عباداتمذہب

ماہ صیام

ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

رمضان کامہینہ ہم پر سایہ فگن اورجلوہ افروز ہونے والا ہے۔ یہ ماہ عظیم نیکیوں کاموسم برسات اور خیر وبرکت سمیٹنے کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں ہم پر روزے فرض ہیں، اس کی راتوں میں قیام تطوع(نفلی عبادت)ہے۔اس مہینے میں نوافل کا اجر فرائض کے برابر اور فرائض ستر گناہ زیادہ اجر و ثواب کے حامل ہو جاتے ہیں۔  اسی طرح ماہ صیام میں قرآن پاک کی تلاوت کا اجر عام دنوں میں کی گئی تلاوت کے اجر سے زیادہ اور عمرے کا ثواب حج کے برابر لکھا جاتاہے۔ بہرحال یہ اللہ کی رحمتیں لوٹنے والا مہینہ ہے دن ہو یارات اللہ کی طرف سے گویا خزانوں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔  روزہ رکھ کر، رات میں قیام کر کے، قرآن کی تلاوت کر کے اور اعتکاف کے ذریعے رحمتیں لُوٹیں۔

رمضان المبارک کے ٣ عشرے ہیں۔ پہلا عشرہ رحمت۔ دوسرا عشرہ مغفرت( بخشش )اورتیسرا جہنم سے خلاصی(نجات) پانے کا ہے۔ اللہ رب العزت کا مسلمانوں پر بے پناہ فضل وکرم، عنایت اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں یہ مہینہ عطا کیا ہے۔ یہ انعام واکرام اور عطیہ و تحفہ خداوندی ہے۔جس میں نیکیوں کی رغبت، میلان اور برائیوں سے نفور و تنفر بڑھ جاتاہے کیونکہ اس ماہ مبارک میں شیاطین کو جکڑوپابند سلاسل کردیاجاتاہے۔آسمانوں (جنت، رحمت) کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔  جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے:اذادخل شھر رمضان فتحت ابواب السماء وغلقت ابواب جھنم وسلسلۃ الشیاطین۔

”جب رمضان کامہینہ آتاہے توآسمان کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اورشیاطین کوزنجیروں سے جکڑدیاجاتاہے۔(بخاری)

یوں تو انسان کو پورے سال رب کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنی چاہئے لیکن طبائع بشری ہے کہ انسان تساہل،سستی، غفلت، کاہلی اورلاپرواہی کامظاہرہ کرتا ہے اور عمومی طور پر سوائے گروہ قلیل کے اکثرلوگ گیارہ مہینے تک خداکی یاد،ذکر اور عبادت سے غافل رہتے ہیں۔  قلب پر گناہوں کی میل چڑھتی رہتی ہے یہاں تک بعض اوقات خود انسان کا دل گناہوں کے میل و کچیل، گندگی وکثافت، ناپاکی وغلاظت اورنجاست و خباثت کی انتہا سے پریشان ہوکر یہ کہنے پر مجبور ہوجاتاہے کہ اے روح اب تو یہ بدن اتنا میلا ہوگیا ہے کہ اسے چھوڑ دے اب کوئی اورلباس تلاش کر۔بقول شاعر

اے روح کیابدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑ

میلا بہت ہوا ہے اب اس پیرہن کوچھوڑ

یہ وہ عظیم مہینہ ہے جس میں انسان اپنے ذہن وجسم، نظروفکر، دل وجان، قلب وروح کی مکمل اوربہترین صفائی، طہارت وپاکیزگی حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ روزہ جسم کی زکوٰۃ ہے اور زکوٰۃ کے ایک معنی پاکیزگی کے بھی ہیں۔ دنیا میں رہتے ہوئے اس سے بے رغبتی اور اس کی آلودہ چیزوں سے کنارہ کش ہونے سے روحانی لطافت، نظافت اورقوت کے ساتھ ساتھ رب کی رضا اور خوشنودی حاصل کرسکتا ہے۔اسی لئے وہ خوشی خوشی بھوک پیاس اوردیگرسختیوں، مصائب و مشکلات کو سہتا ہے۔

