبب ہے،اگر انسان انہی امورِ دین کو کامل شعور ،جذبہ ٔ اخلاص اور سنت رسولﷺ کے مطابق ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کی کوشش کرے تو یہی ایک مہینہ آدمی کی زندگی میں انقلاب برپا کرنے اور انسانی زندگی کی سیرت وکردار کی تعمیر وتشکیل میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لئے کافی ہے۔

اس ماہ ِعظیم کی برکت وعظمت کا راز صرف ایک چیز میں مضمر وپوشیدہ ہے اور وہ نزول قرآن ہے کہ اس ماہ میں مکمل قرآن مجید لوحِ محفوظ سے حضرت جبرئیل ؑ کے سپرد کیا گیا یا نزول کا فیصلہ صادر کیا گیا ،لہذا یہ عظیم الشان واقعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے دنوں کو روزوں کے لئے اور راتوں کو قیام وتلاوت کے لئے مخصوص کردیا جائے ،اللہ تعالیٰ نے اس بات کو یوں آشکارا فرمایا ہے ’’شھر رمضان الذی أنزل فیہ القرآن ھدی ً للناس وبینات من الھدی والفرقان فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ‘‘(سورہ بقرہ:185)۔

 رمضان المبارک کا روزہ اور قرآن مجید سے گہرا تعلق ہے گویا ایک دوسرے سے منسلک وملتزم اور لازم ملزوم کا درجہ رکھتے ہیں کیوں کہ رمضان المبارک کا اوّلین مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے ،اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے شروع ہی میں یہ واضح کردیا کہ اس کتاب سے وہی راہِ راست پاسکتے ہیں جو تقویٰ رکھتے ہوں ’’ھدی للمتقین‘‘دوسری طرف روزہ رکھنے کا مقصدیوں بیان کیاگیا’’لعلکم تتّقون‘‘تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو ،گویا ان دونوں آیات سے معلوم ہواکہ روزہ سے قرآن مجید کو کتنا گہرا تعلق ہے کہ نزول ِقرآن کی سالگرہ کے مہینے کو روزوں کے لئے مخصوص فرمایا گیا اور اس ماہ کی بابرکت گھڑیوں سے زیادہ موزوں وقت اس بات کے لئے اور کون سا ہوسکتا تھا کہ روزہ کے ذریعہ تقویٰ کی وہ صفت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جس سے قرآن کی راہ آسان ہواور قرآن کی امانت کا بوجھ اٹھانا ممکن ہو۔

 روزہ کا تقویٰ سے بھی عمیق وگہرا تعلق ہے وہ اس طور پو کہ انسانی فطرت تین قسم کی خواہشات پر مشتمل ہے (1)کھانے پینے کی خواہش(2)جنسی تعلق قائم کرنے کی خواہش(3)راحت وآرام کی خواہش۔مذکورہ خواہشات بروئے کار لانے کے لئے مذہبِ اسلام نے بے قید آزادی نہیں دی تاکہ عیش پرستانہ زندگی میں انسان مبتلا نہ ہو اور ان کو سرے سے دبانے اور کچلنے کا بھی حکم نہیں دیا تاکہ انسانیت کی تمام صلاحیتیں اور توانائیاں مفلوج ہوکر رہ نہ جائیں ،اسلام نے افراط وتفریط کی ان دوانتہاؤں کے درمیان اعتدال کی راہ پیش کی ہے اور یہ اعتدال رمضان المبارک میں روزے سے کامل طور پر پایا جاتا ہے ،کیوں کی انسان حالتِ صوم میں دن بھر بھوک کی شدت،پیاس کی تیزی اور جنسی خواہش کی ہیجان کو قابو میں رکھتے ہوئے مذکورہ بالا اوّلین خواہشات کو اعتدال پر لانے کی کوشش کرتا ہے اور افطار کے بعد جب تھکا ماندھ جسم آرام کا طالب ہوتاہے تو اس وقت مؤذن کے بلانے پر نہ صرف یہ کہ نمازفرض وسنت اداکرتا ہے بلکہ تراویح کی طویل نماز بھی ادا کرتا ہے ،پورے انتیس تیس دن خلاف معمول رات کے آخری حصہ میں سحری کے لئے اٹھنا ہوتا ہے اس طرح انسان کا جسم عیش وعشرت اور سکون وراحت کا دلدادہ ہونے کے بجائے مشقت وجفاکشی کا عادی بن جاتا ہے اور یوں اس کی تیسری خواہش بھی بے قیدآزادی کا شکار ہونے سے بچ جاتی ہے ۔

