عباداتمذہب

ماہ شوال اور اس کے فضائل

جو شخص رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ عمل ہمیشہ روزے رکھنے کی طرح ہے۔

مولانا ندیم احمد انصاری

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اَلْحَجُّ اَشْھُرٌمَّعْلُوْمٰتْ۔(مفہوم)حج کے مہینے (طے شدہ اور) معلوم ہیں۔(البقرۃ)حج کے مہینے‘ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے،اس سے مراد شوال،ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کا پہلا عشرہ ہے۔ حضرت عمرؓ،ان کے صاحب زادے حضرت عبد اللہؓ،حضرت علیؓ،حضرت ابن مسعودؓ،حضرت عبداللہ ابن عباسؓ اور حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہی روایت کیا گیا ہے اور یہی اکثر تابعینؒ کا قول ہے۔( لطائف المعارف)

حج کا پہلا مہینہ

علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اشہرِ حج تین ہیں،جن میں سے پہلا شوال (اور دوسرا ذوالقعدہ) ہے۔(فتح الباری)اور حج کے مہینوں میں سے ہونا شوال کے مہینے کے لیے نہایت عظمت و فضیلت کی دلیل ہے، جیسا کہ آج بھی بہت سے لوگ اسی مہینے سے حج کے لیے رختِ سفر باندھتے ہیں۔شوال المکرم ہی سے حج کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں، جسے ’ماہِ فطر‘ بھی کہتے ہیںاور یکم شوال المکرم عید کا دن اور گناہوں کی مغفرت کا دن ہے، جیسا کہ حدیثِ انسؓ میں تصریح ہے کہ رمضان کے روزے وغیرہ سے فراغت پر عیدگاہ آنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو گواہ بناکر مژدہ سناتے ہیں کہ ’’بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جائو‘‘ الحدیث۔

شوال کے روزے

ماہِ شوال میں عید الفطر اور صدقۂ فطر کے علاوہ ستۂ شوال (یعنی شوال کے چھ روزے) صحیح احادیث سے ثابت ہیںاور جمہور فقہاء کے نزدیک یہ روزے سنت ومستحب ہیں۔فرض، واجب اور مسنون روزوں کے بعد تمام نفل روزے، جب کہ ان کے لیے کوئی کراہت ثابت نہ ہو، مستحب ہیں لیکن بعض روزے ایسے ہیں کہ ان میں ثواب زیادہ ہے، من جملہ ان کے ستۂ شوال کے روزے بھی ہیں۔ (عمدۃ الفقہ)جیسا کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اس مہینے میں جو امر بصحت ثابت ہوا ہے، من جملہ ان کے چھ دن کے روزے بھی ہیں۔ (ما ثبت بالسنہ)

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ عمل ہمیشہ روزے رکھنے کی طرح ہے۔(مسلم)یہ اس وجہ سے ہے کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ایک نیکی کا ثواب دس گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے اور ان روزوں کے متعلق تو صراحت ہے۔حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص عید الفطر کے بعد چھ دن روزے رکھے، اس کو پورے سال روزے رکھنے کا ثواب ملے گا، (کیوں کہ) جو ایک نیکی لائے، اس کو دس گنا اجر ملے گا۔ (ابن ماجہ)

شوال کے روزے کس طرح رکھیں

ماہِ شوال کے چھ روزے، جس کے لیے کوئی شرط نہیں ہے، تین اماموں کے نزدیک مستحب ہیں، مالکیہ کو اس سے اختلاف ہے۔ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک بہتر یہ ہے کہ ان روزوں کو متواتر چھ دن رکھا جائے۔مالکیہ کہتے ہیں کہ درجِ ذیل صورتوں میں ستۂ شوال کے روزے مکروہ ہیں؛ (۱) اگر روزے دار کوئی ایسا شخص ہو، جس کی لوگ پیروی کرتے ہوں اور یہ اندیشہ ہو کہ مبادا یہ روزے واجب سمجھے جانے لگیں گے(۲) یا ان روزوں کو عید الفطر کے اگلے دن ہی سے رکھنا شروع کردے(۳) یا لگاتار چھ روزے رکھے(۴) یا ان روزوں کا اظہار کرے۔ مذکورہ بالا باتوں میں سے کوئی بھی بات نہ پائی جائے تو یہ روزے مکروہ نہیں ہوں گے، البتہ اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ ان روزوں کا عید سے متصل رکھنا سنت ہے تو یہ روزے مکروہ ہوں گے، اگرچہ روزے ظاہر نہ کیے گئے ہوںاور متفرق طور پر ہی رکھے گئے ہوں۔حنفیہ کہتے ہیںکہ مستحب یہ ہے کہ یہ روزے متفرق دنوں میں ہوں، مثلاً: ہر ہفتے میں دو دن۔ (کتاب الفقہ علی مذاہب الاربعہ) فتاویٰ عالمگیری میں بھی احناف کا یہی قول لکھا ہے کہ یہ چھ روزے جدا جدا ہر ہفتے میں دو دن مستحب ہیں۔ (ہندیہ)