بھاتا ہے یہ بھوک پیاس سب کچھ سہنا

اورروزوں میں انتظار مغرب رہنا

آپس میں سحر گہی کی چہلیں اورپھر

بالصوم غدا نویت سب کا کہنا(انشاء)

یہ تربیت ومشق (Training & Exercise) کا مہینہ ہے۔جس طرح گاڑی کو اوورہالنگ کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جسم اور روح دونوں کو اوورہالنگ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اوورہالنگ کا کام روزہ کرتاہے۔ جسم کی اس طرح کہ جب ایک ماہ تک معدہ کو چودہ، پندرہ گھنٹہ تک خالی رکھا جاتا ہے اس سے معدہ کو بھی تھوڑا آرام میسر آتا ہے۔ اور اس کی کارکردگی میں اضافہ ہوتاہے جس کا اثرتمام بدن کی کارکردگی پر پڑتاہے اور روح کا اس لئے کہ نیکیاں اوراعمالِ خیرروح کی غذا ہیں جن سے روح قوی وطاقتور ہوتی ہے اور صبر(روزہ)کرنے کی وجہ سے انسان کے گناہ دھل جاتے ہیں، بہ الفاظ دیگر اس مہینہ میں مسلمان اپنی زندگی کوصحیح اسلامی راہ اور طریق نبوی ﷺ پرلاسکتا ہے۔ اس لئے اگرایک مسلمان اس ایک ماہ میں اپنی تربیت کے ذریعہ خود کو اچھائی اورنیکی کے سانچے میں ڈھال کراپنی حیات فانی کوحیات جاودانی میں تبدیل کرسکتاہے۔

اس کو جس سانچے میں ڈھالو ڈھل جائیگی

زندگی  خود نہ حقیقت نہ مجاز

معنی صیام:

لغۃً روزہ کے معنی باز رہنا ہے لیکن اصطلاحاًصبح صادق کےـ ظاہر ہونے سے غروب آفتاب تک نواقض صوم(روزہ توڑدینے والی اشیاء )سے باز رہنا روزہ ہے۔

نیت صیام:

طلوع فجر سے قبل روزہ کی نیت کرلےنی چاہئے۔ جیسے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ روزہ درست نہیں جب تک طلوع فجر سے قبل نیت نہ کیجائے۔  لیکن اگرکوئی شخص طلوع فجرسے قبل نیت نہ کرسکا تو اگر وہ زوال سے پہلے نیت کرلے گا تواس کاروزہ ہوجائے گا۔ جیسا کہ امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے زوال سے پہلے بھی نیت کرلی تو اس کا روزہ بھی درست ماناجائے گا۔

عبادات ماہ صیام:

سحرو افطارکرنا،روزہ رکھنا،تلاوت کلام پاک کرنا، قیام اللیل کرنا، صلاۃ التہجد،آخری عشرہ میں اعتکاف اور جس قدر ہوسکے خلوص، خشوع،خضوع وحضور قلب، نیک اعمال،نوافل،صدقات نافلہ اورزکوٰۃ سے رب ذوالجلال کا قرب حاصل کرنا۔ ویسے بھی رب کی رحمت توخود بخشش کے بہانے ڈھونڈتی ہے۔

کیاہماری نماز کیا روزہ

بخش دینے کے سوبہانے ہیں

واقعی اگر بندہ کوئی ایک عمل ایک سجدہ ہی روح کی گہرائی وصدق قلب سے کرلے تو وہ اس کے تمام معاصی، گناہ مکمل طورپر دھوڈالے اور اس کی مغفرت کا سامان کردے۔

اک سجدہ ہوجو روح کی گہرائی سے

پس دلِ اسود بھی  چمک جاتا ہے

وظیفہ ماہ صیام:

ہر مسلمان پرلازم ہے کہ وہ کوئی لمحہ،لحظہ، ساعت اور گھڑی اپنے رب کی یادسے غافل نہ رہے۔ بالخصوس ماہ صیام میں تو زیادہ سے زیادہ اللہ کے ذکر کا اہتمام کرے۔  اوراٹھتے بیٹھتے اپنی زبان کو ان کلمات(لاالہ الااللہ استغفراللہ اسئلک الجنۃ واعوذبک من النار) سے تررکھے کیونکہ یہ اس بابرکت ما ہ کا خاص وظیفہ ہے۔

ترجمہ:”نہیں ہے کوئی معبود اللہ کے سوا، ہم اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں، جنت طلب کرتے ہیں اور عذاب نار سے اس کی پناہ میں آتے ہیں۔ ”

لیلۃ القدر:

لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْر مِّنْ اَلْفِ شَھْر۔”شب قدر ہزارمہینوں سے افضل ہے۔” اورحدیث مبارکہ میں ہے: تحروا لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر من رمضان۔”رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر تلاش کرو۔”(بخاری)

اس عظمت والی رات میں بکثرت یہ دعا مانگنی چاہئے۔ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی۔”اے اللہ بے شک تو معاف کرنے والا ہے، معافی دینے کو پسند کرتا ہے پس تومجھے معاف فرما۔”(ترمذی)

قبولیت دعا:

دعا مانگتے وقت تضرع اختیار کریں، اپنے ضعف و عجز کا اظہار کریں۔ رب کے سامنے دل کی گہرائی سے روئیں اورگڑگڑائیں۔  یہاں تک کہ آنکھوں سے انمول موتی چھلک جائیں جس سے جہنم کی آگ بھی سرد ہوجاتی ہے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ پھر اسماء حسنیٰ کا ورد کرتے ہوئے، ان صفات پر کامل ایمان لاتے ہوئے خداسے دعا کریں۔ خالق کی القوی،القادر،الرزاق،الشافی کی صفات پر کامل ایمان لاتے ہوئے اوراپنی کمزوری، جہالت،ظلم، عجلت، کا احساس کرتے ہوئے رب سے اس کی شان کے مطابق مانگیں۔  پھر اپنی عجلت والی منفی صفت پر غلبہ پاتے ہوئے صبر سے انتظار کریں کیونکہ دعا کی کی قبولیت کی تین صورتیں ہیں۔ اول بعینہ وہی دعا قبول ہو،دوم اس سے بہتر کوئی صورت پیدا ہوجائے یا وہ دعا آخرت کے لئے ذخیرہ بنادی جائے اور سب سے بہترین صورت یہی تیسری ہے۔جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا:

جو آدمی بھی اللہ سے دعا مانگتا ہے اللہ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔  پس یا تو دنیا کے اندر اس کا اثر ظاہر کردیتا ہے۔ یا آخرت کے لئے اس کا اجر محفوظ کردیتا ہے۔ یا دعا کے بمقدار اس کے گناہ دور کردیتا ہے۔  بشرطیکہ وہ گناہ کی قطع رحمی کی دعا نہ کرے یاجلدی نہ مچائے۔(ترمذی)

یعنی اگر معصیت کی دعا نہ ہو اور دل کی گہرائیوں سے صدا نکلے تورب العزت دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں نوازے گا اور دل کو سکون کی کیفیت سے معمور کردے گا۔

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

دعا کے بہترین اوقات:

قال ابو القاسم ﷺ فی جمعۃ ساعۃ لایوافقھاوھو قائم یصلی یسال خیرا الا اعطاہ”جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جسے اگر کوئی مسلمان اس حال میں پالے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو توجوبھلائی وہ مانگے گا اللہ عنایت فرمائے گا۔”(صحیح البخاری)