 آئیے معلوم کرتے ہیں کہ وہ کونسے عوامل واسباب اور احکام واعمال ہیں جن پر عمل پیرا ہوکررمضان المبارک کی کامل برکتوں ورحمتوں ،نوازشوں ونعمتوں کو حاصل کیا جاسکے اور تقویٰ کی حقیقی قوت واستعداد پاسکے ،لہذا ان چیزوں کو درجِ ذیل اختصار کے ساتھ مع خصوصیات کے ذکر کیا جاتا ہے ۔

(1)خلوص نیت ورضائے الٰہی : نیک کام کی ابتداء میں صحیح ارادہ اور خلوصِ نیت اور مقصودِ رضائے الٰہی کا شامل ہونا ضروری ہے ورنہ عمل بظاہر عمل ہوگا لیکن مقبولیت سے خالی اور رائیگاں جائے گا کیوں کہ صحیح نیت اعمال کی روح ہے اور خلوصِ نیت کا وجود اثر آفرینی ،نشوونما اور نتیجہ خیزی کی قوت رکھتا ہے ،اسی بات کو حضور ﷺ نے یوں ارشاد فرمایا،اعمال کی صحت اوروزن کاانحصار بھی نیت پر ہوتا ہے’’انماالأعمال بالنیات‘‘(بخاری:54)۔

 (2)تلاوت قرآن کی کثرت: رمضان کی عظمت وبرکت نزول ِقرآن ہی سے ہے اور اس ماہ کی راتوں میں قیام لیل میں اس کی تلاوت کی جاتی ہے ،لہذا ماہِ رمضان اس بات کا متقاضی ہے کہ قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت وسماعت اور علم وفہم کے حصول کا ممکن حدتک اہتمام کیا جائے کیوں کہ نماز تراویح میں اللہ کے حضورکھڑے ہوکر کلام اللہ سننے کا روحانی فائدہ اپنی جگہ پر بہت ہی مفید اور قیمتی ہے لیکن عربی سے عدم واقفیت کی بناء پر روزانہ کچھ حصہ قرآن مجید ترجمہ سے پڑھنے کی کوشش کریں اوراس کو عملی جامہ پہناکر حقیقت ِروزہ کی دولت سے مالامال ہوجائیں ۔

  (3)گناہوں سے اجتناب: روزہ کا اصل مقصد تقویٰ ہے اور جس طرح نیکیوں اور عبادات سے زندگی کا پر ہونا ضروری ہے اسی طرح کامل ایمانی زندگی اور تقویٰ وطہارت کا حصول بھی گناہوں سے اجتناب کے بغیر ناممکن ہے ،اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ماہِ رمضان کے علاوہ مہینوں میں گناہ کرنے کی گنجائش ہے بلکہ اس کا اثر عملی طور پر پوری زندگی ہونا چائیے ۔

 اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان رمضان المبارک میں دوسروں کے ساتھ تعلقات اور معاشرتی روابط کے معاملے میں خاص توجہ نہیں دیتا اور اپنے ماتحتوں اور غیروں کے ساتھ غیرمنصفانہ رویہ رکھتا ہے اور ان کے حقوق کی پامالی کرتا ہے جس کی وجہ سے روزہ بیکار اور ضائع ہوجاتا ہے ،نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں اصل مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز،روزہ اور زکاۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت باندھی ہوگی اور کسی کا ناحق مال کھایا ہوگااور کسی کا قتل کیا ہوگا تو اس کی تمام نیکیاں دعویداروں کو دی جائیں گی پھر بھی دعوے ختم نہ ہوئے تو دعوے داروں کے گناہ اس کے سر ڈالے جائیں گے اور اس کو سرکے بل جہنم میں پھینک دیا جائے گا (صحیح مسلم :6744)لہذا دوسروں کے حقوق کی پامالی کئے بغیر عادلانہ اورمنصفانہ زندگی گذاریں تاکہ ہمارابھوکا اور پیاسا رہنا زخیرۂ آخرت بنے اور جنت میں جانے کا ذریعہ۔