علامہ شامیؒفرماتے ہیں کہ صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب ’تجنیس‘ میں لکھا ہے کہ عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے لگاتار رکھنے کو بعض فقہاء نے مکروہ قرار دیا ہے لیکن مختار قول یہ ہے کہ یہ چھ روزے لگاتار رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ حسن بن زیادؒ سے بھی منقول ہے کہ شوال کے چھ روزے لگاتار رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اس کے اور رمضان کے درمیان عید الفطر کے دن کا فصل کرنا کافی ہے۔ ’حقائق‘ میں ہے کہ امام مالکؒ کے نزدیک عید الفطر کے دن کے بعد متصلاً شوال کے روزے رکھنا مکروہ ہے، ہمارے (یعنی احناف کے) نزدیک مکروہ نہیں ہے۔ (شامی)

دو ٹوک فیصلہ

جس طرح مسلم کی روایت میں ’’واتبعہ‘‘کے الفاظ کے ساتھ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی روایت وارد ہوئی ہے، اسی طرح اس مضمون میں ثوبانؓ کی روایت بھی آئی ہے، جسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن ماجہ کی روایت میں ’’ثم اتبعہ‘‘ کی جگہ ’’فاتبعہ‘‘ فاء سے ہے اور اس سے تعقیبِ حقیقی مراد نہیں ہے، کیوں کہ اس میں عید کے دن کا روزہ لازم آتا ہے، پس اول ماہ میں یا اس کے بعد (پورے مہینے میں کبھی) بھی (یہ روزے رکھنا) درست ہے۔(ما ثبت بالسنہ)اسی لیے مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ ماہِ شوال میں چھ دن نفل روزہ رکھنے کی فضیلت دوسرے نفل روزوں سے بہت زیادہ ہے، ان کو شش عید کے روزے بھی کہتے ہیں لیکن اس میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کو عید کے اگلے دن سے شروع کردے، تب تو وہ ثواب ملتا ہے ورنہ نہیں،تو یہ خیال غلط ہے بلکہ اگر مہینے بھر میں ان کو پورا کرلیا تو ثواب ملے گا، خواہ عید کے اگلے ہی دن شروع کرے یا بعد کو شروع کرے اور خواہ لگاتار رکھے یا متفرق طور پر۔ (زوال السنہ)

ایک اہم مسئلہ

بعض لوگ ان چھ روزوں میں اپنے قضاکے روزوں کو محسوب کرلیتے ہیں کہ شش عید کے روزے بھی ہوجائیں گے اور قضابھی ادا ہوجائے گی، خیال رہے کہ ان روزوں میں قضاکی نیت کرنے سے شش عید کی فضیلت حاصل نہ ہوگی البتہ قضاکے روزے ادا ہوجائیں گے، اس لیے کہ یہ قواعد کے خلاف ہے۔ (زوال السنہ: ۳۵)لیکن سیدی و مرشدی حضرت مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم کے فتاویٰ میں مرقوم ہے کہ بعض فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے۔ فی فتح القدیر: صام فی یوم عرفۃ مثل قضاء، أو نذر أو کفارۃ و نویٰ معہ الصوم عن یوم عرفۃ، أفتی بعضھم بالصحۃ و الحصول عنھا۔ اھ (حموی شرح الاشباہ والنظائر)احتیاط اسی میں ہے کہ قضاء کی مستقل نیت کریں۔(محمودالفتاویٰ)

مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

متعلقہ

Close