عبادات

مختصر حج و عمرہ گائیڈ: آپ حج کیسے کریں؟

حاجیوں كےلیے اہم نصیحتیں

  1. مسجد نبوی كی زیارت كرنے والے كےلیےمسنون یہ ہے كہ مسجد میں داخل ہوتے ہی دو ركعت تحیۃ المسجد ادا كرے۔ افضل یہ ہے كہ تحیۃ المسجد روضہ شریفہ میں  ادا كرے كیوں كہ اس كی فضیلت  وارد ہوئی ہے۔  مسجد نبوی كےجس حصے میں صلاۃ ادا كرے گا،    اس مسجد كی  فضیلت  حاصل ہوگی۔
  2. اس كے بعد اللہ كے رسول ﷺ  كے قبر كی زیارت او ران پر اور ان كے صاحبین  حضرت ابوبكر وحضرت عمر  رضی اللہ عنہما پرسلام بھیجنا مسنون ہے۔نہایت ادب اور آہستہ آواز میں ان پر سلام بھیجا جائے۔ قبر رسول ﷺ كے پاس آواز بلند كرنی جائز نہیں ہے،اس لیے كہ آنجنابﷺ زندگی وموت دونوں حالت میں محترم ہیں۔
  3. مسجدقبا جانا اور اس میں صلاۃ ادا كرنا مسنون ہے، اس لیے كہ اس سلسلے  میں فضیلت وارد ہوئی ہے۔
  4. مقبرۂبقیع اور شہداء احد كی قبروں كی زیارت كرنا ،صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین كی قبروں كی زیارت كرنا اور ان كےلیے دعائیں كرنا مسنون ہے۔  اس لیے كہ اللہ كے نبی ﷺ ان كی زیارت كرتے تھے او ران كے لیے دعائیں كرتے تھے۔
  5. كسی كے لیے  اللہ كے رسول ﷺ یا كسی اور مردے  كے سامنے دست سوال دارز كرنا  اور اس سے مصیبت دور كرنے اور مریض كو شفایاب كرنے كی  التجا كرنا جائز نہیں ہے۔ كیونكہ ان چیزوں كی قدرت صرف اللہ تعالی كے پاس ہے۔چنانچہ غیر اللہ كے سامنے ان چیزوں كےلیے دست سوال دراز كرنا شرك ہے۔
  6. زیارت كرنے  والا مسجد نبوی میں كتنے وقت كی صلاۃ ادا كرےگا ،اس  كی كوئی تعداد متعین ہے۔
  7. مسجد نبوی میں جو دعا كرنا چاہیں كریں ، البتہ  قبلہ رو ہوكر  دعائیں كرنی  چاہیے۔ حجرہ نبوی كی طرف رخ كركے دعا  كرنی جائز نہیں ہے۔
  8. حجرۂ نبوی كو چھونا ، اسے بوسہ دینا اور اس كا طواف كرنا جائز نہیں ہے ۔ یہ اعمال نہایت ہی تباہ كن بدعتیں ہیں۔
  9. اللہ كے رسول ﷺ كی قبر كی زیارت كرنے كا مسنون طریقہ یہ ہے كہ زیارت كرنے والا ان كی قبر كی طرف رخ كركے كھڑا ہو، پھر نہایت ہی ادب اور  پست آواز میں یہ كہے:

"السلام عليك أيها النبي  ورحمة الله وبركاته"  اس كے بعد  آپ ﷺ پر درود بھیجے  اور ان كےلیے دعائیں كرے۔ مدینہ منورہ میں صلاۃ ادا كرنے كی غرض سےمسجد نبوی اور مسجد قبا كے علاوہ كسی اور مسجد كی زیارت كرنامشروع نہیں ہے۔مدینہ كی دوسری مساجد  عام مسجدوں كی طرح ہی ہیں ، جنہیں دوسری مسجدوں پر كوئی فوقیت حاصل نہیں ہے اور نہ  ہی ان كی زیارت مشروع ہے۔

  1. حج كے دوران دوسرے حاجیوں كا بھر پور خیال ركھیں، آپ كی ذات سے ان میں سے كسی كو تكلیف نہ پہنچے، اراكین حج كی ادائیگی كے دوران اطمینا ن وسكون كا بھرپور مظاہرہ كریں۔
  2. شرك وبدعات والے اعمال سے دور رہیں ، كوئی بھی عمل كرنے سے قبل اس بات كو ضرور یقینی بنائیں كہ كیا یہ ہمارے نبی كی سنت سے ثابت ہے یا نہیں، بدعات وخرافات سے خود كو مكمل دور ركھیں۔
  3. دوران حج لوگوں سے ملنے جلنے میں اپنا وقت ضائع كرنے كےبجائے قرآن مجید كی تلاوت، ذكر واذكار اور سنن ونوافل میں لگے رہیں۔
  4. ہر وقت دعا كرتے رہیں كہ اللہ آپ كے حج كو حج مبرور بنائے۔
پچھلا صفحہ 1 2 3 4 5 6
مزید دکھائیں

ظل الرحمن تیمی

مضمون نگار امام محمد بن سعود یونیورسٹی، ریاض میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور ان دنوں مسجد الحرام مکۃ المکرمہ میں امام حرم کے خطبات کی ترجمانی نیز مکہ میں اردو ریڈیو کی نشریات پر مامور ہیں۔ آپ نئی دہلی میں اپنی طرز کے پہلے اسکول رحیق گلوبل اسكول کے مینیجنگ ڈائریكٹر بھی ہیں جس میں ملت کے نونہالوں کوجدید ٹکنالوجی کے ذریعے عصری و دینی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے۔

متعلقہ

Close