 (4)اعمال صالحہ اور نفل عبادات: بندۂ مؤمن کی پوری زندگی اعمالِ صالحہ اور نفل عبادات سے رنگی ہونی چاہئے کیوں کہ یہ تقربِ الٰہی اور فرائض کی بھرپائی کا ذریعہ ہے اور خاص کر رمضان المبارک میں اس کی کثرت ہونا چاہئے کیوں کہ اس ماہِ مبارک میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابرملے گا اور کوئی نفل یا سنت ادا کرنے سے فرض کا ثواب ملے گا (بیہقی:3608)۔

 کتنی بڑی خوش قسمتی ہے اس شخص کے لئے جو فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات اور اعمال صالحہ کا بھی اہتمام کرتاہو،جن اعمال میں سے کسی سے خندہ پیشانی سے پیش آنا،نفل نمازوں کی پابندی کرنا ،سلام کرنا ،باجماعت نماز پڑھنا ،کسی انسان کوایذا نہ پہنچانا،صدقہ وخیرات کرنا وغیرہ۔

  (5)قیام لیل کی پابندی: قیام لیل یہ آپ ﷺ کی سنت ہے اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہے کیوں کہ قیام لیل حصولِ تقویٰ، خوفِ الٰہی اور رضائے الٰہی کے لئے ضروری اور انتہائی کا گر نسخہ ہے اور یہ متقین کی صفت اور علامت ہے ،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:متقین وہ ہیں جو رات کو کم سوتے ہیں اور سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں (الذٰریات:18)۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا :تم پر قیام لیل ضروری ہے اس لئے کہ قیام لیل تم سے پہلے صالحین کی عادت وصفت اور تمہارے پروردگار کی قربت کاذریعہ اور گناہوں اور سیئات کے مٹنے کا سبب ہے (ترمذی:3549)۔

  تراویح جو نماز عشاء کے بعد پڑھی جاتی ہے وہ قیام لیل ہی ہے ،اس کی پابندی تو لازمی سمجھنا چاہئے اور قیام لیل کا دوسرا وقت وہ ہے جو نصف شب کے بعد یا آخرتہائی حصہ میں ہے ،یہی یہ وقت ہے جس میں قرآن نے استغفار کی تاکید فرمائی ہے اور یہ رات کا وہ حصہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ  ہرآخری تہائی رات آسمان دنیا میں اترتا ہے اور پکارتا ہے ،کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اس کی مانگ کو پورا کروں ،کون ہے جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہے کہ میں اس کو معاف کردوں (بخاری: 1145۔ مسلم: 758)اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :امت محمدیہ(روزوے داروں )کی رمضان کی آخری رات میں مغفرت کردی جاتی ہے ۔ـ‘‘عرض کیا گیا :کیا یہ آخری رات شب قدر ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا :نہیں !جو کام کرنے والاہے وہ پووری مزدوری تواسی وقت پاتا ہے ،جب اپنا کام پورا کردکھاتاہے(مسند احمد:7904)۔

 (6)ذکر ودعا:ذکر بندہ ٔ خداکے قلبی سکون کا ذریعہ ہے ’’ألابذکر اللہ تطمئن القلوب ‘‘اوراسی طرح گناہوں سے بچے رہنے اور ہر لمحہ اللہ کی یاد میں گذارنے کا گوہر نایاب ہے اور زندگی کا گوہر مقصود بھی،انسان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اللہ کے ذکر سے رطب اللسا ن رہے اس کا کوئی وقت اللہ کے ذکر سے خالی نہ ہو،گرچہ یہ نفل عبادت ہے لیکن اس ماہ مبارک میں ثواب فرض کے برابر ہے اور اس سے غفلت وکوتاہی بہت سی خیر کثیر سے محرومیوں کا سبب ہے ۔

 ذکر کی ایک صورت دعا بھی ہے اور دعا عبادت کا مغز اور مؤمن کا ہتھیار ہے اور یہی عبودیت کی روح ہے اور رمضان المبارک میں دعا کا جتنا اہتمام کیا جائے کم ہے کیوں کہ اس ماہ مبارک میں عام اوقات کے علاوہ قبولیت کے خاص اوقات ایسے بھی ہیں جو غیر رمضان میں نصیب نہیں ہوتے،مثلاً وقت افطار وغیرہ،اگر کسی کی دعا بارگاہ الٰہی میں قبول ہوجائے تو اس سے بڑھ کر سعادت مندی اور خوش نصیبی کیا ہوسکتی ہے ۔