جمعہ میں ایک ایسی گھڑی بھی آتی ہے جس میں ہر دعاقبول کی جاتی ہے۔ اور روزہ افطار کرنے کا وقت بھی دعا کی قبولیت کا لمحہ ہے،اس کے علاوہ عرفہ کا دن، شب قدر،تہجد کا وقت،فرض نمازوں کے بعد، اذان و اقامت کے درمیان، دو خطبوں کے درمیان،آب زمزم پیتے وقت، برستی ہوئی بارش میں، ماں باپ کی دعا بچے کے حق،مجاہد کی دعا جب تک وہ راہ جہاد میں ہے،کعبہ پر پڑنے والی پہلی نظر،ابتداء و انتہاء میں درود شریف پڑھ کر کوئی بھی دعا مانگی جائے اور سب سے بڑھ کر ویسے بھی اگر خلوص دل اور دعا کی قبولیت کے یقین کے ساتھ کبھی بھی کہیں بھی کوئی بھی دعائے خیر مانگی جائے تویقینا ً یہ دعاقبولیت کے مرتبہ پر پہنچے گی۔

کیوں نہ مقبول ہودعائے خلوص

کہ اثرخود ہے خاکپائے خلوص

فرحت صیام:

للصائم فرحتان فرحۃ عند فطرہ وفرحۃ عند لقاء ربہ۔”روزہ دار کے لئے دوخوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب تعالیٰ سے ملاقات کے وقت۔”(متفق علیہ )

خشیت الہی اور تقویٰ کی وجہ سے روزہ دار صبح صادق سے لے کر شام تک کھانے پینے سے رکے رہتا ہے۔  شدید گرمی کے باوجود منہ میں ایک قطرہ بھی پانی کا نہیں جانے دےتا،شدید بھوک ہے لیکن ایک ذرہ بھی خوراک کا اندر نہیں جانے دےتا، تو جب شام ہوتی ہے روزہ کھولنے کا وقت آجاتا ہے اور ٹھنڈے میٹھے مشروبات سامنے آجاتے ہیں کھانے پینے کی چیزیں سامنے آتی ہیں تو یہ روزے دار کے لئے خوشی کا وقت ہے کہ فرض ادا ہوگیا اللہ کا حکم پورا ہوگیا اب مجھے کھانے کی اجازت مل گئی۔  ایک تو یہ خوشی کہ وقت ہوگیا۔

ذھب الظمأ وابتلت العروق وثبت الاجر انشاء اللہ۔

’’پیاس چلی گئی، رگیں تر ہوگئیں اورانشاء اللہ العزیز ثواب ثابت ہوگیا۔ ‘‘(مشکوٰۃ، کتاب الصوم)

یعنی دن بھر کی مشقت اورسختی کا وقت گزرگیا، اورافطار وخوشی کا وقت ہوگیا۔اورویسے بھی انتہائے پیاس وبھوک میں جوکچھ ملے وہ بہت لذیذ، خوش ذائقہ،ہوتا ہے گویا جنت کی نعمتیں مل گئی ہیں۔اور انشاء اللہ عنقریب ملیں گی۔بقول اکبر الہ آبادی

وہ کہتے ہیں کہ اے اکبر یہ روزہ ایک قیامت ہے

بجا ارشاد ہوتا ہے مگر افطار جنت ہے

دوسری حقیقی اوربڑی خوشی اپنے رب کے دیدار کے وقت حاصل ہوگی۔جس سے بڑھ کرکوئی نعمت ہی نہیں۔

کیفیت صیام:

ایک مسلمان کے روزہ کی کیفیت کیاہونی چاہئے، حضورر ﷺ نے درج ْذیل الفاظ میں اس کی وضاحت فرمائی:

من صام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔”جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اورحصول ثواب کے ارادے سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ”(متفق علیہ )

اجرصیام:

چونکہ روزے کا تعلق اللہ کی ذات کے ساتھ ہے اور باطن سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے۔ باقی عبادتوں میں نمود و نمائش، دکھلاوا، ریاکاری ہوسکتی ہے لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ یابندہ (روزہ رکھنے والا) جانتا ہے یا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کہ اس نے روزہ رکھا ہواہے یانہیں اسی لئے حدیث نبوی ﷺ میں ہے:الصوم لی وانا اجزی بہ” روزہ میرے لئے ہے اورمیں ہی اس کی جزا عطا کروں گا۔ ”