 روزہ دار کی دعا اللہ تعالیٰ کبھی رد نہیں فرماتا چنانچہ آپﷺ نے فرمایا ’’ثلاثۃ لا ترد دعوتھم ،الامام العادل،والصائم حتی یفطر،ودعوۃ المظلوم یرفعھا اللہ دون الغمام ‘‘(ترمذی:2526)تین شخص ایسے ہیں اللہ تعالیٰ جن کی دعا رد نہیں فرماتاجن میں ایک روزہ دار ہے یہاں تک کہ وہ افطار کرلے،اسی لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس مہینہ کے حسین وجمیل موقعہ پر مختلف اوقات وحالات کی دعاؤوں اور جامع ومسنون دعاؤوں کا بھر پور اہتمام کریں ۔

  کتنی عجیب بات ہے کہ قیامت کے دن بھی انسان کو اس لمحہ اور اس گھڑی کا افسوس ہوگا جو اللہ کے ذکر کے بغیر گذرا ہو،آپ ﷺ فرماتے ہیں :’’مامن ساعۃ تمر علی ابن آدم لا یذکراللہ تعالیٰ الا تحسّر علیھا یوم القیامۃ‘‘(شعب الایمان:508)۔

  (7)شب قدر اور اعتکاف: اللہ تعالیٰ نے ماہ مغفرت ورحمت عطا کرکے ہم پر عظیم احسان کیا ہی تھا پھرمزید انسانوں کی مغفرت اور ان کی دعاؤوں کو شرف قبولیت سے نوازنے کے لئے شب قدر جیسی عظیم رات بھی عطا فرمائی ،جس رات کی قیمت ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر ہے اور اس رات کی فضلیت کے لئے یہی کافی ہے کہ اس رات قرآن مجید کا نزول ہوا ،ارشاد ربانی ہے ’’اناانزلناہ فی لیلۃ القدر، وما أدرٰک مالیلۃ القدر ،لیلۃ القدر خیر من ألف شھر ‘‘(سورہ قدر:301) بیشک ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں نازل فرمایا،آپ کو معلوم ہے کہ شب قدر کیا ہے؟شب قدرایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

  اس رات کو پوشیدہ رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی گہری حکمت ومصلحت مضمرہے تاکہ انسان اس کی جستجو اور تلاش میں سرگرداں رہے اورصرف اخیر عشرہ ہی نہیں بلکہ پورا رمضان عشق ِخداوندی میں ڈوب کر ان مرادن باوفا کی صف میں شامل ہوجائیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ’’رجال صدقواماعاھدوا اللہ علیہ‘(احزاب:23) (بعض لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کردیا)کے پروانہ سے نوازا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کی محبت میں بندہ کی بے چینی وبے قراری بہت پسند اور محبوب ہے ۔

 یہ وہ رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی مغفرت کا وعدہ فرمایا ،چنانچہ آپﷺ نے فرمایا:’’من قام لیلۃ القدر ایمانا واحتسابا غفر لہ ماتقدم من ذنبہ (بخاری 1901، مسلم 760)جس شخص نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی امید میں شب قدر قائم کیا ،اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔

 شب قدر میں کژت کے ساتھ پڑھی جانے والی مخصوص دعا وہ ہے جس کے بارے میں حضرت عائشہؓ نے آپﷺ سے پوچھا :اے اللہ کے رسولﷺ!یہ بتلائیے ،اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات شب قدر ہے ،تو میں اس میں کیا پڑھوں ؟آپ ﷺ نے فرمایا:تم یہ دعا پڑھو’’اللھم انک عفوکریم تحب العفوفاعف عنی‘‘(جامع ترمذی:3513)اے اللہ تو عفوودرگذر کرنے والا ہے ہم پر عفوودرگذر کا معاملہ فرما۔

  رمضان کا مقصد اصلی’’ تقویٰ‘‘ کے حصول کے لئے اعتکاف بھی بہت کارگر عمل ہے ،اس لئے کہ اعتکاف قلب وروح ،مزاج وانداز اور فکر وعمل کی للہیت کے رنگ میں رنگنے میں اور ربانیت کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے اکسیر کا حکم رکھتا ہے ،اس طرح شب قدر کی تلاش وجستجو کا کام بھی آسان ہوجاتا ہے ،نبی کریم ﷺ  نے پوری زندگی اعتکاف کاخصوصی اہتمام فرمایا اور اس کی بڑی تاکید فرمائی، اسی لئے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ ہے ،حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وفات دی ،پھر آپ ﷺ کے آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا (بخاری:2026)اورحضرت ابوھریرۃ ؓکی روایت میں یہ اضافہ ہے ’’جس سال آپ ﷺ کا انتقال ہوا ،آپ ﷺ نے بیس دن اعتکاف کیا(بخاری:2044)۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتاتو آپﷺ اپنی کمر کس لیتے ،راتوں کو جاگتے،اپنے گھروالوں کوجگاتے اور اتنی محنت کرتے جتنی کسی عشرہ میں نہیں کرتے (ترمذی:3513)

اعتکاف کا مطلب اپنے آپ کو کچھ مدت کے لئے تمام کام وکاج اور مشغولیات کو بالائے طاق رکھ کر اللہ کے لئے وقف کردینا ،مردوں کے لئے مسجداور عورتوں کے لئے گھر اعتکاف کی جگہ ہے ،اور اس کے چند اصول وآداب ہیں جن کی رعایت ضروری ہے ،واضح رہے کہ یہ تو ممکن نہیں کہ ہر شخص دس دن کااعتکاف کرے بلکہ ہر شخص کو اپنی استطاعت کے بقدراعتکاف کی گنجائش ہے ۔

(8)انفاق فی سبیل اللہ : اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور نماز کے بعد سب سے بڑی عبادت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے ،انسانی فطرت مال ودولت کی بہت شوقین اور دلدادہ ہوتی ہے کسی بھی صورت میں اس کو خرچ کرنا ناگوار اور ناقابل برداشت سمجھتی ہے اور یہی چیز ایمانی کمزوری کا سبب ہوتی ہے ۔

  تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ سخی اور فیاض آپﷺ کی ذات عالی ہے ،لیکن جب رمضان المبارک آتا تھا تو آپ ﷺ کی سخاوت کی انتہانہ رہتی ،حضرت ابن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب آپ ﷺ حضرت جبرئیل ؑ سے ملتے تو آپ وﷺ کی سخاوت میں اور اضافہ ہوتا ،جبرئیل ؑ رمضان کی ہر رات میں آپ ﷺ سے ملتے تھے اور آپﷺ سے قرآن کا دور کرتے تھے پس یقینا رسول ﷺ جب جبرئیل ؑ سے ملتے بھلائی میں تیز ہوا سے زیادہ سخاوت فرماتے(مسلم:6009)۔

 (9)خدمت خلق:روزہ کا ایک مقصد غریبوں ومحتاجوں کی شدت بھوک اور شدت پیاس کا احساس دلانا بھی ہے تا کہ امیروں کو غریبی کا احساس پیدا ہو اور ماہ رمضان دوسروں کے دکھ درد،تنگی وپریشانی ،محرومی وغمی میں شرکت اور مدد وخدمت کا مہینہ ہے ،حضور ﷺ نے اس مہینہ کو ’’شھر المؤاساۃ ‘‘فرمایا ہے ،یعنی تمام انسانوں کے ساتھ چاہے مردہویا عورت ،بچہ ہویا بوڑھا سب کے ساتھ ہم دردی وغمخواری کا معاملہ کیا جائے اور دوسروں کی مصیبتوں و پریشانیوں اوردکھ درد میں شریک ہوکر اللہ کی محبوبیت ومقبولیت حاصل کی جائے،جہاں اپنی بھوک پیاس تقویٰ ،ضبط نفس ،اوامر الٰہی کی اطاعت اور صبر کی صفات پیدا کرنے کاذریعہ بن سکتی ہیں وہیں دوسرے انسانوں پر بھوک پیاس اور دکھ درد میں جو بیتتی ہے اس کا ذائقہ چکھاتی ہے ،اس طرح انسان سراپا ہمدرد وہمخوار جیسے صالح اوصاف سے متصف ہوکر معاشرہ کے لئے نیک بخت اور والدین کے لئے سعادت مند ثابت ہوتا ہے ۔