فی الجنۃ ثمانیۃ ابواب منھا باب یسمی الریان لایدخلہ الاالصائمون۔

”جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک دروازے کانام ہے”الرّیان” اس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔”(متفق علیہ)یعنی اس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔ اورکوئی اس دروازے سے داخل نہ ہوگا۔توگویامستقل ایک دروازہ اللہ نے قائم فرمادیا۔ جس سے روزے رکھنے والے لوگ ہی داخل ہوں گے۔

انعام ماہ صیام:

یغفر لامتہ فی آخرلیلۃ فی رمضان۔ ۔۔انما یوفی اجرہ اذا قضی عملہ۔

آپ کی امت کی رمضان کی آخری رات میں مغفرت کردی جاتی ہے۔ ۔۔بے شک جب کام کرنے والا کام مکمل کرلیتا ہے تو اس کو پوری اجرت دی جاتی ہے۔(مشکوٰۃ)

اذا کان یوم عیدھم۔ ۔۔فقد غفرت لکم وبدلت سیاتکم حسنات قال فیرجعون مغفورا لھم۔

پھر جب بندوں کی عید کا دن ہوتا ہے۔۔۔۔ تواللہ تعالیٰ فرماتاہے واپس لوٹ چلو بے شک میں نے تم کوبخش دیا اورمیں نے تمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دی ہیں۔  توبندے عیدگاہ سے بخشے ہوئے گھر لوٹتے ہیں۔ (مشکوٰۃ)

واقعات ماہ صیام:

اس ماہ عظیم کے چند اہم واقعات درج ذیل ہیں۔

نزول قرآن، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کاوصال ١٠ رمضان المبارک نبوت کے دسویں سال، غزوہ بدر ١٧ رمضان المبارک سنہ ٢ ہجری، آنحضور ﷺ کانکاح سیدہ زینب بن خزیمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رمضان ٢ ہجری،فرضیت زکوٰۃ،ولادت حسن رضی اللہ عنہ ١٥ رمضان ٣ہجری، فتح مکہ٨ ہجری ٢١ رمضان المبارک،سیدہ فاطمہ الزہریٰ رضی اللہ عنھا کا وصال ٣ رمضان المبارک ١١ ہجری، ،شہادت امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ ١٧رمضان، ٤٠ ہجری میں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا١٧ رمضان المبارک٥٨ ہجری۔قیام پاکستان ٢٧ رمضان المبارک، پاکستان کی تاریخ کا بدترین زلزلہ ٣ رمضان المبارک۔

ان واقعات میں سے بعض خوشی وشادمانی،فرحت و انبساط،اورسرورومسرت کا باعث ہیں اور بعض غم وپریشانی، رنج والم اور حزن وملال کا لیکن مؤمن کے لئے دونوں قسم(خوشی، غمی) کے واقعات رب کی رضا اورخوشنودی کاباعث ہوسکتے ہیں اگر وہ خوشی پر رب کا شکر اداکرے اور رنج والم پر صبر تو ان دونوں صورتیں اس کے لئے بہتری اور اچھائی کی ہیں اورانشاء اللہ العزیز وہ جنت کا حقدار ہوگا۔جیسا کہ صبروشکر کے متعلق حدیث نبوی ﷺ ہے: ان اصابتہ سرّا شکرفکان خیرالہ وان اصابتہ ضرّا صبرفکان خیرا لہ۔”اگر اسے کوئی خوش کردینے والی بات پہنچتی ہے تو وہ شکر اداکرتاہے اور یہ اس کے لئے بہتر ہے اوراگر اس کو تکلیف دہ خبر پہنچتی ہے توصبرکرتا ہے یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے۔”(صحیح مسلم)

یوں مومن اس خوشی اور غم سے بھی رب کی رضا حاصل کرلیتا ہے جو مومن کی زندگی کا مقصد حقیقی ونصب العین ہے۔ویسے انسان کی اصل پہچان بھی جذبات کی شدت کے وقت ہوتی ہے۔ خاص کر منفی جذبات یعنی غصہ، نفرت، غم وغیرہ۔

شادمانی میں گزرتے اپنے آپے سے نہیں

 غم میں رہتے ہیں شگفتہ شادمانوں کی طرح

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close