 خدمت خلق کا دائرہ بہت ہی وسیع ہے جس کا احاطہ یہاں ناممکن ہے ،اسی ہم دردی وغم خواری کے ہمہ گیر وصف کی طرف مسلسل توجہ مبذول کرنے کے لئے حضور ﷺ نے روزہ دار کو افطار کرانے کی بڑی ترغیب فرمائی ،ارشاد فرماتے ہیں ’’جو شخص اس مہینے میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے تو اس کے لئے گناہوں سے مغفرت اور دوزخ کی آگ سے رہائی ہے ،اور افطار کرانے والے کو روزہ دار کے برابر ثواب ملتا ہے(سنن بیہقی:3608)

 خدمت خلق کا اس مہینہ میں خاص طور پر بہت اہتمام کرنا چاہئے ،اس لئے کہ انسان کو اپنی ذاتی عبادات کی قبولیت میں شک وتردد ہوسکتا ہے مگر دوسروں کے ساتھ رضائے الٰہی کے لئے کئے گئے حسن عمل وحسن سلوک کی قبولیت میں شک نہیں ہوتا ،آپ ﷺنے فرمایا :جو شخص ایک مؤمن کی دنیا کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت کو دور کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں ایک مصیبت کو دور کرے گاجو شخص ایک تنگ دست کو آسانی دے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کو آسانی دے گا جوشخص ایک مسلم کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس ی پردہ پوشی کرے گا اور اللہ بندہ کی مدد پر رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد پر رہے (مسلم:7028)۔

اس کے برخلاف انسان کو تکلیف دینے یا ایذا پہنچانے سے نما ز،روزے اور صدقات کے بڑے سے بڑے ڈھیر ضائع ہوجاتے ہیں ۔(مسلم :6744)

(10)دعوت الی اللہ: مقصد زندگی کوبھلا کر غفلت ومعصیت ،کوتاہی ولاپرواہی کا شکار ،برائیوں اور گناہوں کے سمندر میں غرق انسان کو اللہ کی طرف دعوت دینے سے بڑھ کر اور کیا ہمدردی وغمخواری ہوسکتی ہے ،فی الحقیقت یہی چیز دنیوی واخروی کامیابی وکامرانی کا ایک اہم ذریعہ ہے کیوں کہ دنیا کی بھوک پیاس دنیوی زندگی کے ساتھ ختم ہوجائے گی ،یہاں کا ہر دکھ درد ختم ہوجائے گا مگر آخرت کی بھوک پیاس نہ ختم ہوگی اور نہ ہی وہاں کے دکھ درد سے نجات ملے گی اور وہاں کے عذابات مقدر بن جائیں گے سوائے مؤمنین ومتقین کے اور ان کے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے جوارِ رحمت میں جگہ نصیب کرے،اسی لئے وہاں کی بھوک پیاس بجھنے کاسامان ہو اور وہاں کے دکھ درد سے نجات حاصل ہو، یہی انسانیت کے حق میں سب سے بڑی اور حقیقی خدمت ہے۔

 دعوت الی اللہ کا حکم خود نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور سارے نبیوں کی زندگی دعوت الی اللہ سے عبارت ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے’’قل ھذہ سبیلی أدعو ا لی اللہ علیٰ بصیرۃ أنا ومن اتبعنی‘‘(یوسف:108)اے نبی !آپ کہہ دیجئے کہ یہ میراراستہ ہے یعنی اللہ کی طرف بلانا ،میرا اور میری اتباع کرنے والوں کا راستہ ہے ،اسی طرح بھٹکے ہوئے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اورامر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہنا بھی اس امت کا ایک لازمی اور اہم فریضہ ہے اور یہ بات واضح رہے کہ دعوت الی اللہ وہ اہم فریضہ ہے کہ جس فریضہ کی ادائیگی کے بارے میں قیامت کے دن اللہ رب العزت ہر ایک ذمہ دارسے اس کے ماتحتوں اور زیر تربیت رہنے والوں کے سلسلے میں سوال کرے گا ،چنانچہ آپ ﷺ ے فرمایا :’’کلکم راع وکلکم مسؤول عن رعیتہ ‘‘(بخاری:893)کہ ہر ایک ذمہ دار ہے اور (قیامت کے دن )اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close